جنگ کے خوفناک اثرات
ایسی کچھ ہی چیزیں ہیں جن کا اِنسان کی زندگی پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ اِن میں سے ایک جنگیں اور لڑائیاں ہیں۔ جن فوجیوں اور شہریوں کو اِن کا سامنا ہوا ہے، اُنہیں پتہ ہے کہ اِن کا اثر کتنا خوفناک ہوتا ہے۔
فوجی
”آپ کے آسپاس بہت سی دل دہلا دینے والی چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ لوگ شدید زخمی ہو رہے ہوتے ہیں؛ مر رہے ہوتے ہیں۔ آپ ہر وقت اِس خوف میں ہوتے ہیں کہ پتہ نہیں آگے کیا ہوگا۔“—گیری، برطانیہ۔
”میری کمر اور چہرے پر گولیاں لگیں۔ مَیں نے بہت سے لوگوں کو مرتے دیکھا جن میں بچے اور بوڑھے بھی تھے۔ جنگ میں اِتنا کچھ دیکھنے کے بعد آپ بےحس سے ہو جاتے ہیں؛ آپ کو موت اور تکلیف سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔“—وِلمر، کولمبیا۔
”جب کسی کو آپ کے سامنے گولی ماری جاتی ہے تو وہ منظر ہمیشہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہی رہتا ہے۔ ہمارے کانوں میں اُس شخص کی کراہنے کی آواز مسلسل سنائی دیتی ہے۔ آپ اُسے کبھی بھول نہیں پاتے۔“—ضفیرا، ریاستہائے متحدہ امریکہ۔
شہری
”مجھے لگتا تھا کہ مَیں اب کبھی خوش نہیں رہ پاؤں گی۔ جنگ کے دوران آپ کو ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ آپ کی جان کبھی بھی جا سکتی ہے۔ لیکن اپنی جان سے زیادہ آپ کو اپنے گھر والوں اور دوستوں کی جان کی فکر رہتی ہے۔“—اولیکساندرا، یوکرین۔
”وہ وقت بہت خوفناک ہوتا ہے جب آپ کو رات 2 بجے سے لے کر اگلی رات 11 بجے تک کھانے کی لائن میں لگنا پڑتا ہے اور آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ آپ کو اچانک کہیں سے بھی گولی لگ سکتی ہے۔“—دلیر، تاجکستان۔
”جنگ نے میرے ماں باپ کو مجھ سے چھین لیا۔ مَیں یتیم ہو گئی اور میری دیکھبھال کرنے والا اور مجھے تسلی دینے والا کوئی نہیں تھا۔“—مَیری، روانڈا۔
جن لوگوں کا اُوپر ذکر ہوا ہے، اُنہیں جنگ کے خوفناک اثرات کے باوجود سکون اور اِطمینان ملا ہے۔ سب سے بڑھ کر اُنہیں اِس بات کا یقین ہے کہ بہت جلد جنگیں اور لڑائیاں ختم ہو جائیں گی۔ ”مینارِنگہبانی“ کے اِس شمارے میں اِس بات کی وضاحت کی جائے گی کہ یہ کیسے ہوگا۔