آپ کس چیز کو پہلا درجہ دیتے ہیں؟
۱ آپ کیا جواب دیں گے؟ یقیناً ہم سب بادشاہتی کاموں کو پہلا درجہ دینا چاہتے ہیں۔ (متی ۶:۳۳) لیکن ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں: ’کیا میری ترجیحات یہ ظاہر کرتی ہیں؟‘ بائبل ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے: ”اپنے آپ کو جانچو۔“ (۲-کر ۱۳:۵) ہم یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم بادشاہت کو پہلا درجہ دے رہے ہیں؟
۲ وقت کا استعمال: ہم سب سے پہلے اپنے وقت کے استعمال کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ (افس ۵:۱۵، ۱۶) ہم ہر ہفتے میلجول رکھنے، ٹیوی دیکھنے، انٹرنیٹ استعمال کرنے یا ذاتی مشغلوں کے لئے کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟ اگر ہم دُنیاوی کاموں کا موازنہ روحانی کاموں میں صرف کئے جانے والے وقت کے ساتھ کریں تو شاید ہم حیران رہ جائیں گے۔ کیا ہم اپنی پاک خدمت کو نظرانداز کرتے ہوئے زندگی کی آسائشوں کی خاطر زیادہ وقت کے لئے ملازمت کرتے ہیں؟ ہم کتنی بار سیروتفریح پر جانے کے لئے اجلاسوں یا منادی کو چھوڑ دیتے ہیں؟
۳ ترجیحات قائم کرنا: ہم میں سے بیشتر اشخاص وہ تمام کام نہیں کر پاتے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔ پس، بادشاہت کو پہلا درجہ دینے کے لئے ہمیں اپنی ترجیحات کا جائزہ لینا اور اس کے بعد ’زیادہ اہم باتوں‘ کے لئے وقت مقرر کرنا چاہئے۔ (فل ۱:۱۰) اِن اہم باتوں میں خدا کے کلام کا مطالعہ کرنا، منادی میں جانا، اپنے خاندان کی دیکھبھال کرنا اور مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونا شامل ہے۔ (زبور ۱:۱، ۲؛ روم ۱۰:۱۳، ۱۴؛ ۱-تیم ۵:۸؛ عبر ۱۰:۲۴، ۲۵) مناسب ورزش اور خوشگوار سیروتفریح جیسی سرگرمیاں بھی فائدہمند ہیں۔ (مر ۶:۳۱؛ ۱-تیم ۴:۸) لیکن ہمیں اِن غیراہم باتوں کو اِن کی جگہ پر رکھنا چاہئے۔
۴ بادشاہتی کاموں کو پہلا درجہ دینے کے لئے ایک بھائی نے دُنیا میں ترقی کرنے کی خاطر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی بجائے کُلوقتی خدمت شروع کر دی۔ اُس نے ایک دوسری زبان بولنا سیکھی اور زیادہ ضرورت والے علاقے میں منتقل ہو گیا۔ اُس نے کہا: ”یہاں میرا بہت اچھا وقت گزر رہا ہے۔ یہاں منادی کرنا بہت ہی تازگیبخش ہے! میری دلی خواہش ہے کہ تمام نوجوان اِسی طرح کا کام کریں اور میری طرح کی خوشی کا تجربہ کریں۔ ہمارے پاس جوکچھ بھی ہے اُس کے ساتھ یہوواہ کی خدمت کرنے سے بڑھکر اَور کچھ نہیں۔“ جیہاں، بادشاہت کو پہلا درجہ دینے سے ہمیں بےشمار برکات حاصل ہوتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر اِس سے ہمارا آسمانی باپ یہوواہ خوش ہوتا ہے۔—عبر ۶:۱۰۔