سموئیل کی دوسری کتاب
21 داؤد کے زمانے میں تین سال تک لگاتار قحط پڑا۔ اِس لیے داؤد نے یہوواہ سے رہنمائی مانگی اور یہوواہ نے کہا: ”ساؤل اور اُس کے گھرانے پر خون کا جُرم ہے کیونکہ اُس نے جِبعونیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا تھا۔“ 2 اِس لیے بادشاہ نے جِبعونیوں کو بُلایا اور اُن سے بات کی۔ (جِبعونی اِسرائیلی نہیں تھے بلکہ بچے ہوئے اموری لوگوں میں سے تھے اور اِسرائیلیوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ اُنہیں ہلاک نہیں کریں گے۔ لیکن ساؤل نے اِسرائیل اور یہوداہ کے لوگوں کی خاطر جوش میں آ کر اُنہیں مار ڈالنے کی کوشش کی تھی۔) 3 داؤد نے جِبعونیوں سے پوچھا: ”مَیں آپ کے لیے کیا کروں؟ مَیں کفارہ کیسے ادا کروں تاکہ آپ یہوواہ کی وراثت کو دُعا دیں؟“ 4 جِبعونیوں نے اُن سے کہا: ”ساؤل اور اُس کے گھرانے نے ہمارے ساتھ جو بھی کِیا، اُس کی بھرپائی چاندی اور سونے سے نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ہم اِسرائیل میں کسی کو مار سکتے ہیں۔“ اِس پر بادشاہ نے کہا: ”آپ جو بھی کہیں گے، مَیں آپ کے لیے کروں گا۔“ 5 اُنہوں نے بادشاہ سے کہا: ”جس شخص نے ہمیں تباہ کِیا اور ہمارا نامونشان مٹانے کی سازش گھڑی تاکہ ہم اِسرائیل کے علاقے میں کہیں زندہ نظر نہ آئیں، 6 اُس کے سات بیٹوں کو ہمارے حوالے کِیا جائے۔ ہم جِبعہ میں یہوواہ کے حضور اُن کی لاشیں لٹکا دیں گے* جو یہوواہ کے چُنے ہوئے بادشاہ ساؤل کا شہر ہے۔“ اِس پر بادشاہ نے کہا: ”مَیں اُنہیں آپ کے حوالے کر دوں گا۔“
7 لیکن بادشاہ نے مفیبوسَت کے لیے جو یونتن کے بیٹے اور ساؤل کے پوتے تھے، رحم ظاہر کِیا کیونکہ داؤد اور ساؤل کے بیٹے یونتن نے یہوواہ کے حضور عہد باندھا تھا۔ 8 پھر بادشاہ نے ساؤل کے بیٹوں ارمونی اور مفیبوسَت کو جو ایاہ کی بیٹی رِصفاہ سے پیدا ہوئے تھے اور ساؤل کی بیٹی میکل* کے پانچ بیٹوں کو جن کا باپ برزِلّی محولاتی کا بیٹا عدریایل تھا، لیا 9 اور اُنہیں جِبعونیوں کے حوالے کر دیا۔ اُن کی لاشوں کو یہوواہ کے حضور پہاڑ پر لٹکا دیا گیا۔ اُن ساتوں کی موت اِکٹھے ہوئی۔ اُنہیں جَو کی کٹائی کے شروع میں یعنی کٹائی کے پہلے دنوں میں مار ڈالا گیا۔ 10 پھر ایاہ کی بیٹی رِصفاہ نے ٹاٹ لیا اور کٹائی کے شروع سے لے کر اُس وقت تک اِسے چٹان پر بچھائے رکھا جب تک آسمان سے لاشوں پر بارش نہیں ہوئی۔ اُس نے نہ تو دن کے دوران پرندوں کو لاشوں پر بیٹھنے دیا اور نہ ہی رات کے دوران جنگلی جانوروں کو اُن کے پاس آنے دیا۔
11 داؤد کو بتایا گیا کہ ایاہ کی بیٹی یعنی ساؤل کی حرم رِصفاہ نے کیا کِیا ہے۔ 12 پھر داؤد نے جا کر یبیسجِلعاد کے رہنماؤں* سے ساؤل اور اُن کے بیٹے یونتن کی ہڈیاں لیں۔ اُن لوگوں نے یہ ہڈیاں بیتشان کے چوک سے چُرائی تھیں جہاں فِلِستیوں نے اُن کی لاشوں کو اُس دن لٹکایا تھا جس دن اُنہوں نے کوہِجِلبوعہ پر ساؤل کو مار ڈالا تھا۔ 13 داؤد ساؤل اور اُن کے بیٹے یونتن کی ہڈیوں کو لائے۔ اُن لوگوں نے اُن آدمیوں کی ہڈیوں کو بھی اِکٹھا کِیا جنہیں سزائےموت دی گئی تھی۔* 14 پھر اُن لوگوں نے ساؤل اور اُن کے بیٹے یونتن کی ہڈیاں اُن کے والد قِیس کی قبر میں دفنائیں جو بِنیامین کے شہر ضِلع میں ہے۔ جب اُنہوں نے وہ سب کچھ کر لیا جس کا بادشاہ نے حکم دیا تھا تو خدا نے ملک کے حوالے سے اُن کی اِلتجائیں سنیں۔
15 ایک بار پھر فِلِستیوں اور اِسرائیلیوں کی جنگ ہوئی۔ اِس لیے داؤد اور اُن کے خادم گئے اور فِلِستیوں سے لڑے۔ اِس دوران داؤد تھک کر چُور ہو گئے۔ 16 ایک رِفائیمی آدمی تھا جس کا نام اِشبیبِنوب تھا۔ اُس کے پاس تانبے کا ایک نیزہ تھا جس کا وزن 300 مِثقال* تھا اور ایک نئی تلوار بھی تھی۔ اُس نے داؤد کو مار ڈالنے کا اِرادہ کِیا۔ 17 ضِرُویاہ کے بیٹے ابیشے فوراً داؤد کی مدد کو آئے اور اُس فِلِستی پر وار کر کے اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اُس وقت داؤد کے آدمیوں نے اُن سے یہ قسم کھائی: ”اب سے آپ ہمارے ساتھ جنگ پر نہیں جائیں گے! کہیں ایسا نہ ہو کہ اِسرائیل کا چراغ بجھ جائے!“
18 اِس کے بعد جوب میں ایک بار پھر فِلِستیوں سے جنگ چھڑ گئی۔ اُس وقت سِبکی حُوساتی نے سَف کو مار ڈالا جو رِفائیمی تھا۔
19 ایک بار پھر سے جوب میں فِلِستیوں کے ساتھ جنگ چھڑی اور یعریاُرجیم بیتلحمی کے بیٹے اِلحنان نے جولیت جاتی کو مار ڈالا جس کے نیزے کا دستہ جُلاہے کی کھڈی کے شہتیر کی طرح تھا۔
20 ایک بار پھر جات میں جنگ چھڑ گئی۔ وہاں ایک آدمی تھا جو بہت لمبا تڑنگا تھا۔ اُس کے ہاتھوں اور پاؤں کی چھ چھ اُنگلیاں تھیں یعنی کُل 24 اُنگلیاں تھیں۔ وہ بھی ایک رِفائیمی تھا۔ 21 وہ اِسرائیلیوں کو للکارتا رہتا تھا اِس لیے داؤد کے بھائی سِمعی کے بیٹے یونتن نے اُسے مار گِرایا۔
22 یہ جات کے چار رِفائیمی تھے جو داؤد اور اُن کے خادموں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔