یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م12 1/‏5 ص.‏ 28-‏32
  • کیا آپ یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہم خدا کا جلال منعکس کرنا چاہتے ہیں
  • ہم خدا کا جلال منعکس کرنے کے قابل کیسے بن سکتے ہیں؟‏
  • خدا کی مانند بنیں
  • خدا کا جلال منعکس کرتے رہیں
  • کیا آپ خدا کے جلال کو منعکس کر رہے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • آپ خدا سے عزت پانا چاہتے ہیں یا انسان سے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • یہوواہ کی تعظیم کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ڈسٹرکٹ اور انٹرنیشنل کنونشنز ہمیں خدا کو جلال دینے کی تحریک دیتے ہیں!‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۴
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
م12 1/‏5 ص.‏ 28-‏32

کیا آپ یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرتے ہیں؟‏

‏”‏ہم .‏ .‏ .‏ سے [‏یہوواہ]‏ کا جلال اِس طرح منعکس ہوتا ہے جس طرح آئینہ میں۔“‏—‏۲-‏کر ۳:‏۱۸‏۔‏

آپ کا جواب کیا ہوگا؟‏

گنہگار ہونے کے باوجود ہم یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرنے کے قابل کیوں ہیں؟‏

خدا کا جلال منعکس کرنے میں دُعا اور اجلاس کس طرح ہماری مدد کرتے ہیں؟‏

ہمیں کیا کرنا چاہئے تاکہ ہم آئندہ بھی خدا کا جلال منعکس کرتے رہیں؟‏

۱، ۲.‏ انسان یہوواہ خدا کی صفات کو ظاہر کرنے کے قابل کیوں ہے؟‏

ہم سب کسی نہ کسی طرح اپنے والدین جیسے لگتے ہیں۔ آپ نے اکثر یہ سنا ہوگا کہ کوئی کسی لڑکے سے کہتا ہے کہ ”‏تُم تو اپنے باپ پر گئے ہو۔“‏ یا کسی لڑکی سے یہ کہا جاتا ہے کہ ”‏تمہاری شکل تو بالکل اپنی ماں سے ملتی ہے۔“‏ بچے اکثر اپنے ماں‌باپ کی طرح بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم اپنے آسمانی باپ یہوواہ خدا کی طرح بن سکتے ہیں؟ ہم نے یہوواہ خدا کو دیکھا تو نہیں ہے لیکن جب ہم اُس کے کلام کو پڑھتے اور اُس پر سوچ‌بچار کرتے ہیں، جب ہم اُس کی بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھتے ہیں اور جب ہم اُس کے بیٹے یسوع مسیح کی مثال پر غور کرتے ہیں تو ہم یہوواہ خدا کی صفات کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں۔ (‏یوح ۱:‏۱۸؛‏ روم ۱:‏۲۰‏)‏ یوں ہم خدا کی صفات کو ظاہر کرنے اور اُس کا جلال منعکس کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔‏

۲ آدم اور حوا کو بنانے سے بھی پہلے یہوواہ خدا کو یہ اعتماد تھا کہ انسان اُس کی مرضی پر چلنے، اُس کی صفات کو ظاہر کرنے اور اُس کی تمجید کرنے کے قابل ہوں گے۔ ‏(‏پیدایش ۱:‏۲۶،‏ ۲۷ کو پڑھیں۔)‏ مسیحیوں کے طور پر ہمیں اپنے خالق کی صفات کو ظاہر کرنا چاہئے۔ چاہے ہم پڑھے لکھے ہوں یا اَن‌پڑھ، چاہے ہمارا تعلق کسی بھی قوم یا نسل سے ہو، ہم سب کو خدا کا جلال منعکس کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ”‏خدا کسی کا طرف‌دار نہیں بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راست‌بازی کرتا ہے وہ اُس کو پسند آتا ہے۔“‏—‏اعما ۱۰:‏۳۴، ۳۵‏۔‏

۳.‏ خدا کی خدمت کرنے سے مسیحی کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏

۳ ممسوح مسیحی یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرتے ہیں۔ اِس لئے پولس رسول جو خود بھی ممسوح تھے، یہ کہہ سکتے تھے:‏ ”‏جب ہم سب کے بے‌نقاب چہروں سے [‏یہوواہ]‏ کا جلال اِس طرح منعکس ہوتا ہے جس طرح آئینہ میں تو .‏ .‏ .‏ ہم اُسی جلالی صورت میں درجہ بدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔“‏ (‏۲-‏کر ۳:‏۱۸‏)‏ جب موسیٰ نبی کوہِ‌سینا سے دس حکم لے کر اُترے تو اُن کا چہرہ چمک رہا تھا کیونکہ اُنہوں نے یہوواہ خدا کے ساتھ باتیں کی تھیں۔ (‏خر ۳۴:‏۲۹، ۳۰)‏ ہمارے ساتھ تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔ لیکن جب ہم دوسروں کو یہوواہ خدا، اُس کی صفات اور انسانوں کے لئے اُس کے مقصد کے بارے میں بتاتے ہیں تو کیا ہمارے چہرے خوشی سے چمک نہیں اُٹھتے؟ مسیحیوں کی اُمید چاہے آسمانی ہو یا زمینی، وہ مُنادی کے کام کے ذریعے اور اپنے چال‌چلن کے ذریعے یہوواہ خدا کا جلال بالکل ویسے ہی منعکس کرتے ہیں جیسے آئینہ روشنی کو منعکس کرتا ہے۔ (‏۲-‏کر ۴:‏۱‏)‏ کیا آپ اپنا چال‌چلن نیک رکھنے اور مُنادی کے کام میں بڑھ‌چڑھ کر حصہ لینے سے خدا کا جلال منعکس کر رہے ہیں؟‏

ہم خدا کا جلال منعکس کرنا چاہتے ہیں

۴، ۵.‏ (‏الف)‏ پولس رسول کی طرح ہم بھی کس کشمش میں مبتلا رہتے ہیں؟ (‏ب)‏ گُناہ کا ہم پر کیا اثر ہوا ہے؟‏

۴ یہوواہ خدا کے بندوں کے طور پر ہم یقیناً اپنے ہر کام سے اپنے خالق کی تمجید کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جیسا ہم چاہتے ہیں اکثر ویسا کر نہیں پاتے۔ پولس رسول کو بھی اِسی مسئلے کا سامنا تھا۔ ‏(‏رومیوں ۷:‏۲۱-‏۲۵ کو پڑھیں۔)‏ اُنہوں نے بتایا کہ ہم ایسی کشمکش میں کیوں مبتلا رہتے ہیں۔ اُنہوں نے لکھا:‏ ”‏سب نے گُناہ کِیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔“‏ (‏روم ۳:‏۲۳‏)‏ چونکہ ہم نے آدم سے گُناہ کا ورثہ پایا ہے اِس لئے ’‏گُناہ ہم پر بادشاہی کرتا ہے۔‘‏—‏روم ۵:‏۱۲؛‏ ۶:‏۱۲‏۔‏

۵ گُناہ کیا ہے؟ گُناہ ہر ایسا کام ہے جو یہوواہ خدا کی صفات، اُس کی پسند اور اُس کے معیاروں سے میل نہیں کھاتا۔ گُناہ کی وجہ سے یہوواہ خدا کے ساتھ ہماری دوستی پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ ہمارا نشانہ ہے کہ ہم ہر لحاظ سے یہوواہ خدا کا جلال منعکس کریں۔ لیکن جس طرح ایک تیرانداز اپنے نشانے سے چوک سکتا ہے اُسی طرح ہم بھی گُناہ کی وجہ سے اکثر اپنے نشانے سے چوک جاتے ہیں۔ ہم یا تو جان‌بُوجھ کر گُناہ کر سکتے ہیں یا پھر انجانے میں۔ (‏گن ۱۵:‏۲۷-‏۳۱)‏ گُناہ ہمارے اندر بسا ہوا ہے اور ہمارے اور ہمارے خالق کے درمیان دُوری پیدا کرتا ہے۔ (‏زبور ۵۱:‏۵؛‏ یسع ۵۹:‏۲‏)‏ زیادہ‌تر انسان، خدا سے بالکل دُور ہو گئے ہیں اور خدا کا جلال منعکس نہیں کر رہے ہیں۔ بِلاشُبہ گُناہ سب سے زیادہ خطرناک وبا ہے جس میں انسان مبتلا ہیں۔‏

۶.‏ گنہگار ہونے کے باوجود ہم یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرنے کے قابل کیوں ہیں؟‏

۶ حالانکہ ہم گنہگار ہیں پھر بھی یہوواہ خدا ہمارے لئے ”‏اُمید کا چشمہ“‏ ثابت ہوا ہے۔ (‏روم ۱۵:‏۱۳‏)‏ اُس نے اپنے بیٹے کی قربانی کے ذریعے گُناہ کو ختم کرنے کا بندوبست کِیا ہے۔ یسوع مسیح کی قربانی پر ایمان لانے سے ہم ”‏گُناہ کی غلامی“‏ میں نہیں رہتے اور یوں ہم یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ (‏روم ۵:‏۱۹؛‏ ۶:‏۶؛‏ یوح ۳:‏۱۶‏)‏ اگر ہم یہوواہ خدا کی مرضی کے مطابق چلتے رہتے ہیں تو وہ نہ صرف اب ہمیں برکتیں دے گا بلکہ مستقبل میں ہمیں گُناہ سے پاک کر دے گا اور ہمیشہ کی زندگی عطا کرے گا۔ ہمارے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ یہوواہ خدا کو ہم پر اعتماد ہے کہ ہم گنہگار ہونے کے باوجود اُس کا جلال منعکس کر سکتے ہیں۔‏

ہم خدا کا جلال منعکس کرنے کے قابل کیسے بن سکتے ہیں؟‏

۷.‏ ہمیں کون‌سی بات تسلیم کرنی چاہئے تاکہ ہم خدا کا جلال منعکس کرنے کے قابل بنیں؟‏

۷ اگر ہم خدا کا جلال منعکس کرنے کے قابل بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم میں کمزوریاں ہیں۔ (‏۲-‏توا ۶:‏۳۶‏)‏ ہمیں پہچاننا چاہئے کہ ہمارے اندر کون‌سی کمزوریاں ہیں اور پھر اِن پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر ہم فحش مواد دیکھنے کے گُناہ میں پڑ گئے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ہمیں بزرگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ اور پھر ہمیں اُن سے مدد لینی بھی چاہئے۔ (‏یعقو ۵:‏۱۴، ۱۵‏)‏ یہ خدا کا جلال منعکس کرنے کی طرف ہمارا پہلا قدم ہوگا۔ ہم سب کو باقاعدگی سے اپنا جائزہ لینا چاہئے، یہ دیکھنے کے لئے کہ ہم ہر لحاظ سے خدا کے معیاروں پر چل رہے ہیں یا نہیں۔ (‏زبور ۱۵:‏۱، ۲؛‏ ۱-‏کر ۱۰:‏۱۲‏)‏ ہمارے اندر جو بھی کمزوریاں ہوں، ہمیں اِن پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ اِس طرح ہم خدا کا جلال منعکس کریں گے۔‏

۸.‏ خطاکار ہونے کے باوجود ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۸ یسوع مسیح وہ واحد انسان تھے جو ہمیشہ خدا کی مرضی کے مطابق چلتے تھے اور اُس کا جلال منعکس کرتے تھے۔ ہم یسوع مسیح کی طرح بے‌عیب تو نہیں ہیں لیکن پھر بھی ہمیں اُن کی مثال پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ (‏۱-‏پطر ۲:‏۲۱‏)‏ یہوواہ خدا نہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ ہم کس حد تک اُس کا جلال منعکس کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ ہم ایسا کرنے کے لئے کتنی کوشش کر رہے ہیں۔ اور وہ ہماری کوششوں میں برکت ضرور ڈالے گا۔‏

۹.‏ اپنی زندگی میں بہتری لانے کے لئے بائبل ہمارے کام کیسے آتی ہے؟‏

۹ ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ ہمیں زندگی کے کن پہلوؤں میں بہتری لانی چاہئے؟ اِس کے لئے خدا کے کلام کا گہرا مطالعہ کرنا اور اِس پر سوچ‌بچار کرنا لازمی ہے۔ (‏زبور ۱:‏۱-‏۳‏)‏ جب ہم ہر روز بائبل کو پڑھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر کون‌سی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ ‏(‏یعقوب ۱:‏۲۲-‏۲۵ کو پڑھیں۔)‏ باقاعدگی سے بائبل کی تعلیم حاصل کرنے سے ہمارا ایمان بڑھتا ہے اور ہمارا یہ عزم بھی مضبوط ہوتا ہے کہ ہم گُناہ سے کنارہ کریں گے اور خدا کو خوش کریں گے۔—‏زبور ۱۱۹:‏۱۱،‏ ۴۷، ۴۸‏۔‏

۱۰.‏ اگر ہم زیادہ مؤثر طریقے سے خدا کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو دُعا ہمارے کام کیسے آتی ہے؟‏

۱۰ خدا کا جلال منعکس کرنے کے لئے ہمیں ”‏دُعا کرنے میں مشغول“‏ بھی رہنا ہوگا۔ (‏روم ۱۲:‏۱۲‏)‏ ہمیں خدا سے مدد مانگنی چاہئے تاکہ ہم اُس کی مرضی کے مطابق اُس کی خدمت کر سکیں۔ ہم یہ دُعا کر سکتے ہیں کہ خدا ہمیں اپنی پاک روح دے، ہمارا ایمان مضبوط کرے، ہمیں بُرائی سے بچنے کی طاقت دے اور ہمیں ’‏حق کے کلام کو دُرستی سے کام میں لانے‘‏ کی صلاحیت دے۔ (‏۲-‏تیم ۲:‏۱۵؛‏ متی ۶:‏۱۳؛‏ لو ۱۱:‏۱۳؛‏ ۱۷:‏۵‏)‏ جیسے ایک بچے کو اپنے باپ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی ہمیں اپنے آسمانی باپ یہوواہ خدا کی مدد کی ضرورت ہے۔ اگر ہم زیادہ مؤثر طریقے سے اُس کی خدمت کرنے کے لئے اُس سے مدد مانگتے ہیں تو وہ ہماری مدد کرے گا بھی۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اگر ہم کسی معاملے میں باربار اُس سے مدد مانگتے ہیں تو وہ ہم سے اُکتا جائے گا۔ اِس کی بجائے ہمیں دُعا میں مشغول رہنا چاہئے۔ دُعا میں خدا کی حمد کریں، اُس کا شکر ادا کریں اور اُس سے رہنمائی مانگیں، خاص طور پر جب آپ کو مشکلات کا سامنا ہو۔ خدا کی مدد سے آپ اپنے تمام کاموں سے اُس کے پاک نام کی تمجید کر سکیں گے۔—‏زبور ۸۶:‏۱۲؛‏ یعقو ۱:‏۵-‏۷‏۔‏

۱۱.‏ خدا کا جلال منعکس کرنے میں اجلاس کس طرح ہماری مدد کرتے ہیں؟‏

۱۱ یہوواہ خدا نے ”‏دیانت‌دار اور عقل‌مند نوکر“‏ کو یہ ذمہ‌داری دی ہے کہ وہ اُس کی بھیڑوں کی دیکھ‌بھال کرے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷؛‏ زبور ۱۰۰:‏۳‏)‏ دیانت‌دار اور عقل‌مند نوکر جماعت ہماری مدد کرنا چاہتی ہے تاکہ ہم سب خدا کا جلال منعکس کر سکیں۔ اِس لئے اُس نے ہمارے لئے اجلاسوں کا بندوبست کِیا ہے۔ جس طرح ایک درزی ہمارے کپڑوں کو ٹھیک کرتا ہے تاکہ ہم اچھے نظر آئیں اُسی طرح اجلاس ہماری زندگی اور شخصیت میں نکھار پیدا کرتے ہیں۔ (‏عبر ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏)‏ اگر ہم نے اجلاسوں پر دیر سے آنے کی عادت بنا لی ہے تو ہمیں اِن سے پوری طرح فائدہ نہیں ہوگا۔ لہٰذا اجلاسوں پر وقت پر پہنچنے کی پوری کوشش کریں۔‏

خدا کی مانند بنیں

۱۲.‏ ہم خدا کی مانند کیسے بن سکتے ہیں؟‏

۱۲ اگر ہم خدا کا جلال منعکس کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ’‏خدا کی مانند بننے‘‏ کی کوشش کرنی چاہئے۔ (‏افس ۵:‏۱‏)‏ خدا کی مانند بننے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اُس کی سوچ کو اپنائیں۔ اگر ہم یہوواہ خدا کی مرضی کے خلاف چلتے ہیں تو ہم اُس کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور خود کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ چونکہ ہم ایک ایسی دُنیا میں رہ رہے ہیں جو شیطان کے قبضے میں ہے اِس لئے ہمیں پوری کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اُن باتوں سے نفرت کریں جن سے یہوواہ خدا نفرت کرتا ہے اور اُن باتوں سے محبت کریں جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ (‏زبور ۹۷:‏۱۰؛‏ ۱-‏یوح ۵:‏۱۹‏)‏ لہٰذا ہمارے ذہن میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کا صرف ایک ہی صحیح طریقہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم ہر کام اُس کے جلال کے لئے کریں۔‏‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۳۱ کو پڑھیں۔‏

۱۳.‏ (‏الف)‏ ہمیں گُناہ سے کیوں نفرت کرنی چاہئے؟ (‏ب)‏ اگر ہم گُناہ سے نفرت کرتے ہیں تو ہم کیا کریں گے؟‏

۱۳ یہوواہ خدا کو گُناہ سے نفرت ہے اِس لئے ہمیں بھی گُناہ سے نفرت کرنی چاہئے۔ لہٰذا ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو ہمیں گُناہ کی طرف لے جا سکتا ہے بلکہ ہمیں ہر قسم کی بُرائی سے دُور بھاگنا چاہئے۔ مثال کے طور پر ہمیں خدا سے برگشتہ ہونے کے خطرے سے خبردار رہنا چاہئے کیونکہ اِس صورت میں ہم خدا کا جلال منعکس نہیں کر رہے ہوں گے۔ (‏است ۱۳:‏۶-‏۹)‏ اِس لئے ہمیں ایسے لوگوں سے کسی طرح کا تعلق نہیں رکھنا چاہئے جو خدا سے برگشتہ ہو گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہوواہ کا گواہ ہونے کا دعویٰ کرے لیکن ایسے کام کرے جن سے خدا کی بدنامی ہوتی ہے تو ہمیں اُس سے میل‌جول نہیں رکھنا چاہئے، چاہے وہ ہمارا رشتہ‌دار ہی کیوں نہ ہو۔ (‏۱-‏کر ۵:‏۱۱‏)‏ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جو خدا سے برگشتہ ہو گئے ہیں یا جو اُس کی تنظیم کی نکتہ‌چینی کرتے ہیں۔ چاہے وہ اپنی باتیں کتابوں کے ذریعے پھیلائیں یا انٹرنیٹ کے ذریعے، اُن کی باتوں پر دھیان دینا ہمارے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔‏‏—‏یسعیاہ ۵:‏۲۰؛‏ متی ۷:‏۶ کو پڑھیں۔‏

۱۴.‏ اپنے آسمانی باپ کی مانند بننے کے لئے ہمیں کون‌سی خوبی ظاہر کرنی چاہئے؟ اور اِس کی کیا وجہ ہے؟‏

۱۴ اپنے آسمانی باپ کی مانند بننے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اُس کی طرح محبت ظاہر کریں۔ (‏۱-‏یوح ۴:‏۱۶-‏۱۹‏)‏ جب ہم آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم واقعی یسوع مسیح کے شاگرد اور یہوواہ خدا کے بندے ہیں۔ (‏یوح ۱۳:‏۳۴، ۳۵‏)‏ خطاکار ہونے کی وجہ سے ہمیں محبت ظاہر کرنا بعض اوقات مشکل لگ سکتا ہے۔ لیکن ہمیں پوری کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے ساتھ محبت سے پیش آئیں۔ اگر ہم محبت کے ساتھ‌ساتھ دوسری خوبیاں بھی ظاہر کریں گے تو ہم دوسروں کو ٹھیس پہنچانے اور خطا کرنے سے بچے رہیں گے۔—‏۲-‏پطر ۱:‏۵-‏۷‏۔‏

۱۵.‏ محبت دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات پر کیا اثر ڈالتی ہے؟‏

۱۵ محبت ہمیں نیک کام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ (‏روم ۱۳:‏۸-‏۱۰‏)‏ مثال کے طور پر اگر ہم اپنے جیون‌ساتھی سے محبت کرتے ہیں تو ہم اُس سے بے‌وفائی نہیں کریں گے۔ اگر ہم کلیسیا کے بزرگوں سے محبت رکھتے ہیں اور اُن کے کام کی قدر کرتے ہیں تو ہم اُن کی ہدایات پر عمل کریں گے اور اُن کی تابع‌داری کریں گے۔ بچے جو اپنے والدین سے محبت کرتے ہیں، وہ اُن کا کہنا مانیں گے، اُن کا احترام کریں گے اور اُن کی پیٹھ پیچھے اُن کی بُرائی نہیں کریں گے۔ اگر ہم اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جن سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے تو ہم اُنہیں کم‌تر خیال نہیں کریں گے اور اُن کے ساتھ بے‌ادبی سے بات نہیں کریں گے۔ (‏یعقو ۳:‏۹‏)‏ اور جو بزرگ خدا کی بھیڑوں سے محبت کرتے ہیں، وہ اُن کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آئیں گے۔—‏اعما ۲۰:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

۱۶.‏ مُنادی کے کام میں محبت کی کتنی اہمیت ہے؟‏

۱۶ خوشخبری سنانے کے کام میں بھی ہمیں محبت ظاہر کرنی چاہئے۔ چونکہ ہم یہوواہ خدا سے گہری محبت رکھتے ہیں اِس لئے ہم تب بھی مُنادی کرتے رہیں گے جب لوگ ہمارے پیغام کو نہیں سنتے۔ محبت ہمیں یہ ترغیب بھی دیتی ہے کہ ہم مُنادی کے کام کے لئے خوب تیاری کریں اور مؤثر طریقے سے تعلیم دینے کی کوشش کریں۔ اگر ہم خدا اور اپنے پڑوسی سے محبت کرتے ہیں تو ہم بادشاہت کی مُنادی کے کام کو نہ تو ایک بوجھ سمجھیں گے اور نہ ہی ایک ایسا فرض جسے ہمیں مجبوراً ادا کرنا پڑتا ہے۔ اِس کی بجائے ہم اِسے ایک اعزاز سمجھیں گے اور اِسے خوشی سے انجام دیں گے۔—‏متی ۱۰:‏۷‏۔‏

خدا کا جلال منعکس کرتے رہیں

۱۷.‏ گُناہ کے بھیانک اثرات سے واقف ہونے سے ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟‏

۱۷ دُنیا کے لوگ یہ نہیں جانتے کہ گُناہ کے اثرات کتنے بھیانک ہوتے ہیں۔ لیکن ہم اِس حقیقت سے خوب واقف ہیں۔ اِس لئے ہم گُناہ سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے ضمیر کی تربیت کرنی چاہئے تاکہ جب ہمارے دل میں کوئی غلط خواہش پیدا ہو تو ہمارا ضمیر ہمیں غلط قدم اُٹھانے سے روکے۔ (‏روم ۷:‏۲۲، ۲۳‏)‏ یہ سچ ہے کہ ہم میں کمزوریاں ہیں لیکن یہوواہ خدا ہمیں طاقت بخشتا ہے تاکہ ہم صحیح راہ پر چلتے رہیں۔—‏۲-‏کر ۱۲:‏۱۰‏۔‏

۱۸، ۱۹.‏ (‏الف)‏ ہم شرارت کی روحانی فوجوں کا مقابلہ کرنے میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ ہمیں کیا کرنے کی ٹھان لینی چاہئے؟‏

۱۸ اگر ہم یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں شرارت کی روحانی فوجوں کا بھی مقابلہ کرنا چاہئے۔ اِس میں کامیاب ہونے کے لئے ہمیں ”‏خدا کے سب ہتھیار“‏ باندھ لینے چاہئیں۔ (‏افس ۶:‏۱۱-‏۱۳‏)‏ شیطان، یہوواہ خدا کا جلال چھین لینے کی اَن‌تھک کوشش کر رہا ہے۔ وہ ہمیں خدا سے دُور کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب لاکھوں خطاکار مرد، عورتیں اور بچے یہوواہ خدا کے وفادار رہتے ہیں اور اُس کا جلال منعکس کرتے ہیں تو شیطان کو مُنہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اِس لئے آئیں، فرشتوں کی طرح ہم بھی خدا کی یوں تمجید کرتے رہیں:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏ ہمارے خداوند اور خدا تُو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تُو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔“‏—‏مکا ۴:‏۱۱‏۔‏

۱۹ آئیں، یہ ٹھان لیں کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہم یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرتے رہیں گے۔ یہ دیکھ کر یہوواہ خدا کو یقیناً بڑی خوشی ہوتی ہے کہ لاکھوں انسان اُس کی مانند بننے اور اُس کا جلال منعکس کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ (‏امثا ۲۷:‏۱۱‏)‏ بِلاشُبہ ہم داؤد بادشاہ کی طرح محسوس کرتے ہیں جنہوں نے لکھا:‏ ”‏یا رب [‏یہوواہ]‏!‏ میرے خدا!‏ مَیں پورے دل سے تیری تعریف کروں گا۔ مَیں ابد تک تیرے نام کی تمجید کروں گا۔“‏ (‏زبور ۸۶:‏۱۲‏)‏ ہم اُس وقت کے بے‌تابی سے منتظر ہیں جب ہم ہر لحاظ سے خدا کا جلال منعکس کریں گے۔ ذرا تصور کریں کہ وہ وقت کتنا شاندار ہوگا!‏ اگر آپ اب یہوواہ خدا کا جلال منعکس کر رہے ہیں تو آپ یہ اُمید رکھ سکتے ہیں کہ آپ کو ہمیشہ تک اُس کی حمد اور ستائش کرنے کا شرف حاصل ہوگا۔‏

‏[‏صفحہ ۳۲ پر تصویریں]‏

کیا آپ اِن طریقوں سے یہوواہ خدا کا جلال منعکس کرتے ہیں؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں