اپنی مخصوصیت پر پورا اُترنا
۱ خواہ آپکا بپتسمہ حال ہی میں ہوا ہے یا کئی سال پہلے ہو چکا ہے، آپ کو غالباً اپنی زندگی کا وہ اہم موقع یاد ہوگا۔ ہمارا بپتسمہ انتہا نہیں بلکہ مخصوصشُدہ زندگی کا محض آغاز ہے جو ہمیشہ تک قائم رہ سکتی ہے۔ (۱-یوح ۲:۱۷) لیکن مخصوصیت پر پورا اُترنے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۲ یسوع کے نمونے پر چلیں: یسوع بپتسمہ لینے کے بعد ”خدا کی بادشاہت کی خوشخبری“ کا اعلان کرنے لگا۔ (لو ۳:۲۳؛ ۴:۴۳) اِسی طرح جب ہم یہوواہ کے لئے اپنی مخصوصیت کے اظہار میں بپتسمہ لیتے ہیں تو ہم خوشخبری سنانے والے خادم بن جاتے ہیں۔ اگرچہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے میں وقت اور کوشش درکار ہے لیکن ہماری زندگی کا اہم کام مسیحی خدمتگزاری ہے۔ (متی ۶:۳۳) دولتوشہرت حاصل کرنے کی بجائے سچے مسیحی پولس رسول کی نقل کرتے ہوئے اپنی خدمت کی بڑائی کرتے ہیں۔ (روم ۱۱:۱۳) کیا آپ یہوواہ کی خدمت کرنے میں خوشی حاصل کرتے ہیں؟
۳ یسوع کی طرح ہمیں بھی ”ابلیس کا مقابلہ“ کرنا چاہئے۔ (یعقو ۴:۷) شیطان نے یسوع کو اس کے بپتسمے کے بعد آزمایا۔ وہ یہوواہ کے خادموں کے ساتھ بھی آجکل ایسا ہی کرتا ہے۔ (لو ۴:۱-۱۳) شیطان کی دُنیا میں رہتے ہوئے ہمیں ضبطِنفس سے کام لینا اور ہر اُس چیز سے گریز کرنا چاہئے جو ہمارے دل اور دماغ کو آلودہ کر سکتی ہے۔ (امثا ۴:۲۳؛ متی ۵:۲۹، ۳۰) مسیحیوں کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ”[یہوواہ] کے دسترخوان اور شیاطین کے دسترخوان دونوں پر شریک نہیں ہو سکتے۔“ (۱-کر ۱۰:۲۱) اس کا مطلب ہے کہ ہمیں بُری صحبتوں، غلط تفریح، برگشتہ مواد اور انٹرنیٹ پر دکھائی جانے والی چیزوں کے خطرات سے بچنا چاہئے۔ ان چیزوں اور شیطان کے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہنا ہماری مدد کریگا کہ ہم اپنی مخصوصیت پر پورا اُتریں۔
۴ خدا کے بندوبست سے فائدہ اُٹھائیں: اپنی مخصوصیت پر پورا اُترنے کے لئے یہوواہ نے ہمیں مسیحی کلیسیا اور اپنا کلام دیا ہے۔ بائبل پڑھائی اور یہوواہ سے روزانہ دُعا کرنے کو اپنا معمول بنائیں۔ (یشو ۱:۸؛ ۱-تھس ۵:۱۷) مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے سے خوشی حاصل کریں۔ (زبور ۱۲۲:۱) اُن کیساتھ دوستی کریں جو یہوواہ سے ڈرتے اور اُس کے حکموں کو مانتے ہیں۔—زبور ۱۱۹:۶۳۔
۵ ہم یہوواہ کی مدد سے اُس کے لئے اپنی مخصوصیت کو پورا کرینگے اور خوشی سے ہمیشہ اُسکی خدمت کرتے رہینگے۔—زبور ۲۲:۲۶، ۲۷؛ فل ۴:۱۳۔