اَے شوہرو! یسوع مسیح کی سرداری کی نقل کرو
”ہر مرد کا سر مسیح“ ہے۔—۱-کرنتھیوں ۱۱:۳۔
۱، ۲. (ا) ایک شوہر کی کامیابی کا اندازہ کس بات سے لگایا جا سکتا ہے؟ (ب) شادی کو خدائی بندوبست تسلیم کرنا کیوں ضروری ہے؟
آپ ایک شوہر کی کامیابی کا اندازہ کیسے لگائینگے؟ کیا آپ اسکا اندازہ اس بات سے لگائینگے کہ وہ بہت زیادہ ذہین ہے، جسمانی طور پر طاقتور ہے، بہت زیادہ پیسہ کماتا ہے یا اس سے کہ وہ اپنے بیویبچوں کیلئے محبت دکھاتا اور اُنکا خیال رکھتا ہے۔ اگر بیویبچوں کیساتھ شوہر کے برتاؤ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بہتیرے اس دُنیا کی رُوح اور انسانی معیاروں کے مطابق چلنے کی وجہ سے محبت اور مہربانی جیسی خوبیاں ظاہر کرنے میں کوتاہی برتتے ہیں۔ مگر کیوں؟ اسلئےکہ وہ شادی کے بانی یہوواہ خدا کو جاننے اور اُسکی راہنمائی کا اطلاق کرنے میں غفلت برتتے ہیں۔ یہوواہ خدا ”اُس پسلی سے جو اُس نے آؔدم میں سے نکالی تھی ایک عورت بناکر اُسے آؔدم کے پاس لایا“ تھا۔—پیدایش ۲:۲۱-۲۴۔
۲ یسوع مسیح نے بھی بائبل کے اس بیان کی تصدیق کی کہ شادی کا بندوبست خدا کی طرف سے ہے۔ اُس نے اپنے تنقید کرنے والے فریسیوں کو جواب دیا: ”کیا تُم نے نہیں پڑھا کہ جس نے اُنہیں بنایا اُس نے ابتدا ہی سے اُنہیں مرد اور عورت بنا کر کہا کہ۔ اِس سبب سے مرد باپ سے اور ماں سے جُدا ہوکر اپنی بیوی کے ساتھ رہے گا اور وہ دونوں ایک جسم ہوں گے؟ پس وہ دو نہیں بلکہ ایک جسم ہیں۔ اِس لئے جِسے خدا نے جوڑا ہے اُسے آدمی جُدا نہ کرے۔“ (متی ۱۹:۴-۶) اصل بات یہ ہے کہ شادی کی کامیابی کا انحصار اسے خدائی بندوبست سمجھنے اور خدا کے کلام بائبل میں پائی جانے والی ہدایات کا اطلاق کرنے پر ہے۔
ایک کامیاب شوہر بننے کا طریقہ
۳، ۴. (ا) یسوع مسیح شادی کے بندوبست کی بابت بہت زیادہ علم کیوں رکھتا ہے؟ (ب) یسوع مسیح کی علامتی بیوی کون ہے، اور شوہروں کو بیویوں کیساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟
۳ ایک کامیاب شوہر بننے کے لئے یسوع مسیح کی تعلیمات کا مطالعہ کرنا اور اُس کے نمونے کی نقل کرنا ضروری ہے۔ وہ شادی کے بندوبست کی بابت بہت زیادہ علم رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے انسانی جوڑے کی تخلیق اور شادی کے وقت موجود تھا۔ یہوواہ خدا نے یسوع سے کہا: ”ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبِیہ کی مانند بنائیں۔“ (پیدایش ۱:۲۶) اس آیت میں استعمال ہونے والے الفاظ ”ہم“ اور ”اپنی“ ظاہر کرتے ہیں کہ خدا اُس ہستی سے مخاطب تھا جو اُس کی سب سے پہلی تخلیق اور ”ماہر کاریگر کی مانند . . . اُس کے پاس“ تھی۔ (امثال ۸:۲۲-۳۰) وہ ”تمام مخلوقات سے پہلے مولود“ ہے۔ وہ ”خدا کی خلقت کا مبدا“ ہے۔ وہ ہماری اس کائنات کے خلق کئے جانے سے بھی پہلے موجود تھا۔—کلسیوں ۱:۱۵؛ مکاشفہ ۳:۱۴۔
۴ یسوع مسیح کو علامتی معنوں میں ”خدا کا برّہ“ اور ایک شوہر کہا گیا ہے۔ ایک فرشتے نے کہا: ”اِدھر آ۔ مَیں تجھے دُلہن یعنی برّہ کی بیوی دکھاؤں۔“ (یوحنا ۱:۲۹؛ مکاشفہ ۲۱:۹) یہ دُلہن یعنی بیوی کون ہے؟ ”برّہ کی بیوی“ مسیح کے وفادار ممسوح پیروکار ہیں جو آسمانی حکومت میں اُس کے ساتھ شریک ہوں گے۔ (مکاشفہ ۱۴:۱، ۳) جب یسوع زمین پر تھا تو اُس کا اپنے شاگردوں کے ساتھ برتاؤ شوہروں کے لئے اپنی بیویوں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں نمونہ فراہم کرتا ہے۔
۵. یسوع مسیح خاص طور پر کن کے لئے نمونہ فراہم کرتا ہے؟
۵ بائبل میں یسوع مسیح کو اُس کے تمام پیروکاروں کے لئے نمونے کے طور پر پیش کِیا گیا ہے۔ ہم پڑھتے ہیں: ”مسیح بھی تمہارے واسطے دُکھ اُٹھا کر تمہیں ایک نمونہ دے گیا ہے تاکہ اُس کے نقشِقدم پر چلو۔“ (۱-پطرس ۲:۲۱) لیکن یسوع مسیح خاص طور پر مردوں کے لئے ایک نمونہ ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”ہر مرد کا سر مسیح اور عورت کا سر مرد اور مسیح کا سر خدا ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۳) یسوع مسیح مرد کا سر ہے اس لئے شوہروں کو اُس کے نمونے کی نقل کرنی چاہئے۔ خاندان کی کامیابی اور خوشی کے لئے سرداری کے اصول کو عمل میں لانا چاہئے۔ یسوع مسیح اپنی علامتی بیوی یعنی اپنے ممسوح شاگردوں کے ساتھ محبت سے پیش آیا۔ خوشی حاصل کرنے کے لئے شوہروں کو بھی اپنی بیویوں کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے۔
شادیشُدہ زندگی کے مسائل کا مقابلہ کیسے کریں؟
۶. شوہروں کو اپنی بیویوں کے ساتھ کیسے بسر کرنا چاہئے؟
۶ اس بُری دُنیا میں، شوہروں کو خاص طور پر یسوع کے صبر، محبت اور راست اصولوں کی نقل کرنی چاہئے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) یسوع مسیح کے قائمکردہ نمونے کے سلسلے میں بائبل بیان کرتی ہے: ”اَے شوہرو! تُم بھی [اپنی] بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرو۔“ (۱-پطرس ۳:۷) جس طرح یسوع مسیح نے مشکلات کا مقابلہ کِیا اُسی طرح شوہروں کو عقلمندی سے شادیشُدہ زندگی کے مسائل کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ یسوع مسیح نے کسی بھی انسان کی نسبت سب سے زیادہ آزمائشوں کا سامنا کِیا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کی یہ آزمائشیں شیطان، اُس کے شیاطین اور اس بُری دُنیا کی طرف سے ہیں۔ (یوحنا ۱۴:۳۰؛ افسیوں ۶:۱۲) یسوع مسیح کبھی بھی آزمائشوں سے گھبرایا نہیں تھا۔ اس لئے شادیشُدہ جوڑوں کو ”جسمانی تکلیف“ کا سامنا کرتے وقت پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ بائبل آگاہ کرتی ہے کہ شادی کرنے والے ایسی تکلیف اُٹھائیں گے۔—۱-کرنتھیوں ۷:۲۸۔
۷، ۸. (ا) بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟ (ب) بیویاں عزت کی مستحق کیوں ہیں؟
۷ بائبل بیان کرتی ہے کہ شوہروں کو اپنی بیویوں کے ساتھ ”عقلمندی سے بسر“ کرنا چاہئے اور ”عورت کو نازکظرف جان کر اُس کی عزت“ کرنی چاہئے۔ (۱-پطرس ۳:۷) بائبل میں پیشینگوئی کی گئی تھی کہ عام طور پر مرد عورت پر سختی سے حکومت کرے گا۔ (پیدایش ۳:۱۶) تاہم، شوہر ظالمانہ طریقے سے اپنی بیوی پر حکومت کرنے کی بجائے خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس کے ساتھ عزتواحترام سے پیش آئے گا۔ اُس کی خواہش ہوگی کہ وہ اسے ایک قیمتی تحفے کی طرح رکھے اور کبھی بھی اپنی جسمانی طاقت کے استعمال سے اُسے دُکھ نہ پہنچائے۔ وہ اُس کے ساتھ عزتواحترام سے پیش آتے ہوئے ہمیشہ اس کے جذباتواحساسات کا خیال رکھے گا۔
۸ شوہروں کو اپنی بیویوں کا مناسب احترام کیوں کرنا چاہئے؟ بائبل جواب دیتی ہے: ”یوں سمجھو کہ ہم دونوں زندگی کی نعمت کے وارث ہیں تاکہ تمہاری دُعائیں رُک نہ جائیں۔“ (۱-پطرس ۳:۷) شوہروں کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہوواہ خدا اپنی پرستش کرنے والے مرد کو کسی بھی طرح عورت سے برتر نہیں سمجھتا۔ وہ دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے۔ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے والی عورتیں بھی مردوں کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی کا اَجر حاصل کریں گی۔ یہانتک کہ بیشتر عورتیں آسمان پر جہاں ”نہ کوئی مرد اور نہ عورت“ ہے زندگی حاصل کرتی ہیں۔ (گلتیوں ۳:۲۸) لہٰذا، شوہروں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کسی شخص کی وفاداری اُسے خدا کے نزدیک بیشقیمت بناتی ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، شوہر ہو یا بیوی یا پھر بچہ۔—۱-کرنتھیوں ۴:۲۔
۹. (ا) پطرس رسول کے مطابق شوہروں کو اپنی بیویوں کی عزت کیوں کرنی چاہئے؟ (ب) یسوع مسیح نے عورتوں کے لئے عزتواحترام کیسے ظاہر کِیا؟
۹ پہلا پطرس ۳:۷ کے آخری الفاظ بیان کرتے ہیں: ”تاکہ تمہاری دُعائیں رُک نہ جائیں۔“ یہ الفاظ شوہروں کے اپنی بیویوں کے ساتھ عزتواحترام سے پیش آنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ اگر دُعائیں رُک جاتی ہیں تو یہ کسقدر خطرناک ہو سکتا ہے! شوہروں کے اپنی بیویوں کے ساتھ عزتواحترام سے پیش نہ آنے کی وجہ سے اُن کی دُعائیں رُک سکتی ہیں جیساکہ ماضی میں خدا کے بعض غافل خادموں کے ساتھ ہوا تھا۔ (نوحہ ۳:۴۳، ۴۴) دانشمند شادیشُدہ اور شادی کی بابت سوچنے والے مسیحی مرد عورتوں کے ساتھ یسوع مسیح کے عمدہ برتاؤ پر غور کریں گے۔ یسوع مسیح نے اپنے ساتھ منادی کرنے والے لوگوں میں عورتوں کو شامل کِیا اور اُن کے ساتھ مہربانی اور عزت سے پیش آیا۔ ایک موقع پر تو یسوع نے ایک اہم سچائی کو عورتوں پر ظاہر کِیا اور اُنہیں کہا جاکر آدمیوں کو اس کی خبر کرو!—متی ۲۸:۱، ۸-۱۰؛ لوقا ۸:۱-۳۔
خاص طور پر شوہروں کے لئے نمونہ
۱۰، ۱۱. (ا) خاص طور پر شوہروں کو یسوع مسیح کے نمونے پر کیوں غور کرنا چاہئے؟ (ب) شوہروں کو اپنی بیویوں کے لئے محبت کیسے ظاہر کرنی چاہئے؟
۱۰ جیساکہ پہلے بیان کِیا گیا، بائبل شوہر اور بیوی کے رشتے کا موازنہ مسیح کے اپنی ”دلہن“ یعنی اپنے ممسوح پیروکاروں کی کلیسیا کے ساتھ کرتی ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”شوہر بیوی کا سر ہے جیسےکہ مسیح کلیسیا کا سر ہے۔“ (افسیوں ۵:۲۳) ان الفاظ سے شوہروں کو یسوع مسیح کے اپنے پیروکاروں کے لئے فراہمکردہ سرداری کے نمونے کا جائزہ لینے کی تحریک ملنی چاہئے۔ ایسا کرنے سے شوہر کلیسیا کیساتھ یسوع مسیح کے برتاؤ کی نقل کرتے ہوئے اپنی بیویوں کی راہنمائی کرنے اور اُن کے لئے محبت اور فکر ظاہر کرنے کے قابل ہوں گے۔
۱۱ بائبل مسیحیوں کو تاکید کرتی ہے: ”اَے شوہرو! اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کرکے اپنےآپ کو اُس کے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔“ (افسیوں ۵:۲۵) افسیوں چار باب میں ”کلیسیا“ کو ”مسیح کا بدن“ کہا گیا ہے۔ اس علامتی بدن کے تمام ارکان بدن کو صحیح طور پر کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ بِلاشُبہ، یسوع ”بدن یعنی کلیسیا کا سر ہے۔“—افسیوں ۴:۱۲؛ کلسیوں ۱:۱۸؛ ۱-کرنتھیوں ۱۲:۱۲، ۱۳، ۲۷۔
۱۲. یسوع مسیح نے اپنے علامتی بدن کے لئے کیسے محبت ظاہر کی؟
۱۲ یسوع مسیح نے کلیسیا کے رُکن بننے والے لوگوں کے فائدے کے لئے کام کِیا۔ ایسا کرنے سے اُس نے اپنے علامتی بدن یعنی ”کلیسیا“ کے لئے محبت ظاہر کی۔ مثال کے طور پر، جب اُس کے شاگرد تھک گئے تو اُس نے کہا: ”تُم . . . الگ ویران جگہ میں چلے آؤ اور ذرا آرام کرو۔“ (مرقس ۶:۳۱) یسوع مسیح کی موت سے چند گھنٹے پہلے کا ذکر کرتے ہوئے یوحنا رسول نے لکھا: ’یسوؔع اپنے لوگوں یعنی اپنے علامتی بدن کے ارکان سے آخر تک محبت رکھتا رہا۔‘ (یوحنا ۱۳:۱) واقعی، یسوع مسیح نے شوہروں کے اپنی بیویوں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں شاندار نمونہ قائم کِیا!
۱۳. شوہروں کو اپنی بیویوں سے محبت رکھنے کی تاکید کیسے کی گئی ہے؟
۱۳ پولس رسول نے شوہروں کو یسوع مسیح کے نمونے پر عمل کرنے کی تاکید کی: ”شوہروں کو لازم ہے کہ اپنی بیویوں سے اپنے بدن کی مانند محبت رکھیں۔ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنےآپ سے محبت رکھتا ہے۔ کیونکہ کبھی کسی نے اپنے جسم سے دشمنی نہیں کی بلکہ اُس کو پالتا اور پرورش کرتا ہے جیسےکہ مسیح کلیسیا کو۔“ پولس رسول نے مزید بیان کِیا: ”تُم میں سے بھی ہر ایک اپنی بیوی سے اپنی مانند محبت رکھے۔“—افسیوں ۵:۲۸، ۲۹، ۳۳۔
۱۴. ایک شوہر اپنے جسم کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے، اور یہ بات اپنی بیوی کے ساتھ اُس کے برتاؤ کے سلسلے میں کیا ظاہر کرتی ہے؟
۱۴ ذرا پولس رسول کے الفاظ پر غور کریں۔ کیا ایک سمجھدار آدمی جانبوجھ کر اپنےآپ کو زخمی کرے گا؟ جب کسی شخص کے پاؤں پر چوٹ لگ جاتی ہے تو کیا وہ اپنے پاؤں کو مارتا ہے کہ اس کی وجہ سے اُسے ٹھوکر لگی ہے؟ ہرگز نہیں! کیا ایک شوہر اپنے دوستوں کے سامنے اپنی کمزوریوں کا چرچا کرکے اپنی عزت کم کرتا ہے؟ جینہیں! توپھر کیا وہ اپنی بیوی کی کسی غلطی پر اُسے بُرابھلا کہے گا یا اُسے مارےپیٹے گا؟ شوہروں کو صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنی بیوی کی بھلائی پر بھی غور کرنا چاہئے۔—۱-کرنتھیوں ۱۰:۲۴؛ ۱۳:۵۔
۱۵. (ا) جب یسوع مسیح کے شاگردوں نے انسانی کمزوری ظاہر کی تو اُس نے کیا کِیا؟ (ب) اس مثال سے کونسا سبق سیکھا جا سکتا ہے؟
۱۵ غور کریں کہ جب گتسمنی باغ میں یسوع مسیح کے شاگردوں نے اُس کی موت سے پہلے کی رات جسمانی کمزوری ظاہر کی تو اُس نے اُن کے لئے کیسے فکرمندی دکھائی۔ اُس نے ان سے مسلسل دُعا کرنے کے لئے کہا لیکن تینوں مرتبہ جب وہ آیا تو اُنہیں سوتے ہوئے پایا۔ اچانک سپاہی وہاں پہنچ گئے اور اُنہیں گھیر لیا۔ یسوع نے اُن سے پوچھا: ”کسے ڈھونڈتے ہو؟ اُنہوں نے اُسے جواب دیا کہ یسوؔع ناصری کو۔ یسوؔع نے اُن سے کہا مَیں ہی ہوں۔“ یہ جانتے ہوئے کہ اُس کی موت کا وقت نزدیک آ پہنچا ہے، اُس نے کہا: ”اگر مجھے ڈھونڈتے ہو تو اِنہیں جانے دو۔“ یسوع مسیح کے شاگرد اُس کی علامتی دُلہن کا ایک حصہ تھے۔ اس لئے اُس نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کی بھلائی پر توجہ دی اور اُن کے لئے نجات کی راہ فراہم کی۔ یسوع مسیح کے اپنے شاگردوں کے ساتھ برتاؤ پر غور کرنے سے شوہر ایسے بہت سے اصول جاننے کے قابل ہوں گے جن کا وہ اپنی بیویوں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اطلاق کر سکتے ہیں۔—یوحنا ۱۸:۱-۹؛ مرقس ۱۴:۳۴-۳۷، ۴۱۔
یسوع کی محبت جذباتی نہیں تھی
۱۶. یسوع مسیح نے کیسے مرتھا کے لئے فکرمندی ظاہر کی، اور اُس کی اصلاح کی؟
۱۶ بائبل بیان کرتی ہے: ”یسوؔع مرؔتھا اور اُس کی بہن اور لعزؔر سے محبت رکھتا تھا“ جو اُسے اکثر اپنے گھر پر مہمان کے طور پر ٹھہراتے تھے۔ (یوحنا ۱۱:۵) تاہم، جب مرتھا نے کھانا پکانے کو حد سے زیادہ توجہ دینے کی وجہ سے روحانی باتوں کے لئے کم وقت دیا تو یسوع مسیح اُسے مشورت دینے سے جھجکا نہیں۔ اُس نے کہا: ”مرؔتھا! مرؔتھا! تُو تو بہت سی چیزوں کی فکروتردد میں ہے۔ لیکن ایک چیز ضرور ہے۔“ (لوقا ۱۰:۴۱، ۴۲) بیشک یسوع مسیح کی شفقت نے مرتھا کے لئے اُس کی مشورت کو قبول کرنا آسان بنا دیا۔ اسی طرح شوہروں کو بھی اپنی بیویوں سے مہربانی اور محبت سے پیش آتے ہوئے مناسب الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔ جب اصلاح کی ضرورت ہو تو یسوع مسیح کی طرح کھل کر بات کرنا مناسب ہے۔
۱۷، ۱۸. (ا) پطرس رسول نے کیسے یسوع مسیح کو ملامت کی، اور اُس کی اصلاح کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ (ب) ایک شوہر کی کیا ذمہداری ہے؟
۱۷ ایک دوسرے موقع پر، یسوع مسیح نے اپنے رسولوں کو بتایا کہ وہ یرؔوشلیم جائے گا تاکہ وہاں ”بزرگوں اور سردار کاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے بہت دُکھ اُٹھائے اور قتل کِیا جائے اور تیسرے دن جی اُٹھے۔“ اس بات پر پطرس یسوع کو الگ لے گیا اور اسے یہ کہتے ہوئے ملامت کرنے لگا: ”اَے خداوند خدا نہ کرے۔ یہ تجھ پر ہرگز نہیں آنے کا۔“ صاف ظاہر ہے کہ پطرس نے جذبات میں آکر یہ بات کہی تھی۔ اِس لئے اُس کی اصلاح کرنے کی ضرورت تھی۔ یسوع مسیح نے اُس سے کہا: ”اَے شیطان میرے سامنے سے دُور ہو۔ تُو میرے لئے ٹھوکر کا باعث ہے کیونکہ تُو خدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال رکھتا ہے۔“—متی ۱۶:۲۱-۲۳۔
۱۸ یسوع مسیح نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی بیان کِیا تھا کہ اُس کیلئے خدا کی مرضی یہ ہے کہ وہ دُکھ اُٹھائے اور قتل کِیا جائے۔ (زبور ۱۶:۱۰؛ یسعیاہ ۵۳:۱۲) لہٰذا، پطرس رسول کا یسوع مسیح کو ملامت کرنا غلط تھا۔ پطرس کو تنبیہ کی ضرورت تھی جیساکہ اکثراوقات ہمیں بھی ہوتی ہے۔ شوہر کو خاندان کے سردار کے طور پر اپنی بیوی اور تمام خاندانی افراد کی اصلاح کرنے کی ذمہداری اور اختیار حاصل ہے۔ اگرچہ سختی کیساتھ تنبیہ کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے توبھی مہربانہ اور پُرمحبت انداز میں ایسا کِیا جانا چاہئے۔ یسوع مسیح نے معاملات کو دُرست نظر سے دیکھنے میں پطرس رسول کی مدد کی۔ شوہروں کو بھی بعض مواقع پر اپنی بیویوں کے ساتھ ایسے ہی پیش آنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر بیوی کا لباس، جیولری یا میکاَپ صحائف میں درج اصولوں سے ہٹنا شروع ہو جاتا ہے تو شوہر کو مہربانہ انداز میں بیوی کو یہ بتانے کی ضرورت ہو سکتی ہے کہ اُسے تبدیلی لانی چاہئے۔—۱-پطرس ۳:۳-۵۔
شوہروں کے لئے صابر ہونا فائدہمند ہے
۱۹، ۲۰. (ا) یسوع مسیح کے رسولوں میں کونسا مسئلہ پیدا ہو گیا، اور اُس نے اسے کیسے حل کِیا؟ (ب) یسوع مسیح کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوئیں؟
۱۹ اگر کسی غلطی کو دُرست کرنے کی ضرورت ہے تو شوہروں کو یہ توقع نہیں کرنی چاہئے کہ اُن کی کوششیں فوراً کامیاب ہو جائیں گی۔ یسوع مسیح نے اپنے رسولوں کے رُجحان کو دُرست کرنے کے لئے باربار کوشش کی۔ مثال کے طور پر، شاگردوں کے درمیان مقابلہبازی کی رُوح پیدا ہوگئی جو یسوع کی خدمتگزاری کے آخر پر دوبارہ ظاہر ہوئی۔ اُنہوں نے بحث کی کہ اُن میں بڑا کون ہے۔ (مرقس ۹:۳۳-۳۷؛ ۱۰:۳۵-۴۵) یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو دوسری مرتبہ نصیحت کرنے کے کچھ دیر بعد اُن کے ساتھ آخری فسح منانے کا بندوبست کِیا۔ اِس موقع پر رسولوں میں سے کوئی بھی اپنے علاقے کی رسم کے مطابق ایک دوسرے کے گردآلود پاؤں دھونے کے لئے آگے نہیں بڑھا۔ لہٰذا، یسوع مسیح نے اُن کے پاؤں دھوئے۔ اس کے بعد اُس نے کہا: ”مَیں نے تُم کو ایک نمونہ دکھایا ہے۔“—یوحنا ۱۳:۲-۱۵۔
۲۰ یسوع مسیح کی طرح فروتن رُجحان رکھنے والے شوہر بھی اپنی بیویوں کے ساتھ تعاون اور اُن کی حمایت کریں گے۔ مگر انہیں صبر کرنے کی ضرورت ہے۔ بعدازاں فسح کی رات رسول دوبارہ یہ بحث کرنے لگے کہ اُن میں سے بڑا کون ہے۔ (لوقا ۲۲:۲۴) اکثر رُجحان اور چالچلن کو تبدیل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ تاہم، اچھے نتائج حاصل کرنا واقعی بااَجر ہوتا ہے جیساکہ رسولوں کے معاملے میں ہوا!
۲۱. آجکل مشکلات کا سامنا کرتے وقت شوہروں کو کیا یاد رکھنے اور کرنے کی تاکید کی گئی ہے؟
۲۱ آجکل شادی کے بندھن میں پہلے سے کہیں زیادہ مشکلات ہیں۔ بیشتر لوگ اپنی شادی کے عہدوپیمان کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ اس لئے شوہروں کو شادی کے بانی کی نقل کرنی چاہئے۔ یاد رکھیں کہ شادی کا بندوبست ہمارے پُرمحبت خدا یہوواہ کی طرف سے ہے۔ اُس نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کو نہ صرف فدیہ اور نجات دینے کے لئے بخش دیا بلکہ اس لئے بھی کہ شوہر اُس کے نمونے کی نقل کریں۔—متی ۲۰:۲۸؛ یوحنا ۳:۲۹؛ ۱-پطرس ۲:۲۱۔
آپ کیسے جواب دیں گے؟
• شادی کو خدائی بندوبست سمجھنا کیوں اہم ہے؟
• کن طریقوں سے شوہروں کی اپنی بیویوں سے محبت رکھنے کے لئے حوصلہافزائی کی گئی ہے؟
• یسوع مسیح کے اپنے شاگردوں کے ساتھ برتاؤ کی کونسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ شوہروں کو مسیح جیسی سرداری کو عمل میں لانا چاہئے؟
[صفحہ ۹ پر تصویر]
شوہروں کو عورتوں کے ساتھ یسوع مسیح کے برتاؤ کی مثالوں پر کیوں غور کرنا چاہئے؟
[صفحہ ۱۰ پر تصویر]
جب یسوع مسیح کے شاگرد بہت تھک گئے تو اُس نے اُن کے لئے فکرمندی دکھائی
[صفحہ ۱۱ پر تصویر]
شوہروں کو مہربانہ اور مناسب الفاظ میں اپنی بیویوں کو مشورت دینی چاہئے