سلاطین کی پہلی کتاب
12 رحبُعام سِکم گیا کیونکہ سارا اِسرائیل اُسے بادشاہ بنانے کے لیے سِکم آیا تھا۔ 2 جیسے ہی نِباط کے بیٹے یرُبعام نے اِس بارے میں سنا (وہ ابھی تک مصر میں تھا کیونکہ وہ بادشاہ سلیمان کی وجہ سے وہاں بھاگ گیا تھا اور وہیں رہ رہا تھا)، 3 لوگوں نے اُسے بُلایا۔ اِس کے بعد یرُبعام اور اِسرائیل کی ساری جماعت رحبُعام کے پاس آئی اور کہا: 4 ”آپ کے والد نے ہمارا جُوا بھاری کر دیا تھا۔ لیکن اگر آپ اُس بھاری* جُوئے کو ہلکا کر دیں اور اُس کڑی محنت کے سلسلے میں جو ہم آپ کے والد کے لیے کرتے تھے، ہمارے ساتھ تھوڑی رعایت برتیں تو ہم آپ کی خدمت کریں گے۔“
5 اِس پر رحبُعام نے اُن سے کہا: ”ابھی جائیں اور تین دن بعد میرے پاس واپس آئیں۔“ تب لوگ وہاں سے چلے گئے۔ 6 پھر بادشاہ رحبُعام نے اُن بزرگوں سے مشورہ کِیا جو اُس کے والد سلیمان کے جیتے جی اُن کے مُشیر ہوا کرتے تھے۔ اُس نے اُن سے پوچھا: ”آپ کے خیال میں مجھے اِن لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیے؟“ 7 اُنہوں نے کہا: ”اگر آج آپ اِن لوگوں کے خادم بن جائیں اور اِن کی درخواست مان لیں اور اِنہیں نرمی سے جواب دیں تو یہ ہمیشہ آپ کے خادم رہیں گے۔“
8 لیکن اُس نے بزرگوں کے مشورے کو رد کر دیا اور اُن جوانوں سے مشورہ کِیا جو اُس کے ساتھ پلے بڑھے تھے اور اب اُس کے خادم تھے۔ 9 اُس نے اُن سے پوچھا: ”آپ کے خیال میں ہمیں اُن لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیے جنہوں نے مجھ سے کہا ہے: ”آپ کے والد نے ہم پر جو جُوا لادا تھا، اُسے ہلکا کر دیں“؟“ 10 جو جوان آدمی اُس کے ساتھ پلے بڑھے تھے، اُنہوں نے اُس سے کہا: ”جن لوگوں نے آپ سے کہا ہے کہ ”آپ کے والد نے ہمارا جُوا بھاری کر دیا تھا لیکن آپ اُسے ہلکا کر دیں،“ آپ کو اُن سے یہ کہنا چاہیے: ”میری چھوٹی اُنگلی میرے والد کی کمر سے بھی موٹی ہوگی۔ 11 میرے والد نے آپ پر بھاری جُوا لادا لیکن مَیں اِس جُوئے کو اَور بھاری کروں گا۔ میرے والد نے آپ کو کوڑوں سے سزا دی لیکن مَیں آپ کو نوکیلے کوڑوں* سے سزا دوں گا۔““
12 یرُبعام اور سب لوگ تیسرے دن بادشاہ رحبُعام کے پاس آئے جیسے کہ اُس نے کہا تھا: ”تیسرے دن میرے پاس واپس آنا۔“ 13 لیکن بادشاہ نے لوگوں کو سختی سے جواب دیا اور اُس مشورے کو ٹھکرا دیا جو بزرگوں نے اُسے دیا تھا۔ 14 اُس نے جوان آدمیوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے لوگوں سے کہا: ”میرے والد نے آپ کا جُوا بھاری کِیا تھا لیکن مَیں اِس جُوئے کو اَور بھاری کروں گا۔ میرے والد نے آپ کو کوڑوں سے سزا دی لیکن مَیں آپ کو نوکیلے کوڑوں* سے سزا دوں گا۔“ 15 اِس طرح بادشاہ نے لوگوں کی بات نہیں مانی۔ یہ یہوواہ کی طرف سے تھا کہ حالات نے ایسے کروٹ لی تاکہ وہ بات پوری ہو جو یہوواہ نے اخیاہ سیلانی کے ذریعے نِباط کے بیٹے یرُبعام سے کہی تھی۔
16 جب سب اِسرائیلیوں نے دیکھا کہ بادشاہ نے اُن کی بات ماننے سے اِنکار کر دیا ہے تو اُنہوں نے بادشاہ سے کہا: ”ہم داؤد کے ساتھ حصےدار نہیں ہیں اور نہ ہی یسی کے بیٹے کی وراثت میں ہمارا کوئی حصہ ہے۔ اِسرائیلیو! اپنے اپنے خدا کی طرف لوٹ جاؤ۔ داؤد! اب اپنے گھرانے کو خود سنبھالو۔“ پھر اِسرائیلی اپنے اپنے گھروں* کو لوٹ گئے۔ 17 لیکن رحبُعام اُن اِسرائیلیوں پر حکمرانی کرتا رہا جو یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے۔
18 پھر بادشاہ رحبُعام نے ادورام کو جو اُن لوگوں کے سربراہ تھے جنہیں بادشاہ کی خدمت کرنے کا حکم دیا جاتا تھا، اِسرائیلیوں کے پاس بھیجا۔ لیکن سب اِسرائیلیوں نے اُنہیں سنگسار کر دیا۔ بادشاہ رحبُعام کسی طرح اپنے رتھ پر سوار ہو کر یروشلم بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ 19 اور اِسرائیلی آج تک داؤد کے گھرانے کے خلاف بغاوت کرتے آ رہے ہیں۔
20 جیسے ہی سارے اِسرائیلیوں نے سنا کہ یرُبعام لوٹ آیا ہے، اُنہوں نے ایک مجمع اِکٹھا کِیا اور یرُبعام کو بُلایا۔ وہاں اُنہوں نے اُسے سارے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا۔ یہوداہ کے قبیلے کے علاوہ کسی نے بھی داؤد کے گھرانے کا ساتھ نہیں دیا۔
21 جب رحبُعام یروشلم پہنچا تو اُس نے فوراً یہوداہ کے سارے گھرانے اور بِنیامین کے قبیلے سے 1 لاکھ 80 ہزار ماہر* جنگجوؤں کو اِکٹھا کِیا تاکہ وہ سلیمان کے بیٹے رحبُعام کی بادشاہت کو بحال کرنے کے لیے اِسرائیل کے گھرانے سے لڑیں۔ 22 پھر سچے خدا کا یہ کلام سچے خدا کے بندے سِمعیاہ تک پہنچا: 23 ”یہوداہ کے بادشاہ سلیمان کے بیٹے رحبُعام اور یہوداہ کے سارے گھرانے اور بِنیامین اور باقی سب لوگوں سے کہو: 24 ”یہوواہ نے فرمایا ہے: ”تُم اپنے اِسرائیلی بھائیوں سے جنگ کرنے نہ جاؤ۔ تُم میں سے ہر ایک اپنے اپنے گھر لوٹ جائے کیونکہ یہ سب میری طرف سے ہوا ہے۔“““ اُنہوں نے یہوواہ کی بات مانی اور یہوواہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
25 پھر یرُبعام نے اِفرائیم کے پہاڑی علاقے میں سِکم کو بنایا* اور وہاں رہنے لگا۔ اِس کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا اور فِنُوایل کو بنایا۔* 26 یرُبعام نے دل میں سوچا: ”اب بادشاہت پھر سے داؤد کے گھرانے کو مل جائے گی۔ 27 اگر یہ لوگ یروشلم میں یہوواہ کے گھر میں قربانیاں پیش کرنے جاتے رہیں گے تو اِن کے دل پھر سے اپنے مالک یہوداہ کے بادشاہ رحبُعام کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ پھر یہ مجھے مار ڈالیں گے اور یہوداہ کے بادشاہ رحبُعام کے پاس لوٹ جائیں گے۔“ 28 صلاح مشورے کے بعد بادشاہ نے سونے کے دو بچھڑے بنوائے اور لوگوں سے کہا: ”آپ لوگوں کے لیے یروشلم جانا بہت مشکل ہے۔ اِسرائیلیو! یہ ہے آپ کا خدا جو آپ کو ملک مصر سے نکال کر لایا ہے۔“ 29 پھر اُس نے ایک بچھڑا بیتایل میں رکھوایا اور دوسرا دان میں۔ 30 اِس وجہ سے لوگ گُناہ کرنے لگے اور جو بچھڑا دان میں تھا، اُسے پوجنے کے لیے دُور دان تک جانے لگے۔
31 اِس کے علاوہ اُس نے اُونچی جگہوں پر عبادتگاہیں بھی بنوائیں اور وہاں عام لوگوں کو کاہن مقرر کِیا جو لاوی نہیں تھے۔ 32 اِس کے ساتھ ساتھ یرُبعام نے آٹھویں مہینے کے 15ویں دن ایک عید شروع کی جو یہوداہ میں منائی جانے والی عید کی طرح تھی۔ اُس نے اُس قربانگاہ پر بچھڑے قربان کیے جو اُس نے بیتایل میں بنائی تھی اور بیتایل کی اُن اُونچی جگہوں پر کاہن مقرر کیے جو اُس نے بنائی تھیں۔ 33 اُس نے آٹھویں مہینے کے 15ویں دن اُس قربانگاہ پر قربانیاں پیش کرنی شروع کیں جو اُس نے بیتایل میں بنائی تھی۔ اُس نے یہ مہینہ خود چُنا تھا۔ اُس نے اِسرائیل کے لوگوں کے لیے ایک عید شروع کی اور اُوپر قربانگاہ پر جا کر قربانیاں پیش کیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے۔