یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏6 ص.‏ 7-‏11
  • جھوٹے استادوں کیخلاف یہوواہ کا فیصلہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جھوٹے استادوں کیخلاف یہوواہ کا فیصلہ
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏جھوٹ کے پیرو“‏
  • انکی قابل‌ملامت حالت کو بے‌نقاب کرنا
  • جھوٹے استادوں کی سزا
  • ‏”‏یہوواہ [‏کے]‏ بار“‏ کا اعلان کرنا
  • یرمیاہ کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏6 ص.‏ 7-‏11

جھوٹے استادوں کیخلاف یہوواہ کا فیصلہ

‏”‏میں نے یروشلیم کے نبیوں میں بھی ایک ہولناک بات دیکھی۔ وہ زناکار جھوٹ کے پیرو .‏.‏.‏ وہ سب میرے نزدیک سدوم کی مانند اور اسکے باشندے عمورہ کی مانند ہیں۔“‏—‏یرمیاہ ۲۳:‏۱۴‏۔‏

۱.‏ کیوں ایک شخص جو الہی تعلیم دیتا ہے اپنے سر ایک بہت بھاری ذمہ‌داری لیتا ہے؟‏

کوئی بھی جو الہی تعلیم دینے میں حصہ لیتا ہے وہ ایک بھاری ذمہ‌داری قبول کرتا ہے۔ یعقوب ۳:‏۱ آگاہ کرتی ہے:‏ ”‏اے میرے بھائیو!‏ تم میں سے بہت سے استاد نہ بنیں کیونکہ جانتے ہو کہ ہم جو استاد ہیں زیادہ سزا پائینگے۔“‏ جی‌ہاں، خدا کے کلام کے استاد، عام مسیحیوں کی نسبت قابل‌قبول جواب‌دہی کی زیادہ بھاری ذمہ‌داری رکھتے ہیں۔ انکے کیلئے اسکا کیا مطلب ہوگا جو جھوٹے استاد ثابت ہوتے ہیں؟ آئیے ہم یرمیاہ کے زمانے کی صورتحال پر غور کریں۔ ہم دیکھیں گے کہ جو کچھ آجکل واقع ہو رہا ہے اس نے اسکی عکاسی کیسے کی۔‏

۲، ۳.‏ یروشلیم کے جھوٹے استادوں کے سلسلے میں یہوواہ نے یرمیاہ کی معرفت کیا فیصلہ سنایا؟‏

۲ ۶۴۷ ق۔س۔ع۔ میں، یوسیاہ بادشاہ کی سلطنت کے ۱۳ویں برس، یرمیاہ کو یہوواہ کے نبی کے طور پر مقرر کیا گیا۔ یہوواہ کو یہوداہ کے خلاف شکایت تھی، پس اس نے اسکا اعلان کرنے کیلئے یرمیاہ کو بھیجا۔ یروشلیم کے جھوٹے نبی، یا استاد، خدا کی نظروں میں ”‏ہولناک بات“‏ کر رہے تھے۔ انکی بدکاری اسقدر زیادہ تھی کہ خدا نے یروشلیم اور یہوداہ کو سدوم اور عمورہ کی مانند ٹھہرایا۔ یرمیاہ ۲۳ باب ہمیں اسکی بابت بتاتا ہے۔ ۱۴ آیت کہتی ہے:‏

۳ ”‏میں نے یروشلیم کے نبیوں میں بھی ایک ہولناک بات دیکھی۔ وہ زناکار جھوٹ کے پیرو اور بدکاروں کے حامی ہیں یہاں تک کہ کوئی اپنی شررات سے باز نہیں آتا۔ وہ سب میرے نزدیک سدوم کی مانند اور اسکے باشندے عمورہ کی مانند ہیں۔“‏

۴.‏ یروشلیم کے استادوں کا بداخلاق نمونہ آجکل مسیحی دنیا کے مماثل کیسے ہے؟‏

۴ جی‌ہاں، ان نبیوں، یا استادوں نے خود بھی بہت برا اخلاقی نمونہ قائم کیا اور درحقیقت، لوگوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی ترغیب دی۔ آجکل مسیحی دنیا کے اندر حالتوں پر غور کریں!‏ کیا وہ یرمیاہ کے زمانہ کی سی نہیں ہیں؟ آجکل پادری زناکاروں اور ہم‌جنس پسندوں کو انکے عہدوں پر برقرار رہنے دیتے اور انہیں چرچ کی عبادات میں بھی خدمات انجام دینے کی اجازت دیتے ہیں۔ کیا اس میں کوئی حیرانی کی بات ہے کہ چرچ کے اتنے زیادہ اندراج‌شدہ اراکین بھی بداخلاق ہیں؟‏

۵.‏ کیوں مسیحی دنیا کی بداخلاق حالت سدوم اور عمورہ سے بھی بدتر ہے؟‏

۵ یہوواہ نے یروشلیم کے باشندوں کو سدوم اور عمورہ کے لوگوں کی مانند ٹھہرایا۔ لیکن مسیحی دنیا کی غیراخلاقی حالت سدوم اور عمورہ سے بھی بدتر ہے۔ جی‌ہاں، یہ یہوواہ کی نظروں میں اور بھی زیادہ قابل‌ملامت ہے۔ اسکے استاد مسیحی اخلاقی ضابطے کی تحقیر کرتے ہیں۔ اور یہ اخلاقی پستی کی فضا پیدا کرتا ہے جس میں بدفعلی کرنے کیلئے ہر قسم کی پوشیدہ دل‌فریبیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ اخلاقی صورتحال اس قدر عام ہے کہ آجکل برائی کو معمولی بات خیال کیا جاتا ہے۔‏

‏”‏جھوٹ کے پیرو“‏

۶.‏ یروشلیم کے نبیوں کی برائی کی بابت یرمیاہ نے کیا کہا؟‏

۶ ۱۴ آیت یروشلیم کے نبیوں کی بابت جو کچھ بیان کرتی ہے اس پر غور کریں۔ وہ ”‏جھوٹ کے پیرو“‏ تھے۔ اور ۱۵ آیت کا آخری حصہ کہتا ہے:‏ ”‏یروشلیم کے نبیوں ہی سے تمام ملک میں بیدینی پھیلی ہے۔“‏ پھر ۱۶ آیت اضافہ کرتی ہے:‏ ”‏رب‌الافواج یوں فرماتا ہے کہ ان نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تم سے نبوت کرتے ہیں۔ وہ تم کو بطالت کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ اپنے دلوں کے الہام بیان کرتے ہیں نہ کہ خداوند کے منہ کی باتیں۔“‏

۷، ۸.‏ مسیحی دنیا کے پادری کیونکر یروشلیم کے جھوٹے نبیوں کی مانند ہیں، اور اس چیز نے گرجے جانے والوں کو کیسے متاثر کیا ہے؟‏

۷ یروشلیم کے جھوٹے نبیوں کی طرح، مسیحی دنیا کے پادری بھی جھوٹ کے پیرو ہیں جو برگشتہ عقائد، یعنی ایسی تعلیمات پھیلاتے ہیں جو خدا کے کلام میں نہیں پائی جاتیں۔ ان جھوٹی تعلیمات میں سے بعض کیا ہیں؟ جان کا غیرفانی ہونا، تثلیث، اعراف، اور لوگوں کو ابدی طور پر عذاب دینے کیلئے دوزخ کی آگ۔ وہ لوگوں کی پسند کی باتوں کی منادی کرنے سے اپنے سامعین کے کانوں میں کھجلی بھی کرتے ہیں۔ وہ بار بار اس کا اعلان کرتے ہیں کہ مسیحی دنیا کو کسی بربادی کا سامنا نہیں کیونکہ اسے خدا کا اطمینان حاصل ہے۔ لیکن پادری ”‏اپنے دلوں کے الہام“‏ بیان کر رہے ہیں۔ یہ جھوٹ ہے۔ وہ لوگ جو ایسے جھوٹے بیانات کا یقین کرتے ہیں انہیں روحانی طور پر زہرآلودہ کیا جا رہا ہے۔ انہیں گمراہ کرکے انکی بربادی کی طرف لے جایا جا رہا ہے!‏

۸ غور کریں کہ یہوواہ ان جھوٹے استادوں کی بابت ۲۱ آیت میں کیا کہتا ہے:‏ ”‏میں نے ان نبیوں کو نہیں بھیجا پر یہ دوڑتے پھرے۔ میں نے ان سے کلام نہیں کیا پر انہوں نے نبوت کی۔“‏ پس آجکل پادری خدا کی طرف سے نہیں بھیجے گئے، اور نہ ہی وہ اسکی سچائیوں کی تعلیم دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ گرجے جانے والوں کے درمیان بائبل سے شدید لاعلمی پائی جاتی ہے کیونکہ انکے خادم انہیں دنیاوی فیلسوفی کی تعلیم دیتے ہیں۔‏

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏ یروشلیم کے جھوٹے استادوں نے کس قسم کے خواب دیکھے تھے؟ (‏ب)‏ اسی طرح مسیحی دنیا کے پادری طبقے نے بھی کیسے ”‏جھوٹے خوابوں“‏ کی تعلیم دی ہے؟‏

۹ علاوہ‌ازیں، آجکل پادری جھوٹی امیدوں کے نفاذ کا اعلان کرتے ہیں۔ ۲۵ آیت پر غور کریں:‏ ”‏میں نے سنا جو نبیوں نے کہا جو میرا نام لے کر جھوٹی نبوت کرتے اور کہتے ہیں کہ میں نے خواب دیکھا۔ میں نے خواب دیکھا۔“‏ وہ کس قسم کے خواب ہیں؟ ۳۲ آیت ہمیں بتاتی ہے:‏ ”‏خداوند فرماتا ہے دیکھ میں انکا مخالف ہوں جو جھوٹے خوابوں کو نبوت کہتے اور بیان کرتے ہیں اور اپنی جھوٹی باتوں سے اور لافزنی سے میرے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ لیکن میں نے نہ انکو بھیجا نہ حکم دیا اسلئے ان لوگوں کو ان سے ہرگز فائدہ نہ ہوگا خداوند فرماتا ہے۔“‏

۱۰ پادریوں نے کن جھوٹے خوابوں، یا امیدوں کی تعلیم دی ہے؟ یہ کہ آجکل امن اور سلامتی کیلئے انسان کی واحد امید اقوام‌متحدہ ہی ہے۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے یواین کو ”‏اتحادوامن کی آخری امید،“‏ ”‏امن اور انصاف کا سب سے بڑا فورم،“‏ ”‏عالمی امن کیلئے اہم دنیاوی امید“‏ کا نام دیا ہے۔ کیا ہی مغالطہ!‏ نوع‌انسانی کی واحد امید خدا کی بادشاہی ہے۔ لیکن پادری اس آسمانی حکومت کی حقیقت کی بابت نہ تو منادی کرتے ہیں اور نہ ہی تعلیم دیتے ہیں جو یسوع کی منادی کا مرکزی موضوع تھی۔‏

۱۱.‏ (‏ا)‏ یروشلیم کے جھوٹے استادوں نے خدا کے اپنے نام پر کیا خراب اثر ڈالا تھا؟ (‏ب)‏ یرمیاہ جماعت کے برعکس، آجکل کے جھوٹے مذہبی استادوں نے الہی نام کے سلسلے میں کیا کیا ہے؟‏

۱۱ ۲۷ آیت ہمیں مزید بتاتی ہے:‏ ”‏[‏وہ]‏ گمان رکھتے ہیں کہ اپنے خوابوں سے جو ان میں سے ہر ایک اپنے پڑوسی سے بیان کرتا ہے میرے لوگوں کو میرا نام بھلا دیں جس طرح انکے باپ دادا بعل کے سبب سے میرا نام بھول گئے تھے۔“‏ یروشلیم کے جھوٹے نبیوں نے لوگوں کو خدا کا نام بھلا دیا۔ کیا آجکل کے جھوٹے مذہبی استادوں نے بھی ایسا ہی نہیں کیا؟ اس سے بھی بدتر، وہ خدا کے نام، یہوواہ کو چھپاتے ہیں۔ وہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسے استعمال کرنا ضروری نہیں، اور وہ اسے اپنے بائبل ترجموں سے بھی نکال دیتے ہیں۔ وہ ہر اس شخص کی سخت مخالفت کرتے ہیں جو لوگوں کو یہ سکھاتا ہے کہ خدا کا نام یہوواہ ہے۔ لیکن یرمیاہ جماعت، روح سے مسح‌شدہ مسیحیوں کے بقیے نے، اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر، بالکل ویسا ہی کیا ہے جیسے یسوع نے کیا تھا۔ انہوں نے کئی ملین لوگوں کو خدا کے نام کی بابت تعلیم دی ہے۔—‏یوحنا ۱۷:‏۶‏۔‏

انکی قابل‌ملامت حالت کو بے‌نقاب کرنا

۱۲.‏ (‏ا)‏ جھوٹے مذہبی استادوں پر خون کا بھاری جرم کیوں ہے؟ (‏ب)‏ دو عالمی جنگوں میں پادری‌طبقے کا کیا کردار رہا ہے؟‏

۱۲ یرمیاہ جماعت نے بارہا پادری طبقے کا بطور ان جھوٹے استادوں کے پردہ فاش کیا ہے جو کہ اپنے گلوں کو ہلاکت کے چوڑے راستہ پر لئے جا رہے ہیں۔ جی‌ہاں، بقیے نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ خواب دیکھنے والے کیوں یہوواہ کے ناموافق فیصلہ کے مستحق ہیں۔ مثال کے طور پر، یہوواہ کے خادموں نے اکثر مکاشفہ ۱۸:‏۲۴ کا حوالہ دیا ہے جو کہتی ہے کہ بڑے بابل میں ”‏زمین کے اور سب مقتولوں کا خون پایا گیا۔“‏ ان تمام جنگوں کی بابت سوچیں جو مذہبی اختلافات کے باعث لڑی گئی ہیں۔ جھوٹے مذہبی استادوں پر خون کا کتنا بڑا جرم ہے!‏ ان کی تعلیمات تفرقے کا سبب بنی ہیں اور مختلف مذاہب اور قومی گروہوں سے تعلق رکھنے والوں کے مابین نفرت کو ہوا دی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کی بابت کتاب مناد اسلحہ پیش کرتے ہیں (‏انگریزی)‏ کہتی ہے:‏ ”‏پادریوں نے جنگ کو اسکی جذباتی روحانی اہمیت اور تحریک عطا کی۔ .‏.‏.‏ یوں چرچ جنگی نظام میں ملوث ہو گیا۔“‏ دوسری عالمی جنگ کی بابت بھی یہی بات سچ تھی۔ پادریوں نے جنگ کرنے والی قوموں کی پوری حمایت کی اور انکی فوجوں کو برکت دی۔ دو عالمی جنگیں مسیحی دنیا میں شروع ہوئیں جہاں ایک ہی مذہب کے لوگوں نے ایک دوسرے کا قتل‌عام کیا۔ مسیحی دنیا کے اندر مذہبی اور غیرمذہبی گروہ ابھی تک خون‌خرابہ کرتے آ رہے ہیں۔ انکی جھوٹی تعلیمات کے کیا ہی بھیانک نتائج نکلے ہیں!‏

۱۳.‏ یرمیاہ ۲۳:‏۲۲ یہ کیسے ثابت کرتی ہے کہ مسیحی دنیا کے پادری‌طبقے کا یہوواہ کیساتھ کوئی رشتہ نہیں؟‏

۱۳ مہربانی سے یرمیاہ ۲۳ باب کی ۲۲ آیت پر غور کریں:‏ ”‏لیکن اگر وہ میری مجلس میں شامل ہوتے تو میری باتیں میرے لوگوں کو سناتے اور انکو انکی بری راہ سے اور انکے کاموں کی برائی سے باز رکھتے۔“‏ اگر مسیحی دنیا کے مذہبی نبی یہوواہ کی مجلس میں، عقلمند اور دیانتدار خادم کی مانند قریبی رشتے میں منسلک ہوتے تو وہ بھی خدا کے معیاروں کے مطابق زندگی گزار رہے ہوتے۔ وہ بھی مسیحی دنیا کے لوگوں کو خود خدا کا اپنا کلام سنا رہے ہوتے۔ اسکی بجائے، جدید زمانے کے جھوٹے استادوں نے اپنے پیروکاروں کو خدا کے مخالف شیطان ابلیس کے اندھے خادم بنا دیا ہے۔‏

۱۴.‏ ۱۹۵۸ میں مسیحی دنیا کے پادری‌طبقے کو کس زوردار طریقے سے بے‌نقاب کیا گیا تھا؟‏

۱۴ یرمیاہ جماعت کے ذریعہ پادری طبقے کا بے‌نقاب کیا جانا بہت پرزور رہا ہے۔ مثال کے طور پر، ۱۹۵۸ میں، نیویارک شہر میں یہوواہ کے گواہوں کی الہی مرضی بین‌الاقوامی اسمبلی پر، واچ‌ٹاور سوسائٹی کے نائب صدر نے ایک بیان جاری کیا جس نے جزوی طور پر کہا:‏ ”‏بغیر کسی ذومعنی بات یا ہچکچاہٹ کے ہم اعلانیہ کہتے ہیں کہ تمام جرم، تقصیر، نفرت، جھگڑے، تعصب، .‏.‏.‏ اور دیوانہ‌وار ابتری کا بنیادی سبب غلط مذہب، یعنی جھوٹا مذہب ہے، جس کی پشت پر انسان کا نادیدہ دشمن شیطان ابلیس ہے۔ دنیا کی حالت کے سب سے زیادہ ذمہ‌دار لوگ مذہبی استاد اور پیشوا ہیں، اور ان میں سے بھی سب سے زیادہ قابل‌ملامت مسیحی دنیا کا مذہبی پادری‌طبقہ ہے۔ .‏.‏.‏ پہلی عالمی جنگ سے لیکر اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی مسیحی دنیا خدا کیساتھ ویسا ہی رشتہ رکھتی ہے جیسا کہ یرمیاہ کے دنوں میں اسرائیل کا تھا۔ جی‌ہاں، مسیحی دنیا کو اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور تباہ‌کن بربادی کا سامنا ہے جسے یرمیاہ نے یروشلیم پر آتے دیکھا۔“‏

جھوٹے استادوں کی سزا

۱۵.‏ پادری‌طبقے نے امن کی کونسی پیشینگوئیاں کی ہیں؟ کیا وہ پوری ہونگی؟‏

۱۵ اس آگاہی کے باوجود، اس وقت سے لیکر پادری طبقے نے کیسے کام کیا ہے؟ بالکل اسی طرح جیسے ۱۷ آیت بیان کرتی ہے:‏ ”‏وہ مجھے حقیر جاننے والوں سے کہتے رہتے ہیں خداوند نے فرمایا ہے کہ تمہاری سلامتی ہوگی اور ہر ایک سے جو اپنے دل کی سختی پر چلتا ہے کہتے ہیں کہ تجھ پر کوئی بلا نہ آئیگی۔“‏ کیا یہ سچ ہے؟ نہیں!‏ یہوواہ پادری طبقے کی ان پیشینگوئیوں کے جھوٹ کو فاش کریگا۔ جو کچھ وہ اسکے نام سے کہہ رہے ہیں وہ اسے پورا نہیں کریگا۔ تاہم، پادری طبقے کی خدا کیساتھ صلح کی جھوٹی یقین‌دہانی نہایت پرفریب ہے!‏

۱۶.‏ (‏ا)‏ اس دنیا کا اخلاقی ماحول کیا ہے، اور کون اسکی ذمہ‌داری میں شریک ہیں؟ (‏ب)‏ اس دنیا کے گھٹیا اخلاقی نظریات کی بابت یرمیاہ جماعت کیا کر رہی ہے؟‏

۱۶ کیا آپ سوچ رہے ہیں، ”‏کیا!‏ میں پادری طبقہ کی جھوٹی تعلیمات سے دھوکا کھا سکتا ہوں؟ کبھی نہیں!‏“‏ تاہم، اتنے بھی پراعتماد نہ ہوں!‏ یاد رکھیں کہ پادری طبقے کی جھوٹی تعلیمات نے ایک عیار، دہشتناک اخلاقی ماحول کو فروغ دیا ہے۔ انکی اباحتی تعلیمات ہر چیز کو خواہ وہ کتنی ہی بداخلاق کیوں نہ ہو جائز قرار دیتی ہیں۔ اور اخلاقی گراوٹ والی یہ فضا تفریح کے ہر میدان یعنی فلموں، ٹی‌وی، رسالوں، اور موسیقی میں سرایت کر گئی ہے۔ اسلئے، ہمیں، بہت زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ ہم اس خراب مگر پرفریب دلکشی والی اخلاقی فضا کے زیراثر آ جائیں۔ نوجوان لوگ گھٹیا ویڈیو اور موسیقی میں پھنس سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ آجکل کے لوگوں کا یہ رجحان کہ سب چلتا ہے، براہ‌راست پادری طبقے کی جھوٹی تعلیمات اور خدا کے راست معیاروں کو سربلند رکھنے میں انکی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ یرمیاہ جماعت ان بداخلاق نظریات سے لڑ رہی ہے اور اس برائی کو رد کرنے کیلئے خدا کے خادموں کی مدد کر رہی ہے جو مسیحی دنیا کو گھیرے ہوئے ہے۔‏

۱۷.‏ (‏ا)‏ یرمیاہ کے مطابق، بدکار یروشلیم پر کیا سزا آنے والی تھی؟ (‏ب)‏ جلد ہی مسیحی دنیا کیساتھ کیا واقع ہوگا؟‏

۱۷ مسیحی دنیا کے جھوٹے استاد منصف‌اعلی یہوواہ سے کیا سزا پائینگے؟ ۱۹، ۲۰، ۳۹، اور ۴۰ آیات جواب دیتی ہیں:‏ ”‏دیکھ خداوند کے قہرشدید کا طوفان جاری ہوا ہے بلکہ طوفان کا بگولا شریروں کے سر پر ٹوٹ پڑیگا۔ خداوند کا غضب پھر موقوف نہ ہوگا جب تک اسے انجام تک نہ پہنچائے اور اسکے دل کے ارادہ کو پورا نہ کرے۔ .‏.‏.‏ میں تم کو بالکل فراموش کردونگا اور تم کو اور اس شہر کو جو میں نے تم کو اور تمہارے باپ دادا کو دیا اپنی نظر سے دور کر دونگا۔ اور میں تم کو ہمیشہ کی ملامت کا نشانہ بناؤنگا اور ابدی خجالت تم پر لاؤنگا جو کبھی فراموش نہ ہوگی۔“‏ یہ سب کچھ بدکار یروشلیم اور اسکی ہیکل پر واقع ہوا، اور اب جلد ایک ایسی ہی آفت بدکار مسیحی دنیا پر آئیگی!‏

‏”‏یہوواہ [‏کے]‏ بار“‏ کا اعلان کرنا

۱۸، ۱۹.‏ یرمیاہ نے یہوداہ کیلئے ”‏یہوواہ [‏کے]‏“‏ کونسے ”‏بار“‏ کا علان کیا، کن نتائج کیساتھ؟‏

۱۸ پس یرمیاہ جماعت اور انکے ساتھیوں کی کیا ذمہ‌داری ہے؟ آیت ۳۳ (‏این ڈبلیو)‏ ہمیں بتاتی ہے:‏ ”‏جب یہ لوگ یا نبی یا کاہن یہ کہتے ہوئے تجھ سے پوچھیں کہ ”‏یہوواہ کا بار کیا ہے؟“‏ تب تو بھی ان سے کہنا کہ ”‏تم لوگ—‏کیا ہی بار ہو!‏ اور یہوواہ فرماتا ہے میں یقیناً تمہیں اتار پھینکونگا۔“‏“‏

۱۹ ”‏بار“‏ کیلئے عبرانی لفظ دوہرا مطلب رکھتا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم الہی فیصلے کی طرف اشارہ کر سکتا ہے یا کسی ایسی چیز کی طرف جو ایک شخص کو بوجھ تلے دبا اور تھکا سکتی ہے۔ یہاں پر اظہار ”‏یہوواہ کا بار“‏ ایک اہم پیشینگوئی—‏اس اعلان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یروشلیم تباہ ہونے والا تھا۔ کیا لوگوں نے ایسے نہایت اہم نبوتی اظہارات کو سننا پسند کیا تھا جنہیں یرمیاہ نے بار بار یہوواہ کی طرف سے انکو بیان کیا؟ نہیں، لوگوں نے یرمیاہ کا مذاق اڑایا:‏ ”‏کونسی نبوت (‏بار)‏ تمہارے پاس ہے؟ ہمیں یقین ہے کہ تیری نبوت ایک اور تھکا دینے والا بار ہوگی!‏“‏ لیکن یہوواہ نے انکو کیا بتایا؟ یہ کہ ”‏تم لوگ—‏کیا ہی بار ہو!‏ اور میں یقیناً تمہیں اتار پھینکونگا۔“‏ جی‌ہاں، یہ لوگ یہوواہ کیلئے ایک بار تھے، اور وہ انہیں ترک کر دینے کو تھا تاکہ پھر اس پر بار نہ ہوں۔‏

۲۰.‏ آجکل ”‏یہوواہ کا بار“‏ کیا ہے؟‏

۲۰ آجکل ”‏یہوواہ کا بار“‏ کیا ہے؟ یہ خدا کے کلام سے اہم نبوتی پیغام ہے۔ یہ مسیحی دنیا کے سر پر کھڑی بربادی کا اعلان کرتے ہوئے سزا سے پر ہے۔ جہاں تک یہوواہ کے لوگوں کا تعلق ہے، ہم پر ”‏یہوواہ [‏کے]‏ بار“‏ کا اعلان کرنے کی بھاری ذمہ‌داری ہے۔ جوں جوں خاتمہ قریب آتا ہے، ہمیں سب کو بتا دینا چاہئے کہ مسیحی دنیا کے سرکش لوگ ایک ”‏بار“‏ ہیں، جی‌ہاں، یہوواہ خدا کیلئے ”‏کیا ہی بار!‏“‏ اور یہ کہ وہ مسیحی دنیا کو تباہی میں چھوڑ دینے سے، جلد ہی خود کو اس ”‏بار“‏ سے چھڑا لیگا۔‏

۲۱.‏ (‏ا)‏ ۶۰۷ ق۔س۔ع۔ میں یروشلیم کیوں برباد ہوا تھا؟ (‏ب)‏ یروشلیم کی بربادی کے بعد، جھوٹے نبیوں اور یہوواہ کے سچے نبی کیساتھ کیا واقع ہوا، اور یہ بات ہمیں آجکل کیا یقین‌دہانی کراتی ہے؟‏

۲۱ یہوواہ کے فیصلے کی تعمیل یرمیاہ کے دنوں میں اس وقت ہوئی جب بابلیوں نے ۶۰۷ ق۔س۔ع۔ میں یروشلیم کو برباد کر دیا۔ جیسے کہ پیشینگوئی کی گئی تھی یہ ان سرکش، بیوفا اسرائیلیوں کیلئے ”‏ملامت اور خجالت“‏ تھی۔ (‏یرمیاہ ۲۳:‏۳۹، ۴۰‏)‏ اس نے ان پر ظاہر کر دیا کہ یہوواہ نے جسکی انہوں نے بارہا تحقیر کی تھی بالآخر انکو انکی بدکاری کے نتائج بھگتنے کیلئے چھوڑ دیا تھا۔ انکے گستاخ جھوٹے نبیوں کے منہ انجام‌کار بند کر دئے گئے تھے۔ تاہم، یرمیاہ کا منہ نبوت کرتا رہا۔ یہوواہ نے اسکو ترک نہیں کیا۔ اسی نمونے کی صداقت میں، جب اسکا اہم فیصلہ مسیحی دنیا کے پادری طبقے اور اسکے جھوٹ کا یقین کرنے والوں کی زندگیوں کو تباہ‌وبرباد کرنے کا باعث بنتا ہے تو یہوواہ یرمیاہ جماعت کو ترک نہیں کریگا۔‏

۲۲.‏ یہوواہ کے فیصلوں کے ذریعے مسیحی دنیا کو کس حالت تک پہنچایا جائے گا؟‏

۲۲ جی‌ہاں، ۶۰۷ ق۔س۔ع۔ کے بعد یروشلیم کی اجاڑ اور ویران حالت بالکل ویسی ہی ہے جیسے مذہبی مسیحی دنیا اپنی دولت سے محروم ہونے اور شرمناک طریقے سے بے‌نقاب کر دئے جانے کے بعد دکھائی دیگی۔ یہ ہے وہ واجب سزا جو یہوواہ نے جھوٹے استادوں کے خلاف سنائی ہے۔ وہ سزا ناکام نہیں ہوگی۔ جس طرح ماضی میں یرمیاہ کے الہامی آگاہی کے تمام پیغامات سچ ثابت ہوئے اسی طرح وہ جدید تکمیل کے سلسلے میں بھی سچ ثابت ہونگے۔ پس دعا ہے کہ ہم یرمیاہ کی مانند بنیں۔ آئیں ہم نڈر ہو کر لوگوں کے سامنے یہوواہ کی طرف سے بارنبوت کا اعلان کریں تاکہ وہ جانیں گے کہ کیوں اسکے راست فیصلے کا پورا بوجھ جھوٹے مذہبی استادوں پر آ پڑنے کو ہے!‏ (‏۸ ۳/۱ w۹۴)‏

اعادہ کے سوالات

▫ یہوواہ کے نقطہ‌نظر سے قدیم یروشلیم کتنا خراب تھا؟‏

▫ کن طریقوں سے مسیحی دنیا نے ”‏جھوٹ کی پیروی“‏ کی ہے؟‏

▫ جدید زمانے کے پادری طبقہ کی قابل‌ملامت حالت کسطرح بے‌نقاب کی گئی ہے؟‏

▫ ”‏یہوواہ [‏کے]‏“‏ کونسے ”‏بار“‏ کا اب اعلان کیا جا رہا ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

یروشلیم کے نبی ”‏ہولناک بات“‏ کے مرتکب ہوئے

‏[‏تصویر]‏

‏”‏وہ اپنے دلوں کے الہام بیان کرتے ہیں“‏

‏[‏تصویر]‏

اپنی بربادی کے بعد یروشلیم مسیحی دنیا کے آخری انجام کی تصویرکشی کرتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں