محبت کی فائق راہ سیکھنا
کوسووو، لبنان اور آئرلینڈ۔ یہ وہ نام ہیں جو حالیہ برسوں میں اکثر خبروں کی زینت بنے ہیں۔ یہ لوگوں کے ذہنوں میں، خون بہانے، بمباری کرنے اور قتلوغارت کی منظرکشی کرتے ہیں۔ بیشک، مذہبی، نسلیاتی، گروہی یا دیگر اختلافات کے ذریعے بھڑکائے گئے متشدّد جھگڑے کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ درحقیقت، تاریخ شاہد ہے کہ یہ جھگڑے نوعِانسان پر انگنت مصیبتیں لائے ہیں۔
پوری تاریخ میں جنگوں کی بھرمار سے بہتیرے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جنگیں واقعی ناگزیر ہیں اور شاید انسانوں کیلئے ایک دوسرے سے نفرت کرنا فطرتی عمل ہے۔ تاہم، ایسے نظریات خدا کے کلام بائبل کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہیں۔ صحائف واضح طور پر بیان کرتے ہیں: ”جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔“ (۱-یوحنا ۴:۸) یہ بات واضح ہے کہ خالق تمام انسانوں سے ایک دوسرے سے محبت رکھنے کی توقع کرتا ہے۔
بائبل یہ بھی آشکارا کرتی ہے کہ انسان کو خدا کی شبِیہ پر خلق کِیا گیا تھا۔ (پیدایش ۱:۲۶، ۲۷) اس کا مطلب یہ ہے کہ نوعِانسان کو خدائی خوبیاں ظاہر کرنے کی صلاحیت ودیعت کی گئی ہے جن میں سب سے ممتاز خوبی محبت ہے۔ اگر ایسا ہے تو پوری تاریخ میں انسان ایک دوسرے کیلئے محبت دکھانے میں اتنی بُری طرح سے ناکام کیوں رہا ہے؟ ایک مرتبہ پھر بائبل بصیرت عطا کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے انسانی جوڑے، آدم اور حوا نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور گناہ میں پڑ گئے۔ نتیجتاً ان کی تمام اولاد نے گناہ اور ناکاملیت ورثے میں پائی۔ رومیوں ۳:۲۳ وضاحت کرتی ہے: ”سب نے گُناہ کِیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔“ محبت دکھانے کی ہماری خداداد صلاحیت ہمارے موروثی گناہ اور ناکاملیت کے ذریعے مسخ ہو گئی ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان اب ایک دوسرے سے محبت دکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں؟ اس بات کی کیا اُمید ہے کہ ہم کبھی اپنے ساتھی انسانوں کیساتھ پُرامن، پُرمحبت تعلقات سے استفادہ کریں گے؟
ہمیں خدا سے محبت کرنا سیکھنا چاہئے
یہوواہ خدا جانتا ہے کہ ناکامل ہونے کے باوجود، نسلِانسانی ابھی تک محبت دکھانے کے قابل ہے۔ پس جو خدا کی خوشنودی چاہتے ہیں وہ اُن سب سے تقاضا کرتا ہے کہ اپنی صلاحیت کے مطابق محبت دکھائیں۔ جب خدا کے بیٹے یسوع مسیح سے اسرائیل کو دی جانے والی شریعت کے سب سے بڑے حکم کی بابت پوچھا گیا تو اُس نے اس تقاضے کو واضح کِیا تھا: ”[یہوواہ] اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔ بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔“ تاہم اس نے اضافہ کِیا: ”دوسرا اسکی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ انہی دو حکموں پر تمام توریت اور انبیا کے صحیفوں کا مدار ہے۔“—متی ۲۲:۳۷-۴۰۔
تاہم، بہتیرے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ کسی نادیدہ شخص سے محبت کرنا بڑا مشکل ہے اور ہم انسان یہوواہ خدا کو دیکھ نہیں سکتے ہیں کیونکہ وہ روح ہے۔ (یوحنا ۴:۲۴) تاہم، ہم ہر روز خدائی کاموں سے متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ہم اُن بہت سی چیزوں پر انحصار کرتے ہیں جو اُس نے ہمارے فائدے کی خاطر تخلیق کی ہیں۔ پولس رسول نے اس حقیقت کی نشاندہی کی جب اس نے کہا: ”[خدا] نے اپنے آپ کو بےگواہ نہ چھوڑا۔ چنانچہ اُس نے مہربانیاں کیں اور آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا اور بڑی بڑی پیداوار کے موسم عطا کئے اور تمہارے دلوں کو خوراک اور خوشی سے بھر دیا۔“—اعمال ۱۴:۱۷۔
اگرچہ ہر کوئی کسی نہ کسی طریقے سے خالق کی فراہمیوں سے فائدہ اُٹھاتا ہے توبھی مقابلتاً چند ہی لوگ اس کے شکرگزار ہوتے ہیں یا اس کے حضور شکرگزاری کا اظہار کرنے کی تحریک پاتے ہیں۔ لہٰذا، ہمیں اُن تمام اچھے کاموں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو خدا نے ہمارے لئے کئے ہیں اور ان شاندار خوبیوں پر غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے جو اُن تمام کاموں سے نمایاں ہوتی ہیں جو وہ کرتا ہے۔ ایسا کرنے سے ہمیں اپنے عظیم خالق کی پُرتعظیم حکمت اور قدرت کو سمجھنے کے قابل ہونا چاہئے۔ (یسعیاہ ۴۵:۱۸) سب سے بڑھکر اسے یہ دیکھنے میں ہماری مدد کرنی چاہئے کہ وہ کیسا پُرمحبت خدا ہے، اس نے نہ صرف ہمیں زندگی عطا کی ہے بلکہ اس نے ہمارے لئے زندگی کی بہت ساری خوشیاں حاصل کرنے کو بھی ممکن بنایا ہے۔
مثال کے طور پر، ذرا خوبصورت پھولوں کی لاتعداد اقسام پر غور کریں جو خدا نے زمین پر خلق کئے ہیں۔ ہمارے لئے یہ بات کتنی شاندار ہے کہ اس نے ہمیں دیکھنے اور ان خوبصورت چیزوں سے بڑی خوشی حاصل کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے! اسی طرح خدا نے ہماری زندگی کے لئے ہر قسم کی غذائیتبخش خوراک فراہم کی ہے۔ اسکی بابت ایک اور بات بھی غورطلب ہے کہ اس نے ہمارے اندر ذائقے کی حس بھی پیدا کی ہے تاکہ ہم کھانے سے ایسی خوشی کا تجربہ کر سکیں! کیا یہ واضح ثبوت نہیں ہیں کہ خدا واقعی ہم سے پیار کرتا ہے اور وہ ہماری بھلائی چاہتا ہے؟—زبور ۱۴۵:۱۶، ۱۷؛ یسعیاہ ۴۲:۵، ۸۔
”کتابِفطرت“ کے ذریعے خود کو ہم پر آشکارا کرنے کے علاوہ، خالق ہم پر اپنے کلام، بائبل کے ذریعے بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ کس قسم کا خدا ہے۔ اِسکی وجہ یہ ہے کہ بائبل میں یہوواہ خدا کے بہت سے پُرمحبت قدیمی کام اور مستقبلقریب میں نوعِانسان پر نازل ہونے والی لاتعداد برکات کی بابت قلمبند ہے جنہیں عطا کرنے کا وہ وعدہ کرتا ہے۔ (پیدایش ۲۲:۱۷، ۱۸؛ خروج ۳:۱۷؛ زبور ۷۲:۶-۱۶؛ مکاشفہ ۲۱:۴، ۵) سب سے بڑھکر، بائبل نوعِانسان کیلئے خدا کی محبت کے عظیمترین اظہار کو بھی ہم پر آشکارا کرتی ہے کہ اُس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ہمارے فدیے میں دے دیا تاکہ ہمیں گناہ اور موت کی غلامی سے چھڑائے۔ (رومیوں ۵:۸) واقعی، جتنا زیادہ ہم اپنے شفیق خالق کی بابت جانتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم اس سے اپنے دل سے محبت کرنے کی تحریک پاتے ہیں۔
اپنے ساتھی انسانوں سے محبت کرنا سیکھنا
جیسے کہ یسوع نے نشاندہی کی کہ اپنے سارے دل، جان اور عقل سے خدا کیساتھ محبت کرنے کے علاوہ، ہمیں اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت کرنی چاہئے۔ درحقیقت، خدا کی محبت ہمیں اپنے ساتھی انسانوں کیساتھ محبت کرنے کا پابند کر دیتی ہے۔ یوحنا رسول نے وضاحت کی: ”اَے عزیزو! جب خدا نے ہم سے اَیسی محبت کی تو ہم پر بھی ایک دوسرے سے محبت رکھنا فرض ہے۔“ اس نے مزید زور دیا: ”اگر کوئی کہے کہ مَیں خدا سے محبت رکھتا ہوں اور وہ اپنے بھائی سے عداوت رکھے تو جھوٹا ہے کیونکہ جو اپنے بھائی سے جِسے اُس نے دیکھا ہے محبت نہیں رکھتا وہ خدا سے بھی جِسے اُس نے نہیں دیکھا محبت نہیں رکھ سکتا۔ اور ہم کو اُسکی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے بھائی سے بھی محبت رکھے۔“—۱-یوحنا ۴:۱۱، ۲۰، ۲۱۔
بائبل پیشینگوئی کے مطابق آجکل ہم ایسی دُنیا میں رہ رہے ہیں جہاں زیادہتر لوگ ”خودغرض“ ہوتے ہوئے ”پہلے مَیں“ کا رُجحان ظاہر کرتے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۲) اس لئے اگر ہم محبت کی فائق راہ کو سیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں عام لوگوں کی خودغرضانہ راہوں پر چلنے کی بجائے اپنی عقلوں کو تبدیل کرنے اور اپنے شفیق خالق کی مانند بننے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔ (رومیوں ۱۲:۲؛ افسیوں ۵:۱) خدا تو ”ناشکروں اور بدوں پر بھی مہربان ہے“ اور وہ ”اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راستبازوں اور ناراستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔“ ہمارے آسمانی باپ نے ہمارے لئے ایسا شاندار نمونہ قائم کِیا ہے اسلئے ہمیں سب کے ساتھ مہربان اور مددگار بننے کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے۔ ایسا کرنے سے ہم خود کو ’اپنے شفیق آسمانی باپ کے بیٹے‘ ثابت کریں گے۔—لوقا ۶:۳۵؛ متی ۵:۴۵۔
بعضاوقات ایسے پُرمحبت کام سچے خدا کے پرستار بننے میں لوگوں کی مدد کرنے پر منتج ہوتے ہیں۔ کچھ سال پہلے ایک یہوواہ کی گواہ خاتونِخانہ نے اپنی پڑوسن کو بائبل پیغام میں شریک کرنے کی کوشش کی جس نے اسے سختی سے دھتکار دیا۔ تاہم، وہ جوابیعمل سے بےحوصلہ نہیں ہوئی تھی۔ اس کے برعکس، وہ مہربانی دکھاتی رہی اور اپنی پڑوسن کیلئے مددگار بننے کی کوشش کرتی رہی۔ ایک مرتبہ اس نے اپنی پڑوسن کی دوسرے گھر میں منتقل ہونے میں مدد کی۔ ایک دوسرے موقع پر اس نے کسی شخص کا بندوبست کِیا کہ اُسکی پڑوسن کیساتھ ہوائیاڈے تک جائے تاکہ اس کے رشتہداروں سے ملاقات ہو سکے۔ بعدازاں اُسکی پڑوسن نے بائبل مطالعہ قبول کر لیا اور انجامکار اپنے شوہر کی طرف سے سخت اذیت کے باوجود ایک سرگرم مسیحی بن گئی۔ جیہاں، محبت کے ایسے اظہارات نے ابدی برکات کی بنیاد ڈال دی۔
اگر ہم اس کی بابت دیانتدار ہیں تو ہم یہ تسلیم کریں گے کہ خدا ہم سے ہماری لاتعداد قابلِتعریف خوبیوں کی وجہ سے محبت نہیں کرتا۔ اس کے برعکس وہ ہمارے بہت سارے نقائص اور کوتاہیوں کے باوجود ہم سے محبت کرتا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں بھی اپنے ساتھی انسانوں سے ان کی بہت ساری کوتاہیوں کے باوجود محبت رکھنی چاہئے۔ اگر ہم دوسروں کی غلطیوں پر نظر رکھنے کی بجائے ان کی عمدہ خوبیوں کو قدردانی کی نظر سے دیکھتے ہیں تو ہمارے لئے ان کیلئے محبت کا احساس رکھنا بہت آسان ہوگا۔ جو کچھ ہم اُن کے لئے محسوس کرتے ہیں وہ اصولپسند محبت سے آگے جا سکتا ہے اور دوستوں کے درمیان پائی جانے والی پُرتپاک اُلفت اور اشتیاق کو شامل کر سکتا ہے۔
اپنی محبت کو بڑھنے دیں
محبت اور دوستی کو پھلنےپھولنے اور نشوونما پانے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے ضروری اجزاء خلوصدلی اور دیانتداری ہے۔ بعض اپنی کمزوریاں چھپاتے ہیں تاکہ ان لوگوں پر ایک اچھا اثر چھوڑیں جن سے وہ دوستی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، ایسی روش اکثراوقات راکھ میں چھپی چنگاریوں کی مانند ہو سکتی ہے جسکی بابت بالآخر دوسروں کو حقائق کا علم ہو جاتا ہے اور وہ ایسی بددیانتی سے دور بھاگتے ہیں۔ بہرکیف، ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے کہ دوسروں کو ہماری کمزوریوں کی بابت حقیقت کا علم نہ ہو جائے جن پر قابو پانے کیلئے ہم نبردآزما ہیں۔ ایسا کرنا اُنکے ساتھ دوستی کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، مشرقِبعید میں ایک کلیسیا میں ایک عمررسیدہ بہن بہت ہی کم پڑھی لکھی تھی۔ تاہم، اس نے اس حقیقت کو دوسروں سے کبھی بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ مثال کے طور پر، اس نے صافگوئی سے تسلیم کِیا کہ وہ دوسروں پر ظاہر کرنے کے قابل نہیں ہے کہ کس طرح بائبل پیشینگوئیوں اور تاریخ سے یہ ثابت کرے کہ غیرقوموں کی میعاد ۱۹۱۴ میں ختم ہوگئی ہے۔a تاہم، وہ خدمتگزاری کیلئے جوش اور بہن بھائیوں کیلئے محبت اور فیاضی میں ایسا عمدہ نمونہ قائم کرتی ہے کہ پیار سے اس کا حوالہ کلیسیا کے گوہر کے طور پر دیا جاتا ہے۔
بعض تہذیبوں میں، اعلانیہ محبت ظاہر کرنا ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے؛ لوگوں کو سکھایا جاتا ہے کہ دوسروں کیساتھ اپنے تعلقات میں محض شائستہ تکلف برقرار رکھیں۔ ہمیشہ خوشاخلاق اور بامروت ہونا اچھا ہے توبھی ہمیں اپنی شائستگی کو اس حد تک اجازت نہیں دینی چاہئے کہ دوسروں کے لئے ہمارے احساسات چھپا دیں۔ یہوواہ اپنی برگزیدہ اُمت، اسرائیل سے یہ کہتے ہوئے اپنی اُلفت کا اقرار کرنے سے نہیں شرمایا: ”مَیں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی۔“ (یرمیاہ ۳۱:۳) اسی طرح پولس رسول نے تھسلنیکے کے اپنے ساتھی ایمانداروں کو بتایا: ”اُسی طرح ہم تمہارے بہت مشتاق ہو کر نہ فقط خدا کی خوشخبری بلکہ اپنی جان تک بھی تمہیں دے دینے کو راضی تھے۔ اِس واسطے کہ تم ہمارے پیارے ہو گئے تھے۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۲:۸) پس جب ہم اپنے ساتھی انسانوں کیلئے سچی اُلفت پیدا کرنے کیلئے جدوجہد کرتے ہیں تو بائبل تعلیم سے اور زیادہ ہمآہنگ ہونے سے ہم ایسے احساسات کو کچلنے کی بجائے فطرتی طور پر ظاہر کرنے کے قابل ہونگے۔
مسلسل کوشش درکار ہے
دوسروں کیلئے محبت کا احساس رکھنا اور اسکا اظہار کرنا ایک جاری رہنے والا عمل ہے۔ ایسا کرنے کیلئے ہماری طرف سے کافی کوشش درکار ہے کیونکہ ہمیں اپنی ذاتی ناکاملیتوں پر غالب آنے کیلئے سخت محنت اور اس کیساتھ ہی ساتھ محبت سے عاری دُنیا کے شدید اثر کی بھی مزاحمت کرنی ہڈتی ہے۔ تاہم، اس سے حاصل ہونے والے فائدے واقعی سودمند ہیں۔—متی ۲۴:۱۲۔
اس ناکامل دُنیا میں بھی، ہم اپنے ساتھی انسانوں کے ساتھ بہتر تعلقات سے استفادہ کر سکتے ہیں جس کا نتیجہ ہمارے لئے اور دوسروں کیلئے خوشی، اطمینان اور آسودگی کا باعث ہوگا۔ ایسی کوشش جاری رکھنے سے، ہم خدا کی نئی دُنیا میں ابد تک زندہ رہنے کی شاندار اُمید کے لئے خود کو لائق ثابت کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر محبت کی فائق راہ سیکھنے سے ہم اب اور ہمیشہ اپنے شفیق خالق کی مقبولیت اور برکات حاصل کر سکتے ہیں!
[فٹنوٹ]
a تفصیلات کیلئے دیکھیں انسائٹ آن دی سکرپچرز جلد ۱، صفحات ۱۳۲-۱۳۵۔
[صفحہ 10 پر تصویریں]
مسیحی محبت مہربانہ کاموں سے دکھائی جا سکتی ہے
[صفحہ 8 پر تصویر کا حوالہ]
UN PHOTO 186226/M. Grafman