دُعاؤں کو سننے والے کی قربت حاصل کریں
بہت سے لوگ خدا پر ایمان رکھنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اُن کے ایمان کی بنیاد کیا ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سمجھا سکتے کہ مذہب اِتنی زیادہ بُرائی کا باعث کیوں ہے اور خدا انسانوں کو دُکھتکلیف کیوں سہنے دیتا ہے۔ وہ خدا سے دُعا تو کرتے ہیں مگر اُسے جانتے نہیں۔
لیکن آپ خدا کو قریب سے جان سکتے ہیں۔ جب آپ اُس کے بارے میں علم حاصل کرتے ہیں تو اُس کے لئے آپ کی محبت بڑھتی ہے اور اُس پر آپ کا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ حقیقی ایمان ٹھوس ثبوتوں پر مبنی ہوتا ہے۔ (عبرانیوں ۱۱:۱) اگر آپ خدا کے بارے میں سیکھیں گے تو آپ اُس کی قربت حاصل کر سکیں گے اور ایک دوست کی طرح اُس سے بات کر سکیں گے۔ اِس سلسلے میں کچھ لوگوں کی مثالوں پر غور کریں جو خدا سے دُعا کرتے تھے مگر اُنہیں خدا کے وجود پر شک تھا۔
▪ سب سے پہلے پیٹریشیا کی مثال پر غور کریں جن کا پہلے مضمون میں ذکر کِیا گیا تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”ایک دن مَیں اپنے تقریباً دس دوستوں کے ساتھ بیٹھی تھی کہ مَیں نے اُنہیں بتایا کہ میرے گھر ایک یہوواہ کی گواہ آئی تھی اور میرے باپ سے مذہب کے بارے میں بات کر رہی تھی حالانکہ وہ خدا کو نہیں مانتا۔ اِس پر میرے دوست مذہب کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔ میرے ایک دوست نے کہا کہ یہوواہ کے گواہ جو کچھ سکھاتے ہیں، شاید وہ صحیح ہو۔
میری ایک اَور دوست نے کہا کیوں نہ ہم یہوواہ کے گواہوں کی عبادت پر جائیں اور دیکھیں کہ وہ کیا سکھاتے ہیں۔ ہم اُن کی عبادتوں پر جانے لگے۔ ہم اُن کی ہر بات سے پوری طرح متفق نہیں تھے۔ پھر بھی ہم میں سے کچھ اُن کی عبادتوں پر جاتے رہے کیونکہ وہ ہم سے بڑی محبت سے ملتے تھے۔
لیکن ایک اتوار مَیں نے اُن کی عبادت پر ایک ایسی بات سنی جس سے میری سوچ بدل گئی۔ عبادت کے دوران بتایا گیا کہ آجکل لوگوں کو اِس قدر دُکھ کیوں اُٹھانا پڑتا ہے۔ مَیں پہلے یہ نہیں جانتی تھی کہ جب خدا نے انسان کو بنایا تھا تو اُس میں کسی قسم کا کوئی عیب نہیں تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ہم سب صرف ایک انسان کی نافرمانی کی وجہ سے گُناہ اور موت کے غلام بن گئے ہیں۔ مَیں نے یہ بھی سیکھا کہ انسانوں کو گُناہ اور موت سے چھڑانے کے لئے یسوع مسیح کی قربانی ضروری تھی۔a (رومیوں ۵:۱۲، ۱۸، ۱۹) خدا کے وجود پر میرا شک دُور ہو گیا اور مَیں سمجھ گئی کہ اُسے ہماری فکر ہے۔ مَیں نے بائبل کا علم حاصل کرنا جاری رکھا اور اب مَیں زندگی میں پہلی بار پورے اعتماد کے ساتھ خدا سے دُعا کر سکتی تھی۔“
▪ آئیں، اب ایلن کی مثال پر غور کریں جن کا پہلے مضمون میں ذکر کِیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”ایک دن یہوواہ کے گواہ ہمارے گھر پر آئے اور میری بیوی کو بتایا کہ انسان زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ بات میری بیوی کو اچھی لگی اور اُس نے اُنہیں اندر بلا لیا۔ لیکن مَیں اِس سے ناراض ہوا۔ مَیں نے اپنی بیوی کو باورچیخانے میں بلایا اور اُس سے کہا، پاگل مت بنو۔ اِن لوگوں کی باتوں میں نہ آؤ۔
میری بیوی نے مجھ سے کہا تو پھر آپ جائیں اور یہ ثابت کریں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں، وہ غلط ہے۔
مَیں نے کوشش کی مگر اُن کی بات کو غلط ثابت نہ کر سکا۔ اُنہوں نے میرے ساتھ بڑی نرمی سے بات کی اور مجھے ایک کتاب دی۔ اِس کتاب میں اِس سوال کا جواب دیا گیا تھا کہ آیا کائنات کا بنانے والا کوئی ہے یا یہ خودبخود وجود میں آئی ہے۔ اِس میں جو دلیلیں پیش کی گئی تھیں، وہ بہت مؤثر تھیں۔ اور اِس میں بہت سارے ثبوت دئے گئے تھے کہ اِس کائنات کو خدا نے بنایا ہے۔ مَیں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ مَیں خدا کے بارے میں اَور زیادہ علم حاصل کروں گا۔ اِس لئے مَیں یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے لگا۔ پہلے مَیں یہ سمجھتا تھا کہ مذہب صرف پیسہ کمانے اور لوگوں کو دبا کر رکھنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن بائبل کی تعلیم حاصل کرنے سے مَیں سمجھ گیا کہ سچا مذہب ایسا نہیں ہے۔ جب مَیں نے یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھا تو مَیں اُس سے اپنی زندگی کے اہم معاملات کے بارے میں دُعا کرنے لگا۔ مجھ میں کچھ بُری عادتیں تھیں جن پر قابو پانے کے لئے مَیں نے یہوواہ خدا سے دُعا کی۔ اور اُس نے میری دُعاؤں کا جواب دیا۔“
▪ اینڈریو ملک برطانیہ میں رہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں سائنس میں بہت دلچسپی رکھتا تھا اور اِس نظریے کو مانتا تھا کہ کائنات خودبخود وجود میں آئی ہے۔ لیکن اِس نظریے کو ماننے کی وجہ صرف یہ تھی کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ نظریہ سچ ثابت ہو چُکا ہے۔ مَیں نے دُنیا میں ہونے والے بُرے کاموں کو دیکھ کر خدا پر ایمان رکھنا چھوڑ دیا۔
لیکن کبھیکبھار مَیں سوچتا تھا کہ اگر کوئی خدا ہے تو انسانوں کے لئے اُس کا مقصد کیا ہے؟ دُنیا میں اِس قدر جُرم اور جنگ کیوں ہے؟ جب مَیں مشکل میں ہوتا تو کبھیکبھی دُعا کرتا تھا مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ مَیں کس سے دُعا کر رہا ہوں۔
پھر کسی نے میری بیوی کو ایک اشتہار دیا جو یہوواہ کے گواہوں نے شائع کِیا تھا۔ اِس اشتہار کا عنوان ہے: کیا یہ دنیا بچ جائے گی؟ اکثر میرے ذہن میں یہی سوال آتا تھا۔ اِس اشتہار کو پڑھنے کے بعد مَیں نے سوچا کہ شاید بائبل کو پڑھنے سے کوئی فائدہ ہو۔ پھر جب مَیں چھٹی پر تھا تو کسی نے مجھے ایک کتاب دی جس کا عنوان تھا: دی بائبل—گاڈز ورڈ اور مینز؟b جب مَیں نے دیکھا کہ بائبل سائنسی لحاظ سے درست ہے تو مجھے لگا کہ مجھے بائبل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ اِس لئے جب یہوواہ کے ایک گواہ نے مجھے سے پوچھا کہ ”کیا آپ اِس کتاب سے مطالعہ کرنا چاہیں گے؟“ تو مَیں اِس کے لئے راضی ہو گیا۔ جب مَیں یہ سمجھ گیا کہ انسانوں کے لئے یہوواہ خدا کا مقصد کیا ہے تو مجھے لگا کہ مَیں اُس کی قربت میں آ گیا ہوں اور اب دل کھول کر اُس سے بات کر سکتا ہوں۔“
▪ جینٹ نے شہر لندن میں ایک پروٹسٹنٹ گھرانے میں پرورش پائی۔ اُنہوں نے کہا: ”مذہبی لوگوں کے غلط کاموں اور دُنیا میں بڑھتی ہوئی مشکلوں کو دیکھ میرا مذہب سے جی اُٹھ گیا۔ مَیں نے کالج جانا بھی چھوڑ دیا اور گٹار پر گانے گا کر پیسے کمانے لگی۔ اِس دوران میری ملاقات پیٹرک سے ہوئی۔ اُس نے ایک کیتھولک گھرانے میں پرورش پائی تھی اور میری طرح وہ بھی خدا کو نہیں مانتا تھا۔
ہم ایک خالی گھر پر قبضہ کرکے اُس میں رہنے لگے۔ ہمارے ساتھ کچھ اَور لوگ بھی رہ رہے تھے جنہوں نے اپنا کالج چھوڑ دیا تھا۔ وہ بدھمت، ہندومت اور ایسے ہی دیگر مذہبوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ہم رات گئے تک اِس موضوع پر گفتگو کرتے تھے کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ مَیں اور پیٹرک خدا کو نہیں مانتے تھے پھر بھی ہمیں یقین تھا کہ کوئی ایسی قوت تو ہے جس کی وجہ سے زندگی وجود میں آتی ہے اور قائم رہتی ہے۔
جب ہم کام کی تلاش میں شمالی اِنگلینڈ میں گئے تو وہاں ہمارا بیٹا پیدا ہوا۔ ایک دن جب وہ بہت بیمار تھا تو مَیں خدا سے دُعا کرنے لگی حالانکہ مَیں اُس پر ایمان نہیں رکھتی تھی۔ اِس کے تھوڑی دیر بعد میرے اور پیٹرک کے درمیان مشکلات کھڑی ہو گئیں اور مَیں اپنے بچے کو لے کر گھر سے چلی گئی۔ مَیں نے پھر یہ سوچ کر دُعا کی کہ شاید کوئی ہو جو میری دُعا سن لے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ پیٹرک بھی اِس معاملے کے بارے میں دُعا کر رہا ہے۔
اُسی دن دو یہوواہ کے گواہ پیٹرک کے گھر آئے اور اُسے بائبل سے کچھ مشورے دئے۔ پیٹرک نے مجھے فون کِیا اور بتایا کہ وہ یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کر رہا ہے۔ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ ”کیا تُم بھی بائبل کا مطالعہ کرنا چاہو گی؟“ مَیں نے ہاں کہہ دی۔ ہم دونوں مل کر یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ مطالعہ کرنے لگے۔ ہم نے یہ سیکھا کہ خدا کی قربت حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم قانونی طور پر شادی کریں۔ چونکہ ہمارے تعلقات میں دراڑ پڑ چکی تھی اِس لئے ہمیں شادی کرنا مشکل لگ رہا تھا۔
ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ بائبل کی پیشینگوئیاں کیسے پوری ہو رہی ہیں، دُنیا میں دُکھتکلیف کیوں ہے اور خدا کی بادشاہت کیا ہے۔ آہستہآہستہ ہم یہ سمجھ گئے کہ خدا ہم سے محبت کرتا ہے۔ ہم اُس کے حکموں پر عمل کرنا چاہتے تھے اِس لئے ہم نے قانونی طور پر شادی کر لی۔ خدا کے کلام میں درج اصولوں پر عمل کرنے سے ہم نے اپنے تین بچوں کی اچھی پرورش کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہوواہ خدا نے ہماری دُعاؤں کا جواب دیا ہے۔“
خود تحقیق کریں
اِس مضمون میں جن لوگوں کا ذکر کِیا گیا ہے، وہ جھوٹے مذہب کے چنگل میں نہیں پھنسے۔ اُنہیں اِس سوال کا جواب مل گیا ہے کہ خدا نے ابھی تک دُکھتکلیف کو ختم کیوں نہیں کِیا۔ کیا آپ نے غور کِیا کہ یہ لوگ اِس بات کے قائل کیسے ہوئے کہ یہوواہ خدا دُعاؤں کو سنتا ہے؟ وہ اِس لئے قائل ہوئے کیونکہ اُنہوں نے بائبل سے سچی تعلیم حاصل کی ہے۔
کیا آپ اِس بات کے ثبوت پر غور کرنا چاہیں گے کہ خدا واقعی موجود ہے؟ یہوواہ کے گواہ خوشی سے آپ کی مدد کریں گے تاکہ آپ خدا کے بارے میں سیکھ سکیں اور یہ جانیں کہ آپ خدا کی قربت کیسے حاصل کر سکتے ہیں جو ’دُعاؤں کا سننے والا‘ ہے۔—زبور ۶۵:۲۔
[فٹنوٹ]
a یسوع مسیح کی قربانی کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے باب نمبر ۵ کو دیکھیں۔ اِس کتاب کو یہوواہ کے گواہوں نے شائع کِیا ہے۔
b یہ کتاب یہوواہ کے گواہوں نے شائع کی ہے۔
[صفحہ ۱۰ پر عبارت]
”جب مَیں یہ سمجھ گیا کہ انسانوں کے لئے یہوواہ خدا کا مقصد کیا ہے تو مجھے لگا کہ مَیں اُس کی قربت میں آ گیا ہوں اور اب دل کھول کر اُس سے بات کر سکتا ہوں۔“
[صفحہ ۹ پر تصویر]
حقیقی ایمان ٹھوس ثبوتوں پر مبنی ہوتا ہے۔