سموئیل کی دوسری کتاب
6 داؤد نے ایک بار پھر اِسرائیل کی فوج میں سے سب بہترین سپاہیوں کو اِکٹھا کِیا۔ اُن کی تعداد 30 ہزار تھی۔ 2 پھر داؤد اور اُن کے سب آدمی سچے خدا کے اُس صندوق کو لانے کے لیے بعلہیہوداہ روانہ ہوئے جس کے سامنے لوگ فوجوں کے خدا یہوواہ کا نام لیتے ہیں جو کروبیوں کے اُوپر* تختنشین ہے۔ 3 لیکن اُنہوں نے سچے خدا کے صندوق کو ابینداب کے گھر سے لانے کے لیے اِسے ایک نئی بیل گاڑی پر رکھا۔ ابینداب کا گھر پہاڑی پر تھا اور اُن کے بیٹے عُزّہ اور اخیو نئی بیل گاڑی کے آگے آگے چل رہے تھے۔
4 اِس طرح وہ پہاڑی پر موجود ابینداب کے گھر سے سچے خدا کا صندوق لے کر چل پڑے اور اخیو صندوق کے آگے آگے چل رہے تھے۔ 5 داؤد اور اِسرائیل کا سارا گھرانہ یہوواہ کے حضور جشن منا رہا تھا۔ وہ صنوبر کی لکڑی سے بنے طرح طرح کے ساز، بربط،* دوسرے تاردار ساز، دف، جُھنجھنے اور جھانجھیں بجا رہے تھے۔ 6 لیکن جب وہ نکون کے کھلیان* کے پاس پہنچے تو عُزّہ نے ہاتھ بڑھا کر سچے خدا کے صندوق کو پکڑ لیا کیونکہ بیلوں کی وجہ سے بیل گاڑی تقریباً اُلٹنے والی تھی۔ 7 تب یہوواہ کا قہر عُزّہ پر بھڑکا اور سچے خدا نے اُس کی اِس گستاخی کی وجہ سے اُسے مار ڈالا۔ وہ وہیں سچے خدا کے صندوق کے پاس مر گیا۔ 8 لیکن داؤد اِس بات پر غصہ* ہوئے کہ یہوواہ کا غضب عُزّہ پر ٹوٹ پڑا۔ اور اُس جگہ کا نام پِرضعُزّہ* رکھا گیا اور آج تک اُس کا یہی نام ہے۔ 9 اِس لیے اُس دن داؤد یہوواہ سے خوفزدہ ہو گئے اور کہنے لگے: ”یہوواہ کا صندوق میرے پاس کیسے آ سکتا ہے؟“ 10 داؤد یہوواہ کے صندوق کو اپنے پاس داؤد کے شہر میں نہیں لانا چاہتے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے اِسے عوبیدادوم جاتی کے گھر پہنچا دیا۔
11 یہوواہ کا صندوق تین مہینے تک عوبیدادوم جاتی کے گھر رہا اور اِس دوران یہوواہ عوبیدادوم اور اُن کے سارے گھرانے کو برکت دیتا رہا۔ 12 پھر بادشاہ داؤد کو یہ خبر ملی: ”یہوواہ نے سچے خدا کے صندوق کی وجہ سے عوبیدادوم کے گھر اور اُن کی ساری چیزوں میں برکت ڈالی ہے۔“ اِس پر داؤد سچے خدا کے صندوق کو عوبیدادوم کے گھر سے داؤد کے شہر لانے کے لیے خوشی مناتے ہوئے گئے۔ 13 جب یہوواہ کا صندوق اُٹھانے والے چھ قدم آگے بڑھے تو داؤد نے ایک بیل اور ایک موٹاتازہ جانور قربان کِیا۔
14 داؤد پورے جوشوخروش سے یہوواہ کے حضور ناچ رہے تھے اور اُنہوں نے لینن کا افود پہنا ہوا تھا۔ 15 داؤد اور اِسرائیل کا سارا گھرانہ خوشی سے للکارتے ہوئے اور نرسنگا* بجاتے ہوئے یہوواہ کا صندوق لا رہا تھا۔ 16 لیکن جب یہوواہ کا صندوق داؤد کے شہر میں پہنچا تو ساؤل کی بیٹی میکل نے کھڑکی سے نیچے دیکھا کہ بادشاہ داؤد یہوواہ کے حضور ناچ کُود رہے ہیں۔ اِس پر وہ دل میں داؤد کو حقیر سمجھنے لگیں۔ 17 وہ یہوواہ کے صندوق کو اُس خیمے میں لائے جو داؤد نے اِس کے لیے کھڑا کِیا تھا اور اُسے اِس کی جگہ پر رکھ دیا۔ پھر داؤد نے یہوواہ کے حضور بھسم ہونے والی قربانیاں اور صلح* والی قربانیاں پیش کیں۔ 18 جب داؤد نے بھسم ہونے والی قربانیاں اور صلح* والی قربانیاں پیش کر لیں تو اُنہوں نے لوگوں کو فوجوں کے خدا یہوواہ کے نام سے دُعا دی۔ 19 اِس کے علاوہ اُنہوں نے سب لوگوں یعنی پوری اِسرائیلی قوم میں سے ہر ایک مرد اور عورت کو چھلا نما روٹی، کھجور کی ٹکی اور کشمش کی ٹکی دی۔ اِس کے بعد سب لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے۔
20 جب داؤد اپنے گھرانے کو برکت دینے کے لیے آئے تو ساؤل کی بیٹی میکل اُن سے ملنے کے لیے باہر آئیں۔ اُنہوں نے کہا: ”واہ! آج اِسرائیل کے بادشاہ نے اپنی کتنی شان بڑھائی ہے! وہ اپنے خادموں کی غلام عورتوں کے سامنے ایسے بےپردہ ہوا جیسے کوئی پاگل شخص کُھلے عام بےپردہ ہوتا ہے۔“ 21 اِس پر داؤد نے میکل سے کہا: ”مَیں یہوواہ کے حضور جشن منا رہا تھا جس نے آپ کے والد اور اُن کے سارے گھرانے کی بجائے مجھے چُنا اور جس نے مجھے یہوواہ کی قوم اِسرائیل کا رہنما مقرر کِیا۔ اِس لیے مَیں یہوواہ کے حضور جشن مناؤں گا 22 اور اپنے آپ کو اِس سے بھی زیادہ ادنیٰ کروں گا اور اپنی نظروں میں بھی کمتر بنوں گا۔ اور جن غلام عورتوں کی آپ بات کر رہی ہو، وہ میری تعظیم کریں گی۔“ 23 اِس لیے ساؤل کی بیٹی میکل کی مرتے دم تک کوئی اولاد نہیں ہوئی۔