میری کہانی میری زبانی
ہم نے یہوواہ کا امتحان کِیا
از پال سکربنر
”صبحبخیر، مسز سٹاکہاؤس۔ مَیں آج صبح ایسٹر کیک کیلئے آرڈر لے رہا ہوں۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ بھی اپنے خاندان کیلئے ضرور کیک حاصل کرنا چاہینگی۔“ یہ ۱۹۳۸ کے موسمِبہار کی بات ہے کہ مَیں ایٹکو، نیو جرسی، یو.ایس.اے. میں جنرل بیکنگ کمپنی کیلئے اپنے سیلز روٹ پر ایک اچھے گاہک سے مخاطب تھا۔ جب مسز سٹاکہاؤس نے میری پیشکش مسترد کر دی تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔
”مَیں نہیں لینا چاہتی،“ اُس نے کہا۔ تاہم، اُس نے اِس کی وجہ بھی بتائی کہ ”ہم ایسٹر نہیں مناتے۔“
اب میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہوں۔ ایسٹر نہیں مناتے؟ بیشک، سیلز کا پہلا اصول ہے کہ گاہک ہمیشہ صحیح ہوتا ہے۔ پس اب کیا کروں؟ ”خیر“ مَیں نے جرأت کرکے کہا، ”یہ کیک بہت اچھا ہے اور مَیں جانتا ہوں کہ آپکو ہماری اشیا بہت پسند ہیں۔ اگر آپ ایسٹر نہ بھی مناتی ہوں توبھی کیا آپ کے خیال میں آپکا خاندان اس سے لطف نہیں اُٹھائیگا؟“
”میرا خیال ہے کہ نہیں،“ اس نے اپنی بات دہرائی، ”لیکن مسٹر سکربنر مَیں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی تھی اور اب اس کے لئے یہ بالکل مناسب وقت ہے۔“ اس باتچیت نے واقعی میری زندگی بالکل بدل ڈالی! مسز سٹاکہاؤس برلن، نیو جرسی، یہوواہ کے گواہوں کی کمپنی (یا کلیسیا) کی ایک رُکن تھی اور اُس نے واضح کِیا کہ ایسٹر کی تقریب کا آغاز کہاں سے ہوا اور اس نے مجھے تین کتابچے دئے۔ اُن کے عنوان تھے، سیفٹی، اَنکوَرڈ اور پروٹیکشن۔ مَیں ان کتابچوں کو لیکر گھر چلا آیا لیکن تجسّس کے ساتھ ساتھ مَیں کچھ تذبذب میں بھی مبتلا تھا۔ مسز سٹاکہاؤس کی بات مجھے کچھ جانیپہچانی لگ رہی تھی گویا مَیں نے بچپن سے کچھ ایسا ہی سن رکھا تھا۔
بائبل سٹوڈنٹس کیساتھ پہلا رابطہ
مَیں جنوری ۳۱، ۱۹۰۷ میں پیدا ہوا اور ۱۹۱۵ میں جب میری عمر آٹھ سال تھی تو کینسر سے میرے والد کی وفات ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں، مَیں اور میری ماں اُس کے والدین کے پاس مولڈن، میساچوسیٹس میں رہنے کے لئے چلے گئے۔ میرے ماموں، بنجیمن رینسم اور ممانی بھی وہیں تیسری منزل پر رہتے تھے۔ ماموں بنجیمن بیسویں صدی شروع ہونے سے بھی پہلے بائبل سٹوڈنٹس—یہوواہ کے گواہ اس وقت اسی نام سے مشہور تھے—کیساتھ منسلک تھے۔ ماموں بنجیمن مجھے بہت اچھے لگتے تھے لیکن میری امی کا باقی خاندان جو کہ میتھوڈسٹ تھا اسے عجیب خیال کرتا تھا۔ سالوں بعد، اُس کی بیوی نے طلاق لینے سے پہلے، اسے اس کے مذہبی اعتقادات کی وجہ سے کچھ عرصہ کیلئے پاگلخانے میں داخل کرا دیا! چونکہ ڈاکٹروں نے فوراً ہی یہ دیکھ لیا کہ ماموں بنجیمن کا ذہنی توازن بالکل ٹھیک ہے اسلئے انہوں نے معذرت کیساتھ اسے چھوڑ دیا۔
ماموں بنجیمن خاصکر جب مہمان مقرر آتا یا کوئی خاص تقریب ہوتی تو مجھے بوسٹن میں انٹرنیشنل بائبل سٹوڈنٹس کے اجلاسوں پر لیجایا کرتا تھا۔ ایک موقع پر مہمان مقرر چارلس ٹیز رسل تھا جو ان دنوں منادی کے کام کی نگرانی کِیا کرتا تھا۔ ایک اَور موقع پر، ”فوٹو ڈرامہ آف کریئیشن“ دکھایا جانے والا تھا۔ اگرچہ یہ ۱۹۱۵ کی بات ہے توبھی آج تک مجھے وہ منظر اچھی طرح یاد ہے جب ابرہام اضحاق کو پہاڑ پر لیجا کر اسے قربانی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ (پیدایش ۲۲ باب) مَیں ابھی بھی دیکھ سکتا ہوں کہ ابرہام اور اضحاق اس پہاڑ پر لکڑیاں لیکر چڑھ رہے ہیں کیونکہ ابرہام یہوواہ پر مکمل بھروسا رکھتا تھا۔ چونکہ مَیں یتیم تھا اسلئے اس کا مجھ پر گہرا اثر ہوا۔
اس کے بعد ماموں بنجیمن اور ان کی اہلیہ مین میں منتقل ہو گئے اور امی نے دوبارہ شادی کر لی اور ہمیں لے کر نیو جرسی آ گئیں۔ پس مَیں کافی عرصہ تک ماموں بنجیمن سے نہ مِل پایا۔ نیو جرسی میں اپنی نوعمری کے دوران، میری ملاقات میرئین نیف سے ہوئی جو ایک پریسبٹیرین خاندان کے آٹھ بچوں میں سے ایک تھی۔ اس خاندان سے ملنے میں مجھے بڑا لطف آتا تھا۔ مَیں نے کافی مرتبہ اتوار کی شامیں اس خاندان اور انکے چرچ یوتھ گروپ کیساتھ بسر کیں اور بالآخر خود بھی پریسبٹیرین بن گیا۔ تاہم، بائبل سٹوڈنٹس کے اجلاسوں سے سیکھی ہوئی کئی باتیں مجھے یاد تھیں۔ مَیں نے میرئین سے ۱۹۲۸ میں شادی کر لی اور ہماری بیٹیاں ڈورس اور لوئیس ۱۹۳۵ اور ۱۹۳۸ میں پیدا ہوئیں۔ اب ہمارے خاندان میں دو چھوٹے بچے تھے اسلئے ہمیں انکی پرورش کیلئے روحانی ہدایت کی ضرورت محسوس ہوئی۔
ان کتابچوں میں سچائی پانا
مَیں اور میرئین کسی چرچ میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے اس لئے ہم نے ایک منصوبہ بنایا۔ ہر اتوار کو ہم میں سے ایک اپنی باری سے بچوں کیساتھ گھر میں رہتا جبکہ دوسرا امکانی چرچ میں جاتا تھا۔ ایک اتوار گھر پر رہنے کی باری میرئین کی تھی لیکن بچوں کے پاس رہنے کیلئے مَیں نے پیشکش کی تاکہ مَیں کتابچہ سیفٹی پڑھ سکوں۔ یہ کتابچہ ان تین کتابچوں میں سے ایک تھا جو مسز سٹاکہاؤس نے مجھے دئے تھے۔ جب مَیں نے اسے پڑھنا شروع کِیا تو پڑھتا ہی چلا گیا! مَیں قائل ہو گیا کہ مَیں نے وہ چیز دریافت کر لی ہے جو کوئی چرچ نہیں دے سکتا۔ اگلے اتوار بھی ایسا ہی ہوا کہ مَیں نے بچوں کے پاس رہنے کی پیشکش کی تاکہ دوسرا کتابچہ اَنکوَرڈ پڑھ سکوں۔ مَیں جو کچھ پڑھ رہا تھا وہ مجھے جاناپہچانا سا لگ رہا تھا۔ کیا ماموں بنجیمن کا بھی یہی اعتقاد تھا؟ ہمارے خاندان کی نظر میں اس کا مذہب عجیب تھا۔ میرئین کا کیا خیال تھا؟ مجھے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جب مَیں کتابچہ اَنکوَرڈ پڑھنے کے چند دن بعد کام سے گھر لوٹا تو مَیں میرئین کی یہ بات سن کر حیران ہو گیا کہ ”مَیں نے اُن کتابچوں کو پڑھا ہے جو آپ گھر لائے تھے۔ وہ واقعی دلچسپ ہیں۔“ یہ سن کر مجھے واقعی بڑی تسلی ملی!
ان کتابچوں کی پُشت پر حال ہی میں ریلیز ہونے والی کتاب اینیمیز کی بابت معلومات تھیں جس میں جھوٹے مذہب کو بےنقاب کِیا گیا تھا۔ ہم نے اسے حاصل کرنے کا فیصلہ کِیا۔ تاہم، ابھی ہم اپنی درخواست ڈاک کے ذریعے ارسال کرنے ہی والے تھے کہ ایک گواہ نے ہمارے دروازے پر دستک دی اور یہی کتاب پیش کی۔ اس کتاب نے فیصلہ کرنے میں ہماری مدد کی! ہم نے چرچوں میں جانا چھوڑ کر کامڈن، نیو جرسی میں یہوواہ کے گواہوں کے کلیسیائی اجلاسوں پر جانا شروع کر دیا۔ چند ماہ بعد، جولائی ۳۱، ۱۹۳۸ کو اتوار کے دن ہم میں سے ۵۰ لوگوں کا ایک گروپ بہن سٹاکہاؤس کے لان میں اکٹھا ہوا—یہ وہی گھر تھا جہاں مَیں ایسٹر کیک بیچنے کی کوشش کر رہا تھا—اور بپتسمے کے موضوع پر جج رتھرفورڈ کی ریکارڈ کی ہوئی تقریر سنی۔ اس کے بعد ہم نے گھر میں کپڑے تبدیل کئے اور ۱۹ لوگوں نے قریبی نہر میں بپتسمہ لیا۔
پائنیر بننے کا عزم
میرے بپتسمے کے فوراً بعد، کلیسیا کی ایک بہن نے مجھے پائنیروں کی بابت بتایا جنکی سب سے اہم کارگزاری عوامی خدمتگزاری تھی۔ مَیں نے اس میں دلچسپی لی اور جلد ہی پائنیر خدمت کرنے والے ایک خاندان سے واقفیت پیدا کر لی۔ ایک عمررسیدہ بھائی کونگ، اس کی بیوی اور اس کی جوان بیٹی قریبی کلیسیا میں پائنیر تھے۔ مَیں اپنے خاندان کو خوش دیکھنا چاہتا تھا اسلئے مَیں اس خوشی سے بہت متاثر تھا جو کونگ خاندان خدمتگزاری سے حاصل کرتا تھا۔ مَیں اکثراوقات اپنا بیکری والا ٹرک اُن کے ہاں کھڑا کرکے اُن کے ساتھ گھرباگھر کی خدمتگزاری میں وقت صرف کِیا کرتا تھا۔ جلد ہی مَیں بھی پائنیر بننا چاہتا تھا۔ لیکن کیسے؟ ہمارے دو بچے تھے اور میرا کام کافی وقتطلب تھا۔ درحقیقت، جب یورپ میں دوسری جنگِعظیم شروع ہوئی اور ریاستہائےمتحدہ کے زیادہ مرد فوج میں چلے گئے تو جو غیرفوجی ملازمتوں میں رہ گئے اُن پر اضافی کام آن پڑا تھا۔ مجھے مزید سیلز روٹس پر جانے کی تاکید کی گئی تھی اور مَیں جانتا تھا کہ اس شیڈول کیساتھ مَیں کبھی پائنیر خدمت نہیں کر سکتا۔
جب مَیں نے بھائی کونگ کے سامنے پائنیر خدمت کرنے کی خواہش کا اظہار کِیا تو اس نے کہا: ”یہوواہ کی خدمت میں محنت کرتے رہو اور اپنے نصبالعین کی بابت اُس سے دُعا کرو۔ وہ اسے حاصل کرنے میں تمہاری مدد کریگا۔“ ایک سال تک مَیں یہی کرتا رہا۔ مَیں اکثر متی ۶:۸ جیسے صحائف پر بھی غور کرتا تھا جو ہمیں یقیندہانی کراتا ہے کہ یہوواہ ہمارے مانگنے سے پہلے ہی ہماری ضروریات سے باخبر ہے۔ اس کے علاوہ مَیں متی ۶:۳۳ کی مشورت کے مطابق خدا کی بادشاہت اور اُسکی راستبازی کی پہلے تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایک زون سرونٹ (اب سرکٹ اوورسیئر کہلاتے ہیں) بھائی میلون ونچیسٹر نے بھی میری حوصلہافزائی کی۔
مَیں نے میرئین سے اپنے نشانوں کے سلسلے میں باتچیت کی۔ ہم نے ملاکی ۳:۱۰ کے الفاظ پر باتچیت کی جو یہوواہ کا امتحان کرنے اور یہ دیکھنے کی حوصلہافزائی کرتی ہے کہ وہ ہم پر اپنی برکت برساتا ہے کہ نہیں۔ اس کے جواب سے میری حوصلہافزائی ہوئی: ”اگر تم پائنیر خدمت کرنا چاہتے ہو تو میری وجہ سے رکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب تم پائنیر خدمت کرو گے تو ان بچیوں کو مَیں سنبھال لونگی۔ ہمیں اتنی مادی چیزیں چاہئیں بھی نہیں۔“ شادی کے ۱۲ سال بعد، مَیں پہلے ہی سے جانتا تھا کہ میرئین ایک کفایتشعار اور بیحد محتاط بیوی ہے۔ کئی سالوں سے وہ شاندار پائنیر ساتھی ثابت ہوئی ہے اور تقریباً ۶۰ سالہ کُلوقتی خدمت میں ہماری کامیابی کا راز اُسکی کم چیزوں میں خوش رہنے اور انہیں کافی زیادہ خیال کرنے کی صلاحیت ہے۔
سن ۱۹۴۱ کے موسمِگرما تک دُعائیہ منصوبہسازی کے کافی مہینوں بعد، ہم نے کچھ رقم پسانداز کر کے ۱۸ فٹ لمبا سفری ٹریلر خرید لیا جس میں ہمارا خاندان رہ سکتا تھا۔ مَیں اپنی نوکری چھوڑ کر جولائی ۱۹۴۱ میں باقاعدہ پائنیر بن گیا اور اس وقت سے مَیں کُلوقتی خدمت کر رہا ہوں۔ میری پہلی تفویض نیو جرسی اور سینٹ لوئیس، میسوری کے درمیان ۵۰ روٹ پر دس سٹاپ تھے جہاں اگست کے اوائل میں ہمارا کنونشن منعقد ہونا تھا۔ مجھے اس علاقے میں رہنے والے بھائیوں کے نام اور پتے بھیجے گئے جنہیں مَیں نے اپنی متوقع آمد سے آگاہ کر دیا۔ جب ہم کنونشن پر پہنچیں تو مجھے پائینر ڈیسک تلاش کرکے ایک اَور تفویض حاصل کرنی تھی۔
”مَیں یہوواہ کا امتحان کرنے لگا ہوں“
ہم نے اپنا چھوٹا سفری ٹریلر لٹریچر سے بھرا اور کامڈن میں بھائیوں کو خدا حافظ کہنے کیلئے اپنے آخری اجلاس پر گئے۔ ہمارے ساتھ دو چھوٹی لڑکیاں تھیں اور کنونشن کے بعد ہمارا اَور کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اسلئے ہمارے منصوبے بعض بھائیوں کو غیرحقیقتپسندانہ لگے اور بعض نے تو کہا کہ ”تم جلد ہی لوٹ آؤ گے۔“ مجھے اپنی یہ بات یاد ہے: ”خیر مَیں یہ نہیں کہتا کہ مَیں واپس نہیں آؤنگا۔ یہوواہ نے کہا ہے کہ وہ میری دیکھبھال کریگا اور مَیں یہوواہ کا امتحان کرنے لگا ہوں۔“
میساچوسیٹس سے لیکر مسیسیپی تک ۲۰ مختلف شہروں میں پائنیر خدمت کے چھ دہوں بعد، ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ نے اپنا وعدہ بالکل پورا کِیا ہے۔ اس نے مجھے، میرئین اور ہماری دو بچیوں کو جن برکات سے نوازا ہے مَیں نے تو ۱۹۴۱ میں انکی توقع بھی نہیں کی تھی۔ اس برکت کے نتیجے میں ہماری بیٹیاں قریبی کلیسیاؤں میں وفادار پائنیروں کے طور پر کام کر رہی ہیں اور تقریباً ایک سو روحانی بیٹے اور بیٹیاں ریاستہائےمتحدہ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مَیں نے ۵۲ اور میرئین نے ۴۸ اشخاص کیساتھ مطالعہ کِیا ہے جنہوں نے یہوواہ خدا کیلئے اپنی زندگیاں مخصوص کی ہیں۔
اگست ۱۹۴۱ میں، ہم سینٹ لوئیس گئے اور وہاں میری ملاقات بیتایل کے بھائی ٹی. جے. سلیوان سے ہوئی۔ اس کے پاس میرا تقررنامہ تھا جس کی مجھے جنگ شروع ہونے کے پیشِنظر فوجی خدمت سے مستثنیٰ رہنے کیلئے ضرورت تھی۔ مَیں نے بھائی سیلوان کو بتایا کہ میری بیوی خدمتگزاری میں میرے جتنا وقت صرف کرتی ہے اور وہ بھی میرے ساتھ پائنیر خدمت کرنا چاہتی ہے۔ اگرچہ اُس وقت تک کنونشن پر پائنیر ڈیسک قائم نہیں کِیا گیا تھا توبھی بھائی سیلوان نے اُسی موقع پر میرئین کیلئے بطور پائنیر دستخط کر دئے اور ہم سے پوچھا: ”کنونشن کے بعد تم کہاں پر جا کر پائنیر خدمت کرنا چاہو گے؟“ ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اس نے کہا: ”اچھا فکر نہ کرو۔ کنونشن پر تم ایسے علاقے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے ملو گے جہاں پائنیروں کی ضرورت ہے، اس طرح تمہارا مسئلہ حل ہو جائیگا۔ ہمیں بس لکھ کر بتا دینا کہ تم کہاں ہو اور ہم تمہیں مقرر کر دیں گے۔“ ایسا ہی ہوا۔ ایک سابقہ زون سرونٹ بھائی جیک ڈیوِٹ نیو مارکیٹ، ورجینیا میں چند لوگوں کو جانتے تھے جنکے پاس پائنیر ہوم تھا جس میں مزید پائنیروں کی ضرورت تھی۔ پس کنونشن کے بعد ہم نیو مارکیٹ روانہ ہو گئے۔
نیو مارکیٹ میں ہمیں غیرمعمولی خوشی حاصل ہوئی۔ واہ، فلدلفیہ سے ہمارے ساتھ پائنیر خدمت کرنے کیلئے بنجیمن رینسم آیا! جیہاں، ماموں بنجیمن! اس نے بوسٹن میں میرے اندر سچائی کے بیج بوئے تھے لیکن اب اس کے تقریباً ۲۵ سال بعد گھرباگھر کی خدمتگزاری میں اس کیساتھ کام کرنا کتنی خوشی کی بات تھی! کئی سالوں تک خاندان کی بےحسی، ٹھٹھابازی اور اذیت کا سامنا کرنے کے باوجود، ماموں بنجیمن کی یہوواہ اور خدمتگزاری کیلئے محبت ختم نہیں ہوئی تھی۔
ہم نے نیو مارکیٹ کے پائنیر ہوم میں آٹھ ماہ تک قیام کِیا۔ اس دوران ہم نے دیگر باتوں کے علاوہ لٹریچر کے بدلے مرغی اور انڈے لینا بھی سیکھا۔ اس کے بعد ماموں بنجیمن، میرئین اور مجھے دیگر تین اشخاص کیساتھ ہانور، پینسلوانیہ میں سپیشل پائنیروں کے طور پر خدمت کرنے کیلئے مقرر کِیا گیا—یہ ۱۹۴۲ سے لیکر ۱۹۴۵ تک پینسلوانیہ میں چھ تفویضات میں سے ہماری پہلی تفویض تھی۔
دوسری عالمی جنگ میں سپیشل پائنیر
دوسری عالمی جنگ کے دوران ایسے مواقع بھی آئے جب ہمیں اپنے غیرجانبدارانہ مؤقف کی وجہ سے دشمنی کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہوواہ نے ہمیں ہمیشہ سنبھالے رکھا۔ ایک موقع پر جب پرونسٹاؤن، میساچوسیٹس میں، ہماری پُرانی گاڑی بوئیک خراب ہو گئی تو مجھے شدید مخالفت والے ایک کیتھولک علاقے میں چند کلومیٹر چل کر اپنی واپسی ملاقات پر جانا پڑا۔ جب مَیں نوجوان غنڈوں کے گروہ کے سامنے سے گزرا تو انہوں نے مجھے پہچان کر چلّانا شروع کر دیا۔ اُنہوں نے مجھ پر پتھر برسائے جو میرے کانوں کے پاس سے شاںشاں کرکے گزر رہے تھے جبکہ مَیں اس اُمید کیساتھ تیزی سے آگے بڑھتا گیا کہ وہ نوجوان میرا تعاقب نہیں کر رہے ہیں۔ مَیں بغیر کسی نقصان کے دلچسپی رکھنے والے شخص کے گھر پہنچ گیا۔ لیکن صاحبِخانہ جو امریکی لیجن کا ایک معزز رُکن تھا یہ کہتے ہوئے معذرت کرنے لگا: ”مَیں آج آپ کو وقت نہیں دے سکتا کیونکہ مَیں آپکو بتانا بھول گیا کہ آج تو ہم فلم دیکھنے جا رہے ہیں۔“ مَیں ڈر گیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ مجھ پر پتھر برسانے والا گروہ گلی کی نکڑ پر میری واپسی کا منتظر ہوگا۔ تاہم، مَیں اس وقت کھل اُٹھا جب اُس آدمی نے کہا: ”کیوں نہ آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں؟ ہم راستے میں بات کر سکتے ہیں۔“ پس مَیں نے اُسے گواہی دی اور خطرے والی جگہ سے بحفاظت گزر گیا۔
خاندان اور خدمتگزاری میں توازن قائم کرنا
جنگ کے بعد، ورجینیا میں ہمیں کئی تفویضات ملیں جن میں شارلٹسوِل میں سپیشل اور باقاعدہ پائنیر کے طور پر آٹھ سال کام کرنا بھی شامل ہے۔ سن ۱۹۵۶ تک ہماری لڑکیاں بڑی ہو گئیں اور ان کی شادیاں بھی ہو گئیں اور مَیں اور میرئین پھر سے ہیریسنبرگ، ورجینیا میں پائنیروں کے طور پر اور لنکنٹن، شمالی کیرولینا میں سپیشل پائنیروں کے طور پر خدمت کرنے کے لئے روانہ ہو گئے۔
سن ۱۹۶۶ میں، مجھے سرکٹ کے کام کیلئے مقرر کِیا گیا اور جیسے بھائی وِنچیسٹر نے ۳۰ کے دہے میں نیو جرسی میں میری حوصلہافزائی کی تھی اُسی طرح مَیں نے ایک کلیسیا سے دوسری کلیسیا میں سفر کرکے بھائیوں کی حوصلہافزائی کی۔ دو سال تک میں نے ٹینیسی میں کلیسیاؤں کی خدمت کی۔ اس کے بعد مجھے اور میرئین کو دوبارہ سپیشل پائنیر خدمت اختیار کرنے کیلئے کہا گیا جس سے ہمیں ازحد پیار تھا۔ ہم نے ۱۹۶۸ سے لیکر ۱۹۷۷ تک جارجیہ اور مسیسیپی کے پار جنوبی ریاستہائےمتحدہ کے علاقوں میں سپیشل پائنیروں کے طور پر خدمت کی۔
ایسٹمین، جارجیہ میں مجھے ایک عزیز اور عمررسیدہ بھائی پاؤل کرکلینڈ کی جگہ کلیسیائی نگہبان (اب جسے صدارتی نگہبان کہتے ہیں) مقرر کِیا گیا۔ بھائی پاؤل کرکلینڈ نے سرکٹ اوورسیئر کے طور پر کافی سال خدمت کی لیکن اب اس کی صحت گِر رہی تھی۔ وہ نہایت ہی قدردان اور مددگار تھا۔ اس کی حمایت نہایت اہم تھی کیونکہ کلیسیا میں کچھ نااتفاقیاں تھیں جن میں چند معزز لوگ بھی شامل تھے۔ مسئلہ بڑی شدت اختیار کر گیا جس کیلئے مَیں نے یہوواہ سے بہت دُعا کی۔ امثال ۳:۵، ۶ جیسی آیات میرے ذہن میں آئیں: ”سارے دل سے [یہوواہ] پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا۔“ رابطے کے سلسلے کو کھلا رکھنے سے ہم سب کی بھلائی کیلئے کلیسیا کو متحد کرنے کے لائق ہوئے۔
سن ۱۹۷۷ تک ہم نے اپنی عمر کے اثرات محسوس کرنا شروع کر دئے اور ہمیں دوبارہ شارلٹسوِل کے علاقے میں مقرر کر دیا گیا جہاں ہماری دونوں بیٹیاں اپنے خاندانوں کیساتھ رہ رہی تھیں۔ پچھلے ۲۳ سال سے، اس علاقے میں کام کرنے اور روکرزوِل، ورجینیا کلیسیا کا آغاز کرنے میں مدد دینے اور اپنے ابتدائی بائبل طالبعلموں کے بچوں اور پھر اُنکے بچوں کو کلیسیائی بزرگ، پائنیر اور بیتایل کے ارکان بنتے دیکھنے سے ہمیں بڑی خوشی ملی ہے۔ مَیں اور میرئین میدانی خدمت کا اچھا شیڈول برقرار رکھنے کے قابل ہیں۔ اسکے علاوہ، مجھے شارلٹسوِل کی مشرقی کلیسیا میں بزرگ کے طور پر سرگرمی سے خدمت کرنے، ایک کتابی مطالعہ کرانے اور عوامی تقریر دینے کا شرف حاصل ہے۔
ان سالوں کے دوران ہم نے دیگر لوگوں کی طرح مسائل کا سامنا کِیا ہے۔ مثال کے طور پر، ہماری کوششوں کے باوجود، ڈورس اپنی جوانی میں روحانی طور پر کمزور ہو گئی اور ایک ایسے آدمی سے شادی کر لی جو گواہ نہیں تھا۔ لیکن اُس نے یہوواہ کے لئے اپنی محبت مکمل طور پر نہیں کھوئی اور اس کا بیٹا بِل ۱۵ سال سے والکل، نیو یارک میں بیتایل میں خدمت کر رہا ہے۔ ڈورس اور لوئیس دونوں اس وقت بیوہ ہیں لیکن وہ بخوشی باقاعدہ پائنیروں کے طور پر خدمت کر رہی ہیں۔
ان سالوں میں ہم نے جو سبق سیکھے
مَیں نے یہوواہ کی خدمت میں کامیاب ہونے کیلئے چند سادہ اصول عائد کرنا سیکھا ہے: اپنی زندگی سادہ رکھیں۔ اپنی نجی زندگی سمیت، اپنے سب کاموں میں عمدہ نمونہ بنیں۔ تمام باتوں میں ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کی ہدایت پر عمل کریں۔—متی ۲۴:۴۵۔
میرئین نے بچوں کی پرورش کیساتھ ساتھ کامیاب پائنیر خدمت کرنے کیلئے تجاویز کی ایک مختصر مگر مؤثر فہرست تیار کی ہے: ایک قابلِعمل شیڈول بنائیں اور اس پر کاربند رہیں۔ اپنی پائنیر خدمت کو ایک حقیقی پیشہ بنائیں۔ اچھی خوراک کھائیں۔ مناسب آرام کریں۔ حد سے زیادہ تفریح نہ کریں۔ اپنے بچوں کی زندگیوں میں خدمتگزاری کے تمام پہلوؤں سمیت سچائی کو مسرتبخش بنائیں۔ خدمتگزاری کو اُن کیلئے دلچسپ بنائیں۔
اب ہم ۹۰ کے دہے میں ہیں۔ سٹاکہاؤس کی رہائشگاہ میں اپنے بپتسمے کی تقریر کو سنے ہوئے باسٹھ سال گزر چکے ہیں اور ہم نے کُلوقتی خدمت میں ۶۰ سال صرف کئے ہیں۔ تاہم، مَیں اور میرئین دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی سے خوش اور انتہائی مطمئن ہیں۔ اگرچہ مَیں جوانی میں ہی باپ بن گیا تھا توبھی مَیں اُس حوصلہافزائی کے لئے شکرگزار ہوں جو روحانی نشانوں کو مقدم رکھنے اور انہیں حاصل کرنے کے سلسلے میں مجھے دی گئی تھی۔ ان تمام سالوں کے دوران میرئین اور میری بیٹیوں نے جو مدد کی مَیں اُس کے لئے بھی شکرگزار ہوں۔ اگرچہ ہمارے پاس مالومتاع نہیں ہے توبھی مَیں اکثر واعظ ۲:۲۵ کا اطلاق اپنے اُوپر کرتا ہوں: ”مجھ سے زیادہ کون کھا سکتا؟ اور کون مزہ اُڑا سکتا ہے؟“
واقعی، ہمارے معاملے میں یہوواہ نے ملاکی ۳:۱۰ میں پائے جانے والے اپنے وعدے کو ہر طرح سے پورا کِیا ہے۔ اس نے واقعی ہم پر ’آسمان کے دریچے کھول کر اتنی برکت برسائی ہے کہ ہمارے پاس جگہ نہیں رہی‘!
[صفحہ ۲۹ پر بکس/تصویر]
جنگ کے سالوں کی یادیں
جنگ کے تقریباً ۶۰ سال بعد بھی تمام خاندان کو سب کچھ اچھی طرح یاد ہے۔
”پینسلوانیہ میں بلا کی سردی تھی،“ ڈورس یاد کرتی ہے۔
”ایک رات تو درجۂحرارت ۳۰ ڈگری فارنہیٹ تک گِر گیا۔“ لوئیس بھی بیان کرتی ہے، ”ڈورس اور مَیں اپنی پُرانی گاڑی بوئیک کی پچھلی سیٹ پر ایک دوسرے کے پاؤں کے اُوپر بیٹھ جاتی تھیں تاکہ اپنے پاؤں کو ٹھنڈا ہونے سے بچا سکیں۔“
”لیکن ہمیں کبھی بھی غربت یا محرومیت کا احساس نہیں ہوا تھا،“ ڈورس اضافہ کرتی ہے۔ ”ہم جانتی تھیں کہ ہم دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ گھر تبدیل کرتے ہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ خوب کھایا اور ہمارے پاس شاندار اور نئے کپڑے ہوتے تھے جو ہمیں اوہائیو کے بعض دوستوں کی طرف سے ملتے تھے جنکی لڑکیاں ہم سے ذرا بڑی تھیں۔“
”امی اور ابو نے ہمیشہ ہمیں پیار دیا اور ہماری قدر کی،“ لوئیس کہتی ہے، ”اور ہم اُن کے ساتھ خدمتگزاری میں بہت زیادہ وقت صرف کرتی تھیں۔ اس سے ہمیں اُن کی قربت اور اُن کے لئے خاص اہمیت کے حامل ہونے کا احساس ہوتا تھا۔“
”میرے پاس ۱۹۳۶ کی بوئیک سپیشل گاڑی تھی،“ پال یاد کرتا ہے، ”اور ان کاروں کے ایکسل تناؤ کے تحت جلدی ٹوٹ جاتے تھے۔ میرے خیال میں انجن کار کے باقی حصوں کیلئے حد سے زیادہ طاقتور تھا۔ مہینے کی سردترین رات کو اکثر ایکسل ٹوٹ جاتا تھا اور پھر مجھے کباڑخانے دوسرا ایکسل لینے کیلئے جانا پڑتا تھا۔ مجھے انہیں تبدیل کرنے کا ہنر سیکھنا پڑا۔“
میرئین کہتی ہے کہ ”راشن کارڈ کو مت بھولیں۔ ہر چیز—گوشت، گیس، کاروں کے ٹائر، غرض ہر چیز—کی راشنبندی تھی۔ ہمیں جب بھی کوئی نئی تفویض ملتی تو ہمیں مقامی اربابِاختیار کے پاس جا کر راشن کارڈ کی درخواست دینی پڑتی تھی۔ اسے حاصل کرنے میں مہینوں لگ جاتے تھے اور جب ہمیں بالآخر کارڈ ملتا تو ہمیں اگلی تفویض پر بھیج دیا جاتا یوں پھر نئے سرے سے ہمیں تمام کوشش کرنی پڑتی تھی۔ لیکن یہوواہ نے ہمیشہ ہماری دیکھبھال کی۔“
[تصویر]
مَیں اور میرئین، ڈورس (بائیں) اور لوئیس کیساتھ، ۲۰۰۰
[صفحہ ۲۵ پر تصویر]
سن ۱۹۱۸ میں اپنی ماں کیساتھ جب مَیں ۱۱ سال کا تھا
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
سن ۱۹۴۸ میں لوئیس، میرئین اور ڈورس کیساتھ جب ہماری بیٹیوں نے بپتسمہ لیا
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
ہماری شادی کی تصویر، اکتوبر ۱۹۲۸
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
سن ۱۹۵۵، یانکی سٹیڈیم میں میری بیٹیاں (انتہائی بائیں اور انتہائی دائیں) اور مَیں