تواریخ کی دوسری کتاب
13 بادشاہ یرُبعام کی حکمرانی کے 18ویں سال میں ابییاہ یہوداہ کا بادشاہ بنا۔ 2 اُس نے یروشلم میں تین سال حکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام میکایاہ تھا جو جِبعہ سے تعلق رکھنے والے اُوریایل کی بیٹی تھی۔ ابییاہ اور یرُبعام کے بیچ جنگ چلتی رہی۔
3 پھر ابییاہ 4 لاکھ طاقتور اور ماہر* جنگجوؤں کی فوج کو ساتھ لے کر جنگ کرنے گیا۔ اور یرُبعام نے ابییاہ سے جنگ لڑنے کے لیے 8 لاکھ ماہر* اور طاقتور جنگجوؤں کے ساتھ صفیں باندھیں۔ 4 ابییاہ کوہِصمریم پر کھڑا ہو گیا جو اِفرائیم کے پہاڑی علاقے میں ہے اور کہنے لگا: ”یرُبعام اور سارے اِسرائیلیو! میری بات سنو! 5 کیا تُم نہیں جانتے کہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے نمک کے عہد* کے ذریعے داؤد اور اُن کے بیٹوں کو ہمیشہ کے لیے اِسرائیل کی بادشاہت دی؟ 6 لیکن نِباط کا بیٹا یرُبعام جو داؤد کے بیٹے سلیمان کا خادم تھا، اپنے مالک کے خلاف کھڑا ہوا اور بغاوت کر دی۔ 7 اور بےکار اور فضول آدمی اُس کے پاس جمع ہونے لگے۔ جب سلیمان کا بیٹا رحبُعام کمعمر اور بزدل تھا تو وہ لوگ اُس پر بھاری پڑ گئے اور وہ اُن کے سامنے ٹک نہیں پایا۔
8 اب تمہیں لگتا ہے کہ تُم یہوواہ کی اُس بادشاہت کے سامنے ٹک پاؤ گے جو داؤد کے بیٹوں کے ہاتھ میں ہے کیونکہ تمہاری تعداد بہت زیادہ ہے اور تمہارے پاس سونے کے وہ بچھڑے ہیں جو یرُبعام نے تمہارے خداؤں کے طور پر بنائے تھے۔ 9 تُم نے یہوواہ کے کاہنوں یعنی ہارون کی اولاد اور لاویوں کو بھگا دیا اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کی طرح اپنے کاہن مقرر کر لیے۔ جو بھی شخص ایک جوان بیل اور سات مینڈھے اپنے ساتھ لاتا،* وہ اُن خداؤں کا کاہن بن جاتا جو اصل میں خدا نہیں ہیں۔ 10 جہاں تک ہماری بات ہے، ہمارا خدا یہوواہ ہے اور ہم نے اُسے نہیں چھوڑا۔ ہمارے کاہن یعنی ہارون کے بیٹے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں اور لاوی اُن کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ 11 ہر صبح اور ہر شام وہ یہوواہ کے حضور بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرتے ہیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے، خوشبودار بخور جلاتے ہیں اور خالص سونے کی میز پر تہہدرتہہ روٹیاں* رکھتے ہیں۔ وہ ہر شام سونے کے شمعدان روشن کرتے ہیں اور اُن کے چراغ جلاتے ہیں۔ ہم ایسا اِس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنے خدا یہوواہ کے لیے اپنی ذمےداری نبھا رہے ہیں۔ لیکن تُم نے اُسے ترک کر دیا ہے۔ 12 دیکھو! سچا خدا ہمارے ساتھ ہے اور وہ اپنے کاہنوں کے ذریعے ہماری رہنمائی کر رہا ہے جن کے پاس تمہارے خلاف جنگ کا اِعلان کرنے کے لیے نرسنگے ہیں۔ اِسرائیل کے آدمیو! اپنے باپدادا کے خدا یہوواہ کے خلاف نہ لڑو کیونکہ تُم کامیاب نہیں ہو گے۔“
13 لیکن یرُبعام نے اپنے ایک فوجی دستے کو گھات میں بٹھایا تاکہ وہ پیچھے کی طرف سے حملہ کرے۔ اِس طرح اُس کی فوج کا ایک حصہ یہوداہ کے آدمیوں کے سامنے تھا اور ایک حصہ اُن کے پیچھے گھات لگائے ہوئے تھا۔ 14 جب یہوداہ کے آدمی مُڑے تو اُنہوں نے دیکھا کہ اُنہیں آگے اور پیچھے دونوں طرف سے جنگ لڑنی ہوگی۔ اِس لیے وہ یہوواہ کو پکارنے لگے۔ اِس دوران کاہن اُونچی آواز میں نرسنگے بجا رہے تھے۔ 15 یہوداہ کے آدمی جنگ کے لیے للکارے اور جب اُنہوں نے ایسا کِیا تو سچے خدا نے ابییاہ اور یہوداہ کو یرُبعام اور سارے اِسرائیل پر فتح دِلائی۔ 16 اِسرائیلی یہوداہ کے سامنے سے بھاگ گئے اور خدا نے اُنہیں یہوداہ کے حوالے کر دیا۔ 17 ابییاہ اور اُس کے آدمیوں نے بڑی تعداد میں اِسرائیلیوں کی لاشیں گِرائیں اور اُن کے 5 لاکھ ماہر* سپاہیوں کو مار ڈالا۔ 18 اِس طرح اِسرائیل کے آدمیوں کا سر نیچا ہوا جبکہ یہوداہ کے آدمی سرفراز ہوئے کیونکہ اُنہوں نے اپنے باپدادا کے خدا یہوواہ پر بھروسا کِیا تھا۔ 19 ابییاہ یرُبعام کا پیچھا کرتا رہا اور اُس نے یرُبعام سے یہ شہر لے لیے: بیتایل اور اُس کے آسپاس کے* قصبے، یسانہ اور اُس کے آسپاس کے قصبے اور عِفراین اور اُس کے آسپاس کے قصبے۔ 20 ابییاہ کی حکمرانی کے دوران یرُبعام پھر کبھی پہلے جیسی طاقت حاصل نہیں کر پایا۔ پھر یہوواہ نے اُسے مار ڈالا اور وہ مر گیا۔
21 لیکن ابییاہ مضبوط ہوتا گیا۔ اُس نے 14 عورتوں سے شادی کی اور اُس کے 22 بیٹے اور 16 بیٹیاں ہوئیں۔ 22 ابییاہ کی باقی کہانی اور اُس کے کاموں اور باتوں کے بارے میں تفصیل اِدّو نبی کی تحریروں* میں لکھی ہے۔