ہم کسی عزیز کی موت کے غم پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟
”[یعقوب] کے سب بیٹے بیٹیاں اُسے تسلی دینے جاتے تھے پر اُسے تسلی نہ ہوتی تھی۔ وہ یہی کہتا رہا کہ مَیں تو ماتم ہی کرتا ہوا قبر میں اپنے بیٹے سے جا ملوں گا۔ سو اُس کا باپ اُس کے لئے روتا رہا۔“—پیدایش ۳۷:۳۵۔
یعقوب اپنے بیٹے کی موت کے باعث بہت غمزدہ تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ اُسے اِس غم کو اپنی موت تک سہنا پڑے گا۔ شاید آپ بھی یعقوب کی طرح یہ محسوس کریں کہ آپ کبھی بھی اِس صدمے سے باہر نہیں نکل پائیں گے۔ کیا اتنا شدید غم خدا پر ایمان کی کمی کو ظاہر کرتا ہے؟ ہرگز نہیں!
یعقوب اپنے دادا ابرہام اور اپنے باپ اضحاق کی طرح مضبوط ایمان رکھتا تھا۔ اِسی وجہ سے بائبل میں اُن کے ساتھ ساتھ یعقوب کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ (عبرانیوں ۱۱:۸، ۹، ۱۳) اُس کا ایمان اِس قدر مضبوط تھا کہ ایک موقع پر خدا کی برکت حاصل کرنے کے لئے وہ ساری رات ایک فرشتے کے ساتھ کشتی لڑتا رہا! (پیدایش ۳۲:۲۴-۳۰) بِلاشُبہ، یعقوب یہوواہ خدا کے ساتھ مضبوط رشتہ رکھتا تھا۔ پس، ہم یعقوب کے اپنے بیٹے کے لئے ماتم کرنے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ کسی عزیز کی موت پر ماتم کرنا خدا پر ایمان کی کمی کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔
غم ہمیں کیسےمتاثر کرتا ہے؟
کسی عزیز کی موت کا غم ہمیں مختلف طرح سے متاثر کر سکتا ہے۔ بیشتر لوگ اِس غم کی وجہ سے شدید جذباتی تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ذرا لیونارڈو کی مثال پر غور کریں۔ جب وہ چودہ سال کا تھا تو اُس کے والد قلبیوتنفّسی امراض (دل اور پھیپھڑوں میں نقص) کی وجہ سے اچانک وفات پا گئے۔ لیونارڈو اُس دن کو کبھی نہیں بھول سکتا جب اُس کی خالہ نے اُسے اُس کے والد کی موت کی خبر سنائی تھی۔ اُسے اپنی خالہ کی بات پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ حتیٰکہ اپنے والد کا جنازہ دیکھنے کے بعد بھی اُس کے لئے اِس حقیقت کو تسلیم کرنا مشکل تھا۔ تقریباً چھ مہینے تک لیونارڈو کھویا کھویا سا رہتا تھا۔ وہ اکثر اپنے والد کے کام سے لوٹنے کا انتظار کِیا کرتا تھا۔ اِس بات کو تسلیم کرنے میں اُسے تقریباً ایک سال لگ گیا کہ اُس کے والد وفات پا چکے ہیں۔ اس کے بعد وہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں اُسے اپنے والد کی یاد دلاتی تھیں۔ مثلاً جب وہ گھر لوٹتا تو خالی گھر اُسے اُس کے والد کی غیرموجودگی کا احساس دلاتا تھا۔ بعضاوقات وہ اِس حد تک اپنے والد کی کمی محسوس کرتا کہ دلبرداشتہ ہوکر رونے لگتا!
لیونارڈو کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ کسی عزیز کی موت کا غم بہت شدید ہو سکتا ہے۔ تاہم، اِس غم پر قابو پانا ممکن ہے۔ لیکن ایسا کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ جس طرح کسی گہرے زخم کو بھرنے میں وقت لگتا ہے اُسی طرح کسی عزیز کی موت کے صدمے سے نکلنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ اِس غم پر قابو پانے میں کئی مہینے یا کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی تکلیف، مایوسی اور اُداسی کم ہوتی جائیں گی۔
کہا جاتا ہے کہ غم کا اظہار کرنا صدمے سے باہر نکلنے اور نئی صورتحال کو قبول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کسی عزیز کی موت ہماری زندگی میں ایک خلا پیدا کر دیتی ہے مگر ہمیں اُس کے بغیر جینا سیکھنا پڑتا ہے۔ غم آپ کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہر شخص مختلف طرح سے اپنے غم کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ اپنے غم کو دبانا ذہنی، جذباتی اور جسمانی طور پر نقصاندہ ہو سکتا ہے۔ آپ کن طریقوں سے اپنے غم کا اظہار کر سکتے ہیں؟ اِس سلسلے میں بائبل چند عملی تجاویز پیش کرتی ہے۔
کسی عزیز کی موت کے غم پر قابو پانا
بہتیرے غمزدہ اشخاص نے دوسروں سے بات کرنے کو مفید پایا ہے۔ مثال کے طور پر، بائبل میں درج ایوب کے الفاظ پر غور کریں۔ جب اُسکے دس بچے فوت ہو گئے اور اُسے دیگر مشکلات بھی برداشت کرنی پڑیں تو اُس نے کہا: ”مَیں اپنی زندگی سے بیزار ہو چکا ہوں؛ لہٰذا مَیں دل کھول کر شکوہ کرونگا اور دل کی بھڑاس نکال دُوں گا۔“ (ایوب ۱:۲، ۱۸، ۱۹؛ ۱۰:۱، نیو اُردو بائبل ورشن) غور کریں کہ ایوب ”دل کھول کر“ شکوہ کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے ایسا کیسے کِیا؟ اُس نے کہا کہ ”مَیں . . . بھڑاس نکال دُوں گا۔“
پاؤلو جس کی والدہ وفات پا چکی ہیں کہتا ہے: ”اپنی ماں کے بارے میں باتچیت کرنے سے مجھے اپنے غم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔“ لہٰذا، کسی قابلِبھروسا دوست سے اپنے احساسات کے بارے میں بات کرنے سے آپ کو تسلی مل سکتی ہے۔ (امثال ۱۷:۱۷) یون نامی ایک بہن نے اپنی ماں کی وفات کے بعد اپنی کلیسیا کے بہنبھائیوں سے کہا کہ وہ اُس کے پاس آتے رہا کریں۔ وہ کہتی ہے کہ ”دوسروں کے ساتھ باتچیت کرنے سے غم کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔“ آپ خود بھی محسوس کریں گے کہ کسی ایسے شخص کے سامنے اپنے احساسات کو بیان کرنے سے آپ کے لئے اپنے غم پر قابو پانا آسان ہو گا جو آپ کی بات کو توجہ سے سنتا ہے۔
آپ لکھ کر بھی اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنے احساسات کے بارے میں بات کرنا مشکل پاتے ہیں وہ لکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا آسان پاتے ہیں۔ ساؤل اور یونتن کی موت کے بعد داؤد نے ایک غمناک گیت لکھ کر اپنے رنج کا اظہار کِیا۔ بائبل میں یہ مرثیہ دوسرا سموئیل کی کتاب میں درج ہے۔—۲-سموئیل ۱:۱۷-۲۷۔
رونے سے بھی آپ اپنے جذباتی دباؤ کو کم کر سکتے ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے: ’ہر چیز کا ایک موقع ہے رونے کا بھی ایک وقت ہے۔‘ (واعظ ۳:۱، ۴) بِلاشُبہ، کسی عزیز کی موت ’رونے کا وقت‘ ہوتا ہے۔ غم کے اظہار میں رونا شرمندگی کی بات نہیں ہے۔ بائبل میں ایسے وفادار اشخاص کی بہت سی مثالیں درج ہیں جنہوں نے اپنے غم کا اظہار رو کر کِیا۔ (پیدایش ۲۳:۲؛ ۲-سموئیل ۱:۱۱، ۱۲) اپنے عزیز دوست لعزر کی موت پر یسوع کے بھی ”آنسو بہنے لگے۔“—یوحنا ۱۱:۳۳، ۳۵۔
چونکہ کسی عزیز کی موت کے غم پر قابو پاتے وقت آپ کے جذبات میں اچانک بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں اِس لئے صبر کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کو آنسو بہانے پر شرمندگی محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ بہتیرے وفادار مسیحیوں نے اِس بات کا تجربہ کِیا ہے کہ غم کے اظہار میں آنسو بہانا نہ صرف ایک فطری عمل ہے بلکہ یہ کسی عزیز کی موت کے دُکھ کو برداشت کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
خدا کے نزدیک جائیں
بائبل ہمیں بتاتی ہے: ”خدا کے نزدیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔“ (یعقوب ۴:۸) خدا کے نزدیک جانے کا بہترین طریقہ دُعا ہے۔ لہٰذا، اِسے کبھی معمولی خیال نہ کریں۔ بائبل یہ تسلیبخش وعدہ کرتی ہے: ”[یہوواہ] شکستہ دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔“ (زبور ۳۴:۱۸) یہ ہمیں یقیندہانی کراتی ہے: ”اپنا بوجھ [یہوواہ] پر ڈالدے۔ وہ تجھے سنبھالے گا۔ وہ صادق کو کبھی جنبش نہ کھانے دے گا۔“ (زبور ۵۵:۲۲) جیساکہ ہم پہلے اِس بات پر غور کر چکے ہیں کہ بہتیرے لوگوں نے اپنے احساسات کے بارے میں کسی قابلِبھروسا دوست سے باتچیت کرنے کو فائدہمند پایا ہے۔ ذرا سوچیں کہ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم خدا کے حضور اپنے احساسات کو بیان کریں جو ہمارے دلوں کو تسلی دینے کا وعدہ کرتا ہے؟—۲-تھسلنیکیوں ۲:۱۶، ۱۷۔
پاؤلو جس کا پہلے ذکر کِیا گیا وہ کہتا ہے: ”جب مَیں یہ محسوس کرتا تھا کہ اب مَیں اِس تکلیف کو مزید برداشت نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنے اِس غم پر قابو پا سکتا ہوں تو مَیں گھٹنوں کے بل جھکتا اور مدد کے لئے خدا سے درخواست کرتا تھا۔“ پاؤلو کو پورا یقین ہے کہ دُعا کرنے سے اُسے اپنے غم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ آپ بھی اِس بات کا تجربہ کر سکتے ہیں کہ جب آپ بِلاناغہ دُعا کرتے ہیں تو ”ہر طرح کی تسلی کا خدا“ آپ کو اِس غم پر قابو پانے کے لئے ہمت اور طاقت عطا کرتا ہے۔—۲-کرنتھیوں ۱:۳، ۴؛ رومیوں ۱۲:۱۲۔
مُردے جی اُٹھیں گے
یسوع مسیح نے کہا: ”قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے توبھی زندہ رہے گا۔“ (یوحنا ۱۱:۲۵) بائبل ہمیں مُردوں کے جی اُٹھنے کی تعلیم دیتی ہے۔ جب یسوع مسیح زمین پر تھا تو اُس نے ظاہر کِیا کہ وہ مُردوں کو زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ایک موقع پر، اُس نے ایک بارہ سالہ لڑکی کو زندہ کِیا۔ اِس پر اُس لڑکی کے والدین نے کیسا ردِعمل دکھایا؟ وہ یہ دیکھ کر ”بہت حیران ہوئے۔“ (مرقس ۵:۴۲) یسوع مسیح زمین پر اپنی بادشاہت میں پُرامن اور راست ماحول میں بیشمار مُردوں کو زندہ کرے گا۔ (اعمال ۲۴:۱۵؛ ۲-پطرس ۳:۱۳) ذرا تصور کریں کہ جب مُردے زندہ ہو کر دوبارہ اپنے عزیزوں سے ملیں گے تو وہ کتنا خوشکُن وقت ہوگا!a
کلاؤڈیٹی نے ایک ہوائی حادثے میں اپنا بیٹا کھو دیا۔ اُس نے اپنے بیٹے ریناٹو کی تصویر فریج پر رکھی ہوئی ہے۔ وہ اکثر اُس کی تصویر کو دیکھتی اور کہتی ہے: ”جب مُردے زندہ ہوں گے تو ہم دوبارہ ملیں گے۔“ لیونارڈو بھی خدا کے وعدے کے مطابق فردوس میں اپنے والد کو دوبارہ زندہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ جیہاں، مُردوں کے جی اُٹھنے کی اُمید نہ صرف اِن کے لئے بلکہ بیشمار دیگر لوگوں کے لئے بھی حقیقی تسلی کا باعث ہے جن کے عزیز موت کی وجہ سے اُن سے بچھڑ گئے ہیں۔ یہ اُمید آپ کے لئے بھی تسلی کا سبب بن سکتی ہے!
[فٹنوٹ]
a بائبل میں درج مُردوں کے جی اُٹھنے کی اُمید کے بارے میں مزید معلومات کے لئے یہوواہ کے گواہوں کی شائعکردہ کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے باب ۷ کو دیکھیں۔
[صفحہ ۴ پر بکس/تصویر]
”ہر طرح کی تسلی کا خدا“
”ہمارے خداوند یسوؔع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جو رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تسلی کا خدا ہے۔“—۲-کرنتھیوں ۱:۳۔
بائبل کی یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ خدا ہر مشکل اور پریشانی میں اپنے وفادار خادموں کی مدد کر سکتا ہے۔ وہ ہمارے کسی ہمایمان دوست یا عزیز کے ذریعے تسلی فراہم کر سکتا ہے۔
لیونارڈو جس کے والد وفات پا چکے ہیں یاد کرتا ہے کہ اُسے تقویت اور تسلی کیسے ملی۔ ایک دن جب وہ گھر پہنچا تو اُسے یاد آیا کہ گھر پر تو کوئی نہیں ہے۔ اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر وہ رونے لگا۔ اِس کے بعد وہ گھر کے نزدیک ایک پارک میں چلا گیا اور وہاں ایک بینچ پر بیٹھ کر مسلسل روتا رہا۔ روتے روتے اُس نے خدا سے مدد کی درخواست کی۔ اچانک قریب ہی ایک گاڑی آکر رُکی اور لیونارڈو نے دیکھا کہ گاڑی کا ڈرائیور اُس کی کلیسیا کا ایک بھائی ہے۔ اُس بھائی کا کام لوگوں کو مختلف چیزیں پہنچانا تھا۔ وہ غلطی سے اِس سڑک پر آ گیا تھا۔ اُس بھائی کو دیکھ لینے سے ہی لیونارڈو کو تسلی مل گئی۔
ایک دوسرے شخص کی مثال پر غور کریں جس کی بیوی فوت ہو چکی ہے۔ ایک دن وہ بہت افسردہ تھا اور خود کو بہت تنہا محسوس کر رہا تھا۔ نااُمیدی کی وجہ سے وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہیں سکتا تھا۔ وہ خدا سے مدد کے لئے التجا کرنے لگا۔ جب وہ دُعا کر رہا تھا تو فون کی گھنٹی بجی۔ یہ اُس کی نواسی کا فون تھا۔ وہ یاد کرتا ہے: ”ہماری مختصر سی باتچیت نے مجھے بہت حوصلہ دیا۔ اگرچہ میری کوئی عملی مدد تو نہیں ہوئی مگر مَیں نے محسوس کِیا کہ میری نواسی کا فون میری دُعا کا جواب تھا۔“
[صفحہ ۶ پر بکس]
دوسروں کو تسلی دیں
”[خدا] ہماری سب مصیبتوں میں ہم کو تسلی دیتا ہے تاکہ ہم اُس تسلی کے سبب سے جو خدا ہمیں بخشتا ہے اُن کو بھی تسلی دے سکیں جو کسی طرح کی مصیبت میں ہیں۔“—۲-کرنتھیوں ۱:۴۔
بہت سے سچے مسیحیوں نے ذاتی طور پر اِن الفاظ کی صداقت کا تجربہ کِیا ہے۔ کسی عزیز کی موت کے غم پر قابو پانے کے لئے تسلی حاصل کرنے کے بعد وہ بھی دوسروں کو حوصلہ اور تسلی دینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
ذرا کلاؤڈیٹی کی مثال پر غور کریں جو بائبل پر مبنی اپنے اعتقادات کے بارے میں بتانے کے لئے باقاعدگی سے لوگوں کے پاس جاتی ہے۔ کلاؤڈیٹی اپنے بیٹے کی موت سے پہلے ایک عورت کے پاس بائبل سے باتچیت کرنے کے لئے جایا کرتی تھی جس کا بیٹا لوکیمیا (خون کا سرطان) کی وجہ سے مر گیا تھا۔ وہ عورت کلاؤڈیٹی سے مل کر خوش ہوتی تھی مگر اُسے لگتا تھا کہ کلاؤڈیٹی اُس کے غم کو پوری طرح سے نہیں سمجھ سکتی ہے۔ تاہم، کچھ ہی عرصہ بعد کلاؤڈیٹی کا بیٹا بھی مر گیا۔ وہ عورت یہ دیکھنے کے لئے کلاؤڈیٹی سے ملنے کے لئے آئی کہ آیا وہ اپنے بیٹے کی موت کے بعد بھی خدا پر ایمان رکھتی ہے۔ کلاؤڈیٹی کے مضبوط ایمان سے متاثر ہوکر وہ عورت اُس کے ساتھ باقاعدگی سے بائبل کا مطالعہ کر رہی ہے اور خدا کے کلام سے تسلی حاصل کر رہی ہے۔
لیونارڈو نے اپنے والد کی وفات کے بعد بہرے لوگوں کو بائبل کا تسلیبخش پیغام سنانے کے لئے اشاروں کی زبان سیکھنے کا فیصلہ کِیا۔ بہرے لوگوں کی مدد کرنے کی اُس کی کوششوں سے اُسے خود بھی بہت سے فائدے حاصل ہوئے۔ وہ کہتا ہے: ”بہرے لوگوں کو خدا کے بارے میں سچائی سکھانے کی میری خواہش نے مجھے اپنے والد کی موت کے غم پر قابو پانے میں مدد دی ہے۔ مَیں نے بہرے لوگوں کی مدد کرنے میں اپنا بہت سا وقت اور توانائی صرف کی ہے۔ میری افسردگی اُس وقت خوشی میں بدل گئی جب میرے پہلے بائبل طالبعلم نے بپتسمہ لیا! درحقیقت، اپنے والد کی موت کے بعد مَیں نے پہلی بار اتنی زیادہ خوشی محسوس کی تھی۔“—اعمال ۲۰:۳۵۔
[صفحہ ۳ پر تصویر]
دوسروں کے ساتھ اپنے احساسات کے بارے میں باتچیت کرنے سے آپ کو تسلی مل سکتی ہے
[صفحہ ۵ پر تصویر]
آپ لکھ کر اپنے غم کا اظہار کر سکتے ہیں
[صفحہ ۵ پر تصویر]
مُردوں کے جی اُٹھنے کی بابت پڑھنے سے بھی آپ کو حقیقی تسلی مل سکتی ہے