یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م22 نومبر ص.‏ 14-‏19
  • کسی بھی وجہ سے یہوواہ سے جُدا نہ ہوں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کسی بھی وجہ سے یہوواہ سے جُدا نہ ہوں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • جب ہمیں پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے
  • جب پیشوائی کرنے والے بھائیوں کے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے
  • جب لوگ ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں
  • یہوواہ اور اُس کی تنظیم کے وفادار رہیں
  • خدا کی تنظیم کے اندر تحفظ پائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • وفاداری کے اِمتحان سے گزرتے وقت اپنے ہوش‌وحواس قائم رکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • یہوواہ اپنی تنظیم کی رہنمائی کر رہا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • آپ اپنے بہن بھائیوں پر بھروسا کر سکتے ہیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
م22 نومبر ص.‏ 14-‏19

مطالعے کا مضمون نمبر 47

کسی بھی وجہ سے یہوواہ سے جُدا نہ ہوں

‏”‏اَے ‏[‏یہوواہ]‏!‏ میرا توکل تجھ پر ہے۔“‏‏—‏زبور 31:‏14‏۔‏

گیت نمبر 122‏:‏ سچائی کی راہ پر قائم رہیں

مضمون پر ایک نظرa

1.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ ہمارے قریب آنا چاہتا ہے؟‏

یہوواہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اُس کے قریب جائیں۔ (‏یعقو 4:‏8‏)‏ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُسے اپنا خدا، اپنا باپ اور اپنا دوست سمجھیں۔ وہ ہماری دُعاؤں کا جواب دیتا ہے اور مشکل وقت میں ہماری مدد کرتا ہے۔ وہ اپنی تنظیم کے ذریعے ہمیں تعلیم دیتا ہے اور ہماری حفاظت کرتا ہے۔ لیکن یہوواہ کے قریب جانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‏

2.‏ ہم یہوواہ کے قریب کیسے جا سکتے ہیں؟‏

2 ہم یہوواہ سے دُعا کرنے، اُس کا کلام پڑھنے اور اِس پر سوچ بچار کرنے سے اُس کے قریب جا سکتے ہیں۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمارے دل اُس کی محبت اور اُس کی شکرگزاری سے بھر جاتے ہیں۔ ہم میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم اُس کا کہنا مانیں اور اُس کی بڑائی کریں کیونکہ وہ اِس کا حق‌دار بھی ہے۔ (‏مکا 4:‏11‏)‏ جتنا زیادہ ہم یہوواہ کو جانیں گے اُتنا ہی زیادہ ہم اُس پر اور اُس تنظیم پر بھروسا کر پائیں گے جو اُس نے ہماری مدد کرنے کے لیے بنائی ہے۔‏

3.‏ شیطان ہمیں یہوواہ سے دُور کرنے کی کوشش کیسے کرتا ہے لیکن کیا چیز ہماری مدد کرے گی تاکہ ہم یہوواہ اور اُس کی تنظیم کو کبھی نہ چھوڑیں؟ (‏زبور 31:‏13، 14‏)‏

3 شیطان ہمیں یہوواہ سے دُور کرنے کی کوشش کرتا ہے، خاص طور پر اُس وقت جب ہم مشکلوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایسا کیسے کرتا ہے؟ وہ آہستہ آہستہ یہوواہ اور اُس کی تنظیم سے ہمارا بھروسا ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ہم اُس کی چالوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ اگر ہمارا ایمان مضبوط ہوگا اور ہم یہوواہ پر پکا بھروسا رکھیں گے تو ہم اُسے اور اُس کی تنظیم کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے۔‏‏—‏زبور 31:‏13، 14 کو پڑھیں۔‏

4.‏ اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟‏

4 اِس مضمون میں ہم تین ایسی مشکلوں پر بات کریں گے جو کلیسیا کے باہر سے آتی ہیں۔ اِن تینوں ہی مشکلوں کی وجہ سے یہوواہ اور اُس کی تنظیم پر ہمارا بھروسا کمزور ہو سکتا ہے۔ یہ مشکلیں ہمیں یہوواہ سے دُور کیسے کر سکتی ہیں؟ اور جب شیطان اِن مشکلوں کا فائدہ اُٹھا کر ہمیں توڑنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اُس کی کوششوں کو ناکام کیسے بنا سکتے ہیں؟‏

جب ہمیں پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے

5.‏ پریشانیوں سے گزرتے وقت یہوواہ اور اُس کی تنظیم پر ہمارے بھروسے کا اِمتحان کیسے ہو سکتا ہے؟‏

5 کبھی کبھار ہمیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر شاید ہمارے گھر والے ہماری مخالفت کریں یا ہماری نوکری چلی جائے۔ اِس طرح کی پریشانیوں میں یہوواہ کی تنظیم پر ہمارا ایمان کیسے ڈگمگا سکتا ہے اور ہم یہوواہ سے دُور کیسے ہو سکتے ہیں؟ جب ہم کافی لمبے عرصے سے پریشانیوں سے گزر رہے ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں لگے کہ کچھ ٹھیک نہیں ہوگا اور شاید ہم بے‌حوصلہ ہو جائیں۔ شیطان اِس موقعے سے پورا فائدہ اُٹھاتا ہے اور ہمارے دل میں یہ شک پیدا کرتا ہے کہ یہوواہ ہم سے محبت نہیں کرتا۔ شیطان چاہتا ہے کہ ہم یہ سوچنے لگیں کہ ہماری پریشانیوں کی وجہ یہوواہ اور اُس کی تنظیم ہے۔ ایسا ہی کچھ مصر میں بنی‌اِسرائیل کے ساتھ ہوا۔ شروع شروع میں اُنہیں یقین تھا کہ یہوواہ نے ہی اُنہیں مصر کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے موسیٰ اور ہارون کو بھیجا ہے۔ (‏خر 4:‏29-‏31)‏ لیکن جب فرعون نے اُن کی زندگی مشکل بنا دی تو وہ موسیٰ اور ہارون کو اِس کا ذمے‌دار ٹھہرانے لگے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ‏”‏تُم نے ہم کو فرؔعون اور اُس کے خادموں کی نگاہ میں ایسا گھنونا کِیا ہے کہ ہمارے قتل کے لئے اُن کے ہاتھ میں تلوار دے دی ہے۔“‏ (‏خر 5:‏19-‏21)‏ وہ خدا کے وفادار بندوں پر اِلزام لگانے لگے۔ یہ کتنے افسوس کی بات تھی!‏ اگر آپ بھی بہت لمبے عرصے سے پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں تو آپ یہوواہ اور اُس کی تنظیم پر اپنے بھروسے کو مضبوط کیسے رکھ سکتے ہیں؟‏

6.‏ ہم پریشانیوں سے نمٹنے کے سلسلے میں حبقوق نبی سے کیا سیکھتے ہیں؟ (‏حبقوق 3:‏17-‏19)‏

6 دُعا میں یہوواہ کے سامنے اپنا دل کھول دیں اور مدد کے لیے اُس پر آس لگائیں۔‏ حبقوق نبی کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا تھا۔ ایک وقت تو ایسا آیا کہ اُنہیں اِس بات پر شک ہونے لگا کہ یہوواہ کو اُن کی فکر ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے دُعا میں دل کھول کر یہوواہ کو اپنے احساسات بتائے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏، مَیں کب تک مدد کے لیے پکاروں گا، کیونکہ تُو سنتا ہی نہیں؟ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ تُو بدکاری کو کیوں برداشت کر لیتا ہے؟“‏ (‏حبق 1:‏2، 3، نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ یہوواہ نے اپنے اِس بندے کی اِلتجا سنی۔ (‏حبق 2:‏2، 3)‏ جب حبقوق نے اِس بات پر سوچ بچار کِیا کہ یہوواہ نے ماضی میں اپنے بندوں کو کیسے بچایا تو اُن کی خوشی پھر سے لوٹ آئی۔ اُنہیں اِس بات پر پکا یقین ہو گیا کہ یہوواہ کو اُن کی فکر ہے اور وہ اُنہیں ہر پریشانی کا سامنا کرنے کی طاقت دے گا۔ ‏(‏حبقوق 3:‏17-‏19 کو پڑھیں۔)‏ ہم اِس سے کیا سیکھتے ہیں؟ یہ کہ پریشانیوں کا سامنا کرتے وقت ہمیں یہوواہ سے دُعا کرنی چاہیے اور کُھل کر اُسے اپنے احساسات بتانے چاہئیں۔ پھر ہمیں مدد کے لیے اُس پر آس لگانی چاہیے۔ جب ہم ایسا کریں گے تو ہمیں اِس بات کا پکا یقین ہوگا کہ یہوواہ ہمیں پریشانیوں سے نمٹنے کی طاقت دے گا۔ اور جب ہم اُس کی مدد کو محسوس کریں گے تو ہمارا ایمان پہلے سے بھی مضبوط ہو جائے گا۔‏

7.‏ (‏الف)‏ بہن شرلی کے ایک رشتے‌دار نے اُنہیں کس بات کا یقین دِلانے کی کوشش کی؟ (‏ب)‏ بہن شرلی یہوواہ پر اپنے بھروسے کو قائم کیسے رکھ پائیں؟‏

7 وہ کام کرتے رہیں جن کے ذریعے آپ یہوواہ کے قریب رہ پائیں۔‏ آئیے، دیکھیں کہ بہن شرلی کو ایسا کرنے سے کیا فائدہ ہوا۔‏b بہن شرلی پاپوا نیو گنی میں رہتی تھیں اور اُنہیں بہت سی پریشانیوں کا سامنا تھا۔ اُن کے گھر والے بہت غریب تھے اور کبھی کبھار تو اُن سب کو پیٹ بھر کھانا بھی بہت مشکل سے ملتا تھا۔ اُن کے ایک رشتے‌دار نے یہوواہ پر اُن کے ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے بہن شرلی سے کہا:‏ ”‏تُم کہتی ہو کہ خدا کی پاک روح تمہاری مدد کر رہی ہے۔ لیکن یہ کیا مدد کر رہی ہے؟ تُم لوگ ابھی بھی غریب ہو اور تُم مُنادی کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہو۔“‏ اِس رشتے‌دار کی بات سے بہن شرلی کے دل میں شک پیدا ہونے لگا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں سوچنے لگی کہ کیا واقعی خدا کو ہماری فکر ہے؟ جب میرے دل میں یہ سوال آیا تو مَیں نے فوراً یہوواہ سے دُعا کی اور اُسے وہ سب کچھ بتایا جو مَیں سوچ رہی تھی۔ مَیں بائبل اور ہماری تنظیم کی کتابوں اور رسالوں کو پڑھتی رہی اور مَیں نے مُنادی کرنا اور اِجلاسوں پر جانا بھی نہیں چھوڑا۔“‏ جلد ہی بہن شرلی کو نظر آنے لگا کہ یہوواہ اُن کے گھر والوں کا خیال رکھ رہا ہے۔ اُن کے گھر والے کبھی بھی بھوکے پیٹ نہیں سوئے اور وہ سب خوش رہتے تھے۔ بہن شرلی نے کہا:‏ ”‏مجھے صاف نظر آ رہا تھا کہ یہوواہ مجھے میری دُعاؤں کا جواب دے رہا ہے۔“‏ (‏1-‏تیم 6:‏6-‏8‏)‏ اگر آپ وہ کام کرتے رہیں گے جن کے ذریعے آپ یہوواہ کے قریب رہ پائیں گے تو کوئی بھی پریشانی یا کسی بھی طرح کا شک آپ کو یہوواہ سے دُور نہیں کر پائے گا۔‏

جب پیشوائی کرنے والے بھائیوں کے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے

8.‏ یہوواہ کی تنظیم میں پیشوائی کرنے والے بھائیوں کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے؟‏

8 ہمارے دُشمن خبروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے اُن بھائیوں کے بارے میں جھوٹی باتیں اور غلط معلومات پھیلاتے ہیں جو یہوواہ کی تنظیم میں ہماری پیشوائی کرتے ہیں۔ (‏زبور 31:‏13‏)‏ ہمارے کچھ بھائیوں کو تو گِرفتار کِیا گیا اور اُنہیں مُجرم تک قرار دیا گیا۔ پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہوا تھا۔ اُن کے دُشمنوں نے پولُس رسول پر جھوٹے اِلزام لگائے اور اُنہیں گِرفتار کر لیا۔ اِس پر اُن مسیحیوں نے کیا کِیا؟‏

9.‏ جب پولُس کو قید کِیا گیا تو کچھ مسیحیوں نے کیا کِیا؟‏

9 جب پولُس کو روم میں قید کر لیا گیا تو پہلی صدی کے کچھ مسیحیوں نے اُن کا ساتھ دینا چھوڑ دیا۔ (‏2-‏تیم 1:‏8،‏ 15‏)‏ مگر کیوں؟ کیا اِس لیے کہ اُنہیں اِس بات سے شرمندگی ہو رہی تھی کہ لوگ پولُس کو ایک مُجرم سمجھ رہے ہیں؟ (‏2-‏تیم 2:‏8، 9‏)‏ یا کیا وہ اِس بات سے ڈر رہے تھے کہ اُنہیں بھی اذیت دی جائے گی؟ وجہ چاہے کچھ بھی ہو، ذرا سوچیں کہ پولُس کو اُن کے اِس رویے سے کتنا دُکھ ہوا ہوگا!‏ پولُس نے بہت سی مشکلیں سہی تھیں، یہاں تک کہ اُنہوں نے اِن مسیحیوں کی خاطر اپنی جان تک خطرے میں ڈال دی تھی۔ (‏اعما 20:‏18-‏21؛‏ 2-‏کُر 1:‏8‏)‏ ہم کبھی بھی اُن مسیحیوں جیسے نہیں بننا چاہتے جنہوں نے مشکل وقت میں پولُس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ تو پھر جب پیشوائی کرنے والے بھائیوں کو اذیت دی جاتی ہے تو ہمیں کس بات کو یاد رکھنا چاہیے؟‏

10.‏ جب یہوواہ کی تنظیم میں پیشوائی کرنے والے بھائیوں کو اذیت دی جاتی ہے تو ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے اور کیوں؟‏

10 یاد رکھیں کہ ہم پر اذیت کیوں آتی ہے اور کس کی طرف سے آتی ہے۔‏ دوسرا تیمُتھیُس 3:‏12 میں لکھا ہے:‏ ”‏اُن سب کو اذیت دی جائے گی جو مسیح یسوع کے پیروکاروں کے طور پر خدا کی بندگی کرنا چاہتے ہیں۔“‏ اِس لیے ہمیں اُس وقت حیران نہیں ہونا چاہیے جب شیطان خاص طور پر ہمارے اُن بھائیوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے جو تنظیم میں ہماری پیشوائی کر رہے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اُس کے اِس طرح کے حملوں کی وجہ سے یہ بھائی یہوواہ سے مُنہ پھیر لیں اور ہم اِن حملوں کی وجہ سے ڈر جائیں۔—‏1-‏پطر 5:‏8‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ پولُس قید میں ہیں اور اُنیسِفرس اُن سے ملنے گئے ہیں۔ 2.‏ ایک بھائی کو ہتھکڑیاں لگا کر جیل میں لے جایا جا رہا ہے۔ اُن کے ہم‌ایمان اُنہیں دیکھ رہے ہیں اور تالیاں بجا رہے ہیں۔‏

حالانکہ پولُس قید میں تھے لیکن اُنیسِفرس نے بڑی دلیری سے اُن کا ساتھ دیا۔ آج بھی ہمارے بہن بھائی اپنے اُن ہم‌ایمانوں کا ساتھ دیتے ہیں جو قید میں ہیں۔ یہ بات اصلی واقعے پر مبنی اِس تصویر میں دِکھائی گئی ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 11-‏12 کو دیکھیں۔)‏

11.‏ ہم اُنیسِفرس سے کیا سیکھتے ہیں؟ (‏2-‏تیمُتھیُس 1:‏16-‏18‏)‏

11 پیشوائی کرنے والے بھائیوں کا ساتھ دیتے رہیں اور اُن کے وفادار رہیں۔ (‏2-‏تیمُتھیُس 1:‏16-‏18 کو پڑھیں۔)‏ حالانکہ پہلی صدی عیسوی کے کچھ مسیحیوں نے اُس وقت پولُس کا ساتھ چھوڑ دیا جب پولُس کو قید کر لیا گیا تھا لیکن اُنیسِفرس نے ایسا نہیں کِیا۔ پولُس نے اُن کے بارے میں کہا:‏ ”‏اُنیسِفرس نے ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ اِس بات پر شرمندگی محسوس نہیں کی کہ مَیں زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوں۔“‏ اُنیسِفرس نے تو پولُس کو ڈھونڈا اور جب وہ اُنہیں مل گئے تو اُنہوں نے پولُس کو ہر وہ مدد دی جس کی پولُس کو ضرورت تھی۔ ایسا کرنے سے اُنیسِفرس اپنی جان خطرے میں ڈال رہے تھے۔ ہم اِس سے کیا سیکھتے ہیں؟ یہ کہ ہمیں اِنسانوں سے نہیں ڈرنا چاہیے اور اپنے اُن بھائیوں کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے جنہیں اذیت دی جا رہی ہے۔ اِس کی بجائے ہمیں اُن کی ڈھال بننا چاہیے اور ہر طرح سے اُن کی مدد کرنی چاہیے۔ (‏امثا 17:‏17‏)‏ اُنہیں ہمارے پیار اور ساتھ کی ضرورت ہے۔‏

12.‏ ہم روس میں رہنے والے اپنے بہن بھائیوں سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

12 ذرا غور کریں کہ روس میں رہنے والے ہمارے بہن بھائیوں نے اپنے اُن ہم‌ایمانوں کی مدد کیسے کی جو قید میں ہیں۔ جب جیل میں بند کچھ بہن بھائیوں پر مُقدمہ چلایا گیا تو ہمارے بہت سے بہن بھائی اُن کا ساتھ دینے کے لیے عدالت گئے۔ ہم اِس سے کیا سیکھتے ہیں؟ یہ کہ جب ہماری پیشوائی کرنے والے بھائیوں کو بدنام کِیا جاتا ہے، اُنہیں گِرفتار کِیا جاتا ہے یا اُنہیں اذیت دی جاتی ہے تو ہمیں ڈر کر پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ اِس کی بجائے ہمیں اُن کے لیے دُعا کرنی چاہیے، اُن کے گھر والوں کا خیال رکھنا چاہیے اور ایسے طریقوں سے اُن کی مدد کرنی چاہیے جن سے ثابت ہو کہ ہم اُن کا ساتھ دے رہے ہیں۔—‏اعما 12:‏5؛‏ 2-‏کُر 1:‏10، 11‏۔‏

جب لوگ ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں

13.‏ لوگوں کے طعنوں کی وجہ سے یہوواہ اور اُس کی تنظیم پر ہمارا بھروسا کیوں کمزور پڑ سکتا ہے؟‏

13 ہم مُنادی کرتے ہیں اور وہ کام کرتے ہیں جو یہوواہ کی نظر میں صحیح ہیں۔ اِس وجہ سے شاید ہمارے غیر ایمان رشتے‌دار، ہمارے ساتھ کام کرنے والے لوگ یا ہمارے سکول کے بچے ہمیں طعنے دیں۔ شاید وہ کہیں:‏ ”‏ویسے آپ ایک اچھے اِنسان ہیں۔ لیکن آپ لوگوں کا مذہب بہت سخت ہے اور آپ لوگوں کی سوچ بہت ہی پُرانی ہے۔“‏ اور جس طرح سے ہم کلیسیا سے خارج‌شُدہ لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں، اُس کی وجہ سے شاید کچھ لوگ ہمیں یہ طعنہ دیں:‏ ”‏ویسے تو آپ کہتے ہیں کہ مسیحیوں کو ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے۔ آپ کیسے مسیحی ہیں؟“‏ اِس طرح کی باتیں ہمارے دل میں شک کا بیج بو سکتی ہیں۔ شاید ہم یہ سوچنے لگیں:‏ ”‏یہوواہ ہم سے کچھ زیادہ ہی توقعات رکھتا ہے۔ اُس کی تنظیم کچھ زیادہ ہی سخت ہے۔“‏ (‏1-‏پطر 4:‏4‏)‏ اگر آپ کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے تو آپ یہوواہ اور اُس کی تنظیم کے قریب کیسے رہ سکتے ہیں؟‏

ایوب زمین پر بیٹھے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اُن کے پورے جسم پر پھوڑے نکلے ہوئے ہیں۔ جھوٹی تسلی دینے والے تین آدمیوں میں سے ایک آسمان کی طرف اِشارہ کر رہا ہے اور ایوب کو طعنے دے رہا ہے۔‏

ایوب کے جھوٹے دوستوں نے اُنہیں طعنے دیے اور اُن سے جھوٹ بولا۔ لیکن ایوب نے عزم کِیا کہ وہ ہر حال میں یہوواہ کے وفادار رہیں گے۔ (‏پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)‏

14.‏ جب لوگ ہمیں وہ کام کرنے کی وجہ سے طعنے دیتے ہیں جو یہوواہ کی نظر میں صحیح ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ (‏زبور 119:‏50-‏52‏)‏

14 وہ کام کرنے کا عزم کریں جو یہوواہ کی نظر میں صحیح ہیں۔‏ ایوب اُس وقت بھی اچھے کام کرتے رہے جب اُنہیں اِس وجہ سے طعنے دیے گئے۔ ایوب کے ایک دوست نے اُنہیں اِس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ چاہے وہ جتنے بھی اچھے کام کر لیں، خدا کو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ (‏ایو 4:‏17، 18؛‏ 22:‏3‏)‏ لیکن ایوب نے اِس طرح کے جھوٹ پر یقین نہیں کِیا۔ وہ جانتے تھے کہ یہوواہ ہی یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ اور اُنہوں نے اُس کی مرضی پر چلتے رہنے کا عزم کِیا تھا۔ اُنہوں نے کسی کو بھی اِس بات کی اِجازت نہیں دی کہ وہ اُنہیں یہوواہ سے دُور کر دے۔ (‏ایو 27:‏5، 6‏)‏ ہم اِس سے کیا سیکھتے ہیں؟ یہ کہ کبھی بھی دوسروں کے طعنوں کی وجہ سے یہوواہ کے اصولوں پر شک نہ کریں۔ ذرا سوچیں کہ کیا آپ نے بار بار یہ نہیں دیکھا کہ یہوواہ کے اصول کتنے صحیح ہیں اور اِن پر چلنے سے آپ کو کتنا فائدہ ہوا ہے؟ اِس لیے اُس تنظیم کا ساتھ دیتے رہیں جو اُس کی مرضی پر چلتی ہے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو پھر چاہے لوگ آپ کو کتنے ہی طعنے کیوں نہ دیں، وہ کبھی بھی آپ کو یہوواہ سے دُور نہیں کر پائیں گے۔‏‏—‏زبور 119:‏50-‏52 کو پڑھیں۔‏

15.‏ بہن بریزٹ کو کیوں بُرا بھلا کہا گیا؟‏

15 ذرا بھارت میں رہنے والی ایک بہن کے تجربے پر غور کریں جس کا نام بریزٹ ہے۔ اُن کے گھر والے اُنہیں یہوواہ پر ایمان رکھنے کی وجہ سے طعنے دیتے تھے۔ بہن بریزٹ کا شوہر یہوواہ کا گواہ نہیں تھا۔ جب 1997ء میں بہن بریزٹ نے بپتسمہ لیا تو اِس کے کچھ ہی عرصے بعد اُن کے شوہر کی نوکری چلی گئی۔اِس لیے اُن کے شوہر نے فیصلہ کِیا کہ وہ اُنہیں اور اپنی بیٹیوں کو لے کر اپنے امی ابو کے گھر شفٹ ہو جائے گا جو کہ کسی اَور شہر میں رہتے تھے۔ بہن بریزٹ کو بہت بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شوہر کی نوکری چلے جانے کی وجہ سے اُنہیں گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے کام کرنا پڑا۔ ایک اَور بڑی مشکل یہ تھی کہ سب سے قریب کی کلیسیا 350 کلو میٹر (‏220 میل)‏ دُور تھی۔ بہن بریزٹ کے سُسرال والے اُن کی بہت مخالفت کرنے لگے۔ مخالفت اِتنی زیادہ بڑھ گئی کہ بہن بریزٹ، اُن کے شوہر اور بیٹیوں کو وہ گھر چھوڑنا پڑا۔ پھر اچانک اُن کے شوہر فوت ہو گئے۔ اور بعد میں اُن کی ایک بیٹی بھی صرف 12 سال کی عمر میں کینسر کی وجہ سے فوت ہو گئی۔ بہن بریزٹ پر پہلے ہی مشکلوں کا پہاڑ ٹوٹا ہوا تھا اور اُوپر سے اُن کے رشتے‌دار بھی اُنہیں ہی اِن مشکلوں کا ذمے‌دار ٹھہرا رہے تھے۔ اُن کے رشتے‌داروں نے کہا کہ اگر وہ یہوواہ کی گواہ نہ بنی ہوتیں تو اُن پر یہ مشکلیں کبھی نہ آتیں۔ اِس سب کے باوجود بہن بریزٹ یہوواہ پر بھروسا کرتی رہیں اور اُس کی تنظیم سے جُڑی رہیں۔‏

16.‏ بہن بریزٹ کو یہوواہ اور اُس کی تنظیم کے قریب رہنے سے کون سی برکتیں ملیں؟‏

16 چونکہ بہن بریزٹ کی کلیسیا بہت دُور تھی اِس لیے حلقے کے نگہبان نے اُن سے کہا کہ وہ اپنے علاقے میں مُنادی کریں اور اپنے گھر میں اِجلاس کرائیں۔ شروع شروع میں بہن بریزٹ کو لگا کہ یہ بہت مشکل کام ہے۔ لیکن اُنہوں نے بھائی کی ہدایت پر عمل کِیا۔ وہ دوسروں کو خوش‌خبری سنانے لگیں، اپنے گھر میں اِجلاس کرانے لگیں اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ خاندانی عبادت کرنے لگیں۔ اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟ بہن بریزٹ بہت سے لوگوں کو بائبل کورس کرانے لگیں اور اِن میں سے کئی نے تو بپتسمہ بھی لے لیا۔ پھر 2005ء میں وہ پہل‌کار بن گئیں۔ یہوواہ پر بھروسا رکھنے اور اُس کی تنظیم کا وفادار رہنے کی وجہ سے اُنہیں بہت سی برکتیں ملیں۔ اُن کی بیٹیاں وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہی ہیں اور اب اُن کے علاقے میں دو کلیسیائیں ہیں!‏ بہن بریزٹ کو اِس بات کا پورا یقین ہے کہ یہوواہ نے اُنہیں مشکلیں اور گھر والوں کے طعنے برداشت کرنے کی طاقت دی۔‏

یہوواہ اور اُس کی تنظیم کے وفادار رہیں

17.‏ ہمیں کیا کرنے کا عزم کرنا چاہیے؟‏

17 شیطان چاہتا ہے کہ ہم اِس بات پر یقین کرنے لگیں کہ یہوواہ مشکل وقت میں ہمارا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور اگر ہم اُس کی تنظیم سے جُڑے رہیں گے تو مشکلوں کے سوا ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ شیطان چاہتا ہے کہ ہم اُس وقت ڈر کر پیچھے ہٹ جائیں جب یہوواہ کی تنظیم میں پیشوائی کرنے والے بھائیوں کو بدنام کِیا جاتا ہے، اُنہیں اذیت دی جاتی ہے یا اُنہیں گِرفتار کِیا جاتا ہے۔ اور جب لوگ ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں یا طعنے دیتے ہیں تو شیطان چاہتا ہے کہ اِس وجہ سے ہم یہوواہ کے اصولوں اور اُس کی تنظیم پر بھروسا کرنا چھوڑ دیں۔ لیکن ہم شیطان کی اِن چالوں سے بے‌خبر نہیں ہیں اور ہم اُس کے جھانسے میں نہیں آتے۔ (‏2-‏کُر 2:‏11‏)‏ اِس لیے آئیے، یہ عزم کریں کہ ہم شیطان کے جھوٹ پر یقین نہیں کریں گے بلکہ یہوواہ اور اُس کی تنظیم کے وفادار رہیں گے۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ (‏زبور 28:‏7‏)‏ اِس لیے کسی بھی چیز کو اِس بات کی اِجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو خدا سے جُدا کرے۔—‏روم 8:‏35-‏39‏۔‏

18.‏ اگلے مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟‏

18 اِس مضمون میں ہم نے ایسی مشکلوں پر بات کی ہے جو کلیسیا کے باہر سے ہم پر آتی ہیں۔ لیکن یہوواہ اور اُس کی تنظیم پر ہمارے بھروسے کا اِمتحان اُس وقت بھی ہو سکتا ہے جب ہمیں کلیسیا کے اندر مسئلوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم اِن مسئلوں سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟ اگلے مضمون میں اِس بارے میں بات کی جائے گی۔‏

ہم اُس وقت یہوواہ اور اُس کی تنظیم کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں جب ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

  • ہم پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں؟‏

  • پیشوائی کرنے والے بھائیوں کے ساتھ بُرا سلوک کِیا جاتا ہے؟‏

  • لوگ ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں؟‏

گیت نمبر 118‏:‏ ہمیں اَور ایمان دے

a اِس آخری زمانے میں یہوواہ کا وفادار رہنے کے لیے ہمیں اُس پر اور اُس کی تنظیم پر بھروسا کرتے رہنا ہوگا۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں کیونکہ ہمیں بہت سی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا فائدہ اُٹھا کر شیطان ہمارے اِس بھروسے کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم تین ایسی مشکلوں پر بات کریں گے جن کا شیطان فائدہ اُٹھاتا ہے اور دیکھیں گے کہ اِن کا مقابلہ کر کے ہم اُس کی کوششوں کو ناکام کیسے بنا سکتے ہیں۔‏

b کچھ نام فرضی ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں