سموئیل کی دوسری کتاب
14 ضِرُویاہ کے بیٹے یوآب کو پتہ چلا کہ بادشاہ کا دل ابیسلوم کو دیکھنے کے لیے تڑپ رہا ہے۔ 2 اِس لیے یوآب نے تقوع سے ایک ہوشیار عورت کو بُلوایا اور اُس سے کہا: ”مہربانی سے آپ ماتم کرنے کا ناٹک کریں۔ ماتم والے کپڑے پہن لیں اور اپنے جسم پر تیل نہ لگائیں۔ آپ ایسے ظاہر کرنا جیسے آپ لمبے عرصے سے کسی کی موت کا سوگ منا رہی ہیں۔ 3 اِس کے بعد آپ بادشاہ کے پاس جا کر اِس طرح کہنا۔“ پھر یوآب نے اُسے بتایا کہ اُسے کیا کہنا ہے۔*
4 تقوع کی وہ عورت بادشاہ کے پاس گئی اور اُس کے سامنے زمین پر گِر گئی اور مُنہ کے بل لیٹ گئی۔ پھر اُس نے کہا: ”بادشاہ سلامت! میری مدد کریں۔“ 5 بادشاہ نے اُس سے پوچھا: ”کیا ہوا ہے؟“ اُس نے جواب دیا: ”مَیں ایک بیوہ ہوں۔ میرا شوہر فوت ہو چُکا ہے۔ 6 آپ کی اِس خادمہ کے دو بیٹے تھے۔ وہ دونوں میدان میں ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور اُنہیں چھڑانے والا کوئی نہیں تھا۔ اُن میں سے ایک نے دوسرے پر وار کر کے اُسے مار ڈالا۔ 7 اب پورا خاندان آپ کی اِس خادمہ کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے اور کہہ رہا ہے: ”اُسے ہمارے حوالے کر دو جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا ہے تاکہ ہم اُسے مار کر اُس سے اُس کے بھائی کی جان کا بدلہ لیں پھر چاہے وارث ہی کیوں نہ مٹ جائے۔“ وہ میرے پاس بچے آخری انگارے* کو بھی بجھا دیں گے۔ وہ زمین سے میرے شوہر کا نام اور اُس کی نسل* مٹا دیں گے۔“
8 پھر بادشاہ نے عورت سے کہا: ”اپنے گھر جائیں اور مَیں آپ کے حوالے سے ایک حکم جاری کروں گا۔“ 9 اِس پر تقوعی عورت نے بادشاہ سے کہا: ”میرے مالک بادشاہ سلامت! مَیں اور میرے باپ کا گھرانہ قصوروار ٹھہرے لیکن بادشاہ اور اُس کا تخت بےقصور رہے۔“ 10 بادشاہ نے کہا: ”اگر اب کوئی آپ سے کچھ کہے تو اُسے میرے پاس لائیں اور وہ پھر کبھی آپ کو پریشان نہیں کرے گا۔“ 11 لیکن اُس عورت نے کہا: ”میری عرض ہے کہ بادشاہ اپنے خدا یہوواہ کو یاد رکھے تاکہ خون کا بدلہ لینے والا اَور تباہی نہ مچائے اور میرے بیٹے کو مار نہ ڈالے۔“ اِس پر بادشاہ نے کہا: ”زندہ خدا یہوواہ کی قسم، آپ کے بیٹے کا ایک بال بھی زمین پر نہیں گِرے گا۔“ 12 پھر اُس عورت نے کہا: ”میرے مالک بادشاہ سلامت! مہربانی سے اپنی خادمہ کو ایک اَور بات کہنے کی اِجازت دیں۔“ بادشاہ نے کہا: ”ہاں بولیں۔“
13 اُس عورت نے کہا: ”تو پھر آپ نے خدا کے بندوں کے خلاف ایسا کرنے کا کیوں سوچا؟ بادشاہ اِس طرح کی باتیں کر کے اپنے آپ کو قصوروار ثابت کر رہا ہے کیونکہ وہ اپنے جلاوطن بیٹے کو واپس نہیں لا رہا۔ 14 یہ سچ ہے کہ ہم سب کو مرنا ہوگا اور ہم اُس پانی کی طرح بن جائیں گے جسے زمین پر اُنڈیلا جاتا ہے اور دوبارہ جمع نہیں کِیا جا سکتا۔ لیکن خدا کسی کی جان نہیں لیتا بلکہ دیکھتا ہے کہ جسے جلاوطن کِیا گیا ہے، کیا اُسے اپنے پاس واپس لانے کی کوئی گنجائش ہے۔ 15 مَیں یہ باتیں اپنے مالک بادشاہ سلامت سے اِس لیے کہنے آئی ہوں کیونکہ لوگوں نے مجھے ڈرا دیا تھا۔ اِس لیے آپ کی خادمہ نے سوچا: ”مَیں بادشاہ سلامت سے بات کرتی ہوں۔ شاید بادشاہ اپنی اِس غلام کی درخواست سُن کر کوئی کارروائی کرے۔ 16 ہو سکتا ہے کہ بادشاہ اپنی غلام کی سنے اور مجھے اُس آدمی کے ہاتھ سے بچائے جو مجھے اور میرے اِکلوتے بیٹے کو اُس وراثت سے محروم کرنا چاہتا ہے جو خدا نے ہمیں دی ہے۔“ 17 پھر آپ کی خادمہ نے سوچا: ”شاید میرے مالک بادشاہ سلامت کی بات سے مجھے سکون ملے“ کیونکہ میرا مالک بادشاہ سلامت سچے خدا کے فرشتے کی طرح اچھے اور بُرے میں فرق کر سکتا ہے۔ میری دُعا ہے کہ یہوواہ آپ کا خدا آپ کے ساتھ ہو۔“
18 پھر بادشاہ نے اُس سے کہا: ”مَیں آپ سے جو کچھ پوچھوں، مہربانی سے مجھے اُس کا جواب دیں اور مجھ سے کچھ بھی مت چھپائیں۔“ اُس عورت نے کہا: ”میرے مالک بادشاہ سلامت! آپ جو پوچھنا چاہتے ہیں، پوچھیے۔“ 19 بادشاہ نے اُس سے کہا: ”کیا یوآب نے آپ سے یہ سب کرنے کو کہا تھا؟“ عورت نے جواب دیا: ”میرے مالک بادشاہ سلامت! مجھے آپ کی جان کی قسم، میرے مالک بادشاہ سلامت نے بالکل صحیح کہا۔* آپ کے خادم یوآب نے ہی مجھے یہ سب کرنے کے لیے کہا تھا اور آپ کی خادمہ کو بتایا تھا کہ اُسے کیا کیا کہنا ہے۔* 20 آپ کے خادم یوآب نے یہ اِس لیے کِیا تاکہ آپ معاملے کو فرق نظر سے دیکھیں۔ لیکن میرے مالک کے پاس سچے خدا کے فرشتے کی طرح دانشمندی ہے اور وہ جانتا ہے کہ ملک میں کیا کیا ہو رہا ہے۔“
21 تب بادشاہ نے یوآب سے کہا: ”ٹھیک ہے، مَیں ایسا ہی کروں گا۔ جاؤ اور ابیسلوم کو واپس لے آؤ۔“ 22 اِس پر یوآب زمین پر گِر گئے اور مُنہ کے بل لیٹ گئے اور بادشاہ کی تعریف کی۔ یوآب نے کہا: ”میرے مالک بادشاہ سلامت! آج آپ کے خادم کو پتہ چل گیا ہے کہ اُس پر آپ کی نظرِکرم ہے کیونکہ بادشاہ نے اپنے خادم کی درخواست قبول کی ہے۔“ 23 پھر یوآب اُٹھ کر جِسور گئے اور ابیسلوم کو یروشلم واپس لائے۔ 24 بادشاہ نے کہا: ”وہ اپنے گھر لوٹ سکتا ہے لیکن وہ میرے سامنے نہ آئے۔“ اِس لیے ابیسلوم اپنے گھر واپس آ گئے اور بادشاہ کے سامنے نہیں گئے۔
25 سارے اِسرائیل میں جتنی تعریف ابیسلوم کی خوبصورتی کی کی جاتی تھی، کسی اَور کی نہیں کی جاتی تھی۔ اُس میں سر سے پاؤں تک کوئی عیب نہیں تھا۔ 26 اُسے ہر سال کے آخر میں اپنے بال کٹوانے پڑتے تھے کیونکہ اُس کے بالوں کا وزن بہت زیادہ ہو جاتا تھا۔ جب وہ اپنے بال کٹواتا تھا تو اُس کے بالوں کا وزن شاہی باٹ* کے حساب سے 200 مِثقال* ہوتا تھا۔ 27 ابیسلوم کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ اُس کی بیٹی کا نام تَمر تھا اور وہ بہت خوبصورت تھی۔
28 ابیسلوم کو یروشلم میں رہتے ہوئے پورے دو سال ہو گئے لیکن وہ بادشاہ کے سامنے نہیں گیا۔ 29 پھر ابیسلوم نے یوآب کو بُلوایا تاکہ اُنہیں بادشاہ کے پاس بھیجے۔ لیکن یوآب نہیں آئے۔ ابیسلوم نے دوبارہ یوآب کو بُلوایا لیکن اُنہوں نے آنے سے اِنکار کر دیا۔ 30 آخرکار ابیسلوم نے اپنے خادموں سے کہا: ”میرے کھیت کے ساتھ یوآب کا کھیت ہے جس میں جَو کی کچھ فصل لگی ہوئی ہے، جا کر اُسے آگ لگا دو۔“ اِس لیے ابیسلوم کے خادموں نے کھیت میں آگ لگا دی۔ 31 اِس پر یوآب اُٹھے اور ابیسلوم کے گھر گئے اور اُس سے کہا: ”تمہارے خادموں نے میرے کھیت میں آگ کیوں لگائی؟“ 32 ابیسلوم نے یوآب کو جواب دیا: ”دیکھو، مَیں نے تمہیں پیغام بھیجا تھا کہ ”میرے پاس آؤ تاکہ مَیں تمہیں بادشاہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجوں کہ ”مَیں جِسور سے کیوں آیا ہوں؟ اچھا ہوتا کہ مَیں وہیں رہتا۔ اب مجھے بادشاہ کے سامنے جانے کی اِجازت دی جائے۔ اور اگر مَیں نے کوئی جُرم کِیا ہے تو مجھے موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے۔“““
33 اِس لیے یوآب بادشاہ کے پاس گئے اور اُسے یہ سب بتایا۔ پھر بادشاہ نے ابیسلوم کو بُلایا۔ ابیسلوم بادشاہ کے حضور آیا اور اُس کے سامنے زمین پر گِر کر مُنہ کے بل لیٹ گیا۔ پھر بادشاہ نے ابیسلوم کو چُوما۔