کہانی نمبر ۱۱۲
ایک خطرناک سفر
دیکھیں، کشتی ڈوب رہی ہے! جو لوگ کشتی میں تھے، اُنہوں نے پانی میں چھلانگ لگا دی ہے۔ کیا آپ کو پانی میں لوگ نظر آ رہے ہیں؟ کچھ لوگ ساحل پر پہنچ گئے ہیں۔ اِن میں پولس رسول بھی ہیں۔ کیا آپ تصویر میں اُن کو دیکھ سکتے ہیں؟ آئیں، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوا تھا۔
یاد ہے، پولس رسول دو سال تک قیصریہ میں قید تھے۔ پھر سپاہیوں نے اُن کو اور کچھ اَور قیدیوں کو کشتی میں بٹھا لیا اور وہ سب روم کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں وہ ایک جزیرے سے گزرے جس کا نام کریتے تھا۔ پھر اچانک تیز ہوا چلنے لگی۔ ہوا اِتنی تیز تھی کہ ملاح کشتی کو قابو میں نہیں رکھ سکے۔ بہت دن تک سمندر میں طوفان رہا۔ جو لوگ کشتی میں تھے، اُن کو دن کے وقت سورج نہیں دِکھائی دیتا تھا اور رات کے وقت ستارے نظر نہیں آتے تھے۔ اُن کو لگ رہا تھا کہ اب وہ نہیں بچیں گے۔
لیکن پولس رسول نے اُن سے کہا: ”ہم میں سے کوئی بھی نہیں مرے گا۔ صرف کشتی ڈوبے گی۔ کل رات ایک فرشتے نے مجھ سے کہا کہ ڈریں مت پولس! خدا چاہتا ہے کہ آپ روم کے شہنشاہ سے ملیں۔ اِس لئے وہ آپ کو اور اُن سب لوگوں کو بچا لے گا جو اِس کشتی میں ہیں۔“
طوفان دو ہفتے تک رہا۔ پھر ملاحوں کو لگا کہ پانی کی گہرائی کم ہو رہی ہے۔ اُن کو ڈر تھا کہ کشتی چٹانوں سے ٹکرا جائے گی کیونکہ رات کا وقت تھا۔ اِس لئے اُنہوں نے کشتی کے لنگر سمندر میں گِرا دئے۔ جب صبح ہوئی تو اُنہوں نے دیکھا کہ تھوڑی دُور ایک جزیرہ ہے۔ اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ کشتی کو جزیرے پر لے جائیں گے۔
لیکن ملاحوں کو پتہ نہیں تھا کہ پانی میں ریت کا ایک ٹیلہ ہے۔ جب کشتی ساحل کی طرف بڑھی تو اُس کا آگے کا حصہ اِس ٹیلے میں دھنس گیا۔ لہریں زورزور سے کشتی سے ٹکرا رہی تھیں اور کشتی ٹوٹنے لگی۔ یہ دیکھ کر سپاہیوں کے افسر نے سب کو حکم دیا کہ ”تُم میں سے جس جس کو تیرنا آتا ہے، وہ تیر کر کنارے پر پہنچ جائے۔ پھر باقی لوگ کشتی کے ٹکڑوں کو پکڑ لیں اور اِن کی مدد سے کنارے پر پہنچ جائیں۔“ لوگوں نے ایسا ہی کِیا۔ کشتی میں ۲۷۶ لوگ تھے اور وہ سب بچ گئے۔ اِس طرح فرشتے کی بات پوری ہوئی۔
وہ لوگ جس جزیرے پر پہنچے تھے، اُس کا نام مالٹا تھا۔ مالٹا کے لوگ بہت اچھے تھے۔ اُنہوں نے اِن سب لوگوں کا بہت خیال رکھا۔ جب موسم بہتر ہوا تو سپاہیوں نے پولس رسول کو ایک اَور کشتی میں بٹھایا اور اُن کو روم لے گئے۔