یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو14 جولائی ص.‏ 7
  • 1 کیونکہ حالات بدل جاتے ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • 1 کیونکہ حالات بدل جاتے ہیں
  • جاگو!‏—‏2014ء
  • ملتا جلتا مواد
  • مَیں مرنا چاہتا ہوں—‏کیا پاک کلام خودکُشی کے خیال کو ذہن سے نکالنے میں میری مدد کر سکتا ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا سامنا کیسے کِیا جا سکتا ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2016ء
  • کیا خودکشی فرار کا واحد راستہ ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2008ء
  • زندگی کی فکریں—‏ہمیں ہر طرف سے ’‏دبایا جاتا ہے‘‏
    یہوواہ کے پاس لوٹ آئیں
مزید
جاگو!‏—‏2014ء
جاگو14 جولائی ص.‏ 7

سرِورق کا موضوع | زندگی کا دامن کیوں تھامے رہیں؟‏

1 کیونکہ حالات بدل جاتے ہیں

‏”‏ہم ہر طرف سے مصیبت تو اُٹھاتے ہیں لیکن لاچار نہیں ہوتے۔ حیران تو ہوتے ہیں مگر نااُمید نہیں ہوتے۔“‏—‏2-‏کرنتھیوں 4:‏8‏۔‏

خودکُشی کو ”‏عارضی مسائل کا مستقل حل“‏ کہا گیا ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ جس صورتحال کی وجہ سے آپ پریشان ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ‌ساتھ وہ بہتر ہو جائے۔ ایسی تبدیلی اچانک بھی آ سکتی ہے حالانکہ آپ کو اِس کی توقع بھی نہیں ہوتی۔—‏بکس ”‏اِن کے حالات بدل گئے“‏ کو دیکھیں۔‏

اگر حالات میں بہتری نہیں بھی آتی تو بھی صرف اُن مسئلوں کے بارے میں سوچیں جن سے آپ کو اُسی دن نپٹنا ہوگا۔ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏کل کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ آج کے لئے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔“‏—‏متی 6:‏34‏۔‏

لیکن کچھ صورتحال ایسی ہیں جو بدل نہیں سکتیں۔ مثال کے طور پر ہو سکتا ہے کہ آپ کو ایک ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ یا پھر شاید آپ کی شادی ٹوٹ گئی ہے یا آپ کا کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

آپ حالات کو بدل تو نہیں سکتے لیکن آپ اِن کے بارے میں اپنی سوچ کو ضرور بدل سکتے ہیں۔ اگر آپ قبول کر لیتے ہیں کہ آپ اِس مسئلے کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے تو آپ ایسی باتوں پر زیادہ دھیان دے سکیں گے جن سے آپ کی زندگی بامقصد ہو جائے گی۔ (‏امثال 15:‏15‏)‏ اِس کے علاوہ آپ کو اپنی صورتحال سے نپٹنے کے طریقے بھی نظر آئیں گے اور یوں آپ سمجھ جائیں گے کہ خودکُشی آپ کے مسئلے کا واحد حل نہیں ہے۔ اِس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ آپ ایک حد تک اپنی سوچ پر قابو پا لیں گے۔‏

یہ بات یاد رکھیں:‏ آپ بس ایک ہی چھلانگ میں پہاڑ کو سر نہیں کر سکتے۔ اِس کے لیے آپ کو ایک ایک کرکے قدم اُٹھانے ہوں گے۔ یہی بات مشکلوں پر قابو پانے کے سلسلے میں بھی سچ ہے، چاہے یہ مشکلیں پہاڑ جیسی بڑی کیوں نہ ہوں۔‏

آج ہی یہ کریں:‏ کسی کے ساتھ اپنے مسئلے کے بارے میں بات کریں جیسے کہ کسی دوست یا گھر والے کے ساتھ۔ شاید وہ آپ کی مدد کر سکے تاکہ آپ اپنی صورتحال کو کسی اَور زاویے سے دیکھ سکیں۔—‏امثال 11:‏14‏۔‏

اِن کے حالات بدل گئے

پاک صحیفوں میں خدا کے کچھ ایسے بندوں کا ذکر ہوا ہے جنہیں لگا کہ حالات اُن کی برداشت سے باہر ہیں۔ ذرا غور کریں کہ اُنہوں نے کیا کہا:‏

  • رِبقہ:‏ ”‏اگر ایسا ہی ہے تو مَیں جیتی کیوں ہوں؟“‏—‏پیدایش 25:‏22‏۔‏

  • موسیٰ:‏ ”‏مجھے مار ڈال .‏ .‏ .‏ کہ آگے کو مَیں اپنی مصیبت نہ دیکھوں۔“‏—‏گنتی 11:‏15، کیتھولک ترجمہ۔‏

  • ایلیاہ:‏ ”‏میری جان کو لے لے کیونکہ مَیں اپنے باپ‌دادا سے بہتر نہیں ہوں۔“‏—‏1-‏سلاطین 19:‏4‏۔‏

  • ایوب:‏ ”‏مَیں نے پیٹ سے نکلتے ہی جان کیوں نہ دے دی؟“‏—‏ایوب 3:‏11‏۔‏

اگر آپ خدا کے کلام میں اِن لوگوں کے بارے میں پڑھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اِن کے حالات بہتر ہو گئے حالانکہ وہ اِس کی توقع بھی نہیں کر رہے تھے۔ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ (‏واعظ 11:‏6‏)‏ اِس لیے ہمت نہ ہاریں!‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں