یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • 2-‏سلاطین 18
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

2-‏سلاطین کے ابواب کا خاکہ

      • یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ ‏(‏1-‏8‏)‏

      • اِسرائیل کے زوال پر ایک نظر ‏(‏9-‏12‏)‏

      • یہوداہ پر سِنّحیرِب کا حملہ ‏(‏13-‏18‏)‏

      • ربشاقی یہوواہ کی توہین کرتا ہے ‏(‏19-‏37‏)‏

2-‏سلاطین 18:‏2

فٹ‌نوٹس

  • *

    یہ ابی‌یاہ کا مخفف ہے۔‏

2-‏سلاطین 18:‏4

فٹ‌نوٹس

  • *

    ‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

  • *

    یا ”‏نحُشتان“‏

2-‏سلاطین 18:‏7

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏وہ جہاں بھی جاتے تھے،“‏

2-‏سلاطین 18:‏8

فٹ‌نوٹس

  • *

    یعنی ہر جگہ پھر چاہے وہاں آبادی کم تھی یا زیادہ

2-‏سلاطین 18:‏13

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    سب لوگوں کیلئے،‏ ص.‏ 14-‏15

2-‏سلاطین 18:‏14

فٹ‌نوٹس

  • *

    ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    سب لوگوں کیلئے،‏ ص.‏ 14-‏15

2-‏سلاطین 18:‏16

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏کاٹ“‏

2-‏سلاطین 18:‏17

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏فوج کے سربراہ،“‏

  • *

    یا ”‏درباریوں کے‌سربراہ“‏

  • *

    یا ”‏ساقیوں کے سربراہ“‏

2-‏سلاطین 18:‏21

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی‏،‏

    1/‏8/‏2005، ص.‏ 11

2-‏سلاطین 18:‏26

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏سُوریانی“‏

2-‏سلاطین 18:‏31

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏اور نکل کر میرے پاس آ جاؤ۔“‏

دوسرے ترجموں میں

اِس واقعے کو کسی اَور کتاب میں کھولنے کے لیے آیت کے نمبر پر کلک کریں۔
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6
  • 7
  • 8
  • 9
  • 10
  • 11
  • 12
  • 13
  • 14
  • 15
  • 16
  • 17
  • 18
  • 19
  • 20
  • 21
  • 22
  • 23
  • 24
  • 25
  • 26
  • 27
  • 28
  • 29
  • 30
  • 31
  • 32
  • 33
  • 34
  • 35
  • 36
  • 37
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
2-‏سلاطین 18:‏1-‏37

سلاطین کی دوسری کتاب

18 اِسرائیل کے بادشاہ اِیلاہ کے بیٹے ہوسیع کی حکمرانی کے تیسرے سال میں یہوداہ کے بادشاہ آخز کے بیٹے حِزقیاہ بادشاہ بنے۔ 2 جب وہ بادشاہ بنے تو وہ 25 سال کے تھے اور اُنہوں نے 29 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُن کی والدہ کا نام ابی*‏ تھا جو زکریاہ کی بیٹی تھیں۔ 3 وہ اپنے بڑے بزرگ داؤد کی طرح ایسے کام کرتے رہے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔ 4 اُنہوں نے ہی اُونچی جگہوں کو ڈھایا، مُقدس ستونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور مُقدس بَلّی*‏ کو کاٹ دیا۔ اُنہوں نے تانبے کے اُس سانپ کو بھی چکناچُور کر دیا جو موسیٰ نے بنایا تھا کیونکہ اُس زمانے تک اِسرائیل کے لوگ اُس کے سامنے قربانیاں پیش کر رہے تھے تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے اور اُسے تانبے کے سانپ کی مورت*‏ کہا جاتا تھا۔ 5 حِزقیاہ نے اِسرائیل کے خدا یہوواہ پر بھروسا رکھا۔ یہوداہ کے بادشاہوں میں نہ تو اُن سے پہلے اور نہ ہی اُن کے بعد اُن جیسا کوئی تھا۔ 6 وہ یہوواہ سے لپٹے رہے۔ وہ اُس کی راہوں سے نہیں ہٹے اور اُن حکموں پر عمل کرتے رہے جو یہوواہ نے موسیٰ کو دیے تھے۔ 7 یہوواہ اُن کے ساتھ تھا۔ وہ ہر معاملے میں*‏ سمجھ‌داری سے کام لیتے تھے۔ وہ اسور کے بادشاہ کے خلاف گئے اور اُس کی تابع‌داری کرنے سے اِنکار کر دیا۔ 8 اُنہوں نے غزہ اور اُس کے آس‌پاس کے علاقوں میں پہرےداروں کے بُرج سے لے کر قلعہ‌بند شہر تک*‏ فِلِستیوں کو ہرایا۔‏

9 بادشاہ حِزقیاہ کی حکمرانی کے چوتھے سال میں یعنی اِسرائیل کے بادشاہ اِیلاہ کے بیٹے ہوسیع کی حکمرانی کے ساتویں سال میں اسور کا بادشاہ سلمنسر سامریہ پر حملہ کرنے آیا اور اُسے گھیر لیا۔ 10 تقریباً تین سال بعد اسوریوں نے اُس پر قبضہ کر لیا۔ حِزقیاہ کی حکمرانی کے چھٹے سال میں یعنی اِسرائیل کے بادشاہ ہوسیع کی حکمرانی کے نویں سال میں سامریہ پر قبضہ کر لیا گیا۔ 11 پھر اسور کا بادشاہ اِسرائیلیوں کو قیدی بنا کر اسور لے گیا اور اُنہیں خَلح اور دریائے‌جوزان کے پاس خابور اور مادیوں کے شہروں میں بسا دیا۔ 12 ایسا اِس لیے ہوا کیونکہ اُنہوں نے اپنے خدا یہوواہ کی بات نہیں مانی بلکہ اُس کے عہد کو توڑتے رہے یعنی اُن سب حکموں کی خلاف‌ورزی کرتے رہے جو یہوواہ کے بندے موسیٰ نے دیے تھے۔ اُنہوں نے نہ تو خدا کی بات سنی اور نہ ہی مانی۔‏

13 بادشاہ حِزقیاہ کی حکمرانی کے 14ویں سال میں اسور کا بادشاہ سِنّحیرِب یہوداہ کے تمام قلعہ‌بند شہروں پر حملہ کرنے آیا اور اُن پر قبضہ کر لیا۔ 14 اِس لیے یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ نے اسور کے بادشاہ کو لکیس میں یہ پیغام بھجوایا:‏ ”‏مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔ آپ جو بھی مانگیں گے، مَیں دینے کو تیار ہوں۔ بس آپ یہاں سے لوٹ جائیں۔“‏ اسور کے بادشاہ نے یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ پر 300 قِنطار*‏ چاندی اور 30 قِنطار سونے کا جُرمانہ عائد کِیا۔ 15 تب حِزقیاہ نے وہ ساری چاندی دے دی جو یہوواہ کے گھر اور بادشاہ کے محل کے خزانوں میں ملی۔ 16 اُس وقت یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ نے یہوواہ کی ہیکل کے وہ دروازے اور چوکھٹیں اُتار*‏ کر اسور کے بادشاہ کو دے دیں جن پر اُنہوں نے خود سونے کی پرتیں لگوائی تھیں۔‏

17 پھر اسور کے بادشاہ نے ترتان،‏*‏ ربسارِس*‏ اور ربشاقی*‏ کو لکیس سے ایک بڑی فوج کے ساتھ یروشلم میں بادشاہ حِزقیاہ کے پاس بھیجا۔ وہ اُوپر یروشلم کی طرف گئے اور اُوپر والے تالاب کے نالے کے پاس کھڑے ہو گئے جو دھوبی گھاٹ کی شاہراہ پر ہے۔ 18 جب اُنہوں نے بادشاہ کو باہر آنے کے لیے کہا تو شاہی گھرانے کے نگران یعنی خِلقیاہ کے بیٹے اِلیاقیم، مُنشی شِبناہ اور شاہی تاریخ‌نویس یعنی آسَف کے بیٹے یوآخ باہر اُن کے پاس آئے۔‏

19 تب ربشاقی نے اُن سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے حِزقیاہ سے کہو:‏ ”‏عظیم بادشاہ یعنی اسور کے بادشاہ نے یہ کہا ہے:‏ ”‏تُم کس کے بھروسے بیٹھے ہو؟ 20 تُم کہہ رہے ہو:‏ ”‏میرے پاس پورا فوجی منصوبہ ہے اور جنگ لڑنے کی طاقت بھی۔“‏ لیکن یہ سب کھوکھلی باتیں ہیں۔ تُم کس کے بھروسے میرے خلاف بغاوت کرنے کی جُرأت کر رہے ہو؟ 21 دیکھو، تُم ایک کچلے ہوئے سرکنڈے یعنی مصر کی مدد پر بھروسا کر رہے ہو۔ اگر کوئی آدمی ایسے سرکنڈے کا سہارا لینے کے لیے اُسے پکڑے گا تو یہ اُس کی ہتھیلی میں گُھس کر آر پار ہو جائے گا۔ مصر کا بادشاہ فِرعون بھی اُن سب کے لیے ایسا ہی ہے جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں۔ 22 اور اگر تُم مجھ سے کہو:‏ ”‏ہم اپنے خدا یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں“‏ تو کیا یہ وہی خدا نہیں جس کی اُونچی جگہیں اور قربان‌گاہیں حِزقیاہ نے ڈھا دی ہیں اور اب وہ یہوداہ اور یروشلم سے کہہ رہا ہے:‏ ”‏آپ کو یروشلم میں اِس قربان‌گاہ کے سامنے جھکنا چاہیے“‏؟“‏“‏ 23 اِس لیے اب ذرا میرے مالک یعنی اسور کے بادشاہ سے یہ شرط لگاؤ:‏ مَیں تمہیں 2000 گھوڑے دوں گا بشرطیکہ تُم اُن کے لیے سوار ڈھونڈ لو۔ 24 جب تُم یہ نہیں کر سکتے تو پھر تُم میرے مالک کے خادموں میں سے سب سے معمولی ناظم کو بھی یہاں سے نہیں بھگا سکتے کیونکہ تُم رتھوں اور گُھڑسواروں کے لیے مصر پر بھروسا کرتے ہو۔ 25 تمہیں کیا لگتا ہے کہ مَیں یہوواہ کی اِجازت کے بغیر ہی اِس جگہ پر حملہ کرنے اور اِسے تباہ کرنے آیا ہوں؟ یہوواہ نے خود مجھ سے کہا تھا:‏ ”‏جاؤ اور اُس ملک پر حملہ کر کے اُسے تباہ کر دو۔“‏“‏

26 اِس پر خِلقیاہ کے بیٹے اِلیاقیم، شِبناہ اور یوآخ نے ربشاقی سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے اپنے خادموں سے اَرامی*‏ زبان میں بات کریں کیونکہ ہم یہ زبان سمجھ سکتے ہیں۔ ہم سے یہودیوں کی زبان میں بات نہ کریں کیونکہ شہر کی دیوار پر موجود لوگ یہ باتیں سُن رہے ہیں۔“‏ 27 لیکن ربشاقی نے اُن سے کہا:‏ ”‏تمہیں کیا لگتا ہے کہ میرے مالک نے مجھے صرف تمہارے مالک اور تُم سے یہ باتیں کہنے کے لیے بھیجا ہے؟ یہ باتیں دیوار پر بیٹھے لوگوں کے لیے بھی ہیں کیونکہ تمہارے ساتھ ساتھ وہ بھی اپنا فضلہ کھائیں گے اور اپنا پیشاب پئیں گے۔“‏

28 پھر ربشاقی نے کھڑے ہو کر اُونچی آواز میں یہودیوں کی زبان میں کہا:‏ ”‏عظیم بادشاہ یعنی اسور کے بادشاہ کا پیغام سنو۔ 29 بادشاہ نے یہ کہا ہے:‏ ”‏حِزقیاہ سے دھوکا نہ کھاؤ کیونکہ وہ تمہیں میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا۔ 30 اور حِزقیاہ کی اِن باتوں میں آ کر یہوواہ پر بھروسا نہ کرو کہ ”‏یہوواہ ضرور ہمیں بچائے گا اور یہ شہر اسور کے بادشاہ کے حوالے نہیں کِیا جائے گا۔“‏ 31 حِزقیاہ کی بات نہ سنو کیونکہ اسور کے بادشاہ نے یہ کہا ہے:‏ ”‏مجھ سے صلح کر لو اور ہتھیار ڈال دو۔‏*‏ تب تُم میں سے ہر ایک اپنی انگور کی بیل اور اپنے اِنجیر کے درخت کا پھل کھائے گا اور اپنے حوض سے پانی پیے گا 32 اور پھر مَیں آ کر تمہیں اُس ملک میں لے جاؤں گا جو تمہارے ملک جیسا ہے جہاں اناج، نئی مے، روٹی، شہد، انگور کے باغ اور زیتون کے درخت ہیں۔ یوں تُم زندہ رہو گے اور مرو گے نہیں۔ حِزقیاہ کی بات مت سنو کیونکہ وہ تمہیں یہ کہہ کر گمراہ کر رہا ہے کہ ”‏یہوواہ ہمیں بچا لے گا۔“‏ 33 کیا قوموں کا کوئی بھی خدا اپنے ملک کو اسور کے بادشاہ کے ہاتھ سے بچا سکا ہے؟ 34 حمات اور ارفاد کے خدا کہاں ہیں؟ سِفروائم، ہینع اور عِوّاہ کے خدا کہاں ہیں؟ کیا وہ سامریہ کو میرے ہاتھ سے بچا پائے؟ 35 اُن ملکوں کے سب خداؤں میں سے کون سا خدا اپنے ملک کو میرے ہاتھ سے بچا پایا جو یہوواہ یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا پائے گا؟“‏“‏“‏

36 لیکن لوگ خاموش رہے اور جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا کیونکہ بادشاہ نے حکم دیا تھا:‏ ”‏اُسے کوئی جواب نہ دینا۔“‏ 37 مگر شاہی گھرانے کے نگران یعنی خِلقیاہ کے بیٹے اِلیاقیم، مُنشی شِبناہ اور شاہی تاریخ‌نویس یعنی آسَف کے بیٹے یوآخ اپنے کپڑے پھاڑ کر حِزقیاہ کے پاس آئے اور اُنہیں ربشاقی کی باتیں بتائیں۔‏

اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
لاگ آؤٹ
لاگ اِن
  • اُردو
  • شیئر کریں
  • ترجیحات
  • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
  • اِستعمال کی شرائط
  • رازداری کی پالیسی
  • رازداری کی سیٹنگز
  • JW.ORG
  • لاگ اِن
شیئر کریں