’اُنکو اُن سب باتوں پر عمل کرنے کی تعلیم دو جنکا مَیں نے تُم کو حکم دیا‘
”پس تُم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ . . . اور اُنکو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تُم کو حکم دیا۔“—متی ۲۸:۱۹، ۲۰۔
۱. حبشی خوجہ اور فلپس نے کس موضوع پر گفتگو کی؟
ایک حبشی خوجہ نے اپنے ملک سے یروشلیم کا لمبا سفر طے کِیا۔ وہ وہاں یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کیلئے گیا تھا۔ اسے خدا اور اسکے کلام سے گہری محبت تھی۔ اسلئے اپنے وطن واپس لوٹتے وقت وہ رتھ پر بیٹھا ہوا یسعیاہ نبی کے صحیفہ کو اونچی آواز میں پڑھ رہا تھا۔ یسوع کا شاگرد فلپس بھی اسی راستے پر سفر کر رہا تھا۔ اُس نے رتھ کے نزدیک جا کر حبشی خوجہ سے پوچھا: ”جو تُو پڑھتا ہے اُسے سمجھتا بھی ہے؟“ خوجہ نے جواب دیا: ”یہ مجھ سے کیونکر ہو سکتا ہے جبتک کوئی مجھے ہدایت نہ کرے؟“ فلپس اس نیکدل خوجہ کو صحیفے سمجھانے لگا۔ نتیجتاً وہ یسوع کا شاگرد بن گیا۔—اعمال ۸:۲۶-۳۹۔
۲. (ا) خوجہ کے جواب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ (ب) اس مضمون میں یسوع کے شاگرد بنانے کے حکم کے کن دو نکات پر غور کِیا جائیگا؟
۲ ذرا خوجہ کی بات پر غور کریں۔ اُس نے کہا تھا کہ ”یہ مجھ سے کیونکر ہو سکتا ہے جبتک کوئی مجھے ہدایت نہ کرے؟“ خوجہ کو معلوم تھا کہ اسے ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اسکی ہدایت کرے۔ اسی بات پر یسوع نے بھی زور دیا تھا۔ ہم نے پچھلے مضمون میں دیکھا کہ یسوع نے متی ۲۸:۱۸-۲۰ میں سب قوموں میں جا کر شاگرد بنانے کا حکم دیتے ہوئے اس حکم پر عمل کرنے کی وجہ بھی فراہم کی تھی۔ اب ہم دیکھینگے کہ یسوع کے حکم کے مطابق ہمیں کونسی تعلیم دینی چاہئے اور ہمیں کب تک اسکے حکم پر عمل کرتے رہنا ہوگا۔
’اُنکو اُن سب باتوں پر عمل کرنے کی تعلیم دو‘
۳. (ا) ایک شخص یسوع کا شاگرد کیسے بن سکتا ہے؟ (ب) ہمیں نئے شاگردوں کو تعلیم دینے کے علاوہ بھی کیا سکھانا چاہئے؟
۳ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ ”تُم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُنکو باپ اور بیٹے اور رُوحاُلقدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ اور اُنکو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تُم کو حکم دیا۔“ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) ہمیں دوسروں کو کونسی تعلیم دینی چاہئے تاکہ وہ یسوع کے شاگرد بن سکیں؟ ہمیں لوگوں کو وہ باتیں سکھانی چاہئے جو یسوع نے بھی سکھائی تھیں۔a لیکن غور کریں کہ یسوع نے صرف تعلیم دینے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس نے یہ بھی کہا کہ ”اُنکو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تُم کو حکم دیا۔“ اسطرح ایک شخص یسوع کا شاگرد بننے کے بعد ساری زندگی اسکا شاگرد رہیگا۔—متی ۱۹:۱۷۔
۴. تمثیل سے واضح کریں کہ ہم ایک شخص کو یسوع کے حکم پر عمل کرنا کیسے سکھا سکتے ہیں۔
۴ ہم ایک شخص کو یسوع کے احکام پر عمل کرنا کیسے سکھا سکتے ہیں؟ اس سلسلے میں ایک تمثیل پر غور کریں۔ جب ایک شخص گاڑی چلانا سیکھتا ہے تو اسکا اُستاد اُسے پہلے تو ٹریفک کے اصولوں کے بارے میں تعلیم دیتا ہے۔ لیکن یہ سکھانے کیلئے کہ ان اصولوں پر عمل کیسے کِیا جاتا ہے اسکا استاد اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر اسے گاڑی چلانے دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے استاد نے اس شخص کو جو کچھ سکھایا ہے وہ اُسے اس پر عمل کرنا بھی سکھا سکتا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص یسوع کا شاگرد بننا چاہتا ہے تو ہم سب سے پہلے اُسے یسوع کے احکام کی تعلیم دیتے ہیں۔ لیکن ہمیں انہیں یہ بھی سکھانا چاہئے کہ وہ یسوع کی تعلیم کو اپنی زندگی اور منادی کے کام میں کیسے عمل میں لا سکتے ہیں۔ (یوحنا ۱۴:۱۵؛ ۱-یوحنا ۲:۳) ایسا کرنے سے ہم یسوع اور یہوواہ کی نقل کر رہے ہونگے۔—زبور ۴۸:۱۴؛ مکاشفہ ۷:۱۷۔
۵. ایک شخص جسکے ساتھ ہم بائبل کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں اکثر یسوع کے شاگرد بنانے کے حکم پر عمل کرنے سے کیوں ہچکچاتا ہے؟
۵ یسوع کے دئے ہوئے کُل احکام میں شاگرد بنانے کا حکم بھی شامل ہے۔ لیکن اس حکم پر عمل کرنا اکثر اُن لوگوں کو بہت مشکل لگتا ہے جن کیساتھ ہم بائبل کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر وہ کسی چرچ کے رُکن تھے تو اُنکو شاگرد بنانا سکھایا نہیں گیا۔ بعض پادری بھی اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مذہبی عالم کہتا ہے کہ ”ہم یسوع کے اس حکم پر پوری طرح عمل نہیں کرتے۔ اس وجہ سے ہمارا تبلیغی کام عام طور پر کامیاب نہیں رہا ہے۔ اکثر ہم ذاتی طور پر لوگوں کی راہنمائی نہیں کرتے۔ ہم ایک ایسے آدمی کی مانند ہیں جو ساحل پر کھڑے ہو کر سمندر میں کسی ڈوبتے ہوئے شخص کو مشورے تو دیتا ہے لیکن خود پانی میں چھلانگ لگا کر اُسکو بچانے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنے کپڑے خراب نہیں کرنا چاہتا۔“
۶. (ا) جب ہم کسی شخص کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم فلپس کے نمونے پر کیسے چل سکتے ہیں؟ (ب) جب ایک شخص جسے ہم بائبل کی سچائیاں سکھا رہے ہیں منادی کے کام میں حصہ لینا شروع کرتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۶ جب ایک شخص ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتا تھا جس میں اُسے تبلیغ کرنا نہیں سکھایا گیا ہو تو یہ کام اسے بہت ہی مشکل لگ سکتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کیساتھ بائبل کا مطالعہ کر رہے ہیں تو آپکو فلپس کے نمونہ پر چلنا چاہئے۔ اس نے حبشی خوجہ کو خدا کا کلام سمجھایا اور اسکے دل میں بپتسمہ لینے کی خواہش بھی پیدا کی۔ صبر سے کام لیتے ہوئے آپکو ایسے شخص میں منادی کے کام میں حصہ لینے کی خواہش پیدا کرنی چاہئے۔ (یوحنا ۱۶:۱۳؛ اعمال ۸:۳۵-۳۸) اسکے علاوہ جب یہ شخص منادی کے کام میں حصہ لینے لگتا ہے تو آپکو شروع شروع میں اس کام میں اسکا ساتھ دینا چاہئے۔—واعظ ۴:۹، ۱۰؛ لوقا ۶:۴۰۔
”اُن سب باتوں پر عمل کریں“
۷. نئے شاگردوں کو ’اُن سب باتوں پر عمل کرنا‘ سکھانے میں کونسے دو احکام بھی شامل ہیں؟
۷ لیکن ایک نئے شاگرد کو محض یہ سکھانا کافی نہیں کہ وہ منادی کے کام میں حصہ لے۔ یسوع نے کہا تھا کہ ہمیں نئے شاگردوں کو ’اُن سب باتوں پر عمل کرنا‘ بھی سکھانا چاہئے جنکا اس نے حکم دیا۔ ان باتوں میں خدا سے اور اپنے پڑوسی سے محبت رکھنے کے احکام بھی شامل ہیں۔ (متی ۲۲:۳۷-۳۹) ہم ایک نئے شاگرد کو ان دو احکام پر عمل کرنا کیسے سکھا سکتے ہیں؟
۸. تمثیل سے وضاحت کریں کہ ایک نیا شاگرد محبت کرنے کے حکم پر عمل کرنا کیسے سیکھ سکتا ہے۔
۸ اس تمثیل پر دوبارہ غور کریں جس میں ایک شخص گاڑی چلانا سیکھتا ہے۔ کیا وہ صرف اپنے استاد سے ہی ٹریفک کے اصولوں پر عمل کرنا سیکھتا ہے؟ نہیں، بلکہ وہ دوسروں کو گاڑی چلاتے ہوئے دیکھ کر بھی بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ دیکھتا ہے کہ ایک شخص گاڑی چلاتے وقت دوسرے کو راستہ دیتا ہے۔ یا پھر وہ دیکھتا ہے کہ رات کے وقت ایک شخص اپنی گاڑی کی بڑی بتیوں کی روشنی کم کر دیتا ہے تاکہ سامنے سے آنے والی گاڑیوں کو دقت نہ ہو۔ یا جب ایک شخص کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو جاتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ ایک اَور شخص اپنی گاڑی روک کر اُسکی مدد کرنے نکلتا ہے۔ ان مثالوں سے وہ بہت کچھ سیکھ سکتا ہے جس پر وہ اس وقت عمل کر سکتا ہے جب وہ خود گاڑی چلانے لگتا ہے۔ اسی طرح ایک نیا شاگرد جو ابھی ابھی زندگی کے سکڑے راستے پر چلنے لگا ہے صرف اپنے استاد سے نہیں بلکہ کلیسیا کے دوسرے بہنبھائیوں سے بھی محبت کرنے کے حکم پر عمل کرنا سیکھتا ہے۔—متی ۷:۱۳، ۱۴۔
۹. ایک نیا شاگرد محبت کرنے کے حکم پر عمل کرنا کیسے سیکھتا ہے؟
۹ ایک نیا شاگرد کلیسیا کے بہنبھائیوں کو خدا اور پڑوسی سے محبت کرنے کے حکم پر عمل کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ دیکھتا ہے کہ ایک بہن جو اکیلے میں اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہے انکے ساتھ باقاعدگی سے اجلاس پر حاضر ہوتی ہے۔ وہ اس مسیحی کو بھی دیکھتا ہے جو نہایت دلبرداشتہ ہونے کے باوجود تمام اجلاسوں پر حاضر ہوتا ہے۔ یا پھر وہ اُس عمررسیدہ بیوہ کو جانتا ہے جو دوسروں کو اجلاسوں پر حاضر ہونے میں مدد دیتی ہے۔ نیا شاگرد اس نوجوان کو دیکھتا ہے جو خوشی خوشی کنگڈم ہال کی صفائی کر رہا ہے۔ وہ اس بزرگ کو بھی دیکھتا ہے جو کلیسیا کی بہت سی ذمہداریاں نبھانے کے علاوہ منادی کے کام میں بڑھچڑھ کر حصہ لے کر دوسروں کیلئے مثال قائم کرتا ہے۔ شاید وہ اس مفلوج مسیحی کو بھی جانتا ہو جو گھر پر آنے والوں کی حوصلہافزائی کرتا ہے۔ وہ اس شادیشُدہ جوڑے کو بھی دیکھتا ہے جو اپنے والدین کی تیمارداری کرنے کیلئے اپنا وقت اور اپنی قوت صرف کر رہا ہے۔ ان مسیحیوں کی مثال پر دھیان دینے سے وہ خود بھی محبت کرنے کے حکم پر عمل کرنا سیکھتا ہے۔ (امثال ۲۴:۳۲؛ یوحنا ۱۳:۳۵؛ گلتیوں ۶:۱۰؛ ۱-تیمتھیس ۵:۴، ۸؛ ۱-پطرس ۵:۲، ۳) اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ تمام مسیحی اپنے اعمال سے ایک نئے شاگرد کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔—متی ۵:۱۶۔
”دُنیا کے آخر تک“
۱۰. (ا) ہمیں شاگرد بنانے کا کام کب تک جاری رکھنا ہوگا؟ (ب) اس سلسلے میں یسوع نے ہمارے لئے کونسا نمونہ قائم کِیا؟
۱۰ ہمیں شاگرد بنانے کا کام کب تک جاری رکھنا ہوگا؟ اِس بُرے نظام کے آخر تک۔ (متی ۲۸:۲۰) کیا ہم یسوع کے اس حکم پر عمل کر پائینگے؟ یہ تمام یہوواہ کے گواہوں کی دلی خواہش ہے۔ گزشتہ سالوں میں ہم نے ایسے اشخاص کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے جو ”ہمیشہ کی زندگی کیلئے مقرر کئے گئے“ ہیں۔ (اعمال ۱۳:۴۸) اس کام میں دُنیابھر کے یہوواہ کے گواہ ہر روز ۳۰ لاکھ سے زائد گھنٹے صرف کرتے ہیں۔ ہم یسوع کی پیروی کرتے ہیں جس نے کہا تھا: ”میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اسکا کام پورا کروں۔“ (یوحنا ۴:۳۴) خدا کا کام پورا کرنا—یہ ہماری بھی دلی خواہش ہے! (یوحنا ۲۰:۲۱) ہم اس کام کو محض شروع نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ اسے انجام تک پہنچانا بھی چاہتے ہیں۔—متی ۲۴:۱۳؛ یوحنا ۱۷:۴۔
۱۱. شاگرد بنانے کے کام کے سلسلے میں کئی بہنبھائیوں کو کیا ہو گیا ہے اور ہم خود سے کونسا سوال پوچھ سکتے ہیں؟
۱۱ افسوس کی بات ہے کہ کئی بہنبھائی شاگرد بنانے کے کام میں سُست پڑ گئے ہیں یا انہوں نے اس میں حصہ لینا بالکل ہی بند کر دیا ہے۔ ہم انکی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ (رومیوں ۱۵:۱؛ عبرانیوں ۱۲:۱۲) ایک مرتبہ یسوع کے شاگرد بھی سُست پڑ گئے تھے۔ اس صورتحال میں یسوع نے اُنکی کیسے مدد کی؟
ہمیں انکی فکر ہے!
۱۲. (ا) جس رات یسوع کو گرفتار کِیا گیا اُسکے شاگردوں نے کیا کِیا؟ (ب) یسوع نے اپنے روحانی طور پر کمزور شاگردوں کیساتھ کیسا سلوک کِیا؟
۱۲ جس رات یسوع کو گرفتار کِیا گیا اُسکے شاگرد ”اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔“ وہ ’سب پراگندہ ہو کر اپنے اپنے گھر کی راہ ہو لئے۔‘ (مرقس ۱۴:۵۰؛ یوحنا ۱۶:۳۲) یسوع نے اپنے شاگردوں کیساتھ کیسا سلوک کِیا جو روحانی طور پر کمزور پڑ گئے تھے؟ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اس نے ان میں سے چند سے کہا کہ ”ڈرو نہیں۔ جاؤ میرے بھائیوں سے کہو کہ گلیلؔ کو چلے جائیں۔ وہاں مجھے دیکھینگے۔“ (متی ۲۸:۱۰) غور کریں کہ اس صحیفے میں یسوع نے اپنے شاگردوں کو ’میرے بھائی‘ کہا۔ (متی ۱۲:۴۹) حالانکہ وہ سُست پڑ گئے تھے پھر بھی یسوع کو ان پر پورا اعتماد تھا۔ یہوواہ خدا کی طرح یسوع بھی مہربان تھا اور اس نے اپنے شاگردوں کو معاف کر دیا۔ (۲-سلاطین ۱۳:۲۳) ہم یسوع کے نمونے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۳. ہمیں ان بہنبھائیوں کو کیسے خیال کرنا چاہئے جو سُست پڑ گئے ہیں؟
۱۳ ہمیں ان بہنبھائیوں کی فکر ہونی چاہئے جو کسی نہ کسی وجہ سے سُست پڑ گئے ہیں۔ ہم انکی محبت اور انکے ان کاموں کو یاد کرتے ہیں جو انہوں نے خدا کی خدمت میں کئے تھے۔ (عبرانیوں ۶:۱۰) ہم انکے ساتھ رفاقت رکھنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ (لوقا ۱۵:۴-۷؛ ۱-تھسلنیکیوں ۲:۱۷) ہم ان بہنبھائیوں کو کیسے دکھا سکتے ہیں کہ ہمیں انکی فکر ہے؟
۱۴. یسوع کی طرح ہم بھی ایک مسیحی کی کیسے مدد کر سکتے ہیں جو روحانی طور پر کمزور پڑ گیا ہے؟
۱۴ یسوع نے اپنے بددل شاگردوں کو گلیل جانے کی دعوت دی جہاں وہ ان سے ملنا چاہتا تھا۔ (متی ۲۸:۱۰) یسوع کے شاگردوں نے اسکی دعوت قبول کر لی۔ ہم پڑھتے ہیں کہ ”گیارہ شاگرد گلیلؔ کے اُس پہاڑ پر گئے جو یسوؔع نے اُنکے لئے مقرر کِیا تھا۔“ (متی ۲۸:۱۶) آجکل ہم بھی اپنے روحانی طور پر کمزور بہنبھائیوں کو بار بار اجلاسوں پر آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور جب وہ ہماری دعوت کو قبول کرکے آخرکار اجلاسوں پر حاضر ہونے لگتے ہیں تو ہم بہت ہی خوش ہوتے ہیں۔—لوقا ۱۵:۶۔
۱۵. جب ایک مسیحی دوبارہ اجلاسوں پر حاضر ہونے لگتا ہے تو ہمیں یسوع کے نمونے کے مطابق اسکے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟
۱۵ جب ایک ایسا مسیحی دوبارہ اجلاسوں پر حاضر ہونے لگتا ہے تو ہمیں اسکے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟ آئیے ہم اس سلسلے میں یسوع کے نمونے پر غور کرتے ہیں۔ جب شاگرد اسکی دعوت پر گلیل آ پہنچے تو ”یسوؔع نے پاس آ کر اُن سے باتیں کیں۔“ (متی ۲۸:۱۸) یسوع نے انہیں دُور سے دیکھ کر اپنی نظر نہیں پھیر لی بلکہ وہ انکے پاس جا کر انکے ساتھ باتیں کرنے لگا۔ شاگرد یسوع کے اس رویے پر بہت خوش ہوئے ہونگے۔ جب کوئی مسیحی جو روحانی طور پر سُست پڑ گیا ہے اجلاس پر حاضر ہوتا ہے تو ہمیں بھی خوشی خوشی اس سے ملنا چاہئے۔
۱۶. (ا) یسوع کسطرح سے اپنے شاگردوں کیساتھ پیش آیا؟ (ب) ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۶ اس ملاقات کے دوران یسوع اپنے شاگردوں سے کیسے پیش آیا؟ سب سے پہلے اس نے یہ اعلان کِیا کہ ”کُل اِختیار مجھے دیا گیا ہے۔“ پھر اُس نے یہ کہہ کر اپنے شاگردوں کو ایک کام سونپا: ”تُم جا کر . . . شاگرد بناؤ۔“ اسکے بعد اس نے اپنے شاگردوں سے وعدہ کِیا کہ ”مَیں . . . ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔“ (متی ۲۸:۱۷-۲۰) لیکن یسوع نے ایک بات نہیں کی۔ اس نے اپنے شاگردوں کی تنبیہ نہیں کی۔ (متی ۲۸:۱۷) اسکا کیا نتیجہ نکلا؟ تھوڑے عرصے بعد ہی شاگرد دوبارہ سے ’تعلیم دینے اور خوشخبری سنانے‘ میں مشغول ہو گئے۔ (اعمال ۵:۴۲) اسی طرح اگر ہم بھی اپنے روحانی طور پر کمزور بہنبھائیوں کیساتھ یسوع جیسا سلوک کرینگے تو ہو سکتا ہے کہ وہ بھی دوبارہ سے شاگرد بنانے کے کام میں مشغول ہو جائیں۔b—اعمال ۲۰:۳۵۔
’مَیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں‘
۱۷، ۱۸. ”مَیں . . . ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں“ کے وعدے سے ہم کیا تسلی پا سکتے ہیں؟
۱۷ ”مَیں . . . ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔“ یسوع کا یہ وعدہ کتنا تسلیبخش ہے! چاہے ہمارے دُشمن ہمارے منادی کے کام کی کتنی ہی مخالفت کریں یا ہماری کتنی ہی بدنامی کریں ہمیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یسوع ہمارا سربراہ ہے۔ اسے ”آسمان اور زمین کا کُل اِختیار“ دیا گیا ہے۔ وہ ہر صورتحال میں ہمارا ساتھ دیگا۔
۱۸ یسوع کے وعدے کے اس پہلو پر بھی غور کریں ’وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔‘ سال ہا سال خدا کی خدمت کرتے ہوئے ہمیں دُکھ اور سُکھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (۲-تواریخ ۶:۲۹) کئی اپنے کسی عزیز کی موت سے دُکھی ہوتے ہیں۔ (پیدایش ۲۳:۲؛ یوحنا ۱۱:۳۳-۳۶) اکثر مسیحی بڑھاپے کی کمزوریوں سے نپٹ رہے ہوتے ہیں۔ (واعظ ۱۲:۱-۶) ایسے بھی مسیحی ہوتے ہیں جو وقتاًفوقتاً دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴) اسکے علاوہ بہت سے بہنبھائی غربت کا شکار ہیں۔ یسوع ان تمام مشکلات میں ہمارا ساتھ دیتا ہے اسلئے ہم اپنے منادی کے کام کو جاری رکھ سکتے ہیں۔—متی ۱۱:۲۸-۳۰۔
۱۹. (ا) یسوع کے شاگرد بنانے کے حکم کے کونسے پہلو ہیں؟ (ب) ہم یسوع کی طرف سے سونپے ہوئے کام کو انجام تک کیوں پہنچا پائینگے؟
۱۹ جیسا کہ ہم نے ان دونوں مضامین میں دیکھا ہے یسوع کے شاگرد بنانے کے حکم کے بہت سے پہلو ہیں۔ یسوع نے کہا کہ ہمیں اس وجہ سے شاگرد بنانے چاہئے کیونکہ اسے کُل اختیار دیا گیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ہمیں سب قوموں میں سے شاگرد بنانے چاہئے۔ اسکے علاوہ اس نے کہا کہ ہمیں ان شاگردوں کو کونسی تعلیم دینی چاہئے اور اس کام کو کب تک جاری رہنا ہوگا۔ اس حکم پر پورا اُترنا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن یسوع ہمارے ساتھ ہے اور اسکے پاس کُل اختیار ہے۔ اسلئے ہم اس کام کو ضرور انجام تک پہنچا پائینگے۔
[فٹنوٹ]
a ایک کتاب کے مطابق ”یسوع نے یہ نہیں کہا تھا کہ لوگوں کو پہلے بپتسمہ دو اور اس کے بعد انکو تعلیم دو۔ تعلیم دینا ایک ایسا عمل ہے جو مسلسل جاری رہتا ہے۔ اسلئے بپتسمہ دینے سے پہلے اور اسکے بعد بھی نئے شاگردوں کو تعلیم دینا چاہئے۔“
b روحانی طور پر سُست مسیحیوں کی مدد کرنے کے بارے میں آپ مینارِنگہبانی فروری ۱، ۳۰۰۲، صفحہ ۱۵-۱۸ پر مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
آپکا جواب کیا ہوگا؟
• ہم دوسروں کو یسوع کے احکام پر عمل کرنا کیسے سکھا سکتے ہیں؟
• ایک نیا شاگرد دوسروں کی مثال سے کیا سیکھ سکتا ہے؟
• ہم ان بہنبھائیوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں جو روحانی طور پر سُست پڑ گئے ہیں؟
• ”مَیں . . . ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں“ کے وعدے سے ہم کیا تسلی پا سکتے ہیں؟
[صفحہ ۱۵ پر تصویر]
ہمیں استاد ہونے کیساتھ ساتھ نئے شاگردوں کی ہدایت بھی کرنی چاہئے
[صفحہ ۱۷ پر تصویر]
ایک نیا شاگرد دوسروں کی مثال سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے