یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏7 ص.‏ 6-‏7
  • زمین کس لئے خلق کی گئی ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • زمین کس لئے خلق کی گئی ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بائبل کیا بیان کرتی ہے؟‏
  • خدا کے مقصد میں مداخلت کے باوجود تبدیلی نہیں آئی
  • پُرامن نئی دُنیا میں زندگی
    پُرامن نئی دُنیا میں زندگی
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏7 ص.‏ 6-‏7

زمین کس لئے خلق کی گئی ہے؟‏

پس ایک سوال پر آپ کو ضرور غور کرنا چاہئے:‏ کیا ہمارے سیّارے کو ایک ذہین خالق نے خلق کِیا تھا جو زمین اور اُس پر بسنے والے انسانوں کیلئے ایک مقصد رکھتا ہے؟ اپنی تسلی کیلئے اس مسئلے کو حل کرنا آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ ہمارے سیّارے کا مستقبل کیا ہے۔‏

ہماری زمین اور کائنات کا گہرا مطالعہ کرنے والے بہتیرے سائنسدانوں نے ایسے شواہد کا مشاہدہ کِیا ہے جو ایک خالق کے وجود اور اسکی بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کی پُشت پر خدا ہے۔ صرف ایک شخص کے تبصروں پر غور کریں:‏

پروفیسر پال ڈیویز دی مائنڈ آف گاڈ میں لکھتا ہے:‏ ”‏مستحکم، منظم، پیچیدہ بناوٹ پر مشتمل ایک بالترتیب، مربوط کائنات کی موجودگی خاص قسم کے قوانین اور حالات کی متقاضی ہے۔“‏

ایسے کئی ایک ”‏اتفاقات“‏ پر بحث کرتے ہوئے جو فلکی‌طبیعات کے ماہرین اور دیگر سائنسدانوں کے تجربہ میں آئے ہیں، پروفیسر ڈیویز مزید کہتا ہے:‏ ”‏ان تمام کا بیک‌وقت جائزہ لیا جائے تو یہ اس بات کا پُختہ ثبوت فراہم کرتے ہیں جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ زندگی کا انحصار طبیعات کے قوانین کے انتہائی حساس خواص اور بعض بظاہر اتفاقی حادثات کے حقیقی اعدادوشمار پر ہے جسے فطرت نے مختلف مادے کی کمیت، قوت کی مقدار وغیرہ کیلئے منتخب کر لیا ہے۔ .‏ .‏ .‏ یہ کہنا کافی ہوگا کہ اگر ہم خدا کی جگہ ہوتے اور ترنگ میں آ کر بٹنوں کے ایک سیٹ کو گھمانے سے ان مقداروں کی تعداد منتخب کرتے تو ہم دیکھتے کہ بٹنوں کی تقریباً تمام ترتیب اس کائنات کو ناقابلِ‌رہائش ہی ظاہر کرتی۔ بعض حالتوں میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اگر کائنات کو ایسا بنانا ہے کہ اس پر زندگی فروغ پائے تو پھر مختلف بٹنوں کو بے‌کم‌وکاست بدلنا ہوگا۔ .‏ .‏ .‏ یہ حقیقت کہ موجودہ حالتوں میں خفیف سی تبدیلی بھی کائنات کو ناقابلِ‌مشاہدہ بنا دیگی، واقعی ایک نہایت اہم حقیقت ہے۔“‏

اس سے بیشتر لوگوں پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ تمام کائنات کی طرح ہماری زمین کو بھی ایک بامقصد خالق نے بنایا تھا۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اُس نے زمین کو کیوں بنایا تھا۔ اگر ممکن ہو تو ہمیں یہ بھی یقین کر لینے کی ضرورت ہے کہ زمین کیلئے اُسکا مقصد کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک غیرمعمولی بے‌قاعدگی سامنے آتی ہے۔ دہریت کے عالمی سطح پر مقبول ہونے کے باوجود، لوگوں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی ایک ذہین خالق پر یقین رکھتی ہے۔ دُنیائے‌مسیحیت کے بیشتر چرچ قادرِمطلق خدا اور ہماری کائنات کے خالق کا صرف اقرار کرتے ہیں۔ تاہم، ان مذاہب میں سے شاید ہی کسی نے کبھی پورے اعتماد اور یقین کیساتھ خدا کے مقصد میں زمین کے مستقبل کی بات کی ہو۔‏

بائبل کیا بیان کرتی ہے؟‏

معلومات کے اُس ماخذ کی طرف رجوع کرنا معقول بات ہے جس کی بابت عام طور پر یہ تسلیم کِیا جاتا ہے کہ یہ خالق کی طرف سے ہے۔ یہ ماخذ بائبل ہے۔ ہماری زمین کے مستقبل کی بابت ایک واضح اور سادہ بیان واعظ ۱:‏۴ میں پایا جاتا ہے۔ یہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏ایک پُشت جاتی ہے اور دوسری پُشت آتی ہے پر زمین ہمیشہ قائم رہتی ہے۔“‏ بائبل صاف‌گوئی سے وضاحت کرتی ہے کہ یہوواہ خدا نے زمین کو کیوں خلق کِیا تھا۔ بائبل یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ خدا نے زمین کو ہمارے سورج کی مناسبت سے کائنات میں بالکل درست زاویے پر رکھا ہے تاکہ اس پر موجود زندگی کو قائم رکھا جا سکے۔ قادرِمطلق خدا نے قدیم نبی یسعیاہ کو یہ لکھنے کا الہام بخشا:‏ ”‏خداوند جس نے آسمان پیدا کئے وہی خدا ہے۔ اُسی نے زمین بنائی اور تیار کی۔ اُسی نے اسے قائم کِیا۔ اُس نے اسے عبث پیدا نہیں کِیا بلکہ اُسکو آبادی کیلئے آراستہ کِیا۔ وہ یوں فرماتا ہے کہ مَیں خداوند ہوں اور میرے سوا اور کوئی نہیں۔“‏—‏یسعیاہ ۴۵:‏۱۸‏۔‏

تاہم انسان کے اُن ذرائع کو فروغ دینے کی بابت کیا ہے جو زمین پر زندگی کو تباہ‌وبرباد کر سکتے ہیں؟ اپنی بے‌مثال حکمت سے، خدا بیان کرتا ہے کہ اس کرۂ‌ارض پر سے انسان کے ہاتھوں تمام زندگی کے خاتمے سے پیشتر، وہ خود مداخلت کریگا۔ بائبل کی آخری کتاب، مکاشفہ میں، اس یقین‌افروز وعدے پر غور کریں:‏ ”‏قوموں کو غصہ آیا اور تیرا غضب نازل ہؤا اور وہ وقت آ پہنچا ہے کہ مُردوں کا انصاف کِیا جائے اور تیرے بندوں نبیوں اور مُقدسوں اور اُن چھوٹے بڑوں کو جو تیرے نام سے ڈرتے ہیں اجر دیا جائے اور زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ کِیا جائے۔“‏—‏مکاشفہ ۱۱:‏۱۸‏۔‏

یہوواہ ہم پر آشکارا کرتا ہے کہ زمین—‏جسے زمین کے گرد چکر لگانے والا ایک خلاباز ایک خلائی موتی کے طور پر بیان کرتا ہے—‏کو خلق کرنے کے سلسلے میں اُس کا اصل مقصد کیا ہے۔ اُس کا مقصد تھا کہ یہ انسانوں—‏مردوزن—‏سے معمور ایک عالمگیر فردوس بن جائے جس میں سب صلح‌وآشتی کیساتھ آباد رہیں۔ پہلے انسانی جوڑے کو بچے پیدا کرنے کی اجازت دینے سے اُس نے اس سیّارے پر آبادی کے بتدریج بڑھنے کا انتظام کِیا۔ پہلے انسانی جوڑے کی خوشی اور راحت کیلئے، یہوواہ نے زمین کے ایک چھوٹے قطعہ کو فردوس بنا دیا تھا۔ سالوں اور صدیوں کے دوران انسانی خاندان کی افزائش کیساتھ ساتھ، باغِ‌عدن کو بھی بتدریج وسیع ہونا تھا جبتک‌کہ پیدایش ۱:‏۲۸ کی تکمیل نہ ہو جاتی:‏ ”‏خدا نے .‏ .‏ .‏ کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو۔“‏

آج جب ہم زمین اور اس کے باشندوں کی افسوسناک حالت پر غور کرتے ہیں تو کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ زمین کیلئے خدا کا ابتدائی مقصد ناکام ہو گیا ہے؟ یا کیا اُس نے اپنا مقصد تبدیل کرکے نوعِ‌انسان کی سرکشی کے سبب یہ فیصلہ کِیا ہے کہ وہ اس سیّارے کو یکسر تباہ ہونے دیگا اور پھر نئے سرے سے آغاز کریگا؟ ہرگز نہیں، ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ اِن میں سے کوئی بھی بات درست نہیں ہے۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ یہوواہ جس بات کا قصد کرتا ہے وہ بالآخر پوری ہوتی ہے، وہ جو بھی فیصلہ کرتا ہے کوئی فرد یا کوئی غیرمتوقع تبدیلی اُسکی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ وہ ہمیں یقین‌دہانی کراتا ہے:‏ ”‏اُسی طرح میرا کلام جو میرے مُنہ سے نکلتا ہے ہوگا، وہ بے‌انجام میرے پاس واپس نہ آئیگا بلکہ جوکچھ میری خواہش ہوگی وہ اُسے پورا کریگا اور اُس کام میں جسکے لئے مَیں نے اُسے بھیجا مؤثر ہوگا۔“‏—‏یسعیاہ ۵۵:‏۱۱‏۔‏

خدا کے مقصد میں مداخلت کے باوجود تبدیلی نہیں آئی

آدم اور حوا کی بے‌وفائی اور اُنہیں باغِ‌عدن سے نکالنے کے بعد، یہ واضح تھا کہ فردوسی زمین کیلئے خدا کا مقصد اُنکے بغیر انجام پائیگا۔ تاہم، یہوواہ نے وہیں اور اُسی وقت اس بات کی نشاندہی کر دی کہ اُنکی اولاد میں سے بعض اُس کے ابتدائی فرمان کی تعمیل کرینگے۔ سچ ہے کہ اس میں وقت لگے گا، شاید صدیاں بیت جائیں، تاہم اس کی بابت کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ اگر آدم اور حوا دونوں ہی کاملیت میں زندہ ہوتے تو اس ابتدائی فرمان کی تعمیل میں کتنا وقت لگ گیا ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسیح یسوع کے عہدِہزارسالہ کے اختتام پر—‏تقریباً ایک ہزار سال کے بعد—‏عدن جیسی فردوسی حالتیں تمام زمین پر پھیل جائینگی اور کرۂ‌ارض پہلے انسانی جوڑے کی اَمن‌پسند اور پُرمسرت اولاد سے آباد ہو جائے گی۔ واقعی، قابلِ‌اعتماد مقصدگر کے طور پر یہوواہ کی قدرت کی سربلندی ابد تک ہو گی!‏

اُس وقت اُن ہیجان‌خیز پیشینگوئیوں کی تکمیل ہوگی جنکا خدا نے بہت پہلے الہام بخشا تھا۔ یسعیاہ ۱۱:‏۶-‏۹ جیسے شاندار صحائف کی تکمیل ہوگی:‏ ”‏بھیڑیا برہ کے ساتھ رہیگا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھیگا اور بچھڑا اور شیر بچہ اور پلا ہوا بیل مل‌جل کر رہینگے اور ننھا بچہ اُنکی پیش‌روی کریگا۔ گائے اور ریچھنی ملکر چرینگی۔ اُنکے بچے اکٹھے بیٹھیں گے اور شیرببر بیل کی طرح بھوسا کھائیگا۔ اور دودھ پیتا بچہ سانپ کے بِل کے پاس کھیلے گا اور وہ لڑکا جسکا دودھ چھڑایا گیا ہو افعی کے بِل میں ہاتھ ڈالیگا۔ وہ میرے تمام کوہِ‌مقدس پر نہ ضرر پہنچائینگے نہ ہلاک کرینگے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اُسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہو گی۔“‏

خراب صحت اور مُہلک بیماریاں بھی موت کی طرح جاتی رہیں گی۔ کیا کوئی بھی بات بائبل کی آخری کتاب میں پائے جانے والے ان الفاظ سے زیادہ واضح ہو سکتی ہے؟ ”‏خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُنکے ساتھ سکونت کریگا اور وہ اُسکے لوگ ہونگے اور خدا آپ اُنکے ساتھ رہیگا اور اُنکا خدا ہوگا۔ اور وہ اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اِسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“‏—‏مکاشفہ ۲۱:‏۳، ۴‏۔‏

نیز ہم اطمینان رکھ سکتے ہیں—‏ہمارا خوبصورت کرۂ‌ارض ہمیشہ قائم رہیگا۔ دُعا ہے کہ آپکو زمین کو تباہ کرنے والے تمام کاموں سمیت اس شریر نظام‌اُلعمل کے خاتمے سے بچ نکلنے کا شرف حاصل ہو۔ خدا کی طرف سے پاک‌صاف کی جانے والی نئی دُنیا اب بالکل قریب ہے۔ نیز قیامت کے معجزے کے ذریعے بہت سے عزیز موت سے جاگیں گے۔ (‏یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹‏)‏ واقعی ہماری زمین ہمیشہ قائم رہیگی اور ہم بھی اس پر زندہ رہ سکتے اور اس سے لطف اُٹھا سکتے ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں