یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م03 15/‏7 ص.‏ 21-‏23
  • مثبت سوچ کیساتھ دانشمندی سے چلیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مثبت سوچ کیساتھ دانشمندی سے چلیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • حد سے زیادہ پُراعتماد نہ ہوں
  • جسمانی سوچ سے خبردار رہیں
  • ‏”‏آدمیوں کی بازیگری“‏ سے خبردار رہیں
  • خود کو دھوکا نہ دیں
  • ‏”‏خدا کی معرفت“‏ تلاش کریں
  • ‏’‏خدا سے مانگتے رہیں‘‏
  • ‏”‏یہوواہ حکمت بخشتا ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • آپ کی سوچ پر کون اثر کر رہا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • حکمت حاصل کریں اور تربیت‌پذیر ہوں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ‏”‏مبارک ہے وہ آدمی جو حکمت کو پاتا ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
م03 15/‏7 ص.‏ 21-‏23

مثبت سوچ کیساتھ دانشمندی سے چلیں

اس منظر کا تصور کریں:‏ یسوع مسیح یہ بتا رہا ہے کہ یروشلیم میں اُس کے مذہبی دُشمن اُسے تکلیف دینگے اور قتل کرینگے۔ اُس کا قریبی دوست پطرس رسول یہ ماننے کو تیار نہیں۔ دراصل وہ یسوع کو ایک طرف لیجا کر ملامت کرتا ہے۔ پطرس کے خلوص اور حقیقی فکرمندی پر شک نہیں کِیا جا سکتا۔ مگر یسوع پطرس کی سوچ کی تصحیح کیسے کرتا ہے؟ ”‏اَے شیطان میرے سامنے سے دُور ہو۔ تُو میرے لئے ٹھوکر کا باعث ہے کیونکہ تُو خدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال رکھتا ہے۔“‏—‏متی ۱۶:‏۲۱-‏۲۳‏۔‏

پطرس کو واقعی اس سے دھچکا لگا ہوگا!‏ مددگار اور معاون ثابت ہونے کی  بجائے وہ اس معاملے میں اپنے عزیز اُستاد کیلئے ”‏ٹھوکر کا باعث“‏ بنا تھا۔ یہ کیسے واقع ہوا؟ پطرس ناکامل انسانی سوچ کا شکار ہو گیا ہوگا اور صرف وہی سوچنے لگا ہوگا جو اُسکا دل چاہتا تھا۔‏

حد سے زیادہ پُراعتماد نہ ہوں

مثبت سوچ رکھنے کی ہماری صلاحیت کی راہ میں حائل ایک خطرہ حد سے زیادہ پُراعتماد ہونے کا میلان ہے۔ پولس رسول نے قدیم کرنتھس میں ساتھی مسیحیوں کو آگاہ کِیا:‏ ”‏پس جو کوئی اپنے‌آپ کو قائم سمجھتا ہے وہ خبردار رہے کہ گِر نہ پڑے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۲‏)‏ پولس نے ایسا کیوں کہا؟ بدیہی طور پر وہ جانتا تھا کہ انسانی سوچ بڑی آسانی سے گمراہ ہو سکتی ہے—‏حتیٰ‌کہ مسیحیوں کے خیالات بھی ’‏اُس خلوص اور پاکدامنی سے ہٹ سکتے ہیں جو مسیح کے ساتھ ہونی چاہئے۔‘‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳‏۔‏

پولس کے آباؤاجداد کی پوری پُشت کیساتھ ایسا واقع ہو چکا تھا۔ اُس وقت یہوواہ نے اُنہیں کہا:‏ ”‏میرے خیال تمہارے خیال نہیں اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔“‏ (‏یسعیاہ ۵۵:‏۸‏)‏ وہ ”‏اپنی نظر میں دانشمند“‏ بنے اور تباہ‌کُن انجام کو پہنچے۔ (‏یسعیاہ ۵:‏۲۱‏)‏ یقیناً اس بات کا جائزہ لینا اچھا ہوگا کہ ہم کیسے اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے ایسی تباہی سے بچ سکتے ہیں۔‏

جسمانی سوچ سے خبردار رہیں

کرنتھس کے بعض لوگ جسمانی سوچ سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱-‏۳‏)‏ وہ خدا کے کلام کی نسبت دُنیاوی فیلسوفی پر زیادہ زور دیتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس زمانے کے یونانی مفکر بہت دانشمند تھے۔ تاہم، خدا کی نظر میں وہ احمق تھے۔ پولس نے کہا:‏ ”‏لکھا ہے کہ مَیں حکیموں کی حکمت کو نیست اور عقلمندوں کی عقل کو ردّ کرونگا۔ کہاں کا حکیم؟ کہاں کا فقیہ؟ کہاں کا اِس جہان کا بحث کرنے والا؟ کیا خدا نے دُنیا کی حکمت کو بیوقوفی نہیں ٹھہرایا؟“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۹، ۲۰‏)‏ ایسے دانشور خدا کی روح کی بجائے ”‏دُنیا کی روح“‏ کے زیرِاثر تھے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۲‏)‏ اُنکے فلسفے اور نظریات یہوواہ کی سوچ کی مطابقت میں نہیں تھے۔‏

ایسی جسمانی سوچ کا اصل ماخذ شیطان اِبلیس ہے جس نے حوا  کو بہکانے کے لئے سانپ کو استعمال کِیا تھا۔ (‏پیدایش ۳:‏۱-‏۶؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳‏)‏ کیا وہ ابھی بھی ہمارے لئے خطرے کا باعث ہے؟ جی‌ہاں!‏ خدا کے کلام کے مطابق، شیطان نے اتنے زیادہ لوگوں کی عقلوں کو ”‏اندھا کر دیا ہے“‏ کہ وہ اب ”‏سارے جہان کو گمراہ“‏ کر رہا ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴؛‏ مکاشفہ ۱۲:‏۹‏)‏ اُسکے مکارانہ منصوبوں سے خبردار رہنا کتنا ضروری ہے!‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۱‏۔‏

‏”‏آدمیوں کی بازیگری“‏ سے خبردار رہیں

پولس رسول نے ”‏آدمیوں کی بازیگری“‏ کے خلاف بھی آگاہ کِیا۔ (‏افسیوں ۴:‏۱۴‏)‏ اُسے ”‏دغابازی سے کام کرنے والے“‏ ایسے لوگوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑا جو دراصل سچائی پیش کرنے کی بجائے اسے بگا‌ڑ رہے تھے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۱۲-‏۱۵‏)‏ اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے، ایسے اشخاص ثبوت کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کیلئے جذباتی الفاظ، گمراہ‌کُن غلط‌بیانی، پُرفریب طعنہ‌زنی اور سفید جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔‏

تشہیری ایجنٹ دوسروں کو رسوا کرنے کیلئے اکثر لفظ ”‏فرقہ“‏ استعمال کرتے ہیں۔ یورپی کونسل کی پارلیمانی اسمبلی کے نام ایک سفارش میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ نئے مذہبی گروہوں کی تحقیق‌وتفتیش کرنے والے اہلکاروں کو ”‏یہ اصطلا‌ح استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا جانا چاہئے۔“‏ کیوں؟ یہ محسوس کِیا گیا کہ لفظ ”‏مَسلک“‏ بہت زیادہ منفی مفہوم کا حامل ہے۔ اُس نے مزید کہا:‏ ”‏آجکل لوگوں کے ذہنوں میں ایک فرقہ انتہائی بدکار اور خطرناک ہوتا ہے۔“‏ اسی طرح یونانی دانشوروں نے بھی غلط‌بیانی سے کام لیتے ہوئے پولس رسول پر ”‏بکواسی“‏ ہونے کا الزام لگایا۔ اسکا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ محض ایک جھکی ہے یعنی ایسا شخص جو محض علم کے تراشے تلاش کرتا اور باربار اُنہیں دہراتا ہے۔ دراصل، پولس ”‏یسوؔع اور قیامت کی خوشخبری دیتا تھا۔“‏—‏اعمال ۱۷:‏۱۸‏۔‏

کیا تشہیری ایجنٹوں کی یہ تکنیکیں کام آئیں؟ جی‌ہاں۔ یہ لوگوں کے دوسرے مذاہب اور قوموں کی بابت نظریات کو گمراہ کرنے سے نسلی اور مذہبی نفرتیں پیدا کرنے میں اہم جزو ثابت ہوئی ہیں۔ بیشتر نے اسے غیرمقبول اقلیتوں کو محدود کرنے کیلئے استعمال کِیا ہے۔ جب ایڈولف ہٹلر نے یہودی اور دیگر لوگوں کو ”‏ناخلف،“‏ ”‏کجرو“‏ اور ملک کیلئے ”‏خطرہ“‏ قرار دیا تو اُس نے ایسے طریقوں کو مؤثر طور پر استعمال کِیا تھا۔ اپنی سوچ کو کبھی بھی اس قِسم کی دغابازی سے متاثر نہ ہونے دیں۔—‏اعمال ۲۸:‏۱۹-‏۲۲‏۔‏

خود کو دھوکا نہ دیں

اپنے‌آپ کو دھوکا دینا بھی آسان ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پُرانے نظریات یا آرا کو ترک کرنا یا اُنکی بابت سوال کرنا بہت مشکل ہے۔ کیوں؟ اسلئے‌کہ ہم اپنے نظریات سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ اسکے بعد ہم خود کو واقعی غلط اور گمراہ‌کُن عقائد کی بابت وجوہات تلاش کرکے اُنکی توجیہ کرنے سے دھوکا دیتے ہیں۔‏

پہلی صدی کے چند مسیحیوں کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ وہ خدا کے کلام سے تو واقف تھے مگر اُنہوں نے اپنی سوچ کو اس سے متاثر ہونے نہ دیا۔ انجام‌کار اُنہوں نے ”‏اپنے‌آپ کو دھوکا دیا۔“‏ (‏یعقوب ۱:‏۲۲،‏ ۲۶‏)‏ ہمارے دھوکادہی کا شکار ہونے کو ظاہر کرنے والی ایک حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی ہمارے عقائد کو چیلنج کرتا ہے تو ہم بہت جلد غصے میں آ جاتے ہیں۔ غصے میں آنے کی بجائے، یہ اچھا ہے کہ ہم اپنے ذہن کو کھلا رکھیں اور دوسرے جوکچھ کہتے ہیں اُسے غور سے سنیں خواہ ہم اپنی رائے کو درست ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔—‏امثال ۱۸:‏۱۷‏۔‏

‏”‏خدا کی معرفت“‏ تلاش کریں

اپنی سوچ کو درست رکھنے کیلئے ہم کیا کر سکتے ہیں؟ مدد کی کمی نہیں مگر ہمیں اس کیلئے کام کرنے کو تیار ہونا چاہئے۔ دانشمند بادشاہ سلیمان نے کہا:‏ ‏”‏اَے میرے بیٹے!‏ اگر تُو میری باتوں کو قبول کرے اور میرے فرمان کو نگاہ میں رکھے۔ ایسا کہ تُو حکمت کی طرف کان لگائے اور فہم سے دل لگائے بلکہ اگر تُو عقل کو پکارے اور فہم کے لئے آواز بلند کرے اور اُسکو ایسا ڈھونڈے جیسے چاندی کو اور اُسکی ایسی تلاش کرے جیسی پوشیدہ خزانوں کی تو تُو [‏یہوواہ]‏ کے خوف کو سمجھے گا اور خدا کی معرفت کو حاصل کریگا۔“‏ (‏امثال ۲:‏۱-‏۵‏)‏ جی‌ہاں، اگر ہم اپنے دلوں اور دماغوں کو خدا کے کلام کی سچائیوں سے معمور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم حقیقی حکمت، بصیرت اور فہم حاصل کرینگے۔ دراصل ہم ایسی چیزوں کی تلاش کر رہے ہونگے جنکی قدروقیمت چاندی یا دیگر مادی چیزوں سے زیادہ ہے۔—‏امثال ۳:‏۱۳-‏۱۵‏۔‏

سمجھ کو درست رکھنے کے لئے حکمت اور علم واقعی اہم عنصر ہیں۔ خدا کا کلام بیان کرتا ہے، ”‏حکمت تیرے دل میں داخل ہوگی اور علم تیری جان کو مرغوب ہوگا۔ تمیز تیری نگہبان ہوگی۔ فہم تیری حفاظت کریگا تاکہ تجھے شریر کی راہ سے اور کجگو سے بچائیں۔ جو راستبازی کی راہ کو ترک کرتے ہیں تاکہ تاریکی کی راہوں میں چلیں۔“‏—‏امثال ۲:‏۱۰-‏۱۳‏۔‏

پریشانی اور خطرے کے وقت میں یہ بالخصوص ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ کی راہنمائی خدا کی سمجھ کے مطابق کریں۔ غصے اور خوف جیسے قوی جذبات ہماری سوچ کے مثبت ہونے کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں۔ سلیمان کہتا ہے، ”‏ظلم دانشور آدمی کو دیوانہ بنا دیتا ہے۔“‏ (‏واعظ ۷:‏۷‏)‏ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص ’‏یہوواہ ہی سے بیزار ہو جائے۔‘‏ (‏امثال ۱۹:‏۳‏)‏ وہ کیسے؟ اپنے مسائل کا ذمہ‌دار خدا کو ٹھہرانے اور پھر اِنہیں خدا کے قوانین اور اُصولوں کے خلاف کاموں کا جواز قرار دینے سے ایسا ممکن ہے۔ یہ سمجھنے کی بجائے کہ ہماری سوچ ہمیشہ درست ہوتی ہے ہمیں فروتنی کیساتھ صحائف سے مدد فراہم کرنے والے دانشمند مشیروں کی بات سننی چاہئے۔ لہٰذا اگر ضرورت پڑے تو ہمیں یہ ثبوت مِل جانے کے بعد کہ ہمارے نظریات غلط ہیں اُنہیں چھوڑنے کیلئے تیار ہونا چاہئے۔—‏امثال ۱:‏۱-‏۵؛‏ ۱۵:‏۲۲‏۔‏

‏’‏خدا سے مانگتے رہیں‘‏

ہم پریشان‌کُن اور خطرناک ایّام میں رہتے ہیں۔ اچھی بصیرت اور دانشمندی سے چلنے کیلئے دُعا میں باقاعدہ یہوواہ سے راہنمائی حاصل کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔ پولس نے لکھا، ”‏کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگذاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوؔع میں محفوظ رکھیگا۔“‏ (‏فلپیوں ۴:‏۶، ۷‏)‏ اگر ہمارے اندر پیچیدہ مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کی لیاقت نہیں تو ہمیں ’‏خدا سے دانائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو بغیر ملامت کئے سب کو فیاضی سے دیتا ہے۔‘‏—‏یعقوب ۱:‏۵-‏۸‏۔‏

اس بات سے باخبر ہوتے ہوئے کہ ساتھی مسیحیوں کو حکمت کی ضرورت ہے پولس نے ’‏اُنکی سمجھ کو بیدار کرنے‘‏ کی کوشش کی۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ ”‏اُن باتوں کو جو پاک نبیوں نے پیشتر کہیں اور خداوند اور مُنجی [‏یسوع مسیح]‏ کے اُس حکم کو یاد رکھو جو تمہارے رسولوں کی معرفت آیا تھا۔“‏ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱، ۲‏)‏ اگر ہم ایسا کرتے اور اپنے ذہنوں کو یہوواہ کے کلام پر مرتکز رکھتے ہیں تو ہم مثبت سوچ کیساتھ دانشمندی سے چلنے کے قابل ہونگے۔‏

‏[‏صفحہ ۲۱ پر تصویریں]‏

ابتدائی مسیحیوں نے اپنی سوچ کو فیلسوفی کی بجائے خدائی حکمت سے ڈھالا تھا

‏[‏تصویروں کے حوالہ‌جات]‏

Philosophers left to right: Epicurus: Photograph taken by

courtesy of the British Museum; Cicero: Reproduced from The Lives

of the Twelve Caesars; Plato: Roma, Musei Capitolini

‏[‏صفحہ ۲۳ پر تصویریں]‏

دُعا اور خدا کے کلام کا مطالعہ بہت ضروری ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں