ایوب
36 اِس کے بعد اِلیہو نے کہا:
2 ”تھوڑا اَور صبر رکھیں اور مَیں آپ کو سمجھاؤں گا
کیونکہ مجھے خدا کی طرف سے اَور بھی باتیں کہنی ہیں۔
3 مَیں بڑی تفصیل سے وہ باتیں بیان کروں گا جو مجھے معلوم ہیں
اور بتاؤں گا کہ میرا خالق نیک ہے۔
4 یقین مانیں، میری باتیں جھوٹی نہیں ہیں؛
یہ اُس ہستی کی طرف سے ہیں جس کے پاس کامل علم ہے۔
5 بےشک خدا طاقتور ہے اور کسی کو نہیں ٹھکراتا؛
وہ بےاِنتہا سمجھ کا مالک ہے۔
6 وہ بُرے لوگوں کی زندگیاں نہیں بچاتا
مگر مصیبتزدہ لوگوں کو اِنصاف دیتا ہے۔
7 وہ نیک لوگوں سے اپنی نظریں نہیں ہٹاتا؛
وہ اُنہیں بادشاہوں کے ساتھ* تخت پر بٹھاتا ہے
اور اُنہیں ہمیشہ کے لیے سرفراز کرتا ہے۔
8 لیکن اگر اُنہیں بیڑیوں میں جکڑا جائے
اور مصیبت کی رسیوں سے باندھا جائے
9 تو وہ اُن پر ظاہر کرتا ہے کہ اُنہوں نے کیا غلطی کی ہے
اور غرور کی وجہ سے کون سا گُناہ کِیا ہے۔
10 وہ اُن کے کان کھولتا ہے تاکہ وہ اِصلاح کو سنیں
اور اُن سے کہتا ہے کہ وہ بُرائی سے باز آ جائیں۔
11 اگر وہ اُس کی بات مانیں اور اُس کی خدمت کریں
تو اُن کی زندگی کے دن خوشحالی سے بسر ہوں گے
اور اُن کے سال اچھے کٹیں گے۔
12 لیکن اگر وہ اُس کی بات نہ مانیں تو اُنہیں تلوار* سے ہلاک کِیا جائے گا
اور وہ جہالت میں مر جائیں گے۔
13 جن کے دل بُرے* ہیں، وہ اپنے اندر تلخی پالتے ہیں؛
وہ اُس وقت بھی مدد کے لیے نہیں پکارتے جب خدا اُنہیں باندھ دیتا ہے۔
15 لیکن خدا* مصیبتزدہ لوگوں کو مصیبت سے نکالتا ہے؛
جب اُن پر ظلم ہوتا ہے تو وہ اُن کے کانوں تک اپنی بات پہنچاتا ہے۔
16 وہ آپ کو پریشانی کے شکنجے سے نکالے گا
اور ایک کُھلی جگہ لے جائے گا جہاں کوئی بندش نہیں ہوگی؛
وہ آپ کو دِلاسا دینے کے لیے آپ کی میز کو عمدہ کھانوں سے سجائے گا۔
17 پھر جب عدالت کی جائے گی اور اِنصاف قائم ہوگا
تو آپ کو یہ دیکھ کر سکون ملے گا کہ بُرے لوگوں کو سزا دی جا رہی ہے۔
18 لیکن دھیان رکھیں کہ آپ طیش میں کسی سے بُرا سلوک نہ کریں*
اور بھاری رشوت کی وجہ سے بھٹک نہ جائیں۔
19 چاہے آپ مدد کے لیے جتنی بھی دُہائیاں دیں
یا جتنی بھی کوششیں کریں، کیا آپ مصیبت سے بچ پائیں گے؟
20 آپ رات کے لیے نہ ترسیں،
اُس وقت کے لیے جب لوگ اپنی اپنی جگہ سے غائب ہو جاتے ہیں۔
21 خبردار رہیں کہ آپ بُرائی نہ کرنے لگ جائیں
اور مصیبت سہنے کی بجائے بُرائی کو نہ چُن لیں۔
22 دیکھیں، خدا کی طاقت عظیم ہے؛
کیا کوئی اُس کی طرح تعلیم دے سکتا ہے؟
23 کون اُسے بتا سکتا ہے کہ اُسے کیا کرنا چاہیے*
یا اُس سے کہہ سکتا ہے کہ ”جو کام تُو نے کِیا ہے، وہ غلط ہے“؟
24 اُس کے کاموں کی تعریف کرنا نہ بھولیں
جن کے بارے میں لوگوں نے گیت بھی گائے ہیں۔
25 اُس کے یہ کام سب اِنسانوں نے دیکھے ہیں؛
فانی اِنسان بس دُور سے اِنہیں دیکھتا ہے۔
27 وہ پانی کے قطروں کو اُوپر کھینچتا ہے
جو دُھند اور بارش میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
28 پھر بادل اِنہیں اُنڈیل دیتے ہیں
اور اِنسانوں پر بارش برساتے ہیں۔
29 کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ بادلوں کی تہیں کیسے بنتی ہیں
اور خدا کے خیمے* سے گرج کیسے پیدا ہوتی ہے؟
31 اِن سب کے ذریعے وہ لوگوں کی زندگیاں برقرار رکھتا ہے*
اور اُنہیں کثرت سے خوراک دیتا ہے۔
32 وہ اپنے ہاتھوں سے بجلی کو ڈھانک لیتا ہے
اور اِسے اِس کے نشانے کی طرف بھیجتا ہے۔
33 اُس کی گرج اُس کے آنے کا اِعلان کرتی ہے؛
مویشی تک بتا دیتے ہیں کہ کون* آ رہا ہے۔