سرِورق کا موضوع | آپ کے لیے خدا کا بیشقیمت تحفہ
ایک بیشقیمت تحفہ
جورڈن کے ہاتھ میں کشتی کی شکل والا شارپنر بہت معمولی سا لگتا ہے۔ لیکن جورڈن کے لیے یہ بہت بیشقیمت ہے۔ جورڈن کہتے ہیں: ”جب مَیں چھوٹا تھا تو انکل رسل نے مجھے یہ شارپنر دیا تھا۔ اُن کے ہمارے خاندان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔“ رسل کی موت کے بعد جورڈن کو پتہ چلا کہ رسل نے جورڈن کے نانا اور والدین کا مشکل وقت میں بہت ساتھ دیا تھا۔ جورڈن کہتے ہیں: ”جب سے مجھے پتہ چلا ہے کہ انکل رسل نے میرے گھر والوں کی کتنی مدد کی تھی تب سے یہ چھوٹا سا تحفہ میرے لیے اَور بھی قیمتی ہو گیا ہے۔“
جورڈن کی مثال سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگوں کی نظر میں شاید ایک تحفہ بہت معمولی ہو۔ لیکن جس شخص کو وہ تحفہ دیا جاتا ہے، اُس کے نزدیک شاید وہ بہت بیشقیمت اور انمول ہو۔ پاک کلام میں ایک ایسے تحفے کے بارے میں بتایا گیا ہے جس کی قدروقیمت کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ اِس میں لکھا ہے: ”خدا کو دُنیا سے اِتنی محبت ہے کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹاa دے دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان ظاہر کرے، وہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“—یوحنا 3:16۔
یہ ایک ایسا تحفہ ہے جسے قبول کرنے والوں کو ہمیشہ کی زندگی مل سکتی ہے۔ ذرا سوچیں کہ کیا کوئی تحفہ اِس سے زیادہ بیشقیمت ہو سکتا ہے؟ شاید کچھ لوگ اِس تحفے کی اہمیت کو نہ سمجھ پائیں لیکن سچے مسیحی اِسے بہت قیمتی خیال کرتے ہیں۔ (زبور 49:8؛ 1-پطرس 1:18، 19) مگر خدا نے اِنسانوں کو یہ تحفہ کیوں دیا؟
خدا کے ایک بندے پولُس نے اِس کی وجہ یوں بتائی: ”ایک آدمی کے ذریعے گُناہ دُنیا میں آیا اور گُناہ کے ذریعے موت آئی اور موت سب لوگوں میں پھیل گئی کیونکہ سب نے گُناہ کِیا۔“ (رومیوں 5:12) آدم نے جان بُوجھ کر خدا کی نافرمانی کی۔ اِس طرح اُنہوں نے گُناہ کِیا جس کی وجہ سے اُنہیں موت کی سزا سنائی گئی۔ چونکہ تمام اِنسان آدم کی اولاد ہیں اِس لیے وہ بھی مرتے ہیں۔
پاک کلام میں لکھا ہے: ”گُناہ کی مزدوری موت ہے لیکن خدا کی نعمت ہمیشہ کی زندگی ہے جو ہمیں اپنے مالک مسیح یسوع کے ذریعے ملتی ہے۔“ (رومیوں 6:23) خدا نے یسوع مسیح کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ اپنی بےعیب زندگی قربان کر کے اِنسانوں کو موت کی قید سے چھڑائیں۔ پاک کلام میں یسوع مسیح کی قربانی کو ”فدیہ“ کہا گیا ہے۔ اِس فدیے کی بِنا پر اُن تمام لوگوں کو ہمیشہ کی زندگی ملے گی جو یسوع مسیح پر ایمان ظاہر کرتے ہیں۔—رومیوں 3:24۔
پولُس رسول نے اُن برکتوں کا ذکر کِیا جو خدا یسوع مسیح کے ذریعے اپنے بندوں کو دیتا ہے۔ پھر اُنہوں نے کہا: ”آئیں، اِس ناقابلِبیان نعمت کے لیے خدا کا شکر ادا کریں۔“ (2-کُرنتھیوں 9:15) فدیہ اِتنی شاندار نعمت ہے کہ اِسے لفظوں میں بیان نہیں کِیا جا سکتا۔ لیکن خدا کی تمام نعمتوں میں سے فدیہ سب سے بیشقیمت کیوں ہے؟ یہ خدا کی باقی تمام نعمتوں سے فرق کیسے ہے؟b ہمیں اِس سلسلے میں کیسا ردِعمل ظاہر کرنا چاہیے؟ اگلے دو مضامین میں پاک کلام سے اِن سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں۔
a یسوع مسیح وہ واحد ہستی ہیں جنہیں خدا نے براہِراست بنایا تھا۔ اِسی لیے اُنہیں خدا کا اِکلوتا بیٹا کہا جاتا ہے۔
b یسوع مسیح نے خوشی سے ”ہمارے لیے جان دے دی۔“ (1-یوحنا 3:16) لیکن یسوع مسیح کی قربانی زمین اور اِنسانوں کے سلسلے میں خدا کے مقصد کا حصہ تھی۔ اِس لیے اِن مضامین میں اِس بات کو نمایاں کِیا گیا ہے کہ خدا نے فدیے کا بندوبست کیسے کِیا۔