یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو03 8/‏4 ص.‏ 26
  • عقاب کی آنکھ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • عقاب کی آنکھ
  • جاگو!‏—‏2003ء
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ تھکے ہوئے کو زور بخشتا ہے
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2017ء)‏
  • جانور خدا کی بڑائی کرتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
جاگو!‏—‏2003ء
جاگو03 8/‏4 ص.‏ 26

عقاب کی آنکھ

سپین سے جاگو!‏ کا رائٹر

ہسپانوی لوگ تیزنگاہ شخص کو عقاب کی آنکھ رکھنے والے (‏ویسٹا ڈی اگیولا‏)‏ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ جرمنوں کا بھی ایک ایسا ہی اظہار (‏ایڈلرگ‏)‏ ہے۔ اُردو میں بھی کہا جاتا ہے تاڑنے والے عرش کی نظر رکھتے ہیں۔ صدیوں سے عقاب کی تیز بینی واقعی ایک استعارہ ہوئی ہے۔ تین ہزار سال پہلے لکھی جانے والی ایوب کی کتاب عقاب کی بابت بیان کرتی ہے:‏ ”‏اُسکی آنکھیں اُسے دُور سے دیکھ لیتی ہیں۔“‏—‏ایوب ۳۹:‏۲۷،‏ ۲۹‏۔‏

عقاب دراصل کتنی دُور تک دیکھ سکتا ہے؟ ”‏بہترین حالات کے تحت سنہری عقاب (‏عقیلہ کیرساٹوس‏)‏ پونے دو میل کی بلندی سے خرگوش کی معمولی سی حرکت کو بھی دیکھ سکتا ہے،“‏ دی گینیز بُک آف اینیمل ریکارڈز بیان کرتی ہے۔ دیگر کا اندازہ ہے کہ عقاب اس سے بھی زیادہ دُور سے دیکھ سکتا ہے!‏

کیا چیز عقاب کو ایسی اچھی بینائی عطا کرتی ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ سنہری عقاب کی دو بڑی بڑی آنکھیں ہوتی ہیں جو سر کا بیشتر حصہ گھیرے ہوتی ہیں۔ بُک آف برٹش برڈز بیان کرتی ہے کہ سنہری عقاب کی آنکھیں، ”‏درحقیقت کافی زیادہ بڑی ہوتی ہیں مگر وہ اُسکی پرواز کی راہ میں حائل نہیں ہوتیں۔“‏

مزیدبرآں، عقاب کی آنکھ میں روشنی حاصل کرنے والے خلیے ہماری نسبت پانچ گُنا زیادہ ہوتے ہیں، بعض میں تو ہمارے ۲،۰۰،۰۰۰ خلیوں کے مقابلے میں فی مربع ملی‌میٹر ۱۰،۰۰،۰۰۰ مخروطے ہوتے ہیں۔ عملاً ہر حساسہ نیورون سے جڑا ہوتا ہے۔ نتیجتاً عقاب کی عصب‌بصری میں جو آنکھ سے دماغ کو پیغام پہنچاتی ہے، انسانوں کی نسبت دو گُنا زیادہ بافتے ہوتے ہیں۔ یہ مخلوق رنگ کی بھی خوب پہچان کر سکتی ہے!‏ یوں کہہ لیجئے کہ دیگر پرندوں کی طرح تمام شکاری پرندے طاقتور عدسوں سے لیس آنکھیں رکھتے ہیں جو ایک انچ کے فاصلے پر پڑی چیز سے نظر ہٹا کر فوری طور پر بہت دُور کی چیز پر نظر جما سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اُنکی آنکھیں ہماری آنکھوں سے بہت بہتر ہیں۔‏

دن کی روشنی میں عقاب کی بصارت کئی گُنا زیادہ ہو جاتی ہے مگر رات کو اُلو اس خوبی سے استفادہ کرتے ہیں۔ رات کو اِن شکاری پرندوں کی آنکھوں میں روشنی کے حساس آلے اور بڑے بڑے عدسے نصب ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ رات کو ہماری نسبت دس گُنا زیادہ دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم، مکمل تاریکی کے دوران اُلو اپنے شکار کو تلاش کرنے کیلئے صرف اپنی سننے کی قوت پر انحصار کرتے ہیں۔‏

اِن پرندوں کو یہ خصوصیات کس نے عطا کی ہیں؟ خدا نے ایوب سے پوچھا:‏ ”‏کیا عقاب تیرے حکم سے اُوپر چڑھتا ہے؟“‏ تب ایوب نے انکساری سے جواب دیا:‏ ”‏مَیں جانتا ہوں کہ تُو [‏اَے یہوواہ]‏ سب کچھ کر سکتا ہے۔“‏ (‏ایوب ۳۹:‏۲۷؛‏ ۴۲:‏۱، ۲‏)‏ عقاب کی آنکھ ہمارے خالق کی بے‌پناہ حکمت کی محض ایک اَور شہادت ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۲۶ پر تصویر]‏

سنہری عقاب

‏[‏صفحہ ۲۶ پر تصویر]‏

برفانی اُلو

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں