سلاطین کی دوسری کتاب
21 جب منسّی بادشاہ بنا تو وہ 12 سال کا تھا اور اُس نے 55 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُس کی والدہ کا نام حِفصِیباہ تھا۔ 2 منسّی نے ایسے کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور اُن قوموں کی گھناؤنی رسمیں اپنا لیں جنہیں یہوواہ نے اِسرائیلیوں کے سامنے سے نکال دیا تھا۔ 3 اُس نے اُونچی جگہیں دوبارہ بنوائیں جو اُس کے والد حِزقیاہ نے ڈھا دی تھیں۔ اُس نے اِسرائیل کے بادشاہ اخیاب کی طرح بعل کے لیے قربانگاہیں اور ایک مُقدس بَلّی* بھی بنوائی۔ وہ آسمان کی ساری چیزوں *کے سامنے جھکا اور اُن کی پرستش کی۔ 4 اُس نے یہوواہ کے گھر میں بھی قربانگاہیں بنوائیں جس کے بارے میں یہوواہ نے کہا تھا: ”میرا نام یروشلم میں رہے گا۔“ 5 اُس نے یہوواہ کے گھر کے دونوں صحنوں میں آسمان کی ساری چیزوں* کے لیے قربانگاہیں بنوائیں۔ 6 اُس نے اپنے بیٹے کو آگ میں قربان کِیا،* جادوٹونا کِیا، فال نکالے اور مُردوں سے رابطہ کرنے کا دعویٰ کرنے والوں اور مستقبل کا حال بتانے والوں کو مقرر کِیا۔ اُس نے بڑے پیمانے پر ایسے کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور یوں اُسے غصہ دِلایا۔
7 اُس نے مُقدس بَلّی* کی اُس تراشی ہوئی مورت کو جو اُس نے بنوائی تھی، اُس گھر میں رکھا جس کے بارے میں یہوواہ نے داؤد اور اُن کے بیٹے سلیمان سے کہا تھا: ”اِس گھر میں اور یروشلم میں جسے مَیں نے اِسرائیل کے سب قبیلوں کے شہروں میں سے چُنا ہے، میرا نام ہمیشہ رہے گا۔ 8 مَیں پھر کبھی اِسرائیل کو اُس ملک سے نکل کر بھٹکنے نہیں دوں گا جو مَیں نے اُن کے باپدادا کو دیا تھا بشرطیکہ وہ میرے سب حکموں پر پوری طرح عمل کریں یعنی اُس پوری شریعت پر جس پر چلنے کا حکم میرے بندے موسیٰ نے اُنہیں دیا تھا۔“ 9 لیکن اِسرائیلیوں نے خدا کی بات نہیں مانی۔ منسّی اُنہیں گمراہ کرتا رہا اور اُن سے اُن قوموں سے بھی بڑے گُناہ کراتا رہا جنہیں یہوواہ نے اُن کے سامنے سے مٹا دیا تھا۔
10 یہوواہ اپنے بندوں یعنی نبیوں کے ذریعے یہ فرماتا رہا: 11 ”یہوداہ کے بادشاہ منسّی نے یہ سب گھناؤنے کام کیے ہیں۔ اُس نے اُن سب اموریوں سے بھی زیادہ بُرے کام کیے ہیں جو اُس سے پہلے تھے۔ اُس نے اپنے گھناؤنے بُتوں* کے ذریعے یہوداہ سے گُناہ کرایا ہے۔ 12 اِس لیے اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے فرمایا ہے: ”مَیں یروشلم اور یہوداہ پر ایسی تباہی لانے والا ہوں کہ جو کوئی اِس کے بارے میں سنے گا، اُس کے دونوں کانوں میں سنسناہٹ ہوگی۔ 13 مَیں یروشلم کو ناپنے کی اُسی ڈوری سے ناپوں گا جس سے سامریہ کو ناپا تھا اور اُس پر وہی ساہول* اِستعمال کروں گا جو اخیاب کے گھرانے پر اِستعمال کِیا تھا۔ مَیں بالکل ویسے یروشلم کا صفایا کر دوں گا جیسے کوئی کٹورے کو صاف کرتا ہے اور اِسے پونچھ کر اُلٹا رکھ دیتا ہے۔ 14 مَیں اپنی وراثت کے بچے ہوئے حصے کو ترک کر دوں گا اور اُسے اُس کے دُشمنوں کے حوالے کر دوں گا اور وہ لوگ اپنے سب دُشمنوں کے لیے لُوٹ کا مال بن جائیں گے 15 کیونکہ اُنہوں نے ایسے کام کیے جو میری نظر میں بُرے تھے اور اُس دن سے لے کر آج تک مجھے مسلسل غصہ دِلاتے رہے جس دن اُن کے باپدادا مصر سے نکلے تھے۔““
16 منسّی نے یہوداہ کے لوگوں سے گُناہ کرایا یعنی اُن سے وہ کام کرائے جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ اِس گُناہ کے علاوہ اُس نے بےقصوروں کا اِس حد تک خون بہایا کہ یروشلم ایک کونے سے دوسرے کونے تک خون سے بھر گیا۔ 17 منسّی کی باقی کہانی اور اُس کے سارے کاموں اور اُس کے گُناہوں کے بارے میں تفصیل یہوداہ کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 18 پھر منسّی اپنے باپدادا کی طرح فوت ہو گیا* اور اُسے اُس کے گھر کے باغ میں یعنی عُزّا کے باغ میں دفنایا گیا اور اُس کا بیٹا امون اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔
19 جب امون بادشاہ بنا تو وہ 22 سال کا تھا اور اُس نے دو سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُس کی والدہ کا نام مِسُلّمت تھا جو یُطبہ سے تعلق رکھنے والے حروص کی بیٹی تھیں۔ 20 وہ اپنے باپ منسّی کی طرح ایسے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ 21 وہ اُن سب راہوں پر چلتا رہا جن پر اُس کا باپ چلا تھا اور اُن گھناؤنے بُتوں کے سامنے جھکتا رہا اور اُن کی پرستش کرتا رہا جن کی پرستش اُس کا باپ کرتا تھا۔ 22 اِس طرح اُس نے اپنے باپدادا کے خدا یہوواہ کو چھوڑ دیا اور یہوواہ کی راہ پر نہیں چلا۔ 23 بعد میں امون کے خادموں نے اُس کے خلاف سازش کی اور اُسے اُسی کے گھر میں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ 24 لیکن ملک کے لوگوں نے اُن سب لوگوں کو مار ڈالا جنہوں نے بادشاہ امون کے خلاف سازش گھڑی تھی اور اُس کے بیٹے یوسیاہ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنا دیا۔ 25 امون کی باقی کہانی اور اُس کے کاموں کے بارے میں تفصیل یہوداہ کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 26 پھر اُنہوں نے اُسے عُزّا کے باغ میں اُس کی قبر میں دفنایا اور اُس کے بیٹے یوسیاہ اُس کی جگہ بادشاہ بنے۔