نحمیاہ
4 جیسے ہی سَنبلّط نے سنا کہ ہم دوبارہ سے دیوار بنا رہے ہیں، وہ سخت ناخوش ہوا اور بہت غصے میں آ گیا اور یہودیوں کا مذاق اُڑانے لگا۔ 2 اُس نے اپنے بھائیوں اور سامریہ کی فوج کے سامنے کہا: ”یہ کمزور سے یہودی کر کیا رہے ہیں؟ کیا وہ اپنے دم پر یہ کام کر لیں گے؟ کیا وہ قربانیاں پیش کریں گے؟ کیا وہ ایک دن میں کام ختم کر لیں گے؟ کیا وہ ملبے کے ڈھیر سے جلے ہوئے پتھروں کو نکالیں گے اور اُنہیں نیا بنا کر لگائیں گے؟“
3 تب طوبیاہ عمونی نے جو اُس کے پاس ہی کھڑا تھا، کہا: ”اگر ایک لومڑی بھی پتھر کی اُس دیوار پر چڑھ گئی جو وہ بنا رہے ہیں تو وہ دیوار ڈھیر ہو جائے گی۔“
4 مَیں نے دُعا کی: ”اَے ہمارے خدا! ہماری سُن کیونکہ ہمارے ساتھ حقارت بھرا سلوک کِیا جا رہا ہے۔ وہ ہمیں ذلیل کر رہے ہیں مگر تُو اِس ذِلت کو اُنہی کے سر پر ڈال دے۔ اُن کے ساتھ لُوٹ کے مال جیسا سلوک کِیا جائے اور اُنہیں قیدی بنا کر کسی اَور ملک میں لے جایا جائے۔ 5 اُن کی غلطی کو نظرانداز نہ کر* اور اُن کا گُناہ تیرے حضور سے مٹایا نہ جائے کیونکہ اُنہوں نے دیوار بنانے والوں کی بےعزتی کی ہے۔“
6 ہم دیوار بناتے رہے۔ ہم نے پوری دیوار جوڑ لی اور اِس کی آدھی اُونچائی تک اِسے دوبارہ بنا لیا۔ اور لوگ دل لگا کر کام کرتے رہے۔
7 لیکن جیسے ہی سَنبلّط، طوبیاہ، عربیوں، عمونیوں اور اشدودیوں کو پتہ چلا کہ یروشلم کی دیواروں کی مرمت کا کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دراڑیں بھری جا رہی ہیں تو وہ شدید غصے میں آ گئے۔ 8 اُنہوں نے مل کر سازش کی کہ وہ آ کر یروشلم پر حملہ کریں گے اور اِس میں افراتفری مچا دیں گے۔ 9 مگر ہم نے اپنے خدا سے دُعا کی اور دُشمنوں سے محفوظ رہنے کے لیے دن رات پہرا لگائے رکھا۔
10 لیکن یہوداہ کے لوگ کہہ رہے تھے: ”مزدوروں* کی ہمت جواب دے گئی ہے اور اِتنا زیادہ ملبہ پڑا ہوا ہے؛ ہم کبھی دیوار نہیں بنا پائیں گے۔“
11 دوسری طرف ہمارے دُشمن کہہ رہے تھے: ”اِس سے پہلے کہ اُنہیں پتہ چلے یا وہ ہمیں دیکھیں، ہم اُن کے بیچ میں گُھس کر اُنہیں مار ڈالیں گے اور کام روک دیں گے۔“
12 اُن کے آسپاس رہنے والے یہودی جب بھی شہر میں آتے تھے تو ہم سے بار بار* کہتے تھے: ”وہ ہم پر چاروں طرف سے حملہ کریں گے۔“
13 اِس لیے مَیں نے دیوار کی پچھلی طرف سب سے نچلی اور کُھلی جگہوں پر آدمی تعینات کر دیے۔ مَیں نے اُنہیں خاندانوں کے حساب سے تعینات کِیا اور اُن کے پاس اُن کی تلواریں، نیزے اور کمانیں تھیں۔ 14 جب مَیں نے دیکھا کہ وہ ڈرے ہوئے ہیں تو مَیں فوراً اُٹھا اور مَیں نے نوابوں، نائب حاکموں اور باقی لوگوں سے کہا: ”اُن سے نہ ڈریں۔ یہوواہ کو یاد رکھیں جو عظیم ہے اور جس کا خوف رکھا* جانا چاہیے۔ اپنے بھائیوں، اپنے بیٹے بیٹیوں، اپنی بیویوں اور اپنے گھروں کے لیے لڑیں۔“
15 جب ہمارے دُشمنوں کو پتہ چلا کہ ہمیں اُن کے منصوبے کا علم ہو گیا ہے اور سچے خدا نے اُن کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے تو ہم سب دوبارہ سے دیوار بنانے لگے۔ 16 اُس دن کے بعد سے میرے آدھے آدمی کام کرتے تھے اور آدھے آدمی نیزے، ڈھالیں اور کمانیں پکڑے رہتے تھے اور بکتر پہنے رہتے تھے۔ اور حاکم اُن یہودیوں* کے پیچھے کھڑے رہتے تھے 17 جو دیوار بنا رہے تھے۔ جو لوگ سامان ڈھوتے تھے، وہ ایک ہاتھ سے کام کرتے تھے اور دوسرے ہاتھ میں ہتھیار پکڑے رہتے تھے۔ 18 تعمیر کا کام کرنے والے ہر شخص نے کام کرتے وقت اپنی کمر پر تلوار باندھی ہوتی تھی اور نرسنگا* بجانے والا میرے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔
19 تب مَیں نے نوابوں، نائب حاکموں اور باقی لوگوں سے کہا: ”کام بہت بڑا اور بہت زیادہ ہے اور ہم دیوار پر ایک دوسرے سے کافی دُور دُور ہیں۔ 20 جب آپ نرسنگے* کی آواز سنیں تو ہمارے پاس آ کر اِکٹھے ہو جائیں۔ ہمارا خدا ہمارے لیے لڑے گا۔“
21 اِس طرح ہم پَو پھٹنے سے لے کر ستارے نکلنے تک کام کرتے رہتے تھے اور آدھے لوگ نیزے پکڑ کر کھڑے رہتے تھے۔ 22 اُس وقت مَیں نے لوگوں سے کہا: ”ہر آدمی اپنے خادم کے ساتھ یروشلم کے اندر رات گزارے اور وہ رات کے وقت ہماری حفاظت کریں اور دن کے وقت کام کریں۔“ 23 اِس لیے نہ تو مَیں، نہ میرے بھائی، نہ میرے خادم اور نہ ہی میرے پیچھے پیچھے چلنے والے پہرےدار اپنے کپڑے بدلتے تھے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے دائیں ہاتھ میں اپنا ہتھیار اُٹھائے رہتا تھا۔