یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م01 15/‏10 ص.‏ 2-‏4
  • کیا آپ دُنیا کو بہتر بنا سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ دُنیا کو بہتر بنا سکتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دُنیا کو بہتر بنانے کی مذہبی کاوشیں
  • اخلاق کدھر کا رخ کئے ہوئے ہیں؟‏
    جاگو!‏—‏1994ء
  • صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی اہمیت
    جاگو!‏—‏2019ء
  • کیا مذہبی راہنماؤں کو سیاست میں حصہ لینا چاہئے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
م01 15/‏10 ص.‏ 2-‏4

کیا آپ دُنیا کو بہتر بنا سکتے ہیں؟‏

‏”‏سیاست معاشرے کو دوبارہ استحکام نہیں بخش سکتی۔ یہ روایتی اخلاقی اعتقادات کو بحال کرنے کے قابل نہیں ہے۔ بہترین حکمتِ‌عملیاں بھی کورٹ‌شپ یا شادی کو بحال، والدوں کے اندر اپنے بچوں کیلئے احساسِ‌ذمہ‌داری اور لوگوں کے سابقہ احساسِ‌احتجاج یا ندامت کو بیدار نہیں کر سکتیں .‏ .‏ .‏ قانون ہمیں پریشان‌کُن اخلاقی مسائل سے چھٹکارا نہیں دلا سکتا۔“‏

کیا آپ ایک سابقہ یو.‏ایس.‏ سرکاری افسر کے مذکورہ‌بالا بیان سے متفق ہیں؟ اگر ایسا ہے تو بیشتر مسائل کا حل کیا ہے جو لالچ، خاندانوں میں طبعی محبت کی کمی، اخلاقی تنزلی، لاعلمی اور معاشرے کو کھوکھلا کر دینے والے دیگر تباہ‌کُن عناصر کی پیداوار ہیں؟ بعض لوگوں کے خیال میں اسکا کوئی حل نہیں ہے لہٰذا وہ اپنی زندگی سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیگر کسی کراماتی اور ذہین راہنما یا شاید کسی مذہبی راہنما کے برپا ہونے کی توقع میں ہیں جو ایک نہ ایک دن اُنکی صحیح سمت راہنمائی کریگا۔‏

درحقیقت دو ہزار سال پہلے، لوگ یسوع مسیح کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے تھے کیونکہ وہ اُسے خدا کا رسول خیال کرتے تھے جو ایک قابل حکمران بننے کے لائق ہے۔ تاہم جب یسوع کو انکے ارادوں کا علم ہوا تو وہ فوراً وہاں سے چلا گیا۔ (‏یوحنا ۶:‏۱۴، ۱۵‏)‏ بعدازاں اُس نے ایک رومی حاکم کو بتایا، ”‏میری بادشاہی اس دُنیا کی نہیں۔“‏ (‏یوحنا ۱۸:‏۳۶‏)‏ تاہم، آجکل اُس کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرنے والے مذہبی راہنماؤں سمیت بہت کم لوگ یسوع جیسا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے دُنیاوی حکمرانوں پر اثرانداز ہونے یا سیاسی عہدے حاصل کرکے اس دُنیا کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہم ۱۹۶۰ اور ۱۹۷۰ کے عشروں کا جائزہ لینے سے اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔‏

دُنیا کو بہتر بنانے کی مذہبی کاوشیں

لاطینی امریکہ کے ممالک کے بعض مذہبی علما نے ۱۹۶۰ کے دہے میں غریب اور مظلوم لوگوں کے حق میں آواز اُٹھائی۔ اس مقصد کے تحت اُنہوں نے مذہبی مساوات کو فروغ دیتے ہوئے مسیح کو نہ صرف بائبل کے مفہوم میں بلکہ سیاسی اور معاشی لحاظ سے بھی ایک نجات‌دہندہ کے طور پر پیش کِیا۔ ریاستہائے‌متحدہ میں اخلاقی اقدار کی تنزلی کی بابت فکرمند چرچ لیڈروں نے مورل مجورٹی کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دی۔ اسکا مقصد ایسے لوگوں کو سیاسی عہدوں پر فائز کرنا تھا جو صحتمند خاندانی اقدار وضع کرینگے۔ اسی طرح بہتیرے مسلم ممالک میں کئی گروہوں نے بددیانتی اور بے‌اعتدالیوں کی روک‌تھام کیلئے پابندی کیساتھ قرآن کی اطاعت کرنے پر زور دیا ہے۔‏

کیا آپ یقین رکھتے ہیں کہ ان کاوشوں نے اس دُنیا کو ایک بہتر جگہ بنا دیا ہے؟ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ مجموعی طور پر اخلاقی اقدار تنزلی کا شکار ہیں اور ان ممالک سمیت جہاں مذہبی مساوات پر زور دیا جا رہا ہے امیروغریب کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔‏

چونکہ مورل مجورٹی ریاستہائے‌متحدہ میں اپنے کلیدی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی لہٰذا اس کے بانی جیری فالیویل نے ۱۹۸۹ میں اس تنظیم کا بستر گول کر لیا تھا۔ اس کی جگہ دوسری تنظیموں نے لے لی ہے۔ اس کے باوجود، پہلی بار ”‏مورل مجورٹی“‏ کی اصطلا‌ح استعمال کرنے والے شخص پال ویریچ نے رسالے کرسچینٹی ٹوڈے میں لکھا:‏ ”‏سیاست میں کامیابی کے باوجود ہماری فتوحات ایسی پالیسیاں وضع کرنے میں ناکام رہتی ہیں جنہیں ہم اہم خیال کرتے ہیں۔“‏ اُس نے یہ بھی لکھا:‏ ”‏ثقافت دن‌بدن پس‌ماندگی کا شکار ہے۔ ہم ثقافت کی غیرمعمولی تنزلی کا شکار ہیں جو اس قدر سنگین ہے کہ سیاست کو بھی تباہ‌وبرباد کر رہی ہے۔“‏

کالم‌نگار اور مصنف کال تھامس نے ایک ایسی بنیادی رکاوٹ کو آشکارا کِیا جو اُس کے خیال میں سیاست کے ذریعے معاشرے میں ترقی لانے کی کوشش کو ناکام بناتی ہے:‏ ”‏حقیقی تبدیلی انتخابات میں برتری کی بجائے انسانوں کے دلوں میں وقوع‌پذیر ہوتی ہے کیونکہ ہمارے بنیادی مسائل معاشی یا سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی ہیں۔“‏

تاہم آپ ایسی دُنیا میں اخلاقی اور روحانی مسائل کو کیسے حل کر سکتے ہیں جہاں کوئی تسلیم‌شُدہ قانون ہی نہیں بلکہ لوگ اپنے لئے ذاتی طور پر صحیح اور غلط کا فیصلہ کرتے ہیں؟ اگر ذی‌اختیار اور نیک‌نیت—‏مذہبی یا غیرمذہبی—‏لوگ اس دُنیا کو حقیقی معنوں میں ایک بہتر جگہ نہیں بنا سکتے توپھر کون یہ کام کر سکتا ہے؟ اگلا مضمون ہمیں اسکا جواب فراہم کرے گا۔ درحقیقت، اس جواب میں وہ بنیادی وجہ پنہاں ہے جس کی بِنا پر یسوع نے کہا تھا کہ اُس کی بادشاہت اس دُنیا کی نہیں۔‏

‏[‏صفحہ ۲ پر تصویروں کے حوالہ‌جات]‏

COVER: Dirty water: WHO/​UNICEF photo; globe: Mountain High

‏.Maps® Copyright © 1997 Digital Wisdom, Inc

‏[‏صفحہ ۳ پر تصویروں کے حوالہ‌جات]‏

Children: UN photo; globe: Mountain High Maps® Copyright

‏.1997 Digital Wisdom, Inc ©

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں