یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م21 مارچ ص.‏ 14-‏19
  • بائبل کے مطالعے سے حوصلہ کیسے حاصل کریں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بائبل کے مطالعے سے حوصلہ کیسے حاصل کریں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • آپ بادشاہ داؤد سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏
  • آپ پولُس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏
  • بائبل میں ذکرکردہ خدا کے دیگر بندوں سے سیکھیں
  • خدا پر بھروسا رکھنے سے اطمینان حاصل کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • یہوواہ خدا نے ماضی میں اپنے خادموں کو چھڑایا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • ‏”‏جب مَیں کمزور ہوتا ہوں تب مَیں طاقت‌ور ہوتا ہوں“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • ‏”‏مجھے سکھا کہ تیری مرضی پر چلوں“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
م21 مارچ ص.‏ 14-‏19

مطالعے کا مضمون نمبر 11

بائبل کے مطالعے سے حوصلہ کیسے حاصل کریں؟‏

‏”‏خدا .‏ .‏ .‏ ثابت‌قدم رہنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔“‏‏—‏روم 15:‏5‏۔‏

گیت نمبر 94‏:‏ پاک کلام کے لیے شکرگزار

مضمون پر ایک نظرa

1.‏ یہوواہ کے بندوں کو کس طرح کی مشکلوں کا سامنا ہو سکتا ہے؟‏

کیا آپ کسی کٹھن صورتحال سے گزر رہے ہیں؟ شاید کلیسیا میں کسی بہن یا بھائی نے آپ کا دل دُکھایا ہے۔ (‏یعقو 3:‏2‏)‏ یا شاید آپ کے ہم‌جماعت یا ملازمت کی جگہ پر کام کرنے والے آپ کا اِس وجہ سے مذاق اُڑاتے ہیں کیونکہ آپ یہوواہ کے گواہ ہیں۔ (‏1-‏پطر 4:‏3، 4‏)‏ یا پھر ہو سکتا ہے کہ آپ کے گھر والے آپ کو اِجلاسوں پر جانے اور دوسروں سے اپنے ایمان کے بارے میں بات کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (‏متی 10:‏35، 36‏)‏ اگر کسی مشکل کی وجہ سے آپ کو بہت تکلیف پہنچ رہی ہے تو شاید آپ کے دل میں یہ خیال آئے کہ یہوواہ کی خدمت کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ لیکن یقین رکھیں کہ چاہے آپ کو کتنی ہی کٹھن مشکل کا سامنا کیوں نہ ہو، یہوواہ آپ کو اِس سے نمٹنے کے لیے دانش‌مندی دے سکتا ہے اور ثابت‌قدم رہنے کی طاقت عطا کر سکتا ہے۔‏

ہم اُس صورت میں کیا کر سکتے ہیں جب ہم کسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاک کلام سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں؟‏

  1. ایک بہن بائبل پڑھنے سے پہلے دُعا کر رہی ہے۔‏

    1.‏ دُعا کریں

    بائبل پڑھنے سے پہلے یہوواہ سے یہ دُعا کریں کہ وہ آپ کی مدد کرے کہ آپ اُن باتوں سے فائدہ حاصل کر سکیں جو آپ پڑھنے والے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 3 کو دیکھیں۔)‏

  2. وہی بہن یہ تصور کر رہی ہے کہ جب پولُس رسول زنجیروں میں بندھے خط لکھ رہے تھے تو وہ کیسا محسوس کر رہے ہوں گے۔‏

    2.‏ تصور کریں

    آپ بائبل میں جس کردار کے بارے میں پڑھ رہے ہیں، خود کو اُس کی جگہ پر رکھیں۔ (‏پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)‏

  3. وہی بہن اُن باتوں پر سوچ بچار کر رہی ہے جو اُس نے بائبل میں پڑھی ہیں۔ وہ کتاب ”‏”‏بیئرنگ تھورو وٹنس“‏ اباؤٹ گاڈز کنگڈم“‏ کو بھی ساتھ دیکھ رہی ہے۔‏

    3.‏ سوچ بچار کریں

    جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں، اُس پر غور کریں اور دیکھیں کہ یہ بات آپ کی صورتحال پر کیسے لاگو ہوتی ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)‏

  4. وہی بہن پارک میں بینچ پر بیٹھ کر ایک عورت کو پاک کلام کا پیغام دے رہی ہے۔‏

    4.‏ عمل کریں

    بائبل میں لکھی ہوئی باتوں پر عمل کریں تاکہ آپ اچھے فیصلے کر پائیں، آپ کو اَور زیادہ اِطمینان حاصل ہو اور آپ کا ایمان اَور مضبوط ہو۔ (‏پیراگراف نمبر 6 کو دیکھیں۔)‏

2.‏ رومیوں 15:‏4 کے مطابق خدا کے کلام کو پڑھنے سے ہمیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟‏

2 یہوواہ نے اپنے کلام میں بتایا کہ اُس کے عیب‌دار بندے مشکلوں سے نمٹنے کے قابل کیسے ہوئے۔ اُس نے یہ معلومات اپنے کلام میں کیوں لکھوائی ہیں؟ تاکہ ہم اِن سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ یہی بات لکھنے کی ترغیب اُس نے پولُس رسول کو دی۔ ‏(‏رومیوں 15:‏4 کو پڑھیں۔)‏ بائبل میں ذکرکردہ خدا کے بندوں کی زندگی پر غور کرنے سے ہمیں کافی حوصلہ اور تسلی ملتی ہے۔ لیکن اگر ہم خدا کے اِن بندوں کی مثال سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو صرف بائبل کو پڑھنا ہی کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں پاک کلام میں لکھی باتوں کو اپنی سوچ اور دل پر بھی اثر کرنے دینا ہوگا۔ لیکن ہم اُس صورت میں کیا کر سکتے ہیں جب ہم کسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاک کلام سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ہم یہ چار قدم اُٹھا سکتے ہیں:‏ ‏(‏1)‏ ہم دُعا کر سکتے ہیں، (‏2)‏ منظر کو تصور کی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں، (‏3)‏ سوچ بچار کر سکتے ہیں اور ‏(‏4)‏ پڑھی ہوئی باتوں پر عمل کر سکتے ہیں۔‏ آئیں، دیکھیں کہ یہ چار قدم اُٹھانے میں کیا کچھ شامل ہے۔‏b پھر اِنہی چار اِقدام کو اُٹھاتے ہوئے ہم بادشاہ داؤد اور پولُس رسول کی زندگی میں ہونے والے کچھ واقعات پر غور کریں گے۔‏

ایک بہن بائبل پڑھنے سے پہلے دُعا کر رہی ہے۔‏

1.‏ دُعا کریں

بائبل پڑھنے سے پہلے یہوواہ سے یہ دُعا کریں کہ وہ آپ کی مدد کرے کہ آپ اُن باتوں سے فائدہ حاصل کر سکیں جو آپ پڑھنے والے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 3 کو دیکھیں۔)‏

3.‏ بائبل کو پڑھنے سے پہلے آپ کو کیا کرنا چاہیے اور کیوں؟‏

3 ‏(‏1)‏ دُعا کریں۔‏ بائبل پڑھنے سے پہلے یہوواہ سے یہ دُعا کریں کہ وہ آپ کی مدد کرے کہ آپ اُن باتوں سے فائدہ حاصل کریں جو آپ پڑھنے والے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں تو یہوواہ سے درخواست کریں کہ وہ بائبل میں ایسے اصول ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کرے جن سے آپ صحیح فیصلہ کر پائیں۔—‏فل 4:‏6، 7؛‏ یعقو 1:‏5‏۔‏

وہی بہن یہ تصور کر رہی ہے کہ جب پولُس رسول زنجیروں میں بندھے خط لکھ رہے تھے تو وہ کیسا محسوس کر رہے ہوں گے۔‏

2.‏ تصور کریں

آپ بائبل میں جس کردار کے بارے میں پڑھ رہے ہیں، خود کو اُس کی جگہ پر رکھیں۔ (‏پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)‏

4.‏ آپ بائبل میں درج واقعات کو پڑھتے وقت کیا کر سکتے ہیں؟‏

4 ‏(‏2)‏ تصور کریں۔‏ یہوواہ خدا نے ہمیں تصور کرنے کی شان‌دار صلاحیت دی ہے۔ بائبل میں درج واقعات کو پڑھتے وقت اِنہیں تصور کی آنکھ سے دیکھیں۔ جس کردار کے بارے میں آپ پڑھ رہے ہیں، خود کو اُس کی جگہ پر رکھیں۔ اُن باتوں کو دیکھیں جو اُس نے دیکھی ہوں گی اور اُن جذبات کو محسوس کریں جو اُس نے محسوس کیے ہوں گے۔‏

وہی بہن اُن باتوں پر سوچ بچار کر رہی ہے جو اُس نے بائبل میں پڑھی ہیں۔ وہ کتاب ”‏”‏بیئرنگ تھورو وٹنس“‏ اباؤٹ گاڈز کنگڈم“‏ کو بھی ساتھ دیکھ رہی ہے

3.‏ سوچ بچار کریں

جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں، اُس پر غور کریں اور دیکھیں کہ یہ بات آپ کی صورتحال پر کیسے لاگو ہوتی ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)‏

5.‏ سوچ بچار کرنے میں کیا کچھ شامل ہے اور آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

5 ‏(‏3)‏ سوچ بچار کریں۔‏ سوچ بچار کرنے میں یہ شامل ہے کہ ہم پڑھی ہوئی باتوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ ہم اِن پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ سوچ بچار کرنے سے ہم کڑیوں کو آپس میں جوڑ پاتے ہیں اور یوں موضوع کو اَور بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اگر ہم بائبل پڑھتے وقت سوچ بچار نہیں کرتے تو یہ ایسے ہے‌جیسے ہم میز پر رکھے پزل کے ٹکڑوں کو دیکھ رہے ہوں لیکن اِنہیں آپس میں جوڑ نہیں رہے اور ہمیں کچھ اندازہ نہیں کہ اصل میں تصویر ہے کیا۔ سوچ بچار پزل کے ٹکڑوں کو جوڑنے کی طرح ہے جس سے ہم پوری تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ آپ سوچ بچار کرنے کے لیے خود سے ایسے سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏اِس واقعے میں خدا کے اِس بندے نے مشکل سے نمٹنے کے لیے کیا کِیا؟ یہوواہ نے اُس کی مدد کیسے کی؟ مَیں نے جو باتیں سیکھی ہیں، اُن کی مدد سے مَیں مشکل وقت میں ثابت‌قدم کیسے رہ سکتا ہوں؟“‏

وہی بہن پارک میں بینچ پر بیٹھ کر ایک عورت کو پاک کلام کا پیغام دے رہی ہے۔‏

4.‏ عمل کریں

بائبل میں لکھی ہوئی باتوں پر عمل کریں تاکہ آپ اچھے فیصلے کر پائیں، آپ کو اَور زیادہ اِطمینان حاصل ہو اور آپ کا ایمان اَور مضبوط ہو۔ (‏پیراگراف نمبر 6 کو دیکھیں۔)‏

6.‏ ہمیں اُن باتوں پر کیوں عمل کرنا چاہیے جو ہم بائبل میں پڑھتے ہیں؟‏

6 ‏(‏4)‏ عمل کریں۔‏ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ اگر ہم اُن باتوں پر عمل نہیں کرتے جو ہم خدا کے کلام میں پڑھتے ہیں تو ہم اُس آدمی کی طرح ہوں گے جس نے ریت پر اپنا گھر بنایا۔ اُس نے ایسا کرنے میں بہت محنت کی لیکن سب فضول گئی۔ کیوں؟ کیونکہ جب بارش برسی، تیز ہوا چلی اور سیلاب آیا تو اُس کا گھر ڈھیر ہو گیا۔ (‏متی 7:‏24-‏27‏)‏ اِسی طرح اگر ہم بائبل کو پڑھنے سے پہلے دُعا کریں گے، واقعات کو پڑھتے وقت اِنہیں تصور کی آنکھ سے دیکھیں گے،اِن پر سوچ بچار کریں گے لیکن پڑھی ہوئی باتوں پر عمل نہیں کریں گے تو ہماری ساری کوششیں بے‌کار جائیں گی۔ کیوں؟ کیونکہ جب اذیت یا مصیبت کی گھڑی میں ہمارا ایمان آزمایا جائے گا تو ہم ٹک نہیں پائیں گے۔ لیکن اگر ہم بائبل میں لکھی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے تو ہم اچھے فیصلے کر پائیں گے، ہمیں اَور زیادہ اِطمینان حاصل ہوگا اور ہمارا ایمان اَور مضبوط ہو جائے گا۔ (‏یسع 48:‏17، 18‏)‏ آئیں، اب جن چار اِقدام پر ہم نے بات کی ہے، اُنہیں اُٹھاتے ہوئے بادشاہ داؤد کی زندگی میں ہونے والے کچھ واقعات پر غور کریں۔‏

آپ بادشاہ داؤد سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

7.‏ اب ہم بائبل میں درج کس واقعے پر غور کریں گے؟‏

7 کیا آپ کے کسی دوست یا گھر کے کسی فرد نے آپ کا بھروسا توڑا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو بادشاہ داؤد کی زندگی کے اُس واقعے سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے جب اُن کے بیٹے ابی‌سلوم نے اُن کے خلاف بغاوت کی اور اُن کے تخت پر قبضہ جمانے کی کوشش کی۔—‏2-‏سمو 15:‏5-‏14،‏ 31؛‏ 18:‏6-‏14‏۔‏

8.‏ یہوواہ سے مدد حاصل کرنے کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

8 ‏(‏1)‏ دُعا کریں۔‏ داؤد کے واقعے کو ذہن میں رکھ کر دُعا میں یہوواہ کو یہ بتائیں کہ آپ کے ساتھ جو بُرا سلوک ہوا ہے، آپ اُس کے بارے میں کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ (‏زبور 6:‏6-‏9‏)‏ اُسے دل کھول کر اپنے احساسات کے بارے میں بتائیں۔ اِس کے بعد اُس سے درخواست کریں کہ وہ ایسے اصولوں کو ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کرے جن سے آپ یہ جان جائیں کہ آپ اپنی مشکل سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔‏

9.‏ داؤد اور ابی‌سلوم کے واقعے کا خلاصہ پیش کریں۔‏

9 ‏(‏2)‏ تصور کریں۔‏ اِس واقعے میں جو کچھ ہوا، اُس کے بارے میں سوچیں اور تصور کریں کہ داؤد کا اِن پر کیا اثر ہوا۔ ذرا اپنے ذہن میں اِس منظر کی تصویر بنائیں:‏ داؤد کا بیٹا ابی‌سلوم سالوں سے لوگوں کا دل جیتنے کی کوشش کر رہا ہے۔ (‏2-‏سمو 15:‏7‏)‏ اب اُسے لگ رہا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اِس لیے اُس نے ملک اِسرائیل میں ہر جگہ اپنے جاسوس بھیجے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو تیار کر سکیں کہ وہ اُسے بادشاہ کے طور پر قبول کریں۔ اُس نے تو داؤد کے ایک قریبی دوست اور مشیر اخیتفل کو بھی اپنی بغاوت میں اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ ابی‌سلوم نے اپنے بادشاہ ہونے کا اِعلان کر دیا ہے اور اب وہ داؤد کو پکڑنے اور مار ڈالنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے جو کہ اِس وقت بہت بیمار ہیں۔ (‏زبور 41:‏1-‏9‏)‏ داؤد کو ابی‌سلوم کی سازش کا پتہ چل گیا ہے اور وہ اپنی جان بچانے کے لیے یروشلیم بھاگ گئے ہیں۔ آخرکار ابی‌سلوم کی فوج داؤد کے وفادار ساتھیوں سے جنگ لڑ رہی ہے۔ باغیوں کو بُری طرح سے شکست ہوئی ہے اور داؤد کا بیٹا ابی‌سلوم مارا گیا ہے۔‏

10.‏ مشکل گھڑی میں داؤد کن باتوں کے بارے سوچ سکتے تھے یا کیا کچھ کر سکتے تھے؟‏

10 اب ذرا تصور کریں کہ جب داؤد کے ساتھ یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو وہ کیسا محسوس کر رہے ہوں گے۔وہ اپنے بیٹے ابی‌سلوم سے بہت پیار کرتے تھے اور اپنے دوست اخیتفل پر آنکھیں بند کر کے بھروسا کرتے تھے۔ لیکن اُن دونوں نے ہی اُن کی پیٹھ پر وار کِیا۔ اُنہوں نے داؤد کو سخت ٹھیس پہنچائی، یہاں تک کہ اُن کی جان لینے کی بھی کوشش کی۔ ذرا سوچیں کہ اِس مشکل گھڑی میں داؤد کن باتوں کے بارے سوچ سکتے تھے یا کیا کچھ کر سکتے تھے۔ اِن دونوں کی غداری کی وجہ سے داؤد اپنے دوسرے دوستوں پر بھروسا کرنا چھوڑ سکتے تھے۔ وہ یہ سوچ سکتے تھے کہ اُن کے باقی دوست بھی ابی‌سلوم کی سازش میں اُن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اِس کے علاوہ داؤد صرف اپنے بارے میں سوچ سکتے تھے اور اکیلے ہی ملک سے فرار ہو سکتے تھے۔ اِس کٹھن صورتحال میں وہ مایوسی کا شکار ہو کر ہاتھ پیر چھوڑ سکتے تھے۔ لیکن داؤد نے ایسا کچھ بھی نہیں کِیا۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے مشکل کا ڈٹ کر سامنا کِیا۔ وہ ایسا کرنے کے قابل کیسے ہوئے؟‏

11.‏ داؤد نے مشکل صورتحال میں کیا کِیا؟‏

11 ‏(‏3)‏ سوچ بچار کریں۔‏ اِس واقعے سے آپ کون سے اصول سیکھ سکتے ہیں؟ خود سے یہ سوال پوچھیں:‏ ”‏داؤد نے مشکل وقت میں کیا کِیا؟“‏ وہ گھبرائے نہیں اور نہ ہی اُنہوں نے جلدبازی میں آ کر کوئی غلط فیصلہ کِیا۔ وہ خوف اور پریشانی میں اِس قدر مبتلا نہیں ہو گئے کہ اُن کے دماغ نے کام کرنا ہی بند کر دیا۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے مدد کے لیے یہوواہ سے دُعا کی اور اپنے دوستوں سے بھی مدد مانگی۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے جو فیصلے کیے، اُن پر فوراً عمل بھی کِیا۔ حالانکہ اُن کا دل بُری طرح سے ٹوٹ گیا تھا لیکن وہ تلخ نہیں ہوئے اور نہ ہی اُنہوں نے دوسروں کو شک کی نظر سے دیکھا۔ وہ یہوواہ اور اپنے دوستوں پر آئندہ بھی بھروسا کرتے رہے۔‏

12.‏ یہوواہ نے داؤد کی مدد کیسے کی؟‏

12 یہوواہ نے داؤد کی مدد کیسے کی؟ تحقیق کرنے سے آپ کو پتہ چلے گا کہ یہوواہ نے داؤد کو طاقت دی جس کی بدولت وہ مشکل صورتحال میں ثابت‌قدم رہنے کے قابل ہوئے۔ (‏زبور 3:‏1-‏8‏؛ تمہید)‏ اُس نے داؤد کے فیصلوں پر بھی برکت ڈالی۔ اِس کے علاوہ اُس نے داؤد کے اُن وفادار دوستوں کا اُس وقت ساتھ دیا جب وہ اپنے بادشاہ داؤد کو بچانے کے لیے دُشمنوں سے لڑے۔‏

13.‏ جب کوئی شخص آپ کے دل کو ٹھیس پہنچاتا ہے تو آپ داؤد کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ (‏متی 18:‏15-‏17‏)‏

13 ‏(‏4)‏ عمل کریں۔‏ خود سے پوچھیں:‏ ”‏مَیں داؤد کی مثال پر کیسے عمل کر سکتا ہوں؟“‏ آپ کو مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری قدم اُٹھانا چاہیے۔ صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ یسوع مسیح کی اُس ہدایت کے مطابق قدم اُٹھا سکتے ہیں جو اُنہوں نے متی 18 باب میں دی۔ ‏(‏متی 18:‏15-‏17 کو پڑھیں۔)‏ لیکن آپ کو جذبات کی رَو میں بہہ کر جلدبازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کو یہوواہ سے یہ دُعا کرنی چاہیے کہ وہ آپ کو پُرسکون دل اور معاملے سے نمٹنے کے لیے دانش‌مندی دے۔ کبھی بھی اپنے دوستوں سے اپنا بھروسا نہ اُٹھنے دیں۔ اِس کی بجائے اُن کی طرف سے ملنے والی مدد کو قبول کریں۔ (‏امثا 17:‏17‏)‏ سب سے بڑھ کر اُن ہدایتوں پر عمل کریں جو یہوواہ اپنے کلام کے ذریعے آپ کو دیتا ہے۔—‏امثا 3:‏5، 6‏۔‏

آپ پولُس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

14.‏ کن صورتحال میں 2-‏تیمُتھیُس 1:‏12-‏16؛‏ 4:‏6-‏11،‏ 17-‏22 پر غور کرنے سے آپ کا حوصلہ بڑھ سکتا ہے؟‏

14 کیا آپ کو اپنے گھر والوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟ یا کیا آپ ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہماری عبادت سے تعلق رکھنے والے کچھ کاموں یا تمام کاموں پر پابندی لگی ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو 2-‏تیمُتھیُس 1:‏12-‏16؛‏ 4:‏6-‏11،‏ 17-‏22 سے حوصلہ مل سکتا ہے۔‏c پولُس نے اِن آیتوں کو تب لکھا جب وہ قید تھے۔‏

15.‏ آپ یہوواہ سے کس بات کی درخواست کر سکتے ہیں؟‏

15 ‏(‏1)‏ دُعا کریں۔‏ اِن آیتوں کو پڑھنے سے پہلے یہوواہ کو بتائیں کہ آپ کس مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں اور آپ اِس کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔ کُھل کر یہوواہ کو ایک ایک بات بتائیں۔ پھر اُس سے درخواست کریں کہ وہ اِن آیتوں میں ایسے اصول تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرے جن سے آپ یہ جان جائیں کہ آپ اپنی مشکل سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔‏

16.‏ پولُس کے ساتھ جو کچھ ہوا، اِس کا خلاصہ پیش کریں۔‏

16 ‏(‏2)‏ تصور کریں۔‏ خود کو پولُس کی جگہ پر رکھیں۔ وہ روم میں قید ہیں اور زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں۔ وہ پہلے بھی قید میں رہ چُکے ہیں لیکن اِس بار اُنہیں پکا یقین ہے کہ اُنہیں قتل کر دیا جائے گا۔ اُن کے کچھ دوستوں نے اُن کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور وہ بالکل تھک کر نڈھال ہو گئے ہیں۔—‏2-‏تیم 1:‏15

17.‏ پولُس کیا کر سکتے تھے؟‏

17 پولُس چاہتے تو اپنا دھیان ماضی پر رکھ سکتے تھے اور یہ سوچ سکتے تھے کہ کاش اُنہوں نے ایسے فیصلے کیے ہوتے جن کی وجہ سے وہ قید میں جانے سے بچ جاتے۔ اِس کے علاوہ وہ صوبہ آسیہ میں رہنے والے آدمیوں سے خفا ہو سکتے تھے جنہوں نے اُنہیں چھوڑ دیا تھا اور وہ اپنے دوسرے دوستوں پر بھی اپنا یقین کھو سکتے تھے۔ لیکن پولُس نے ایسا کچھ نہیں کِیا۔ پولُس کو اِس بات پر اِتنا پکا یقین کیوں تھا کہ اُن کے دوست ابھی بھی اُن کے وفادار ہیں اور یہوواہ اُنہیں اجر دے گا؟‏

18.‏ پولُس نے مشکل صورتحال میں کیا کِیا؟‏

18 ‏(‏3)‏ سوچ بچار کریں۔‏ خود سے یہ سوال پوچھیں:‏ ”‏پولُس نے مشکل وقت میں کیا کِیا؟“‏ حالانکہ پولُس کی موت اُن کے سر پر منڈلا رہی تھی لیکن وہ یہ بالکل نہیں بھولے کہ یہوواہ کی بڑائی کرنا سب سے اہم بات ہے۔ وہ اِس بارے میں بھی سوچتے رہے کہ وہ دوسروں کی حوصلہ‌افزائی کیسے کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے باقاعدگی سے یہوواہ سے دُعا کرنے سے اُس پر بھروسا ظاہر کِیا۔ (‏2-‏تیم 1:‏3‏)‏ وہ اُن لوگوں کے بارے میں حد سے زیادہ نہیں سوچتے رہے جنہوں نے اُن کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اِس کی بجائے وہ دل سے اپنے اُن دوستوں کے شکرگزار تھے جنہوں نے مشکل گھڑی میں اُن کی عملی طریقوں سے مدد کی۔ اِس کے علاوہ پولُس خدا کے کلام کا مطالعہ بھی کرتے رہے۔ (‏2-‏تیم 3:‏16، 17؛‏ 4:‏13‏)‏ سب سے بڑھ کر اُنہیں اِس بات پر پکا یقین تھا کہ یہوواہ اور یسوع اُن سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اُنہیں پورا اِعتماد تھا کہ یہوواہ اور یسوع نے اُنہیں نہیں چھوڑا اور وہ اُنہیں ضرور اُن کی وفاداری کا اجر دیں گے۔‏

19.‏ یہوواہ نے پولُس کی مدد کیسے کی؟‏

19 یہوواہ نے پولُس کو آگاہ کِیا تھا کہ مسیح کا پیروکار بننے کی وجہ سے اُنہیں بہت اذیت دی جائے گی۔ (‏اعما 21:‏11-‏13‏)‏ یہوواہ نے پولُس کی مدد کیسے کی؟ اُس نے پولُس کی دُعاؤں کا جواب دیا اور اُنہیں طاقت بخشی۔ (‏2-‏تیم 4:‏17‏)‏ یہوواہ نے پولُس کو یقین دِلایا کہ اُنہوں نے جس اِنعام کو حاصل کرنے کے لیے اِتنی محنت کی ہے، وہ اُنہیں ضرور ملے گا۔ اِس کے علاوہ یہوواہ نے پولُس کے دوستوں کو یہ ترغیب دی کہ وہ اُن کی مدد کریں۔‏

20.‏ رومیوں 8:‏38، 39 کو ذہن میں رکھتے ہوئے بتائیں کہ آپ پولُس کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔‏

20 ‏(‏4)‏ عمل کریں۔‏ خود سے پوچھیں:‏ ”‏میں پولُس کی مثال پر کیسے عمل کر سکتا ہوں؟“‏ پولُس کی طرح ہمیں بھی اِس بات کی توقع کرنی چاہیے کہ یہوواہ کی خدمت کرنے کی وجہ سے ہمیں اذیت کا نشانہ بنایا جائے گا۔ (‏مر 10:‏29، 30‏)‏ مشکل وقت میں یہوواہ کا وفادار رہنے کے لیے ہمیں باقاعدگی سے اُس سے دُعا کرنے اور اُس کے کلام کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اِس بات کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ چاہے صورتحال جیسی بھی ہو، ہمارے لیے یہوواہ کی بڑائی کرنا بہت اہم ہے۔ ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور کوئی بھی ہمیں اُس کی محبت سے جُدا نہیں کر سکتا۔‏‏—‏رومیوں 8:‏38، 39 کو پڑھیں؛‏ عبر 13:‏5، 6‏۔‏

بائبل میں ذکرکردہ خدا کے دیگر بندوں سے سیکھیں

21.‏ بہن آیا اور بھائی ہیکٹر کو جن مشکلوں کا سامنا تھا، وہ اُن سے نمٹنے کے قابل کیسے ہوئے؟‏

21 چاہے ہمارے حالات جیسے بھی ہوں، ہمیں بائبل میں ذکرکردہ خدا کے بندوں کی مثالوں پر غور کرنے سے بہت حوصلہ مل سکتا ہے۔ اِس سلسلے میں جاپان میں رہنے والی بہن آیا کی بات پر غور کریں جو ایک پہل‌کار کے طور پر خدمت کرتی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ اُنہیں عوامی جگہوں پر گواہی دینے سے ڈر لگتا تھا لیکن یُوناہ کی مثال پر غور کرنے سے اُنہوں نے اپنے اِس ڈر پر قابو پایا۔ ذرا اِنڈونیشیا میں رہنے والے ایک نوجوان کی مثال پر بھی غور کریں جس کا نام ہیکٹر ہے اور جس کے والدین یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے۔ بھائی ہیکٹر بتاتے ہیں کہ رُوت کی مثال پر غور کرنے سے اُنہیں یہوواہ کے بارے میں سیکھنے اور اُس کی خدمت کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔‏

22.‏ آپ بائبل پر مبنی ویڈیوز، آڈیو ڈراموں اور مضامین کے سلسلے ”‏اِن جیسا ایمان ظاہر کریں“‏ سے بھرپور فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏

22 آپ بائبل میں خدا کے ایسے بندوں کی مثال کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں جن سے آپ کو حوصلہ ملے؟ اِس حوالے سے مضامین کا سلسلہ ”‏اِن جیسا ایمان ظاہر کریں“‏ آپ کے بہت کام آ سکتا ہے۔‏d اِس کے علاوہ ہمارے پاس بہت سی ایسی ویڈیوز اور آڈیو ڈرامے بھی ہیں جن میں بائبل میں درج واقعات کو اِس طرح سے بتایا گیا ہے جیسے یہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہوں۔ جب آپ کوئی ویڈیو دیکھتے، آڈیو ڈرامہ سنتے یا مضمون پڑھتے ہیں تو یہوواہ سے درخواست کریں کہ وہ ایسے اہم سبق تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرے جو آپ کی صورتحال پر لاگو ہوتے ہیں۔ خود کو اُن لوگوں کی جگہ پر رکھ کر سوچیں جن کے بارے میں آپ پڑھ رہے ہیں۔ اِس بات پر سوچ بچار کریں کہ یہوواہ کے اِن بندوں نے مشکل وقت میں کیا کِیا اور یہوواہ نے مشکلوں سے نمٹنے میں اُن کی مدد کیسے کی۔ اِس کے بعد جو کچھ آپ نے سیکھا ہے، اُس پر عمل کریں۔ اُس مدد کے لیے یہوواہ کا شکر ادا کریں جو وہ پہلے سے آپ کو دے رہا ہے۔ اِس مدد کے لیے قدر ظاہر کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ ایسے موقعوں کی تلاش میں رہیں جب آپ دوسروں کی ہمت بندھا سکتے ہیں۔‏

23.‏ یسعیاہ 41:‏10،‏ 13 کے مطابق یہوواہ نے ہم سے کیا وعدہ کِیا ہے؟‏

23 چونکہ ہم ایک ایسی دُنیا میں رہ رہے ہیں جو شیطان کے قبضے میں ہے اِس لیے ہمیں مشکلوں کا سامنا ہو تا ہے اور کبھی کبھار تو ایسی مشکلوں کا جن میں ہمیں سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا کریں۔ (‏2-‏تیم 3:‏1‏)‏ لیکن ہمیں فکرمند ہونے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہوواہ جانتا ہے کہ ہم پر کیا بیت رہی ہے اور اُس نے وعدہ کِیا ہے کہ جب ہم مشکل وقت میں لڑکھڑا جائیں گے تو وہ ہمیں اپنے مضبوط دہنے ہاتھ سے تھام لے گا۔ ‏(‏یسعیاہ 41:‏10،‏ 13 کو پڑھیں۔)‏ ہمیں پورا یقین ہے کہ یہوواہ ہماری مدد کرے گا اور اُس کے کلام کے ذریعے ہمیں کسی بھی مشکل سے نمٹنے کی طاقت مل سکتی ہے۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • جب ہم بائبل میں بتائے گئے خدا کے بندوں کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کون سے چار قدم اُٹھا سکتے ہیں؟‏

  • آپ نے بادشاہ داؤد اور پولُس رسول سے کیا سیکھا ہے؟‏

  • آپ بائبل میں ذکرکردہ خدا کے کس بندے کی زندگی کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہتے ہیں؟‏

گیت نمبر 96‏:‏ خدا کا کلام—‏ایک خزانہ

a بائبل میں ہمیں بہت سے ایسے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا کو اپنے بندوں سے بہت پیار ہے اور وہ مشکل وقت میں ثابت‌قدم رہنے میں اُن کی مدد کرتا ہے۔ اِس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ آپ بائبل کا مطالعہ کس طرح سے کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو پڑھی ہوئی باتوں سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔‏

b یہ اُن اِقدام میں سے محض کچھ قدم ہیں جو آپ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لیے اُٹھا سکتے ہیں۔ کچھ اَور تجاویز کے لیے آپ کتاب ‏”‏یہوواہ کے گواہوں کے لئے مطالعے کے حوالے“‏ میں ذیلی عنوان ”‏بائبل“‏ کے تحت حصہ ”‏بائبل کو پڑھنا اور اِسے سمجھنا“‏ کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔‏

c کلیسیا میں ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ کے مطالعے کے دوران اِن آیتوں کو نہ پڑھیں۔‏

d ویب‌سائٹ jw.org پر ”‏اِن جیسا ایمان ظاہر کریں—‏بائبل میں ذکرکردہ خدا کے بندے‏“‏ کو دیکھیں۔ (‏حصہ ”‏پاک کلام کی تعلیمات“‏ کے تحت ”‏خدا پر ایمان“‏ پر جائیں۔)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں