گلئیڈ گریجویٹس کی ”خدا کے بڑے بڑے کاموں کا بیان“ کرنے کیلئے حوصلہافزائی کی گئی
واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ کی ۱۱۵ ویں جماعت کے گریجویشن پروگرام کیلئے ستمبر ۱۳، ۲۰۰۳ کو ۵۲ ممالک سے ۶،۶۳۵ لوگوں کا ہجوم موجود تھا۔
اُنہوں نے ۴۸ طالبعلموں پر مشتمل جماعت کو بائبل پر مبنی یہ حوصلہافزائی حاصل کرتے سناُ کہ ۱۷ مختلف ممالک کے لوگوں کو ”خدا کے بڑے بڑے کاموں“ کی بابت بیان کریں۔ (اعمال ۲:۱۱) یہ وہ ممالک تھے جہاں گریجوئٹس نے مشنری کام کرنا تھا۔
اپنے تعارفی الفاظ میں، سٹیفن لیٹ نے جو کہ یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کا ایک رُکن اور گریجویشن کے موقع پر چیئرمین کے فرائض انجام دے رہا تھا طالبعلموں کو یاد دلایا: ”جب آپ اپنی تفویض کیلئے جاتے ہیں تو آپ خواہ کہیں بھی ہوں اور کسی بھی حال میں ہوں یہ یاد رکھیں کہ مخالفین کی بجائے آپکے حامیوں کی تعداد ہمیشہ زیادہ ہوگی۔“ دوسرا سلاطین ۶ باب پر توجہ دلاتے ہوئے بھائی لیٹ نے طالبعلموں کو یاددہانی کرائی کہ وہ ”خدا کے بڑے بڑے کاموں“ کی بابت بیان کرتے ہیں تو وہ یہوواہ خدا اور بیشمار فرشتوں کے لشکر کی پُشتپناہی پر بھروسا رکھ سکتے ہیں۔ (۲-سلاطین ۶:۱۵، ۱۶) پہلی صدی کے مسیحیوں نے منادی اور تعلیم دینے کے کام کے سلسلے میں مخالفت اور سردمہری کا سامنا کِیا اور آجکل بھی مشنریوں کو اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے۔ تاہم، وہ یہوواہ کی آسمانی اور دیدنی زمینی تنظیم کی طرف سے حمایت کا بھی یقین رکھ سکتے ہیں۔—زبور ۳۴:۷؛ متی ۲۴:۴۵۔
”خدا کے بڑےبڑے کاموں“ کا بیان کریں
چیئرمین کے تعارفی کلمات کے بعد، ریاستہائےمتحدہ کی برانچ کمیٹی کے ہیرلڈ کورکن نے ”حقیقتپسندانہ توقعات—خوشکُن اور کامیاب خدمت کی کُنجی“ کے موضوع پر گفتگو کی۔ بھائی کورکن نے بیان کِیا کہ امثال ۱۳:۱۲ کے مطابق نااُمیدی مایوسی کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم، مایوسی اکثر غیرحقیقتپسندانہ توقعات کا نتیجہ ہوتی ہے جنکی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ گریجوئٹس کو اپنے اور دوسروں کے بارے میں حقیقتپسندانہ، متوازن نظریہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اُنہیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ اُن سے غلطی ہو سکتی ہے لیکن کیونکہ وہ دوسروں کو ”خدا کے بڑے بڑے کاموں“ کی قدر کرنے میں مدد دیتے ہیں اسلئے اُنہیں حد سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ بھائی کورکن نے نئے مشنریوں کی حوصلہافزائی کی کہ یہوواہ پر بھروسا رکھیں جو ”اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“—عبرانیوں ۱۱:۶۔
پروگرام کے اگلے مقرر گورننگ باڈی کے رُکن ڈینئل سڈلک تھے جنہوں نے ”مسیحی اُمید—یہ کیا ہے؟“ کے موضوع پر خطاب کِیا۔ اُس نے بیان کِیا: ”اُمید ایک مسیحی خوبی ہے۔ یہ حق کا معیار ہی ہے جو کسی شخص کو خدا کیساتھ مناسب رشتہ قائم کرنے کے قابل بناتا ہے۔ جیسی اُمید ہم رکھتے ہیں ایک غیرمسیحی کیلئے ایسی اُمید رکھنا ناممکن ہے۔“ بھائی سڈلک نے مسیحی اُمید کے مختلف پہلو بیان کئے جو ایک شخص کو زندگی کی مشکلات کے باوجود مثبت سوچ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔“ اگر اُمید ہے تو ہم زندگی کا سامنا ایک نئے عزم اور جذبے کیساتھ کر سکتے ہیں۔“ ایک مسیحی کی اُمید اُسے یہوواہ خدا کو ایک بامقصد خدا کے طور پر جاننے اور اُسکی خدمت کرنے سے خوشی حاصل کرنے کی مدد دیتی ہے۔—رومیوں ۱۲:۱۲۔
گلئیڈ سکول کے رجسٹرار والس لیورنس نے طالبعلموں کی ”روح کے مؤافق“ چلتے رہنے کیلئے حوصلہافزائی کی۔ (گلتیوں ۵:۱۶) اُس نے بیان کِیا کہ کیسے یرمیاہ کا سیکرٹری باروک روح کے موافق چلتے رہنے سے کتنا دُور چلا گیا تھا۔ ایک موقع پر تو باروک پریشان ہو گیا اور اپنے لئے امورِعظیم کی تلاش کرنے لگا۔ (یرمیاہ ۴۵:۳، ۵) اسکے بعد بھائی لیورنس نے بیان کِیا کہ یسوع کے پیروکاروں میں سے بھی بعض نے اُسے چھوڑ دیا اور اُن روحانی سچائیوں کو مسترد کر دیا جو نجات کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ وہ اُسکی تعلیم کو نہیں سمجھ پائے تھے لہٰذا وہ اُس وقت اپنی مادی توقعات پوری نہ ہونے کی وجہ سے مایوس یا نااُمید ہو گئے تھے۔ (یوحنا ۶:۲۶، ۲۷، ۵۱، ۶۶) مشنری جنکا کام لوگوں کی توجہ خالق اور اُسکے مقاصد کی طرف دلانا ہے وہ ان سرگزشتوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ طالبعلموں کی حوصلہافزائی کی گئی کہ وہ معیار کی فکر نہ کریں، آدمیوں کی شہرت کے خواہاں نہ ہوں اور تھیوکریٹک تفویض کو ذاتی نفع کیلئے استعمال نہ کریں۔
گلئیڈ سکول کے انسٹرکٹر مارک نومیر نے جو سوال اُٹھایا وہ یہ تھا، ”کیا آپ دینے والے ہونگے یا لینے والے؟“ اُس نے قضاۃ ۵:۲ کو اپنی باتچیت کا موضوع بنایا جہاں اسرائیلیوں کی فرداً فرداً بغیر کسی لالچ کے باروک کے لشکر میں شامل ہونے کیلئے تعریف کی گئی تھی۔ گلئیڈ طالبعلموں کی عظیم باروک، یسوع مسیح کی اس بلاہٹ کا جواب دینے کیلئے تعریف کی گئی کہ روحانی جنگ میں شریک ہوں۔ مسیح کے سپاہیوں کو اُسکی منظوری حاصل کرنے کی فکر کرنی چاہئے جس نے اُنکا اندراج کِیا ہے۔ بھائی نومیر نے طالبعلموں کو یاد کرایا: ”جب ہم خود کو خوش کرنے پر توجہ دیتے ہیں تو ہم دُشمن کا مقابلہ کرنا بند کر دیتے ہیں۔ . . . مشنری خدمت کا تعلق آپکی ذات سے نہیں۔ یہ یہوواہ، اُسکی حاکمیت اور اُسکی مرضی پوری کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ہم اسلئے مشنری خدمت انجام نہیں دیتے کہ یہوواہ ہمیں برکت دے بلکہ اسلئے کہ ہم اُس سے محبت کرتے ہیں۔“—۲-تیمتھیس ۲:۴۔
اسکے بعد گلئیڈ انسٹرکٹر لارنس بوون نے ”اُنہیں سچائی کے وسیلہ سے مُقدس کر“ کے موضوع پر گفتگو کی۔ (یوحنا ۱۷:۱۷) اُس نے بیان کِیا کہ ۱۱۵ ویں جماعت کے طالبعلم خدا کے مُقدس خادم ہیں۔ جب سکول میں تھے تو اُنہوں نے سچائی سے حقیقی محبت رکھنے والے لوگوں کو تلاش کرنے کیلئے میدانی خدمتگزاری میں حصہ لیا۔ یسوع اور اُسکے ابتدائی شاگردوں کی مانند، طالبعلم ”اپنی طرف سے نہیں“ بولتے تھے۔ (یوحنا ۱۲:۴۹، ۵۰) اُنہوں نے سرگرمی کیساتھ سچائی کا زندگیبخش کلام پیش کِیا۔ طالبعلموں کے مظاہروں اور تجربات نے اُس طاقتور اثر کو ظاہر کِیا جو بائبل نے اُن لوگوں پر ڈالا تھا جن سے انہوں نے ملاقات کی تھی۔
مشورت اور تجربہ حوصلہافزائی فراہم کرتا ہے
ریاستہائےمتحدہ برانچ کی سروس ڈیپارٹمنٹ کے ارکان انتھونی پریز اور انتھونی گریفن نے دُنیابھر سے آنے والے برانچ کمیٹی کے اراکین کے انٹرویوز لئے۔ اُنہوں نے ان نئے مشنریوں کو پیش آنے والے چیلنجوں پر گفتگو کی اور اپنے ذاتی تجربے پر مبنی عملی مشورت فراہم کی۔ ان چیلنجوں میں ایسا ثقافتی فرق، سال بھر رہنے والی مرطوب آبوہوا، یا مذہبی اور سیاسی ماحول شامل ہے جسکے یہ طالبعلم عادی نہیں ہیں۔ کیا چیز نئے مشنریوں کو اپنے نئے ماحول کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے؟ یہوواہ کیلئے محبت، لوگوں کیلئے محبت، پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا اور جلدبازی نہ کرنا۔ برانچ کمیٹی کے ایک رُکن نے کہا: ”ہمارے علاقے کے لوگ ہمارے جانے سے پہلے کئی صدیوں سے وہاں رہ رہے تھے۔ یقیناً ہم بھی وہاں رہ سکتے اور مطابقت پیدا کر سکتے تھے۔ جب بھی ہمیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو ہم اُنہیں اپنے اندر تبدیلی لانے کیلئے تقلیدی کردار خیال کرتے تھے۔ آپ یہوواہ کی روح اور دُعا پر بھروسا کریں تو آپکو یسوع کے الفاظ کی صداقت کا تجربہ ہوگا، ’دیکھو مَیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔‘ “—متی ۲۸:۲۰۔
گورننگ باڈی کے ممبر، سموئیل ہرڈ نے پروگرام کے اختتام پر اپنی تقریر میں اس اہم نکتے کو بیان کِیا، ’خدا کے بڑےبڑے کاموں کا بیان کرتے رہیں۔‘ پنتِکُست ۳۳ س.ع. کے دن پاک روح کے نزول نے یسوع کے شاگردوں کو ”خدا کے بڑےبڑے کاموں کا بیان“ کرتے رہنے کی قوت بخشی۔ کیا چیز نئے مشنریوں کو آج بھی ایسے ہی جذبے کیساتھ خدا کی بادشاہی کی بابت بیان کرنے میں مدد دیگی؟ رُوحالقدس۔ بھائی ہرڈ نے گریجویشن کرنے والے طالبعلموں کی حوصلہافزائی کی کہ ”روحانی جوش میں بھرے رہو،“ اپنی تفویضات کی بابت پُرجوش ہوں اور اُس تربیت کو کبھی نہ بھولیں جو آپکو دی گئی ہے۔ (رومیوں ۱۲:۱۱) بھائی ہرڈ نے کہا کہ ’بائبل خدا کا ایک بڑا کام ہے۔‘ ”اسے کبھی کماہم خیال نہ کریں۔ اسکا پیغام زندہ ہے۔ یہ ہر چیز کے اندر تک چلی جاتی ہے۔ اپنی زندگی میں معاملات درست کرنے کیلئے اسے استعمال کریں۔ اسے اپنی سوچ کو بدلنے کی اجازت دیں۔ صحائف کا مطالعہ کرنے، پڑھنے اور ان پر غوروخوض کرنے کی اپنی ادراکی قوت کی حفاظت کریں۔ . . . اپنی گلئیڈ تربیت کو ”خدا کے بڑے بڑے کاموں کا بیان“ کرتے رہنے کو اپنا عزم اور مقصد بنائیں۔
طالبعلموں کیلئے دُنیابھر سے آنے والی مبارکبادیوں کے پڑھے جانے اور ڈپلومے پیش کئے جانے کے بعد، ایک گریجویٹ نے جماعت کی طرف سے تربیت حاصل کرنے کے سلسلے میں قدرافزائی کا خط پڑھا۔ اسکے بعد بھائی لیٹ نے اس خوشگوار تقریب کے اختتام پر ۲-تواریخ ۳۲:۷؛ اور استثنا ۲۰:۱، ۴ کے انتہائی شاندار صحائف کا حوالہ دیا۔ اپنے اختتامی بیان کو اپنے تعارفی کلمات کیساتھ ہمآہنگ کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا: ”پس عزیز طالبعلموں! جب آپ یہاں سے روانہ ہوتے اور اپنی نئی تفویض میں روحانی لڑائی کرتے ہیں تو یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کیساتھ ہے۔ اس حقیقت کو کبھی نہ بھولیں کہ جتنے آپکے مخالف ہیں اُس سے زیادہ آپکے ساتھ ہیں۔“
[صفحہ ۲۵ پر بکس]
جماعت کے اعدادوشمار
جن ممالک کی نمائندگی کی گئی: ۷
جن ممالک میں تفویض دی گئی: ۱۷
طالبعلموں کی تعداد: ۴۸
اوسط عمر: ۷.۳۳
سچائی میں اوسط سال: ۸.۱۷
کُلوقتی خدمت میں اوسط سال: ۵.۱۳
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ سے گریجویشن کرنے والی ۱۱۵ویں جماعت
درجذیل فہرست میں قطاروں کے نمبر آگے سے پیچھے کی طرف اور ہر قطار میں نام بائیں سے دائیں درج کئے گئے ہیں۔
.)1( Brown, T.; Goller, C.; Hoffman, A.; Bruzzese, J.; Trahan, S
;.)2( Smart, N.; Cashman, F.; Garcia, K.; Lojan, M.; Seyfert, S
;.Gray, K. )3( Beckett, M.; Nichols, S.; Smith, K.; Gugliara, A
;.Rappenecker, A. )4( Gray, S.; Vacek, K.; Fleming, M.; Bethel, L
;.Hermansson, T.; Hermansson, P. )5( Rappenecker, G.; Lojan, D
.Dickey, S.; Kim, C.; Trahan, A.; Washington, A.; Smart, S
;.)6( Goller, L.; Burghoffer, T.; Gugliara, D.; Nichols, R
;.Washington, S.; Kim, J. )7( Beckett, M.; Dickey, J.; Smith, R
;.Garcia, R.; Hoffman, A.; Seyfert, R.; Brown, H. )8( Fleming, S
.Bruzzese, P.; Burghoffer, W.; Bethel, T.; Cashman, J.; Vacek, K