پاک صحائف کی روشنی میں
عدالت کے دن پر کیا کچھ واقع ہوگا؟
پاک صحائف میں بیان کِیا گیا ہے کہ ’خدا نے ایک دن ٹھہرایا ہے جس میں وہ راستی سے دُنیا کی عدالت کرے گا۔‘ (اعمال ۱۷:۳۱) بہت سے لوگ عدالت کے دن سے ڈرتے ہیں۔ کیا ہمیں واقعی اِس دن سے ڈرنا چاہئے؟
جینہیں۔ دراصل عدالت کا دن خدا کا ایک ایسا بندوبست ہے جس کے ذریعے وہ انسانوں کو لاتعداد برکات سے نوازے گا۔ یہاں تک کہ اِس سے اُن لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا جو مر چکے ہیں۔ (متی ۲۰:۲۸؛ یوحنا ۳:۱۶) آئیں، اِس سلسلے میں اِن سوالوں پر غور کریں کہ خدا دُنیا کی عدالت کیوں کرے گا؟ اور عدالت کے دن پر کیا کچھ واقع ہوگا؟
خدا دُنیا کی عدالت کیوں کرے گا؟
خدا نے زمین کو اِس لئے نہیں بنایا تھا کہ انسان اِس پر کچھ عرصے تک آزمائے جائیں اور پھر کسی اَور جہان میں منتقل ہو جائیں۔ جب خدا نے انسانوں کو پیدا کِیا تو اُس کا مقصد یہ تھا کہ وہ ہمیشہ تک زمین پر زندہ رہیں۔ خدا نے آدم اور حوا کو بغیر کسی نقص کے پیدا کِیا تھا۔ لیکن اُن دونوں نے خدا کے اختیار کے خلاف بغاوت کی۔ یوں اُنہوں نے ہمیشہ زندہ رہنے کا موقع گنوا دیا۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُن کی اولاد بھی گُناہ اور موت کی گرفت میں آ گئی۔—پیدایش ۲:۱۵-۱۷؛ رومیوں ۵:۱۲۔
عدالت کے دن کے دوران انسانوں کو ایسی زندگی حاصل کرنے کا موقع ملے گا جسے آدم اور حوا نے گنوا دیا تھا۔ دراصل یہ دن ایک ہزار سال کا عرصہ ہوگا۔a غور کریں کہ پاک صحیفوں کے مطابق خدا ”دُنیا کی عدالت“ کرے گا۔ (اعمال ۱۷:۳۱) اِس کا مطلب ہے کہ اِس ہزار سالہ عرصے کے دوران اُن تمام لوگوں کی عدالت ہوگی جو زمین پر رہ رہے ہوں گے۔ جن لوگوں کو خدا کی خوشنودی حاصل ہوگی اُنہیں ہمیشہ تک زمین پر خوشگوار زندگی سے لطف اُٹھانے کا موقع ملے گا۔ (مکاشفہ ۲۱:۳، ۴) اِس طرح عدالت کے دن کے ذریعے زمین اور انسانوں کے لئے خدا کا مقصد پورا ہوگا۔
پاک صحیفوں میں لکھا ہے کہ خدا نے یسوع مسیح کو ”زندوں اور مُردوں کی عدالت“ کرنے کے لئے مقرر کِیا ہے۔ (۲-تیمتھیس ۴:۱) یسوع مسیح کن ”زندوں“ کی عدالت کرے گا؟ اور مُردوں کی عدالت کیسے ہوگی؟
”زندوں“ کی عدالت
آجکل ہم اِس دُنیا کے آخری زمانے میں رہ رہے ہیں۔ بہت جلد خدا زمین پر سے ہر طرح کی بُرائی ختم کر دے گا اور بُرے لوگوں کا نامونشان مٹا دے گا۔ پھر ”زندوں“ کی عدالت ہوگی، یعنی اُن لوگوں کی جو زمین پر باقی ہوں گے۔—مکاشفہ ۷:۹-۱۴؛ ۱۹:۱۱-۱۶۔
عدالت کے ہزار سالہ عرصے کے دوران یسوع مسیح آسمان سے زمین پر حکمرانی کرے گا۔ اُس کے ساتھ ایک لاکھ ۴۴ ہزار اشخاص حکمرانی کریں گے جنہیں مرنے کے بعد آسمان پر زندگی دی جائے گی۔ وہ آسمان پر بادشاہ اور کاہن ہوں گے اور انسانوں کو یسوع مسیح کی قربانی سے فائدہ حاصل کرنے میں مدد دیں گے۔ اِس کے نتیجے میں انسان آہستہآہستہ ہر لحاظ سے بےعیب ہو جائیں گے۔—مکاشفہ ۵:۱۰؛ ۱۴:۱-۴؛ ۲۰:۴-۶۔
عدالت کے دن کے شروع میں شیطان اور اُس کا ساتھ دینے والے بُرے فرشتوں کو قید کر دیا جائے گا۔ یوں وہ انسانوں کو گمراہ نہیں کر سکیں گے۔ (مکاشفہ ۲۰:۱-۳) لیکن عدالت کے دن کے آخر پر خدا شیطان اور بُرے فرشتوں کو ایک بار پھر انسانوں کو آزمانے کی اجازت دے گا۔ وہ لوگ جو خدا کے وفادار رہیں گے اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دی جائے گی۔ اُنہیں وہ تمام برکات ملیں گی جنہیں آدم اور حوا نے گنوا دیا تھا۔ مگر جو لوگ خدا کی بجائے شیطان کا ساتھ دیں گے اُن کو ہمیشہ کے لئے ہلاک کر دیا جائے گا۔ اِس کے علاوہ شیطان اور اُس کے بُرے فرشتوں کو بھی تباہ کر دیا جائے گا۔—مکاشفہ ۲۰:۷-۹۔
”مُردوں“ کی عدالت
خدا کے کلام میں بیان کِیا گیا ہے کہ عدالت کے دن کے دوران مُردے زندہ ہو کر ”کھڑے“ ہوں گے۔ (متی ۱۲:۴۱) یسوع مسیح نے کہا کہ”وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں اُس کی آواز سُن کر نکلیں گے۔ جنہوں نے نیکی کی ہے زندگی کی قیامت کے واسطے اور جنہوں نے بدی کی ہے سزا کی قیامت کے واسطے۔“ (یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) اِس آیت میں یسوع مسیح نے یہ نہیں کہا کہ مُردوں کے اندر رُوح ڈالی جائے گی۔ پاک صحیفے ظاہر کرتے ہیں کہ مُردے بالکل بےخبر ہیں اور انسانوں میں کوئی رُوح نہیں ہوتی جو مرنے کے بعد زندہ رہتی ہے۔ (واعظ ۹:۵؛ یوحنا ۱۱:۱۱-۱۴، ۲۳، ۲۴) اُوپر دی گئی آیات سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع مسیح مُردوں کو زمین پر زندہ کرے گا۔
کیا زندہ کئے جانے والوں کی عدالت اُن کاموں کی بِنا پر ہوگی جو اُنہوں نے مرنے سے پہلے کئے تھے؟ جینہیں۔ پاک کلام کی تعلیم یہ ہے کہ ”جو مؤا وہ گُناہ سے بری ہوا۔“ (رومیوں ۶:۷) اِس لئے زندہ کئے جانے والوں کی عدالت اُن ”اعمال کے مطابق“ ہو گی جو وہ عدالت کے دن کے دوران کریں گے۔ (مکاشفہ ۲۰:۱۲، ۱۳) اِن اعمال کی بِنا پر اِس بات کا فیصلہ ہو گا کہ آیا وہ ہمیشہ کی زندگی پائیں گے یا ہمیشہ کے لئے ہلاک کئے جائیں گے۔ اِن میں سے بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو پہلی بار یہوواہ خدا اور اُس کے اصولوں کے بارے میں سیکھیں گے۔ اُنہیں یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ خدا کی مرضی پر چل کر زمین پر ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکیں۔
عدالت کا دن برکات لائے گا
عدالت کے دن کے دوران خدا انسانوں کو اپنی راہ سکھائے گا۔ جو لوگ اِس پر چلیں گے اُنہیں بہت سی برکات حاصل ہوں گی۔ اُس وقت آپ اپنے اُن عزیزوں سے دوبارہ ملیں گے جو موت کی وجہ سے آپ سے بچھڑ گئے ہیں۔ پھر تمام انسان آہستہآہستہ گُناہ سے پاک ہو جائیں گے۔ ذرا تصور کریں کہ وہ کتنا خوشگوار وقت ہوگا!
جیسے ہم نے دیکھا ہے، خدا عدالت کے دن کے آخر پر شیطان کو انسانوں کو آزمانے کی اجازت دے گا۔ کیا ہمیں اِس امتحان سے ڈرنا چاہئے؟ جینہیں، کیونکہ عدالت کے دن کے دوران خدا ہماری تربیت کرے گا تاکہ ہم اِس امتحان پر پورا اُتر سکیں۔ عدالت کے دن کے ذریعے آدم اور حوا کے گُناہ کے نتیجے میں آنے والی تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی اور زمین کے لئے خدا کا مقصد پورا ہوگا۔
[فٹنوٹ]
a پاک صحیفوں میں لفظ ”دن“ ہمیشہ ۲۴ گھنٹے کے عرصے کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر پیدایش ۲:۴ میں لفظ ”دن“ ایک لمبے عرصے کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔
کیا آپ نے غور کِیا ہے کہ . . .
● عدالت کے دن کیا کچھ واقع ہوگا؟—اعمال ۱۷:۳۱۔
● کن کی عدالت ہوگی؟—۲-تیمتھیس ۴:۱۔
● عدالت کا دن کتنا لمبا ہوگا؟—مکاشفہ ۲۰:۴-۶۔
[صفحہ ۱۱ پر عبارت]
وہ وقت کتنا خوشگوار ہوگا جب آپ اپنے اُن عزیزوں سے دوبارہ ملیں گے جو موت کی وجہ سے آپ سے بچھڑ گئے ہیں!
[صفحہ ۱۰ پر تصویریں]
یسوع مسیح کی حکمرانی کے دوران مُردے زمین پر زندہ ہوں گے