پاک کلام کی آیتوں کی وضاحت
اَمثال 17:17—”دوست ہر وقت محبت دِکھاتا ہے“
”سچا دوست ہمیشہ محبت ظاہر کرتا ہے اور مصیبت کی گھڑی میں ایک بھائی ثابت ہوتا ہے۔“—اَمثال 17:17، ترجمہ نئی دُنیا۔
”دوست ہر وقت محبت دِکھاتا ہے اور بھائی مصیبت کے دن کے لئے پیدا ہوا ہے۔“—اَمثال 17:17، اُردو ریوائزڈ ورشن۔
اَمثال 17:17 کا مطلب
سچے دوستوں پر بھروسا کِیا جا سکتا ہے۔ وہ سگے بہن بھائیوں کی طرح آپ کا خیال رکھتے ہیں اور آپ کے وفادار ہوتے ہیں، خاص طور پر مشکل وقت میں۔
”سچا دوست ہمیشہ محبت ظاہر کرتا ہے۔“ اِس جملے کا ترجمہ یوں بھی کِیا جا سکتا ہے کہ ”دوست ہمیشہ اپنی محبت کو ظاہر کرتے ہیں۔“ اِس جملے میں عبرانی زبان کے جس لفظ کا ترجمہ”محبت“ کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب صرف کسی شخص کے لیے محبت بھرے جذبات رکھنا نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی بےلوث محبت ہوتی ہے جو کاموں سے ظاہر ہوتی ہے۔ (1-کُرنتھیوں 13:4-7) جن دوستوں میں ایسی محبت ہوتی ہے، وہ اُس وقت بھی ایک دوسرے کے وفادار رہتے ہیں جب اُن کی دوستی کا اِمتحان ہوتا ہے، مثلاً جب اُن کے بیچ غلطفہمیاں پیدا ہوتی ہیں یا وہ مشکلوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔ (اَمثال 10:12) ایک سچا دوست اُس وقت اپنے دوست سے حسد نہیں کرتا جب اُس کے ساتھ کچھ اچھا ہوتا ہے۔ اِس کی بجائے وہ اُس کے ساتھ خوش ہوتا ہے۔—رومیوں 12:15۔
”سچا دوست ... مصیبت کی گھڑی میں ایک بھائی ثابت ہوتا ہے۔“ اِس کہاوت میں اِس حقیقت کو بنیاد بنایا گیا ہے کہ سگے بہن بھائی ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ اِس لیے جب ہم کسی ایسے دوست کی مدد کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں جو مشکل کا سامنا کر رہا ہوتا ہے تو ہم اُس کے سگے بہن یا بھائی کی طرح اُس کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ایسے دوستوں کا رشتہ اِمتحانوں سے گزرتے وقت کمزور نہیں پڑتا بلکہ مضبوط ہوتا ہے کیونکہ جب وہ مشکلوں کا سامنا کرتے ہیں تو اُن کے دل میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور عزت اَور بڑھ جاتی ہے۔
اَمثال 17:17 کا سیاقوسباق
اَمثال کی کتاب میں بہت سی دانشبھری باتیں اور مشورے پائے جاتے ہیں جنہیں تھوڑے الفاظ مگر دلکش انداز میں لکھا گیا ہے اور جنہیں پڑھنے والا سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اِس کتاب کے زیادہتر حصے بادشاہ سلیمان نے لکھے ہیں۔ بادشاہ سلیمان نے عبرانی شاعری کا خالص انداز اپنایا جس میں کسی شعر میں ہمآواز الفاظ کی بجائے ایک جیسے خیالات ہوتے ہیں یا دو فرق خیالات ہوتے ہیں جن کا آپس میں تعلق ہوتا ہے۔ اَمثال 17:17 ایسے شعر کی ایک مثال ہے جس میں ایک جیسے خیال پائے جاتے ہیں۔ آیت کا دوسرا جملہ آیت کے پہلے جملے میں موجود خیال میں کچھ اِضافہ کرتا ہے۔ اَمثال 18:24 ایسے شعر کی ایک مثال ہے جس میں دونوں خیالات ایک دوسرے سے بالکل فرق ہیں لیکن اُن کا آپس میں ایک تعلق ہے۔ اِس میں لکھا ہے: ”ایسے ساتھی بھی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی تاک میں رہتے ہیں لیکن ایسا دوست بھی ہوتا ہے جو بھائی سے زیادہ وفا نبھاتا ہے۔“
اَمثال 17:17 لکھتے ہوئے شاید سلیمان اپنے باپ داؤد اور یونتن کی پکی دوستی کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے جو بادشاہ ساؤل کے بیٹے تھے۔ (1-سموئیل 13:16؛ 18:1؛ 19:1-3؛ 20:30-34، 41، 42؛ 23:16-18) حالانکہ داؤد اور یونتن سگے بھائی نہیں تھے لیکن وہ سگے بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے قریب تھے۔ یونتن نے اپنے دوست کو بچانے کے لیے اپنی جان تک داؤ پر لگا دی۔a
اَمثال 17:17 کے فرق فرق ترجمے
”دوست ہمیشہ اپنی دوستی کا اِظہار کرتا ہے اور بھائی مصیبت کے وقت کے لئے پیدا ہوتا ہے۔“—کیتھولک ترجمہ۔
”دوست ہر وقت محبت دِکھاتا ہے، لیکن بھائی مصیبت میں کام آنے کے لیے پیدا ہوتا ہے۔“—نیو اُردو بائبل ورشن۔
”پڑوسی وہ ہے جو ہر وقت محبت رکھتا ہے، بھائی وہ ہے جو مصیبت میں سہارا دینے کے لئے پیدا ہوا ہے۔“—اُردو جیو ورشن۔
اَمثال کی کتاب پر ایک نظر ڈالنے کے لیے اِس چھوٹی سی ویڈیو کو دیکھیں۔
a مضمون ”’یونتن کا دل داؤد کے دل سے مل گیا‘“ کو دیکھیں۔