یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • trm مضمون 134
  • تشدد مسئلوں کا حل نہیں ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • تشدد مسئلوں کا حل نہیں ہے
  • مزید موضوعات
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یسوع نے اِس حوالے سے کیا کہا
  • یسوع نے کیا کِیا اور وہ مستقبل میں کیا کریں گے
  • پوری دُنیا میں امن قائم ہو جائے گا
    مزید موضوعات
  • دوسروں کے ساتھ بھلائی کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • یسوع مسیح کا مشہور وعظ
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • مسیح جیسا مزاج رکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
مزید
مزید موضوعات
trm مضمون 134
یسوع فرق فرق عمر کے لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔‏

یسوع مسیح سے سیکھیں

تشدد مسئلوں کا حل نہیں ہے

آج بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ تشدد ہی مسئلوں یا نااِتفاقی کو حل کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔ لیکن یسوع مسیح نے نہ تو ایسا کرنے کو کہا اور نہ ہی خود ایسا کِیا۔ ذرا یسوع مسیح کی کچھ باتوں اور کاموں پر غور کریں۔‏

یسوع نے اِس حوالے سے کیا کہا

یسوع مسیح نے اپنے مشہور پہاڑی واعظ میں بتایا کہ غصہ کرنے، دوسروں پر بھڑکنے یا تشدد کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ اِس حوالے سے کچھ مثالوں پر غور کریں۔‏

  • ‏”‏جیسا سلوک آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ کریں، آپ بھی اُن کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں۔“‏ (‏متی 7:‏12؛‏ لُوقا 6:‏31‏)‏ اِس نصیحت کو اکثر سنہری اصول کہا جاتا ہے، جس کے مطابق ہمیں دوسروں کے ساتھ ویسے ہی پیش آنا چاہیے جیسے ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہمارے ساتھ پیش آئیں۔ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ ہم پر تشدد کِیا جائے۔ تو پھر کیا ہمیں تب بھی دوسروں کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش نہیں آنا چاہیے جب اُن کی رائے ہم سے فرق ہو؟‏

  • ‏”‏اگر کوئی آپ کے دائیں گال پر تھپڑ مارے تو بایاں بھی اُس کی طرف کر دیں۔“‏ (‏متی 5:‏38، 39؛‏ لُوقا 6:‏29‏)‏ یسوع یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ ہم دوسروں سے یہ کہیں کہ وہ ہمیں ماریں۔ اِس کی بجائے وہ مذہبی رہنماؤں کی پھیلائی ہوئی اِس غلط سوچ کو درست کر رہے تھے کہ بدلہ لینا صحیح ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں سے کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی آپ سے بُرا سلوک کرتا ہے تو اُس سے بدلہ لینے کی بجائے اُس سے نرمی سے پیش آئیں۔‏a

  • دُشمنوں سے محبت کریں۔“‏ (‏متی 5:‏43، 44؛‏ لُوقا 6:‏27‏)‏ ہم یسوع سے سیکھتے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے نفرت کرتا یا ہمارے ساتھ نااِنصافی کرتا ہے تو بھی ہم اُس کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں۔ یسوع کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اگر وہ لوگ کچھ غلط کر رہے ہیں تو ہم اُسے صحیح سمجھیں۔ لیکن جو لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں اگر ہم اُن کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے غصے پر قابو پالیں اور وہ بھی ہمارے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں۔‏

یسوع نے کیا کِیا اور وہ مستقبل میں کیا کریں گے

یسوع نے سکھایا کہ تشدد مسئلوں کا حل نہیں ہے اور اُنہوں نے ایسا کر کے دِکھایا بھی ۔ جس رات یسوع کو گِرفتار کِیا گیا تو اُن کے ایک شاگرد نے یسوع کو بچانے کے لیے تلوار نکال لی۔ لیکن یسوع نے کہا:‏ ”‎اپنی تلوار واپس رکھ لیں کیونکہ جو تلوار چلاتے ہیں، اُنہیں تلوار سے ہلاک کِیا جائے گا۔“‏ (‏متی 26:‏52‏)‏ یسوع نے اپنے دُشمنوں کو معاف کرنے اور اُن کے لیے دُعا کرنے سے اُن کے لیے محبت دِکھائی۔—‏لُوقا 23:‏33، 34؛‏ 1-‏پطرس 2:‏23‏۔‏

خدا کے کلام میں وعدہ کِیا گیا ہے کہ بہت جلد یسوع جو کہ امن کے شہزادے ہیں، ہر طرح کے تشدد کو ختم کر دیں گے۔ (‏یسعیاہ 9:‏6، 7‏)‏ اِس شان‌دار مستقبل کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اِس مضمون کو پڑھیں:‏ ”‏جنگیں اور لڑائیاں کیسے ختم ہوں گی؟‏‏“‏

a اِس بارے میں اَور جاننے کے لیے یہ مضمون پڑھیں:‏ ”‏‏”‏آنکھ کے بدلے آنکھ“‏ کا کیا مطلب ہے؟‏‏“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں