بائبل کے مطابق 1914ء ایک اہم تاریخ کیوں ہے؟
پاک کلام کا جواب
بائبل کے مطابق 1914ء میں آسمان پر خدا کی بادشاہت قائم ہوئی تھی۔ یہ بات دانیایل کی کتاب کے چوتھے باب میں درج ایک پیشگوئی سے پتہ چلتی ہے۔
یہ پیشگوئی کیا تھی؟ خدا نے بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کو خواب میں ایک بہت اُونچا درخت دِکھایا جسے کاٹ ڈالا گیا۔ اُس درخت کی جڑوں کے کُندے کو لوہے اور تانبے کے بندھن سے باندھ کر ”سات دَور“ گزرنے تک بڑھنے سے روکا گیا۔ لیکن بعد میں اُس درخت نے پھر سے بڑھنا تھا۔—دانیایل 4:1، 10-16۔
پیشگوئی کی پہلی تکمیل۔ اُونچا درخت بادشاہ نبوکدنضر کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ (دانیایل 4:20-22) بادشاہ نبوکدنضر کو اُس وقت مجازی معنوں میں کاٹ ڈالا گیا جب سات سال کے لیے اُس کی ذہنی حالت خراب ہو گئی اور وہ اپنے تخت سے محروم ہو گیا۔ (دانیایل 4:25) جب خدا نے نبوکدنضر کی ذہنی حالت ٹھیک کر دی تو اُسے اُس کا تخت واپس مل گیا اور اُس نے یہ تسلیم کِیا کہ خدا ہی سب سے اعلیٰ حکمران ہے۔—دانیایل 4:34-36۔
پیشگوئی کی بڑے پیمانے پر تکمیل۔ اِس پیشگوئی کا مقصد یہ تھا کہ سب لوگ ”پہچان لیں کہ حقتعالیٰ آدمیوں کی مملکت میں حکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُسے دیتا ہے بلکہ آدمیوں میں سے ادنیٰ آدمی کو اُس پر قائم کرتا ہے۔“ (دانیایل 4:17) کیا مغرور نبوکدنضر وہ شخص تھا جسے خدا تمام اِنسانوں پر حکومت کرنے کا اِختیار دینا چاہتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ دراصل کچھ عرصہ پہلے خدا نے نبوکدنضر کو ایک اَور خواب کے ذریعے بتایا تھا کہ نہ تو اُسے اور نہ ہی کسی اَور اِنسانی حکمران کو یہ اِختیار دیا جائے گا۔ اِس کی بجائے خدا خود ایک ایسی حکومت قائم کرے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔—دانیایل 2:31-44۔
خدا نے پہلے اپنی ایک بادشاہت قائم کی تھی جو زمین پر اُس کی حکمرانی کی نمائندگی کرتی تھی اور یہ بادشاہت قدیم بنی اِسرائیل تھی۔ خدا نے اِس بادشاہت کے بارے میں کہا کہ اِسے ’اُلٹ دو‘ کیونکہ اِس کے حکمران خدا کے وفادار نہیں رہے تھے۔ لیکن اُس نے یہ پیشگوئی کی کہ وہ اُس شخص کو بادشاہت کا بادشاہ بننے کا اِختیار دے گا ”جس کا حق ہے۔“ (حِزقیایل 21:25-27) بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع مسیح وہ شخص تھے جنہیں اُس بادشاہت کا بادشاہ بننے کا حق حاصل ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ (لُوقا 1:30-33) مغرور بادشاہ نبوکدنضر کے برعکس یسوع مسیح ”دل سے خاکسار“ ہیں۔—متی 11:29۔
دانیایل 4 باب میں ذکرکردہ درخت کس کی طرف اِشارہ کرتا ہے؟ بائبل میں درخت کبھی کبھار حکومتوں کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔ (حِزقیایل 17:22-24؛ 31:2-5) دانیایل 4 باب میں درج پیشگوئی کی بڑے پیمانے پر ہونے والی تکمیل میں اُونچا درخت خدا کی حکمرانی کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔
درخت کا کاٹا جانا کس بات کی طرف اِشارہ کرتا ہے؟ ہم نے دیکھا ہے کہ درخت کا کاٹا جانا اِس بات کی طرف اِشارہ تھا کہ نبوکدنضر کی حکمرانی کچھ عرصے کے لیے ختم ہو جائے گئی۔ اِس پیشگوئی کی بڑے پیمانے پر ہونے والی تکمیل میں یہ اِس بات کی طرف اِشارہ کرتا ہے کہ زمین پر خدا کی حکمرانی کچھ عرصے کے لیے ختم ہو جائے گی۔ ایسا اُس وقت ہوا جب نبوکدنضر نے یروشلیم کو تباہ کِیا جہاں اِسرائیل کے بادشاہ ”[یہوواہ] کے تخت“ پر اُس کے نمائندوں کے طور پر بیٹھتے تھے۔—1-تواریخ 29:23۔
”سات دَور“ کس کی طرف اِشارہ کرتے ہیں؟ ”سات دَور“ اُس عرصے کی طرف اِشارہ کرتے ہیں جن میں خدا نے اِنسانوں کو حکمرانی کرنے کی اِجازت دی تھی اور جب زمین پر خدا کا کوئی نمائندہ حکمرانی نہیں کر رہا تھا۔ بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ ”سات دَور“ اکتوبر 607 قبلازمسیح میں شروع ہوئے جب بابلی فوج نے یروشلیم کو تباہ کِیا۔—2-سلاطین 25:1، 8-10۔
”سات دَور کتنے لمبے ہیں؟“ یہ عرصہ صرف سات سال کا نہیں ہو سکتا جیسے نبوکدنضر کے سلسلے میں تھا۔ یسوع مسیح نے کہا: ”یروشلیم [یعنی زمین پر خدا کی حکمرانی کے مرکز] کو اُس وقت تک قوموں کے پیروں تلے روندا جائے گا جب تک کہ قوموں کا مقررہ وقت پورا نہ ہو جائے۔“ (لُوقا 21:24) اِس آیت کے مطابق ’قوموں کے مقررہ وقت‘ کے دوران یہوواہ نے قوموں کو اِجازت دی کہ وہ اُس کی حکمرانی کو ’پیروں تلے روندیں۔‘ لہٰذا ”قوموں کا مقررہ وقت“ اُن ’سات دَوروں‘کی طرف اِشارہ کرتا ہے جن کا ذکر دانیایل 4 باب میں کِیا گیا ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو ”سات دَور“ کا عرصہ ابھی تک چل رہا تھا۔
بائبل پر غور کرنے سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ”سات دَور“ کتنے لمبے ہیں۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ ساڑھے تین ”دَور“ یا ”وقت“ 1260 دن کے برابر ہیں۔ اِس طرح”سات دَور“ 2520 دنوں کے برابر ہیں۔ (مکاشفہ 12:6، 14) چونکہ بائبل میں ’دن پیچھے ایک برس‘ کا اصول دیا گیا ہے اِس لیے 2520 دن 2520 سال کے برابر ہیں۔ لہٰذا اگر ہم 607 قبلازمسیح سے 2520 سال آگے جائیں تو ہم 1914ء پر پہنچ جائیں گے۔اِسی سال اکتوبر کے مہینے میں ”سات دَور“ختم ہوئے۔—گنتی 14:34؛ حِزقیایل 4:6۔