ایوب
11 تب ضوفر نعماتی نے کہا:
2 ”تمہیں کیا لگتا ہے، تمہاری اِن سب باتوں کا جواب نہیں دیا جائے گا؟
کیا بہت بولنے* سے کوئی شخص صحیح ثابت ہو جاتا ہے؟
3 کیا تُم اپنی فضول باتوں سے لوگوں کو چپ کرا دو گے؟
کیا تُم دوسروں کا مذاق اُڑا کر خود تنقید سے بچ جاؤ گے؟
4 تُم کہتے ہو: ”مَیں جو باتیں سکھاتا ہوں، وہ پاک ہیں
اور مَیں خدا کی نظر میں پاک صاف ہوں۔“
5 کاش خدا اپنے لب کھولے
اور خود تُم سے بات کرے!
6 تب وہ تُم پر دانشمندی کے راز کھولے گا
کیونکہ حقیقی دانشمندی کے بہت سے پہلو ہیں۔
پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ خدا نے تمہاری کئی غلطیاں بُھلا دی ہیں۔
7 کیا تُم خدا کی گہری باتوں کی کھوج لگا سکتے ہو
یا لامحدود قدرت کے مالک کے بارے میں سب کچھ* معلوم کر سکتے ہو؟
8 دانشمندی آسمان سے بھی اُونچی ہے۔ بھلا تُم اِسے کیسے حاصل کر سکتے ہو؟
یہ قبر* سے بھی گہری ہے۔ بھلا تُم اِس کے بارے میں کیسے جان سکتے ہو؟
9 یہ زمین سے بھی لمبی ہے
اور سمندر سے بھی چوڑی ہے۔
10 اگر خدا گزرتے گزرتے کسی کو پکڑ کر عدالت لے جائے
تو کون اُسے روک سکتا ہے؟
11 جب لوگ دھوکےبازی کرتے ہیں تو اُسے پتہ ہوتا ہے؛
جب وہ کچھ بُرا ہوتے دیکھتا ہے تو اُسے نظرانداز نہیں کرتا۔
12 جس طرح جنگلی گدھے سے اِنسان پیدا نہیں ہو سکتا*
اُسی طرح بےعقل شخص کبھی سمجھدار نہیں بن سکتا۔
13 اپنے دل کو تیار کرو
اور خدا کے سامنے ہاتھ پھیلاؤ۔
14 اگر تمہارے ہاتھ کچھ غلط کر رہے ہیں تو اُسے چھوڑ دو
اور اپنے خیموں میں کسی قسم کی بُرائی نہ بسنے دو۔
15 تب تُم بغیر کسی شرمندگی کے اپنا سر* اُٹھا سکو گے؛
تُم ڈرو گے نہیں بلکہ جم کر کھڑے رہ سکو گے۔
16 تب تُم اپنی مصیبتوں کو بھول جاؤ گے؛
وہ بس ایک گزری ہوئی یاد ہوں گی جیسے بہتا ہوا پانی گزر جاتا ہے۔
17 تمہاری زندگی بھری دوپہر سے بھی زیادہ روشن ہوگی
اور اِس کے اندھیرے بھی صبح کے اُجالے کی طرح ہو جائیں گے۔
18 تُم مطمئن* ہو گے کیونکہ تمہارے پاس اُمید ہوگی؛
تُم اِردگِرد دیکھو گے اور بےخوف ہو کر لیٹ جاؤ گے۔
19 تُم سو جاؤ گے اور کوئی تمہیں نہیں ڈرائے گا
اور بہت سے لوگ تمہاری پسندیدگی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
20 لیکن بُرے لوگوں کی آنکھیں دُھندلا جائیں گی؛
اُنہیں بچنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملے گی
اور اُن کی واحد اُمید موت ہوگی۔“