”کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا“
”کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا . . . تُم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔“—متی ۶:۲۴۔
۱-۳. (الف) آجکل بہت سے لوگوں کو مالی لحاظ سے کن مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے؟ اور بعض اِنہیں حل کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟ (اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔) (ب) بچوں کی پرورش کے حوالے سے کونسے سوال پیدا ہوتے ہیں؟
”ہر روز جب میرے شوہر جیمز کام سے گھر آتے تھے تو وہ تھکاوٹ سے چُور ہوتے تھے۔ لیکن اِتنی محنت کرنے کے باوجود اُن کی کمائی سے ہمارا گزارہ بڑی مشکل سے ہوتا تھا۔“ یہ بات ہماری ایک بہن نے کہی جس کا نام میریلینa ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا: ”مَیں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھی اور اپنے بیٹے جمی کو وہ چیزیں لے کر دینا چاہتی تھی جو اُس کے سکول میں دوسرے بچوں کے پاس تھیں۔“ میریلین کی خواہش تھی کہ وہ اپنے رشتےداروں کی بھی کچھ مدد کریں اور مستقبل کے لیے بھی کچھ بچا کر رکھیں۔ اُن کے بہت سے دوست پیسہ کمانے کے لیے دوسرے ملکوں میں منتقل ہو گئے تھے۔ لیکن جب میریلین نے کسی دوسرے ملک جانے کے بارے میں سوچا تو وہ کشمکش میں پڑ گئیں۔ اِس کی کیا وجہ تھی؟
۲ میریلین اپنے شوہر اور بیٹے کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر وہ چلی جائیں گی تو وہ مل کر یہوواہ کی خدمت نہیں کر پائیں گے۔ دوسری طرف میریلین کے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ کلیسیا میں اَور ایسے بہنبھائی بھی تو ہیں جو اپنے گھر والوں سے دُور رہ رہے ہیں۔ پھر بھی وہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں۔ وہ سوچنے لگیں کہ ”کیا مَیں اپنے بیٹے سے دُور رہ کر اُس کی پرورش کر پاؤں گی؟ کیا مَیں اِنٹرنیٹ کے ذریعے اُسے ”[یہوواہ] کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے“ سکوں گی؟“—افس ۶:۴۔
۳ میریلین نے اِس سلسلے میں مختلف لوگوں سے مشورہ کِیا۔ اُن کا شوہر نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک جائیں مگر اُس نے اُنہیں روکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ بزرگوں نے اور کلیسیا کے کچھ اَور بہنبھائیوں نے بھی اُنہیں مشورہ دیا کہ وہ ایسا قدم نہ اُٹھائیں۔ مگر کچھ بہنوں نے اُنہیں باہر جانے کا مشورہ دیا۔ اُن بہنوں نے کہا: ”اگر تمہیں اپنے شوہر اور بیٹے سے پیار ہے تو تُم ضرور جاؤ گی۔ اور تُم وہاں یہوواہ کی خدمت بھی کر سکو گی۔“ حالانکہ میریلین کچھ ڈانواںڈول تھیں پھر بھی وہ اپنے شوہر اور بیٹے کو الوداع کہہ کر کسی دوسرے ملک چلی گئیں۔ مگر اُنہوں نے وعدہ کِیا کہ ”مَیں جلد لوٹ آؤں گی۔“
والدین کی ذمےداریوں کے سلسلے میں کچھ اصول
۴. (الف) بہت سے لوگ کسی دوسرے ملک یا علاقے میں منتقل کیوں ہو جاتے ہیں؟ (ب) ایسے لوگوں کے بچوں کی دیکھبھال اکثر کون کرتے ہیں؟
۴ یہوواہ خدا یہ نہیں چاہتا کہ اُس کے بندے سخت غربت کا شکار رہیں۔ (زبور ۳۷:۲۵؛ امثا ۳۰:۸) غربت سے بچنے کے لیے کسی اَور علاقے میں منتقل ہو جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ قدیم زمانے میں بھی ایسا ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر یعقوب نے کال سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو مصر بھیجا تاکہ وہ کچھ اناج لے کر آئیں۔b (پید ۴۲:۱، ۲) آجکل زیادہتر لوگ فاقوں کی وجہ سے کسی دوسرے علاقے میں منتقل نہیں ہوتے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اُن کے سر بہت زیادہ قرض ہے۔ یا پھر وہ اپنی زندگی کا معیار بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ چونکہ اُن کے اپنے ملک یا علاقے میں معاشی حالات اچھے نہیں ہوتے اِس لیے وہ پیسے کمانے کے لیے اپنے گھر والوں سے دُور کسی اَور جگہ جا بستے ہیں۔ اکثر بیوی کو اکیلے چھوٹے بچوں کی دیکھبھال کرنی پڑتی ہے یا پھر بچے کسی اَور رشتےدار یا دوست کے پاس رہنے لگتے ہیں۔ اگرچہ ایسے لوگوں کو اپنے بچوں یا جیونساتھی کو چھوڑ کر جانے کا دُکھ ہوتا ہے پھر بھی اُنہیں لگتا ہے کہ اُن کے پاس اِس کے سوا اَور کوئی چارہ نہیں۔
۵، ۶. (الف) یسوع مسیح نے خوشی اور تحفظ پانے کے سلسلے میں کیا تعلیم دی؟ (ب) یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو کن چیزوں کے لیے دُعا کرنا سکھائی؟ (ج) خدا کی برکت میں کیا شامل ہے؟
۵ یسوع مسیح کے زمانے میں بھی بہت سے لوگ غریب تھے۔ اُن لوگوں نے شاید سوچا ہو کہ اگر اُن کے پاس زیادہ پیسے ہوں تو وہ خوش رہیں گے۔ (مر ۱۴:۷) لیکن یسوع مسیح چاہتے تھے کہ لوگ دولت پر نہیں بلکہ یہوواہ خدا پر بھروسا رکھیں جو اُنہیں ہمیشہ کی خوشی اور تحفظ دے سکتا ہے۔ یسوع مسیح نے پہاڑی وعظ میں بتایا کہ حقیقی خوشی اور تحفظ دولت سے یا ہماری ذاتی کوششوں سے نہیں بلکہ آسمانی باپ یہوواہ کی قربت میں رہنے سے ملتے ہیں۔
۶ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو جو دُعا سکھائی، اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں دولت کے لیے نہیں بلکہ اپنی ”روز کی روٹی“ یعنی اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے دُعا کرنی چاہیے۔ اُنہوں نے نصیحت کی: ”اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو . . . بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو۔“ (متی ۶:۹، ۱۱، ۱۹، ۲۰) ہم بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا اپنے وعدے کے مطابق ہمیں برکت بخشے گا۔ خدا کی برکت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ ہم سے خوش ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ہماری ضروریات کو پورا کرے گا۔ اصل میں حقیقی خوشی اور تحفظ حاصل کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے شفیق باپ یہوواہ پر بھروسا کریں، دولت پر نہیں۔—متی ۶:۲۴، ۲۵، ۳۱-۳۴ کو پڑھیں۔
۷. (الف) یہوواہ نے بچوں کی پرورش کرنے کی ذمےداری کس کو سونپی ہے؟ (ب) ماں اور باپ دونوں کو مل کر بچوں کی تربیت کیوں کرنی چاہیے؟
۷ ’پہلے خدا کی راستبازی کی تلاش‘ کرنے میں یہ شامل ہے کہ والدین اپنے گھرانے کی ذمےداریوں کو خدا کی مرضی کے مطابق پورا کریں۔ موسیٰ کی شریعت میں ایک ایسا اصول پایا جاتا ہے جو مسیحیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت خود کریں۔ (استثنا ۶:۶، ۷ کو پڑھیں۔) خدا نے یہ ذمےداری ماں اور باپ دونوں کو سونپی ہے، نانا نانی، دادا دادی یا کسی اَور کو نہیں۔ بادشاہ سلیمان نے کہا: ”اَے میرے بیٹے! اپنے باپ کی تربیت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کر۔“ (امثا ۱:۸) یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ماںباپ اور بچے اِکٹھے رہیں اور ماںباپ اُن کی تعلیموتربیت کریں۔ (امثا ۳۱:۱۰، ۲۷، ۲۸) بچے دراصل اپنے والدین کی مثال سے اور اُن کی باتوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ خاص طور پر جب وہ اپنے ماںباپ کو یہوواہ خدا کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنتے ہیں اور اُنہیں اُس کی خدمت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ یہوواہ خدا کو جاننے کے قابل ہوتے ہیں۔
گھر والوں سے دُور رہنے کے نتائج
۸، ۹. (الف) جب ماں یا باپ اپنے گھر والوں سے دُور رہتا ہے تو خاندان پر کیا اثر ہوتا ہے؟ (ب) والدین اور بچوں کا الگ الگ رہنا کس لحاظ میں نقصاندہ ہو سکتا ہے؟
۸ بہت سے لوگ کسی دوسرے ملک جانے سے پہلے اِس کے فائدے اور نقصان کے بارے میں سوچبچار ضرور کرتے ہیں۔ مگر وہ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر جانے کے تمام نتائج کو پہلے سے بھانپ نہیں سکتے۔c (امثا ۲۲:۳) میریلین کو اپنے شوہر اور بیٹے سے دُور گئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ وہ اُن سے بہت اُداس ہونے لگیں۔ اُن کا شوہر اور بیٹا بھی اُنہیں بہت یاد کرتے تھے۔ بیٹا اُن سے اکثر کہتا رہتا تھا کہ ”آپ مجھے چھوڑ کر کیوں چلی گئیں؟“ حالانکہ میریلین کا اِرادہ تھا کہ وہ جلد لوٹ آئیں گی مگر اُنہیں اپنا وطن چھوڑے کئی سال گزر گئے۔ اِس عرصے کے دوران میریلین نے محسوس کِیا کہ اُن کے گھر والوں کے ساتھ اُن کا رشتہ پہلے جیسا خوشگوار نہیں رہا۔ اُن کا بیٹا جمی بہت چپ چپ رہنے لگا تھا اور وہ اُن سے اپنے احساسات کا اِظہار نہیں کرتا تھا۔ میریلین نے بڑے افسوس سے کہا: ”میرے لیے اُس کی محبت مر گئی۔“
۹ جب والدین اور بچے ایک ساتھ نہیں رہتے تو اُنہیں مختلف طریقوں سے نقصان پہنچتا ہے۔d اگر بچے چھوٹے ہیں اور ماں یا باپ زیادہ عرصہ اُن سے دُور رہتا ہے تو نقصان اَور بھی زیادہ ہوتا ہے۔ میریلین نے جمی سے کہا کہ اُنہوں نے اُسی کی خاطر قربانی دی ہے۔ لیکن جمی کو لگتا تھا کہ اُس کی ماں کو اُس کی کوئی پرواہ نہیں۔ شروع شروع میں تو جمی کو اِنتظار رہتا تھا کہ اُس کی ماں کب آئے گی۔ مگر بعد میں جب کبھی وہ گھر آتی تو جمی کو اِنتظار رہتا تھا کہ وہ واپس کب جائے گی۔ جمی کو لگا کہ اُس کی ماں کو اب یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے بیٹے سے محبت اور فرمانبرداری کی توقع کرے۔ جن بچوں کے ماںباپ اُنہیں دوسروں کے پاس چھوڑ کر باہر کے ملک چلے جاتے ہیں، وہ اکثر ایسا ہی محسوس کرنے لگتے ہیں۔—امثال ۲۹:۱۵ کو پڑھیں۔
آپ اِنٹرنیٹ پر اپنے بچے کو گلے نہیں لگا سکتے۔ (پیراگراف ۱۰ کو دیکھیں۔)
۱۰. (الف) جب والدین اپنے بچوں کو وقت اور توجہ کی بجائے تحفے دیتے ہیں تو بچوں پر کیا اثر ہوتا ہے؟ (ب) اپنے گھر والوں سے دُور رہنے والے ماں یا باپ اپنے بچوں کو کن باتوں سے محروم رکھتے ہیں؟
۱۰ چونکہ میریلین اپنے بیٹے کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتی تھیں اِس لیے اُنہوں نے پیسے اور تحفے بھیج کر اُسے خوش کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اُنہوں نے محسوس کِیا کہ اِس طرح وہ اپنے بیٹے کو اَور زیادہ دُور کر رہی ہیں اور جانے انجانے میں اُسے یہ سکھا رہی ہیں کہ پیسہ خاندانی رشتوں اور یہوواہ خدا سے زیادہ اہم ہے۔ (امثا ۲۲:۶) جمی اُن سے اکثر کہتا تھا: ”آپ نہ آئیں، بس تحفے بھیج دیا کریں۔“ میریلین سمجھ گئیں کہ وہ خطوں، ٹیلیفون اور اِنٹرنیٹ کے ذریعے اپنے بیٹے کی پرورش نہیں کر سکتیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ”آپ اِنٹرنیٹ پر اپنے بچوں کو نہ تو چُوم سکتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں سینے سے لگا سکتے ہیں۔“
اپنے جیونساتھی سے دُور رہنے کی وجہ سے آپ کو کس خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے؟ (پیراگراف ۱۱ کو دیکھیں۔)
۱۱. (الف) پیسہ کمانے کی خاطر اپنے جیونساتھی سے دُور رہنے سے ازدواجی بندھن پر کیا اثر ہوتا ہے؟ (ب) ایک بہن نے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیوں کِیا؟
۱۱ میریلین کا اپنے شوہر کے ساتھ رشتہ کمزور ہوتا جا رہا تھا اور وہ یہوواہ خدا سے بھی دُور ہو رہی تھیں۔ وہ ہفتے میں صرف ایک بار اِجلاس پر اور مُنادی میں جاتی تھیں۔ مگر کبھیکبھار تو وہ ایک بار بھی نہیں جا پاتی تھیں۔ دوسری طرف اُن کا مینیجر اُن پر ڈورے ڈال رہا تھا۔ چونکہ میریلین اور اُن کا شوہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کو سہارا نہیں دے سکتے تھے اِس لیے اُن دونوں نے کسی اَور کے کندھے کا سہارا لیا اور یوں حرامکاری کرنے کے خطرے میں پڑ گئے۔ اگرچہ اُنہوں نے حرامکاری تو نہیں کی پھر بھی میریلین سمجھ گئیں کہ اُن کا ازدواجی بندھن ایک نازک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ بائبل کی ہدایت کے مطابق وہ دونوں ایک دوسرے کی جذباتی اور جنسی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو محبت بھری نگاہ سے دیکھ نہیں سکتے تھے، ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں تھام سکتے تھے اور نہ ہی ایک دوسرے کو گلے لگا سکتے تھے۔ وہ ”عشق“ کے اِن تمام اِظہارات سے محروم تھے اور ایک دوسرے کا ”حق“ ادا نہیں کر سکتے تھے۔ (غز ۱:۲؛ ۱-کر ۷:۳، ۵) وہ خاندان کے طور پر یہوواہ خدا کی عبادت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ میریلین نے کہا: ”جب مَیں نے ایک اِجتماع پر سیکھا کہ یہوواہ خدا کے روزِعظیم پر زندہ بچنے کے لیے باقاعدگی سے خاندانی عبادت کرنا بہت ضروری ہے تو مَیں نے فیصلہ کر لیا کہ مَیں گھر واپس چلی جاؤں گی۔ مجھے اُس دراڑ کو ختم کرنا تھا جو ہمارے رشتوں میں آ گئی تھی اور یہوواہ خدا کی قربت بھی دوبارہ حاصل کرنی تھی۔“
مقامی رواج کے دباؤ میں نہ آئیں
۱۲. ہم اُن مسیحیوں کو بائبل سے کیا مشورہ دے سکتے ہیں جو اپنے گھر والوں سے دُور رہ رہے ہیں؟
۱۲ میریلین کے فیصلے سے کچھ لوگ خوش تھے اور کچھ خوش نہیں تھے۔ پردیس میں جس کلیسیا میں وہ تھیں، وہاں کے بزرگوں نے اُن کے ایمان اور ہمت کو سراہا۔ لیکن کچھ مسیحی جو اپنے گھر والوں سے دُور رہ رہے تھے، اُنہوں نے بالکل فرق ردِعمل دِکھایا۔ اُنہوں نے میریلین کی مثال پر عمل کرنے کی بجائے اُنہیں رُکنے کا مشورہ دیا۔ اُنہوں نے کہا: ”اگر تُم واپس چلی گئیں تو اپنے گھر کے خرچے کیسے پورے کرو گی؟ دیکھنا، تُم کچھ ہی عرصے بعد یہاں واپس چلی آؤ گی۔“ ایسی بےحوصلہ کرنے والی باتیں کرنے کی بجائے مسیحیوں کو ’جوان عورتوں کو سکھانا چاہئے‘ کہ ”اپنے شوہروں کو پیار کریں۔ بچوں کو پیار کریں اور . . . گھر کا کاروبار“ یعنی اپنے گھر کا کامکاج سنبھالیں ”تاکہ خدا کا کلام بدنام نہ ہو۔“—ططس ۲:۳-۵ کو پڑھیں۔
۱۳، ۱۴. اپنے گھر والوں کی خواہشات کے خلاف جا کر خدا کی مرضی پر چلنے کے لیے مضبوط ایمان کی ضرورت کیوں ہے؟ مثال دیں۔
۱۳ بہت سے لوگ جو کام کی خاطر دوسرے ملک جاتے ہیں، اُن کا تعلق ایسی ثقافتوں سے ہوتا ہے جن میں گھر والوں کی بات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، خصوصاً والدین کی بات کو۔ ایسی ثقافتوں میں رشتےداروں کی خواہشات کے خلاف جا کر یہوواہ خدا کی مرضی پر چلنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اِس کے لیے واقعی مضبوط ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔
۱۴ اِس سلسلے میں آئیں، بہن کیرن کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے بتایا: ”مَیں اور میرا شوہر باہر کے ملک میں کام کرنے گئے ہوئے تھے۔ وہاں ہمارا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ہم نے ڈون رکھا۔ اُس وقت مجھے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا۔ میرے رشتےدار چاہتے تھے کہ مَیں اپنے بیٹے کو اُس کے نانا نانی کے پاس بھیج دوں اور خود یہیں کام کرتی رہوں جب تک ہمارے مالی حالات ٹھیک نہ ہو جائیں۔“ جب کیرن نے اپنے بیٹے کی پرورش خود کرنے پر اِصرار کِیا تو اُن کے شوہر اور اُن کے رشتےداروں نے کیرن کا مذاق اُٹھایا اور کہا کہ وہ کامچور ہیں۔ کیرن نے بتایا: ”سچ بتاؤں تو اُس وقت مَیں یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اپنے بیٹے کو کچھ سالوں کے لیے اُس کے نانا نانی کے پاس بھیجنے میں کیا بُرائی ہے۔ لیکن مَیں جانتی تھی کہ یہوواہ خدا نے یہ ذمےداری ہمیں سونپی ہے کہ ہم اپنے بیٹے کی پرورش خود کریں۔“ جب کیرن دوبارہ ماں بننے والی تھیں تو اُن کے شوہر نے اُن پر دباؤ ڈالا کہ وہ بچہ گِرا دیں۔ کیرن چونکہ پہلے اپنے فیصلے پر قائم رہی تھیں اِس لیے اب اُن کا ایمان اَور مضبوط ہو گیا تھا اور وہ پھر سے یہوواہ کی وفادار رہنے پر اٹل تھیں۔ کیرن، اُن کا شوہر اور اُن کے بچے خوش ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوئے۔ اگر کیرن اپنے ایک یا دونوں بچوں کو کسی اَور کے سپرد کر دیتیں تو آج وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ خوشگوار زندگی نہ گزار رہی ہوتیں۔
۱۵، ۱۶. (الف) ایک بہن جس کی پرورش اُس کی نانی نے کی، وہ اپنے بچپن کے بارے میں کیسا محسوس کرتی ہے؟ (ب) اُنہوں نے اپنی بیٹی کی پرورش خود کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا؟
۱۵ ہماری ایک بہن جس کا نام وِکی ہے، اُنہوں نے بتایا: ”جب مَیں چھوٹی تھی تو مَیں کئی سالوں تک اپنی نانی کے پاس رہی اور میری چھوٹی بہن میرے امیابو کے پاس۔ جب مَیں اپنے ماںباپ کے پاس چلی گئی تو مجھے محسوس ہوا کہ اُن کے ساتھ میرا رشتہ ویسا نہیں تھا جیسا میری بہن کا تھا۔ میری چھوٹی بہن اُن کے سامنے اپنے جذبات کا اِظہار کُھل کر کرتی تھی اور اُن کے گلے لگ جاتی تھی۔ لیکن مجھے یہ سب کچھ کرنے میں جھجھک محسوس ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ جب مَیں بڑی بھی ہو گئی تو بھی مجھے اُن کے ساتھ کُھل کر بات کرنا مشکل لگتا تھا۔ ہم دونوں بہنوں نے اپنے والدین کو یقین دِلایا ہے کہ ہم بڑھاپے میں اُن کا خیال رکھیں گی۔ لیکن مَیں یہ فرض سمجھ کر کروں گی جبکہ میری بہن محبت کی وجہ سے کرے گی۔
۱۶ اب میری امی چاہتی ہیں کہ مَیں اپنی بیٹی کو اُن کے پاس بھیج دوں جیسے اُنہوں نے مجھے میری نانی کے پاس بھیج دیا تھا۔ لیکن مَیں نے اُنہیں بڑے پیار سے منع کر دیا۔ مَیں اور میرا شوہر یہوواہ خدا کے اصولوں کے مطابق اپنی بیٹی کی پرورش کرنا چاہتے ہیں۔ اور مَیں نہیں چاہتی کہ میرے اور میری بیٹی کے رشتے میں کوئی دراڑ آئے۔“ وِکی نے دیکھ لیا ہے کہ خوشی اور کامیابی کی راہ یہ ہے کہ ہم دولت کمانے اور اپنے رشتےداروں کی خواہشات کو اہمیت دینے کی بجائے یہوواہ خدا اور اُس کے اصولوں کو زیادہ اہمیت دیں۔ یسوع مسیح نے کہا: ”کوئی آدمی دو مالکوں“ یعنی خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔—متی ۶:۲۴؛ خر ۲۳:۲۔
یہوواہ خدا ہمیں سنبھالتا ہے
۱۷، ۱۸. (الف) ہمارے مالی حالات چاہے جتنے بھی خراب ہوں، ہمیں کیا نہیں سوچنا چاہیے؟ اور کیوں؟ (ب) ہم اگلے مضمون میں کن سوالوں پر غور کریں گے؟
۱۷ ہمارے آسمانی باپ یہوواہ کا وعدہ ہے کہ اگر ہم ”اُس کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی“ کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیں گے تو وہ ہماری ضرورتیں پوری کرے گا۔ (متی ۶:۳۳) ہماری صورتحال چاہے کچھ بھی ہو، ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے پاس ملک سے باہر جا کر کام کرنے کے علاوہ اَور کوئی چارہ نہیں۔ یہوواہ خدا ہمیں مسئلوں سے ”نکلنے کی راہ“ دِکھائے گا، ایسی راہ جس پر چلنے سے ہمیں پاک کلام کے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرنا پڑے گا۔ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۳ کو پڑھیں۔) جب ہم یہوواہ خدا سے دُعا مانگتے ہیں اور اُس کے حکم مانتے ہیں تو وہ جان جاتا ہے کہ ہم اُس پر بھروسا رکھتے ہیں۔ (زبور ۳۷:۵، ۷) وہ دیکھتا ہے کہ ہم صرف اُسی کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہم اپنی زندگی میں اُسے پہلا مقام دیتے ہیں تو وہی ہمیں ”اِقبالمند“ یعنی کامیاب کرتا ہے۔—پیدایش ۳۹:۳ پر غور کریں۔
۱۸ اگر کافی عرصہ الگ رہنے کی وجہ سے والدین اور بچوں کے رشتوں میں دراڑ آ گئی ہے تو اِسے کیسے بھرا جا سکتا ہے؟ اپنے گھر والوں سے دُور جائے بغیر ہم اُن کی ضروریات کیسے پوری کر سکتے ہیں؟ ہم اِس سلسلے میں صحیح فیصلے کرنے کے لیے دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ اگلے مضمون میں ہم اِن سوالوں پر غور کریں گے۔
a فرضی نام اِستعمال کیے گئے ہیں۔
b یعقوب کے بیٹے اناج لینے کے لیے دو بار مصر گئے۔ لگتا ہے کہ دونوں بار وہ اپنے گھر والوں سے تقریباً تین ہفتے تک دُور رہے۔ لیکن جب یعقوب اور اُن کے بیٹے مصر منتقل ہوئے تو وہ اپنے بیویبچوں کو ساتھ لے کر گئے۔—پید ۴۶:۶، ۷۔
c اِس سلسلے میں جاگو! اپریل-جون ۲۰۱۳ء کے مضمون ”پردیس میں زندگی—اُمیدیں اور مایوسیاں“ کو دیکھیں۔
d مختلف ملکوں سے ملنے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب لوگ پیسہ کمانے کی خاطر اپنے بچوں یا جیونساتھی سے دُور رہتے ہیں تو سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ شوہر اور بیویاں حرامکاری یا ہمجنسپرستی کا شکار ہو گئے۔ بعض اپنے کسی قریبی رشتےدار کے ساتھ جنسی تعلقات میں ملوث ہو گئے۔ کچھ بچوں کو پڑھائی لکھائی کے سلسلے میں مسائل کا سامنا ہوا۔ بعض بچے غصے، پریشانی یا ڈپریشن سے دوچار ہوئے۔ کچھ تو خودکُشی کرنے کی طرف مائل ہو گئے۔