کیا آپ انتظار کرنا جانتے ہیں؟
کیا آپ اِس بات کا تصور کر سکتے ہیں کہ لوگ ہر سال انتظار کرنے میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟ اُنہیں سٹور یا پیٹرول پمپ پر قطار میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اُنہیں ریسٹورنٹ میں کھانے کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اُنہیں ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ سے ملنے کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اُنہیں بسوں اور ریلگاڑیوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جیہاں، ہر شخص کی زندگی میں وقت کی حیرانکُن مقدار مختلف چیزوں یا کاموں کے انتظار میں صرف ہو جاتی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق، صرف جرمن کے باشندے ٹریفک جام کی وجہ سے انتظار میں ہر سال ۷.۴ ارب گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں! ایک شخص نے اندازہ لگایا کہ یہ گھنٹے تقریباً ۷،۰۰۰ لوگوں کے کُل عرصۂحیات کے برابر ہیں۔
انتظار بہت مایوسکُن ہو سکتا ہے۔ آجکل ہر کام کرنے کیلئے تو وقت نہیں ہوتا مگر جب ہم اُن نہایت اہم کاموں کی بابت سوچتے ہیں جو ہمیں کرنے چاہئیں تو انتظار کرنا واقعی بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مصنف الیگزینڈر روز نے ایک مرتبہ کہا: ”زندگی کی آدھی پریشانی انتظار ہے۔“
امریکی مُدبّر بنجیمن فرینکلن نے تسلیم کِیا کہ انتظار کرنا بڑا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔ تقریباً ۲۵۰ سال پہلے اُس نے بیان کِیا: ”وقت قیمتی سرمایہ ہے۔“ اِسی وجہ سے کاروباری دُنیا کام میں غیرضروری تاخیر سے بچنے کے مختلف طریقے تلاش کرتی ہے۔ کم وقت میں زیادہ پیداوار بھاری نفع کا باعث ہو سکتی ہے۔ عوام کیلئے مختلف سہولیات فراہم کرنے والی کاروباری تنظیمیں جانتی ہیں کہ گاہک کو خوش کرنے میں انتظار کے وقت کو کم کرنا شامل ہے اسلئے وہ فوری خدمات—فاسٹ فوڈ، آٹوکیش وغیرہ وغیرہ—پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اپنی زندگی ضائع کرنا
انیسویں صدی کے امریکی شاعر رالف والڈو ایمرسن نے ایک مرتبہ یوں شکوہ کِیا: ”انسان کی زندگی کا بیشتر حصہ تو انتظار ہی میں کٹ جاتا ہے!“ حال ہی میں مصنف لانس مورو نے بھی انتظار کے باعث پیدا ہونے والی بیزاری اور بےچینی کی بابت شکایت کی۔ لیکن اِس کے بعد اُس نے ”انتظار کے مبہم مسئلے“ کا ذکر کِیا۔ یہ کیا ہے؟ ”مسئلہ یہ ہے کہ انتظار میں کسی کا انتہائی قیمتی سرمایہ، وقت یعنی کسی کی زندگی کا ایک حصہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ضائع ہو جاتا ہے۔“ افسوس کی بات تو ہے مگر یہ سچ ہے۔ انتظار کے باعث ضائع ہو جانے والا وقت پھر کبھی ہاتھ نہیں آتا۔
بیشک، اگر زندگی مختصر نہ ہوتی تو انتظار بھی اتنی پریشانی کا باعث نہ ہوتا۔ لیکن زندگی واقعی مختصر ہے۔ ہزاروں سال پہلے، بائبل کے ایک زبورنویس نے لکھا: ”ہماری عمر کی معیاد ستر برس ہے۔ یا قوت ہو تو اَسی برس۔ تو بھی اُنکی رونق محض مشقت اور غم ہے کیونکہ وہ جلد جاتی رہتی ہے اور ہم اُڑ جاتے ہیں۔“ (زبور ۹۰:۱۰) ہم خواہ کہیں پر بھی رہتے ہوں اور ہم خواہ کوئی بھی ہوں، ہماری زندگیاں—دن، گھنٹے، منٹ جو ہماری پیدائش کے وقت ہمارے سامنے ہوتے ہیں—محدود ہوتی ہیں۔ پھربھی، ہم ایسے حالات سے بچ نہیں سکتے جن میں ہم واقعات یا لوگوں کے انتظار میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انتظار کرنے کا طریقہ سیکھنا
ہم میں سے بیشتر کو ایک کار میں کسی ایسے ڈرائیور کیساتھ بیٹھنے کا تجربہ ضرور ہوا ہوگا جو اپنے سامنے والی گاڑی سے آگے نکلنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ اکثراوقات اِس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ڈرائیور نے کسی سے ملاقات کا کوئی وقت مقرر نہیں کِیا ہوتا۔ پھربھی، وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی دوسرا ڈرائیور اُسے روکے رکھے۔ اُسکی بےصبری ظاہر کرتی ہے کہ اُس نے انتظار کرنا نہیں سیکھا ہے۔ سیکھا؟ جیہاں، انتظار کرنے کا طریقہ سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی شخص ماں کے پیٹ سے ہی اِس طریقے سے واقف نہیں ہوتا۔ شِیرخوار بچے بھوک یا بےچینی کی حالت میں فوری توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ لیکن بڑے ہو کر وہ یہ بات سمجھ جاتے ہیں کہ بعضاوقات اُنہیں کسی مطلوبہ چیز کو حاصل کرنے کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ واقعی، انتظار زندگی کا ناگزیر حصہ ہے اسلئے ضرورت کے وقت صبر کیساتھ انتظار کرنا پُختہ شخص کی نشانی ہے۔
بیشک، بعض نازک حالات میں بےصبری قابلِفہم ہے۔ جب کسی شخص کی بیوی کا وضعحمل کا وقت قریب ہو تو وہ یقیناً اُسے فوراً ہسپتال لیکر جائیگا اور کسی بھی تاخیر کی صورت میں بےصبری کا مظاہرہ کریگا۔ فرشتوں نے لوط کو سدوم سے جلدازجلد نکل جانے کی تاکید کی تھی مگر جب لوط نے دیر لگائی تو وہ مزید انتظار کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ تباہی سر پر کھڑی تھی اور لوط اور اُس کے خاندان کی زندگی خطرے میں تھی۔ (پیدایش ۱۹:۱۵، ۱۶) تاہم، زیادہتر معاملات میں، جب لوگوں کو انتظار کرنے کیلئے مجبور کِیا جاتا ہے تو کسی کی زندگی خطرے میں نہیں ہوتی۔ ایسے معاملات میں، اگر ہر کوئی صبر کرنا سیکھ لے تو کسی کی نااہلی یا دلچسپی کی کمی کے باعث انتظار کرنے کی صورت میں بھی خوشگوار نتائج نکل سکتے ہیں۔ مزیدبرآں، اگر ہر کوئی انتظار کرنے میں صرف ہونے والے وقت کو سُودمند طریقے سے استعمال کرنا سیکھ لے تو صبر کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ صفحہ ۵ کے بکس میں انتظار کو قابلِبرداشت بلکہ نفعبخش بنانے کے سلسلے میں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
اِس بات کو نظرانداز نہیں کِیا جا سکتا کہ بےصبری تکبّر کی عکاسی کرتی ہے جسکی وجہ سے ایک شخص یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ اتنا اہم ہے کہ کسی کو بھی اُسے انتظار نہیں کرانا چاہئے۔ ایسا رُجحان رکھنے والے شخص کے لئے بائبل کے مندرجہذیل الفاظ توجہ کے مستحق ہیں: ”کسی بات کا انجام اُسکے آغاز سے بہتر ہے اور بُردبار متکبرمزاج سے اچھا ہے۔“ (واعظ ۷:۸) تکبّر یا غرور ایک سنگین شخصیتی خامی ہے جس کی بابت بائبل مثل کہتی ہے: ”ہر ایک سے جس کے دل میں غرور ہے [یہوواہ] کو نفرت ہے۔“ (امثال ۱۶:۵) لہٰذا، صبر کرنا سیکھنا—انتظار کرنا سیکھنا—تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی ذات اور اردگرد کے لوگوں کیساتھ اپنے تعلقات کا بغور جائزہ لیں۔
صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے
جب ہمیں اِس بات کا پُختہ یقین ہوتا ہے کہ خواہ کتنی ہی تاخیر کیوں نہ ہو ہمیں ہمارے انتظار کا صلہ ضرور ملیگا تو عموماً اِس سے انتظار کرنا قدرے آسان ہو جاتا ہے۔ اِس سلسلے میں، اِس حقیقت پر غور کرنا اچھا ہے کہ خدا کے تمام خلوصدل پرستار بائبل میں پائے جانے والے اُسکے شاندار وعدوں کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہمیں ایک الہامی زبور میں بتایا گیا ہے: ”صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“ اِس وعدے کو یوحنا رسول نے بھی دہرایا جب اُس نے کہا: ”جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔“ (زبور ۳۷:۲۹؛ ۱-یوحنا ۲:۱۷) واقعی، اگر ہم ہمیشہ تک زندہ رہ سکیں تو انتظار کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا۔ مگر ہماری یہ زندگی ابدی نہیں ہے۔ تاہم، کیا ہمیشہ کی زندگی کی بابت بات کرنا حقیقتپسندی ہوگی؟
جواب دینے سے پہلے، ذرا غور کریں کہ خدا نے ہمارے پہلے والدین کو ہمیشہ تک زندہ رہنے کے امکان کے ساتھ خلق کِیا تھا۔ لیکن گناہ کرنے کی وجہ سے وہ اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے—جس میں ہم بھی شامل ہیں—اِس امکان کو کھو بیٹھے۔ تاہم، اُنکے گناہ کرنے کے فوراً بعد، خدا نے اُن کی نافرمانی کے نتائج کی تلافی کرنے کے سلسلے میں اپنے مقصد کا اعلان کِیا۔ اُس نے ایک ”نسل“ کے آنے کا وعدہ کِیا جو یسوع مسیح ثابت ہوا۔—پیدایش ۳:۱۵؛ رومیوں ۵:۱۸۔
یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے کہ آیا ہم انفرادی طور پر اُس کے وعدوں کی تکمیل سے فائدہ اُٹھائینگے یا نہیں۔ اس کیلئے صبر کی ضرورت ہوگی۔ اِس قسم کا صبر سیکھنے میں ہماری مدد کیلئے، بائبل کسان کے نمونے پر غور کرنے کیلئے ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے۔ وہ اپنا بیج بوتا ہے اور صبر کیساتھ فصل کی کٹائی تک—اپنی فصل کی حفاظت کرتے ہوئے—انتظار کرتا ہے۔ پھر اُسے اپنے صبر کا پھل، اپنی محنت کا صلہ ملتا ہے۔ (یعقوب ۵:۷) پولس رسول صبر کی ایک اَور مثال کا ذکر کرتا ہے۔ وہ ہمیں قدیم زمانے کے ایماندار مردوزن کی یاد دِلاتا ہے۔ وہ خدائی مقاصد کی تکمیل کیلئے پُراُمید تھے لیکن اُنہیں خدا کے مقررہ وقت کا انتظار کرنا تھا۔ پولس نے اِن اشخاص کی نقل کرنے کیلئے ہماری حوصلہافزائی کی ”جو ایمان اور تحمل کے باعث وعدوں کے وارث ہوتے ہیں۔“—عبرانیوں ۶:۱۱، ۱۲۔
جیہاں، انتظار زندگی کی ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ لیکن اِسے مسلسل پریشانی کا باعث نہیں ہونا چاہئے۔ خدا کے وعدوں کی تکمیل کے منتظر اشخاص اِس سے خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ انتظار کے وقت کو خدا کے ساتھ قریبی رشتہ پیدا کرنے اور اپنے ایمان کا ثبوت پیش کرنے والے کاموں میں صرف کر سکتے ہیں۔ نیز دُعا، مطالعے اور غوروخوض سے وہ غیرمتزلزل اعتماد پیدا کر سکتے ہیں کہ خدا کا ہر وعدہ اُسکے وقتِمقررہ پر ضرور پورا ہوگا۔
[صفحہ ۵ پر بکس/تصویریں]
انتظار کی کوفت کم کرنے کا طریقہ!
پیشگی منصوبہسازی کریں! اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑیگا تو پڑھنے، لکھنے، بُننے، کروشیاکاری یا کسی اَور مفید کام کیلئے تیار رہیں۔
اِس وقت کو غوروخوض کے لئے استعمال کریں جو ہماری تیزرفتار دُنیا میں روزبروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اگر آپ کو ٹیلیفون پر انتظار کرنا پڑتا ہے تو ٹیلیفون کے نزدیک کوئی کتاب یا رسالہ رکھیں؛ پانچ یا دس منٹ میں آپ اِس کے کئی صفحات پڑھ سکتے ہیں۔
کسی گروپ میں انتظار کرتے وقت، اگر موزوں ہو تو دوسرے لوگوں کیساتھ تعمیری گفتگو کا آغاز کرنے کے موقع سے فائدہ اُٹھائیں۔
غیرمتوقع انتظار کے اوقات کے لئے اپنی کار میں نوٹپیڈ یا کوئی کتاب یا رسالہ وغیرہ رکھیں۔
اپنی آنکھیں بند کرکے سستا لیں یا دُعا کریں۔
پیشگی منصوبہسازی اور رُجحان بااَجر انتظار کی کُنجی ہے!