ایوب
20 تب ضوفر نعماتی نے کہا:
2 ”میرے خیالات مجھے بےچین کر رہے ہیں
اور میرے اندر ہلچل مچی ہوئی ہے
اِسی لیے مَیں بولنے پر مجبور ہوں۔
3 تُم نے مجھے بُرا بھلا کہہ کر میری بےعزتی کی ہے
لیکن مَیں تمہیں جواب ضرور دوں گا کیونکہ مجھ میں سمجھ* ہے۔
4 یقیناً تُم شروع سے ہی یہ جانتے ہو گے
کہ جب سے اِنسان* کو زمین پر بنایا گیا، یہی ہوتا آیا ہے
5 کہ گُناہگار شخص کے خوشی کے نعرے چند روزہ ہوتے ہیں
اور بُرے* شخص کی شادمانی پَل بھر کی ہوتی ہے۔
6 چاہے اُس کی شانوشوکت آسمان سے باتیں کرنے لگے
اور اُس کا سر بادلوں کو چُھونے لگے
7 تو بھی وہ اپنے فضلے کی طرح ہمیشہ کے لیے فنا ہو جائے گا؛
جو اُسے دیکھا کرتے تھے، پوچھیں گے: ”وہ کہاں ہے؟“
8 وہ خواب کی طرح بُھلا دیا جائے گا اور کوئی اُسے دوبارہ نہیں دیکھے گا؛
وہ رات کو نظر آنے والی رُویا کی طرح غائب ہو جائے گا۔
9 جو آنکھیں اُسے دیکھا کرتی تھیں، اُسے دوبارہ نہیں دیکھیں گی
اور وہ پھر اپنے گھر میں نظر نہیں آئے گا۔
10 اُس کے بچے غریبوں کی پسندیدگی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے
اور وہ اپنے ہاتھوں سے دوسروں کی دولت واپس کرے گا۔
11 اُس کی ہڈیوں میں جوانی کا زور بھرا ہے
لیکن وہ اِس کے ساتھ ہی خاک میں مل جائے گا۔
12 اگر اُس کے مُنہ کو بُرائی میٹھی لگے
اور وہ اِسے اپنی زبان کے نیچے دبا لے؛
13 اگر وہ اِسے مُنہ کے اندر ہی رکھے
اور اِس کا مزہ لیتا رہے
14 تو یہ اُس کے پیٹ میں جا کر کڑوی ہو جائے گی
اور اُس کے اندر ناگ کا زہر بن جائے گی۔
15 جو دولت اُس نے نگلی ہے، وہ اُسے اُگل دے گا؛
خدا اِسے اُس کے پیٹ سے نکال دے گا۔
16 وہ ناگوں کا زہر چوسے گا
اور زہریلے سانپ کے ڈنک* سے مارا جائے گا۔
17 وہ کبھی پانی کی ندیوں کو نہیں دیکھ پائے گا
یعنی شہد اور دودھ* کی ندیوں کو۔
18 اُسے اپنی چیزیں اِستعمال کیے بغیر* ہی واپس کرنی پڑیں گی؛
وہ اپنے کاروبار سے کمائی ہوئی دولت سے فائدہ نہیں اُٹھا پائے گا
19 کیونکہ اُس نے غریبوں کو کچلا اور بےسہارا چھوڑ دیا
اور اُس گھر پر قبضہ کر لیا جو اُس نے نہیں بنایا تھا۔
20 پھر بھی اُس کے دل کو سکون نہیں ملے گا
اور اُس کی دولت اُسے بچا نہیں پائے گی۔
21 اُس کے ہڑپ کرنے کے لیے کچھ نہیں بچے گا
اِس لیے اُس کی خوشحالی قائم نہیں رہے گی۔
22 جب اُس کی دولت بلندیوں کو چُھو رہی ہوگی تو پریشانی اُسے دبوچ لے گی
اور اُس پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا۔
23 جب وہ اپنا پیٹ بھر رہا ہوگا
تو خدا* اُس پر اپنے قہر کی آگ نازل کرے گا
اور اِسے بارش کی طرح اُس پر* برسائے گا۔
24 جب وہ لوہے کے ہتھیاروں سے بھاگ رہا ہوگا
تو تانبے کی کمان سے نکلے تیر اُسے چھلنی کر دیں گے۔
25 وہ اپنی کمر سے تیر نکالے گا،
وہ چمکدار تیر جو اُس کے پِتّے میں دھنس گیا ہوگا
اور اُس پر دہشت طاری ہو جائے گی۔
26 گہری تاریکی اُس کے خزانوں کی تاک میں بیٹھی ہے؛
اُسے ایسی آگ بھسم کرے گی جسے کسی نے نہیں سلگایا؛
اُس کے خیمے میں بچ جانے والوں پر آفت ٹوٹ پڑے گی۔
27 آسمان اُس کی غلطی کا پردہ فاش کرے گا
اور زمین اُس کے خلاف کھڑی ہوگی۔
28 خدا* کے غضب کے دن شدید سیلاب آئے گا
تیزی سے بہتا پانی اُس کے گھر کو بہا لے جائے گا۔
29 بُرے شخص کو خدا کی طرف سے یہی صلہ* ملے گا؛
خدا نے اُس کے لیے یہی وراثت مقرر کی ہے۔“