پیدائش
34 یعقوب اور لِیاہ کی بیٹی دِینہ اُس علاقے کی لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارنے* کے لیے اُن کے پاس جایا کرتی تھیں۔ 2 جب اُس علاقے کے ایک سردار حمور حوِی کے بیٹے سِکم نے دِینہ کو دیکھا تو وہ اُنہیں پکڑ کر لے گیا اور اُن کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ 3 اُسے یعقوب کی بیٹی دِینہ سے پیار ہو گیا اور وہ* اُنہیں اپنے دلودماغ سے نکال نہیں پا رہا تھا۔ وہ اُن سے میٹھی میٹھی باتیں کر کے اُن کا دل جیتنے کی کوشش کرتا تھا۔ 4 پھر سِکم نے اپنے والد حمور سے کہا: ”کسی طرح میری شادی اِس لڑکی سے کرا دیں۔“
5 جب یعقوب کو پتہ چلا کہ سِکم نے اُن کی بیٹی دِینہ کو بےحُرمت کِیا ہے تو اُس وقت اُن کے بیٹے ریوڑ کے ساتھ میدان میں تھے۔ اِس لیے یعقوب نے اُن کے آنے تک کسی سے کچھ نہیں کہا۔ 6 بعد میں سِکم کے والد حمور یعقوب سے بات کرنے کے لیے گئے۔ 7 لیکن جب یعقوب کے بیٹوں کو اُس واقعے کی خبر ملی تو وہ فوراً میدان سے واپس آ گئے۔ وہ غموغصے سے بھرے ہوئے تھے کیونکہ سِکم نے بہت گھٹیا حرکت کی تھی اور یعقوب کی بیٹی سے زیادتی کر کے اِسرائیل کی بےعزتی کی تھی۔
8 حمور نے اُن سے کہا: ”میرا بیٹا سِکم شدت سے آپ کی بیٹی کو چاہتا ہے۔* مہربانی سے میرے بیٹے کی شادی اُس سے کر دیں 9 اور ہم سے رشتےداری کر لیں۔* آپ ہمیں اپنی بیٹیاں دیں اور ہم آپ کو اپنی بیٹیاں دیں گے۔ 10 ہمارے ساتھ یہاں رہیں۔ ہمارا پورا علاقہ آپ کے سامنے ہے۔ جہاں چاہیں رہیں، اپنا کاروبار کریں اور یہاں بس جائیں۔“ 11 پھر سِکم نے دِینہ کے والد اور بھائیوں سے کہا: ”مجھ پر نظرِکرم کر دیں۔ پھر آپ جو بھی مانگیں گے، مَیں آپ کو دوں گا۔ 12 آپ لڑکی کے بدلے مجھ سے بڑی سے بڑی رقم اور تحفے میں جو چاہے، مانگ سکتے ہیں۔ بس دِینہ کی شادی مجھ سے کر دیں۔“
13 یعقوب کے بیٹوں نے سِکم اور اُس کے والد حمور کو جواب دیتے وقت چالاکی سے کام لیا کیونکہ سِکم نے اُن کی بہن دِینہ کو بےحُرمت کِیا تھا۔ 14 اُنہوں نے اُن سے کہا: ”ہم ایسا نہیں کر سکتے؛ ہم اپنی بہن ایک ایسے آدمی کو نہیں دے سکتے جس کا ختنہ نہیں ہوا کیونکہ یہ ہمارے لیے بےعزتی کی بات ہوگی۔ 15 ہم صرف اُس صورت میں ہاں کریں گے اگر آپ کے سب مرد ہماری طرح ختنہ کرائیں گے۔ 16 پھر ہم اپنی بیٹیاں آپ کو دیں گے اور آپ کی بیٹیاں اپنے لیے لیں گے۔ ہم آپ کے ساتھ رہیں گے اور ہم اور آپ ایک ہو جائیں گے۔ 17 لیکن اگر آپ ہماری بات نہیں مانیں گے اور ختنہ نہیں کرائیں گے تو ہم اپنی بہن کو لے کر یہاں سے چلے جائیں گے۔“
18 حمور اور اُن کے بیٹے سِکم کو یعقوب کے بیٹوں کی بات پسند آئی۔ 19 سِکم نے ذرا بھی دیر کیے بغیر یعقوب کے بیٹوں کی بات پر عمل کِیا کیونکہ وہ دِینہ کو بہت چاہتا تھا۔ سِکم کی اپنے والد کے خاندان میں سب سے زیادہ عزت کی جاتی تھی۔
20 حمور اور اُن کا بیٹا سِکم شہر کے دروازے پر گئے اور شہر کے آدمیوں سے بات کرتے ہوئے کہنے لگے: 21 ”یہ آدمی ہمارے ساتھ صلح صفائی سے رہنا چاہتے ہیں۔ ہمارا علاقہ کافی بڑا ہے اِس لیے اُنہیں اِس علاقے میں بسنے دیتے ہیں اور کاروبار کرنے دیتے ہیں۔ ہم اُن کی بیٹیوں سے شادی کر سکتے ہیں اور وہ ہماری بیٹیوں سے شادی کر سکتے ہیں۔ 22 بس اُنہوں نے ایک شرط رکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر مرد ختنہ کرائے جیسے اُن کا ہوا ہے۔ اگر ہم یہ شرط مان لیں گے تو وہ ہمارے ساتھ ایک ہو کر رہیں گے۔ 23 ایسی صورت میں اُن کی دولت اور مال مویشی ہمارے ہو جائیں گے۔ تو پھر کیوں نہ اُن کی بات مان لیں تاکہ وہ ہمارے ساتھ ہی رہیں؟“ 24 تب شہر کے دروازے پر موجود سب آدمیوں نے حمور اور اُن کے بیٹے سِکم سے اِتفاق کِیا اور پھر شہر کے سب مردوں نے ختنہ کرایا۔
25 لیکن تیسرے دن جب وہ آدمی ابھی بھی شدید تکلیف میں تھے تو یعقوب کے دو بیٹے شمعون اور لاوی جو دِینہ کے بھائی تھے، اپنی اپنی تلوار لے کر اِس طرح شہر کے اندر گئے کہ کسی کو اُن پر شک نہیں ہوا۔ اُنہوں نے وہاں کے سب مردوں کو قتل کر دیا۔ 26 اُنہوں نے حمور اور اُن کے بیٹے سِکم کو تلوار سے مار ڈالا اور دِینہ کو سِکم کے گھر سے لے گئے۔ 27 پھر یعقوب کے باقی بیٹے بھی شہر میں آئے جہاں آدمیوں کی لاشیں پڑی تھیں اور شہر کو لُوٹ لیا کیونکہ اُن کی بہن کو بےحُرمت کِیا گیا تھا۔ 28 وہ اُن کی بھیڑبکریاں، گائے بیل، گدھے اور وہ سب کچھ لے گئے جو شہر اور میدان میں تھا۔ 29 اُنہوں نے اُن کے سارے مال پر قبضہ کر لیا، اُن کے سب بچوں اور بیویوں کو قیدی بنا لیا اور وہ سب کچھ لُوٹ لیا جو گھروں میں تھا۔
30 پھر یعقوب نے شمعون اور لاوی سے کہا: ”آپ نے میرے لیے بڑی مصیبت کھڑی کر دی ہے۔* اب اِس علاقے کے کنعانی اور فِرِزّی لوگ مجھ سے نفرت کریں گے۔ اُن کے مقابلے میں ہماری تعداد بہت کم ہے۔ وہ اِکٹھے ہو کر ہم پر حملہ کریں گے اور مجھے اور میرے گھرانے کو برباد کر دیں گے۔“ 31 اِس پر اُنہوں نے کہا: ”ہم یہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے کہ کوئی ہماری بہن سے فاحشہ جیسا سلوک کرے!“