آپبیتی
مَیں نے مالک کے پیچھے پیچھے چلنے کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیا
جب مَیں 16 سال کا تھا تو میرے ابو نے مجھ سے کہا: ”اگر تُم مُنادی کے لیے گئے تو گھر واپس مت آنا۔ اور اگر واپس آئے تو مَیں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا۔“ ابو کی یہ بات سننے کے بعد مَیں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کِیا۔ اُس وقت مَیں نے زندگی میں پہلی بار ہمارے مالک یسوع مسیح کے پیچھے پیچھے چلنے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا۔
میرے ابو کو مجھ پر اِتنا غصہ کیوں تھا؟ آئیں، مَیں آپ کو بتاتا ہوں۔ مَیں 29 جولائی 1929ء کو پیدا ہوا اور ملک فلپائن کے صوبے بولاکان کے ایک گاؤں میں پرورش پائی۔ اُس وقت ملک میں معاشی بحران تھا اِس لیے ہماری زندگی بہت سادہ تھی۔ جب مَیں چھوٹا تھا تو جاپانی فوج نے فلپائن پر حملہ کر دیا اور ملک میں جنگ چھڑ گئی۔ چونکہ ہمارا گاؤں بہت دُوردراز علاقے میں واقع تھا اِس لیے ہم جنگ سے براہِراست متاثر نہیں ہوئے۔ ہمارے پاس ریڈیو، ٹیلیویژن یا اخبار نہیں تھے اِس لیے ہمیں لوگوں سے ہی جنگ کی صورتحال کے بارے میں پتہ چلتا تھا۔
ہم آٹھ بہن بھائی تھے اور مَیں دوسرے نمبر پر تھا۔ جب مَیں آٹھ سال کا تھا تو میرے نانا نانی مجھے اپنے گھر لے گئے تاکہ مَیں اُن کے ساتھ رہوں۔ ویسے تو ہم کیتھولک تھے لیکن میرے نانا مذہب کے بارے میں بات کرنے کا شوق رکھتے تھے اور اُن مذہبی کتابوں کو سنبھال کر رکھتے تھے جو اُن کے دوست اُنہیں دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اُنہوں نے مجھے ٹاگالوگ زبان میں یہوواہ کے گواہوں کی کچھ کتابیں دِکھائیں جن میں جھوٹے مذہب کی تعلیمات کا پردہ فاش کِیا گیا تھا۔ اُنہوں نے مجھے ایک بائبل بھی دی۔ بائبل کو پڑھ کر مجھے بہت مزہ آیا، خاص طور پر چار اِنجیلوں کو پڑھ کر مجھے بہت اچھا لگا۔ ایسا کرنے سے مجھ میں یہ شوق پیدا ہوا کہ مَیں یسوع مسیح کی پیروی کروں۔—یوحنا 10:27۔
مَیں نے مالک کے پیچھے پیچھے چلنا سیکھا
سن 1945ء میں جاپانی فوج فلپائن سے چلی گئی۔ اُس وقت میرے امی ابو نے مجھے گھر واپس آنے کے لیے کہا۔ میرے نانا نے بھی مجھ سے کہا کہ مجھے گھر جانا چاہیے اِس لیے مَیں چلا گیا۔
دسمبر 1945ء میں آنگات کے قصبے سے کچھ یہوواہ کے گواہ ہمارے گاؤں میں مُنادی کرنے کے لیے آئے۔ ایک عمررسیدہ یہوواہ کا گواہ ہمارے گھر آیا اور ہمیں بتایا کہ بائبل میں ”آخری زمانے“ کے بارے میں کیا لکھا ہے۔ (2-تیمُتھیُس 3:1-5) اُس نے ہمیں ایک قریبی گاؤں میں بائبل کورس کے لیے آنے کی دعوت دی۔ میرے امی ابو تو وہاں نہیں گئے لیکن مَیں چلا گیا۔ وہاں تقریباً 20 لوگ موجود تھے اور اُن میں سے کچھ نے بائبل کے بارے میں سوال بھی پوچھے۔
مجھے اُن لوگوں کی کچھ باتوں کی سمجھ نہیں آئی اِس لیے مَیں نے سوچا کہ مجھے وہاں سے چلے جانا چاہیے۔ لیکن پھر اُنہوں نے ایک گیت گانا شروع کر دیا۔ مجھے وہ گیت بہت پسند آیا اِس لیے مَیں وہاں رُک گیا۔ گیت اور دُعا کے بعد ہم سب کو اگلے اِتوار آنگات میں ایک اِجلاس میں آنے کی دعوت دی گئی۔
وہ اِجلاس کروس نامی بھائی کے گھر پر ہوا۔ ہم میں سے کچھ کو وہاں پہنچنے کے لیے 8 کلومیٹر (5 میل) پیدل چلنا پڑا۔ اُس اِجلاس میں تقریباً 50 لوگ حاضر تھے۔ مَیں یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوا کہ چھوٹے بچوں نے بھی بائبل کی گہری باتوں کے بارے میں سوالوں کے جواب دیے۔ اِس کے بعد میں کئی ہفتوں تک اِجلاسوں میں جاتا رہا۔ پھر ایک مرتبہ دامیان سانتوس نامی عمررسیدہ بھائی نے جو پہلکار تھے، مجھے اپنے گھر رُکنے کے لیے کہا۔ ہم نے اُس رات زیادہتر وقت بائبل کے بارے میں باتچیت کی۔
اُس وقت لوگوں کا بپتسمہ بائبل کی چند بنیادی سچائیاں سیکھنے کے بعد ہی ہو جاتا تھا۔ مَیں بھی جب کچھ عرصے تک اِجلاسوں میں جاتا رہا تو بھائیوں نے مجھ سے اور کچھ اَور لوگوں سے پوچھا: ”کیا آپ بپتسمہ لینا چاہتے ہیں؟“ مَیں نے کہا: ”جی ہاں، مَیں لینا چاہتا ہوں۔“ میری خواہش تھی کہ مَیں ”ہمارے مالک یعنی مسیح کی غلامی“ کروں۔ (کُلسّیوں 3:24) پھر ہم ایک قریبی دریا پر گئے اور مَیں نے اور میرے ساتھ ایک اَور شخص نے بپتسمہ لیا۔ وہ 15 فروری 1946ء کا دن تھا۔
مَیں جانتا تھا کہ بپتسمہیافتہ مسیحیوں کو یسوع مسیح کی طرح باقاعدگی سے مُنادی کرنی چاہیے۔ لیکن میرے ابو سوچتے تھے کہ ابھی میری عمر بہت کم ہے اِس لیے مَیں مُنادی نہیں کر سکتا۔ اُنہیں یہ بھی لگتا تھا کہ بپتسمہ لے کر مَیں مُنادی کرنے کے لائق نہیں بن گیا ہوں۔ مَیں نے اُنہیں بتایا کہ یہ خدا کی مرضی ہے کہ ہم لوگوں کو بادشاہت کی خوشخبری کی مُنادی کریں۔ (متی 24:14) مَیں نے اُن سے یہ بھی کہا کہ مجھے خدا سے کِیا اپنا وعدہ پورا کرنا ہے۔ تبھی میرے ابو نے مجھے وہ دھمکی دی جس کا مَیں نے مضمون کے شروع میں ذکر کِیا ہے۔ اُنہوں نے یہ ٹھان لیا تھا کہ وہ مجھے مُنادی کرنے سے روک کر رہیں گے۔ یہ پہلا موقع تھا جب مَیں نے یہوواہ کی خدمت کرنے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا۔
بھائی کروس اور اُن کے گھر والوں نے مجھے آنگات میں اپنے ساتھ رہنے کی دعوت دی۔ اُنہوں نے میری اور اپنی سب سے چھوٹی بیٹی نوَرا کی حوصلہافزائی کی کہ ہم پہلکار بنیں۔ ہم دونوں نے 1 نومبر 1947ء کو پہلکار کے طور پر خدمت شروع کی۔ نوَرا پہلکار بن کر ایک دوسرے قصبے میں چلی گئیں جبکہ مَیں آنگات میں ہی رہا۔
مسیح کی پیروی میں سب کچھ چھوڑنے کا ایک اَور موقع
جب مجھے پہلکار کے طور پر خدمت کرتے ہوئے دو سال ہو چُکے تھے تو بیتایل سے ارل سٹیوورٹ نامی بھائی آنگات آئے اور ایک عوامی چوک میں 500 لوگوں کے سامنے تقریر کی۔ اُنہوں نے انگریزی میں تقریر کی اور پھر مَیں نے ٹاگالوگ زبان میں اِس تقریر کا خلاصہ پیش کِیا۔ یہ وہ پہلی تقریر تھی جس کا مَیں نے ترجمہ کِیا۔ اِس کے بعد آنے والے سالوں کے دوران مَیں نے اَور بھی بہت سی تقریروں کا ترجمہ کِیا۔ حالانکہ مَیں صرف سات سال ہی سکول گیا تھا لیکن پھر بھی مَیں یہ کام کیسے کر پایا؟ دراصل سکول میں میرے اُستاد اکثر انگریزی میں بات کِیا کرتے تھے۔ اِس کے علاوہ مَیں نے ہماری بہت سی مطبوعات کا انگریزی زبان میں مطالعہ کِیا کیونکہ اُس وقت ٹاگالوگ زبان میں زیادہ مطبوعات دستیاب نہیں تھیں۔ یوں مجھے انگریزی زبان کی اِتنی سمجھ آنے لگی کہ مَیں تقریروں کا ترجمہ کر سکوں۔
بھائی ارل نے مقامی کلیسیا کو بتایا کہ مشنری امریکہ کے شہر نیو یارک میں منعقد ہونے والے اِجتماع میں شرکت کرنے جا رہے ہیں۔ اِس وجہ سے برانچ چاہتی تھی کہ کچھ پہلکار بھائی بیتایل میں خدمت کرنے آئیں۔ مَیں اُن بھائیوں میں سے ایک تھا جنہیں بیتایل میں خدمت کرنے کے لیے بلایا گیا۔ ایک مرتبہ پھر مَیں نے خدا کی خدمت کرنے کے لیے اُس جگہ کو اور اُن لوگوں کو چھوڑ دیا جن سے مَیں واقف تھا۔
مَیں 19 جون 1950ء کو بیتایل میں آیا۔ بیتایل ایک ہیکٹر (ڈھائی ایکڑ) پر بنے ایک بڑے اور پُرانے گھر میں موجود تھا۔ اِس گھر کے گِرد بڑے بڑے درخت تھے۔ بیتایل میں تقریباً 12 غیرشادیشُدہ بھائی خدمت کر رہے تھے۔ مَیں صبح کے وقت باورچیخانے میں کام کرتا اور پھر نو بجے کے بعد لانڈری میں کپڑے اِستری کرتا۔ دوپہر میں بھی مَیں یہی دونوں کام کرتا۔ مشنریوں کے اِجتماع سے واپس آنے کے بعد بھی مَیں بیتایل میں ہی رہا۔ بھائی مجھے جو بھی کام کرنے کو کہتے، مَیں خوشی سے کرتا۔ مَیں رسالوں کی پیکنگ کرتا، اُن لوگوں کو ہمارے رسالے بھیجتا جو اِن کے لیے درخواست دیتے اور ریسیپشن پر کام کرتا۔
گلئیڈ سکول سے تربیت پانے کا موقع
سن 1952ء میں مجھے اور فلپائن سے چھ اَور بھائیوں کو گلئیڈ سکول کی 20ویں کلاس سے تربیت پانے کی دعوت دی گئی۔ اِس دعوت کے بارے میں سُن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ جب ہم امریکہ میں تھے تو ہمارے لیے بہت کچھ نیا تھا۔ وہاں کی زندگی اُس چھوٹے سے گاؤں کی زندگی سے بہت فرق تھی جس میں مَیں بڑا ہوا تھا۔
مَیں اور میرے ساتھ گلئیڈ سکول سے تربیت پانے والے کچھ بھائی
مثال کے طور پر ہمیں ایسی مشینوں اور چیزوں کو اِستعمال کرنا سیکھنا پڑا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ اِس کے علاوہ امریکہ کا موسم بھی بالکل فرق تھا۔ ایک صبح جب مَیں اُٹھا تو مَیں نے دیکھا کہ ہر چیز پر ایک سفید چادر سی پڑی ہے۔ اُس وقت مَیں نے پہلی دفعہ برف دیکھی۔ وہ نظارہ تو بڑا خوبصورت تھا لیکن پھر مجھے محسوس ہونے لگا کہ باہر بہت زیادہ سردی ہے۔
مَیں نے گلئیڈ سکول سے جو تربیت حاصل کی، وہ اِتنی شاندار تھی کہ اِس کے مقابلے میں وہ تبدیلیاں کچھ بھی نہیں تھیں جو مجھے کرنی پڑیں۔ ہمارے اُستادوں کا سکھانے کا طریقہ بہت اچھا تھا۔ اُنہوں نے ہمیں گہرائی سے بائبل کا مطالعہ کرنا اور تحقیق کرنی سکھائی۔ گلئیڈ سکول سے ملنے والی تربیت کی بدولت یہوواہ خدا کے ساتھ میری دوستی اَور مضبوط ہو گئی۔
جب مَیں نے گلئیڈ سکول سے تربیت حاصل کر لی تو مجھے عارضی طور پر خصوصی پہلکار بنا کر شہر نیو یارک کے علاقے برونکس بھیج دیا گیا۔ اِس وجہ سے مجھے جولائی 1953ء میں برونکس میں منعقد ہونے والے اِجتماع میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ اِجتماع کے بعد مجھے واپس فلپائن بھیج دیا گیا۔
مَیں نے شہر کی آسائشوں کو چھوڑ دیا
بیتایل کے بھائیوں نے مجھ سے کہا کہ مَیں حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کروں۔ یوں مجھے یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرنے کا اَور بھی زیادہ موقع ملا جو یہوواہ کی بھیڑوں کی مدد کرنے کے لیے دُوردراز قصبوں اور شہروں کا سفر کرتے تھے۔ (1-پطرس 2:21) میرے حلقے کے تحت وسطی لوزون کا ایک وسیع علاقہ آتا تھا جو کہ فلپائن کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ جن صوبوں میں مَیں حلقے کا دورہ کرنے جاتا تھا، اُن میں بولاکان، نوئوا اِسیہا، تارلاک اور زامبالیس کے صوبے شامل تھے۔ کچھ قصبوں میں جانے کے لیے تو مجھے سیرا مادرے کے پتھریلے پہاڑوں کو عبور کرنا پڑتا۔ اُن علاقوں تک کوئی ٹرین یا بس وغیرہ نہیں جاتی تھی۔ اِس لیے مَیں ٹرک ڈرائیوروں سے درخواست کرتا کہ وہ مجھے لکڑی کے اُن لٹھوں پر بیٹھنے کی اِجازت دے دیں جو وہ اپنے ٹرک میں لے جا رہے ہوتے تھے۔ عموماً ڈرائیور مجھے اِجازت دے دیتے تھے۔ لیکن اِن لٹھوں پر سفر کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
اُس وقت زیادہتر کلیسیائیں نئی اور چھوٹی تھیں۔ اِس لیے جب مَیں اِن کلیسیاؤں کے بھائیوں کو اِجلاسوں اور مُنادی کے کام کو اَور اچھی طرح منظم کرنا سکھاتا تو وہ میرے بہت شکرگزار ہوتے۔
بعد میں مجھے ایک دوسرے حلقے میں بھیج دیا گیا جس کے تحت بیکول کا سارا علاقہ آتا تھا۔ اُس علاقے میں دُوردراز جگہوں پر بہت سے چھوٹے چھوٹے گروپ تھے۔ اِن گروپوں میں خدمت کرنے والے خصوصی پہلکار ایسے علاقوں میں مُنادی کا کام کرتے تھے جہاں یہوواہ کے گواہ پہلے کبھی نہیں گئے تھے۔ ایک گھر میں تو ٹائلٹ کی حالت کچھ یوں تھی کہ ایک گڑھا کھودا ہوا تھا اور اِس کے اُوپر لکڑی کے دو لٹھے رکھے ہوئے تھے۔ جب مَیں نے اِن لٹھوں پر پاؤں رکھے تو وہ گڑھے میں گِر گئے اور ساتھ مجھے بھی لے گئے۔ اِس کے بعد مجھے خود کو صاف کرنے اور تیار ہونے میں کافی وقت لگا۔
جب مَیں بیکول کے علاقے میں خدمت کر رہا تھا تو مَیں نوَرا سے شادی کرنے کے بارے میں سوچنے لگا جنہوں نے میرے ساتھ ہی پہلکار کے طور پر خدمت شروع کی تھی۔ اُس وقت وہ شہر دوماگویتی میں خصوصی پہلکار تھیں اور مَیں وہاں اُن سے ملنے گیا۔ اِس کے بعد ہم نے کچھ عرصے تک ایک دوسرے کو خط لکھے اور پھر 1956ء میں ہم نے شادی کر لی۔ ہم نے اپنی شادی کے بعد پہلا ہفتہ راپو راپو نامی جزیرے پر ایک کلیسیا کا دورہ کرنے میں گزارا۔ وہاں ہمیں پہاڑ چڑھنے پڑے اور بہت زیادہ پیدل سفر کرنا پڑا۔ لیکن ہمیں اِس بات کی خوشی تھی کہ ہم مل کر دُوردراز علاقوں میں رہنے والے بہن بھائیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
بیتایل میں دوبارہ خدمت کرنے کی دعوت
جب ہمیں کلیسیاؤں کا دورہ کرتے ہوئے تقریباً چار سال ہو چُکے تھے تو ہمیں بیتایل میں خدمت کرنے کی دعوت دی گئی۔ ہم نے جنوری 1960ء میں بیتایل میں خدمت شروع کی۔ بیتایل میں کئی سال خدمت کے دوران مَیں نے اُن بھائیوں کے ساتھ کام کرنے سے بہت کچھ سیکھا ہے جو یہوواہ کی تنظیم میں بھاری ذمےداریاں رکھتے ہیں۔ نوَرا کو بھی بیتایل میں مختلف شعبوں میں خدمت کرنے سے بڑی خوشی ملی ہے۔
مَیں ایک اِجتماع پر تقریر کر رہا ہوں اور ایک بھائی سیبوآنو زبان میں ترجمہ کر رہا ہے۔
ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ فلپائن میں زیادہ سے زیادہ لوگ یہوواہ کی خدمت میں حصہ لے رہے ہیں۔ جب مَیں اکیلا بیتایل آیا تھا تو اُس وقت پورے ملک میں تقریباً 10 ہزار مبشر تھے۔ لیکن اب مبشروں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ اِن میں سے سینکڑوں بہن بھائی مُنادی کے کام کو فروغ دینے کے لیے بیتایل میں خدمت کر رہے ہیں۔
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، بیتایل کی جگہ چھوٹی پڑنے لگی۔ پھر گورننگ باڈی نے ہمیں کہا کہ ہم کوئی جگہ دیکھیں جس پر ہم ایک بڑی برانچ تعمیر کر سکیں۔ اِس پر مَیں اور چھپائی کے شعبے کی نگرانی کرنے والا بھائی بیتایل کے آس پڑوس کے گھروں میں گئے جن میں بہت سے چینی لوگ رہتے تھے۔ ہم نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی جگہ بیچنا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ایک جگہ کے مالک نے تو ہمیں یہ بھی کہا: ”ہم چینی لوگ جگہ بیچتے نہیں، خریدتے ہیں۔“
مَیں بھائی البرٹ شروڈر کی تقریر کا ترجمہ کرتے ہوئے
لیکن ایک دن کچھ ایسا ہونا شروع ہو گیا جس کی ہمیں توقع بھی نہیں تھی۔ ہمارے پڑوس میں رہنے والا ایک شخص امریکہ منتقل ہو رہا تھا اِس لیے اُس نے ہم سے پوچھا کہ کیا ہم اُس کی جگہ خریدنا چاہتے ہیں۔ پھر ایک اَور شخص نے اپنی جگہ بیچنے کا فیصلہ کِیا اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کے لیے کہا۔ یہاں تک کہ اُس شخص نے بھی ہمیں اپنی جگہ بیچ دی جس نے ہم سے کہا تھا کہ چینی لوگ جگہ نہیں بیچتے۔ پھر کچھ ہی عرصے میں ہمارے پاس پہلے کی نسبت تین گُنا زیادہ جگہ ہو گئی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ سب یہوواہ کی مرضی سے ہی ہوا تھا۔
سن 1950ء میں بیتایل میں خدمت کرنے والوں میں میری عمر سب سے کم تھی۔ لیکن اب میری اور میری بیوی کی عمر اُن سب سے زیادہ ہے جو بیتایل میں خدمت کر رہے ہیں۔ مجھے اِس بات پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے کہ مَیں ہمارے مالک کے پیچھے پیچھے چلا ہوں اور ہر وہ کام کِیا ہے جو اُس نے مجھے دیا ہے۔ حالانکہ میرے والدین نے مجھے گھر سے نکال دیا تھا لیکن یہوواہ نے مجھے ایک بڑے خاندان کا حصہ بنایا ہے جس کے افراد اُس سے محبت کرتے ہیں۔ مجھے اِس بات پر رَتی بھر بھی شک نہیں کہ چاہے ہم جہاں بھی یہوواہ کی خدمت کریں، وہ ہماری ہر ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ مَیں اور نوَرا یہوواہ کی ساری مہربانیوں کے لیے اُس کے بےحد شکرگزار ہیں۔ ہم دوسروں کی بھی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ وہ آزما کر دیکھیں کہ یہوواہ اپنے بندوں پر کتنی برکتیں نچھاور کرتا ہے۔—ملاکی 3:10۔
یسوع مسیح نے ایک مرتبہ متی لاوی نامی ٹیکس لینے والے شخص کو اپنا پیروکار بننے کی دعوت دی۔ اِس پر متی ”اُٹھے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔“ (لُوقا 5:27، 28) مجھے بھی یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑنے کا موقع ملا اور مَیں دوسروں کی حوصلہافزائی کرتا ہوں کہ وہ بھی یسوع کے پیچھے پیچھے چلیں اور ڈھیروں برکتیں پائیں۔
مجھے اب بھی فلپائن میں خدمت کرنے سے بڑی خوشی مل رہی ہے۔