ایوب
8 اِس پر بِلدد سُوخی نے کہا:
2 ”تُم کب تک اِس طرح کی باتیں کرتے رہو گے؟
تمہاری باتیں تیز آندھی کے شور سے زیادہ کچھ نہیں۔
3 کیا خدا اِنصاف کا خون کر دے گا؟
کیا لامحدود قدرت کا مالک نیکی کو درہمبرہم کر دے گا؟
4 تمہارے بیٹوں نے ضرور اُس کے خلاف گُناہ کِیا ہوگا
اِسی لیے اُس نے اُنہیں اُن کی سرکشی کی سزا دی۔
5 لیکن اگر تُم خدا کی طرف رُجوع کرو؛
اگر تُم لامحدود قدرت کے مالک سے رحم کی بھیک مانگو
6 اور اگر تُم واقعی پاک ہو اور سیدھی راہ پر چلنے والے اِنسان ہو
تو وہ تُم پر توجہ فرمائے گا*
اور تمہیں تمہارا مقام واپس دِلائے گا۔
7 حالانکہ تمہارا آغاز معمولی سا تھا
مگر تمہارا انجام عظیم ہوگا۔
8 ذرا پچھلی پُشت کے لوگوں سے پوچھو
اور اُن باتوں پر دھیان دو جو اُن کے باپدادا نے معلوم کیں
9 کیونکہ ہم تو کل کی پیدائش ہیں اور کچھ نہیں جانتے؛
زمین پر ہماری زندگی سائے کی طرح ہے۔
10 وہ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
اور وہ باتیں بتائیں گے جو وہ جانتے ہیں۔*
11 اگر آبی نرسل* دَلدل میں نہ ہو تو کیا وہ بڑھے گا؟
اگر سرکنڈے کو پانی نہ ملے تو کیا وہ نشوونما پائے گا؟
12 وہ دوسرے پودوں سے پہلے ہی سُوکھ جائیں گے
حالانکہ ابھی اُن کی کونپلیں نکلی ہی ہوں گی اور اُنہیں اُکھاڑا نہیں گیا ہوگا۔
13 خدا کو بھول جانے والے ہر شخص کا یہی انجام ہوتا ہے
کیونکہ بُرے* شخص کی اُمید کبھی پوری نہیں ہوتی۔
14 وہ فضول چیزوں پر بھروسا کرتا ہے
اور ایسی چیزوں پر آس لگاتا ہے جو مکڑی کے گھر* کی طرح کمزور ہوتی ہیں۔
15 وہ اپنے اِس گھر کا سہارا لیتا ہے لیکن یہ ٹوٹ جاتا ہے؛
وہ اِسے تھامے رکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ قائم نہیں رہتا۔
16 وہ اُس ہرے بھرے پودے کی طرح ہے جو دھوپ میں پھلتا پھولتا ہے
اور جس کی شاخیں باغ میں پھیل جاتی ہیں۔
17 اُس کی جڑیں پتھروں کے ڈھیر میں لپٹ جاتی ہیں
اور وہ پتھروں کے بیچ اپنا گھر تلاش کرتا ہے۔*
18 لیکن جب اُسے اُس کی جگہ سے اُکھاڑا جاتا ہے
تو وہ جگہ اُسے پہچاننے سے اِنکار کر دیتی ہے اور کہتی ہے:
”مَیں نے تمہیں کبھی دیکھا بھی نہیں۔“
19 اِس طرح وہ ختم ہو جاتا ہے
پھر اُس کی جگہ مٹی سے دوسرے پودے نکل آتے ہیں۔
20 بےشک خدا اپنے وفادار* بندوں کو ترک نہیں کرتا
اور نہ ہی وہ بُرے لوگوں کا ساتھ دیتا ہے۔*
21 وہ تمہارے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیر دے گا
اور تمہارے لبوں پر خوشی کے نعرے ہوں گے۔
22 تُم سے نفرت کرنے والوں کو شرمندگی کا لباس پہنایا جائے گا
اور بُرے لوگوں کا خیمہ قائم نہیں رہے گا۔“