بدکاری کے ایجنٹ
انسانی معاملات میں شیاطین کے کردار کی بابت بائبل کی تشریح بدکاری کے سلسلے میں ان بنیادی سوالات کا جواب دیتی ہے جو بصورتدیگر ناقابلتردید ہی رہتے۔ مثال کیطور پر، بالکینز میں متواتر جنگ کے متعلق انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون میں سے اس بیان پر غور کریں: ”محققین پر مشتمل یورپی برادری کی ایک ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ [فوجیوں] نے انہیں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کرنے، دھمکانے، بےحوصلہ کرنے کیلئے ترتیب دی گئی دہشت کی ایک منظم پالیسی کے حصے کیطور پر ... کوئی ۲۰،۰۰۰ مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کی آبروریزی کی ہے۔“
ٹائم میگزین کے اندر ایک مقالے نے حالت کی وضاحت کرنے کی ناکام کوشش کی: ”بعض اوقات جنگ کے دوران جوان مرد شاید اپنے بزرگوں، اپنے افسروں کو خوش کرنے، اور ایسی داد حاصل کرنے کی غرض سے عصمتدری کا ارتکاب کریں جو بیٹے کو باپ سے ملتی ہے۔ زنابالجبر یونٹ کی تندخوئی کیلئے ذمہداری نبھانے کا ثبوت ہے۔ ایسے گھناؤنے کام کرنے کیلئے تیار ایک جوان مرد اپنے گروپ کے غیرمصالحانہ مقاصد کیساتھ ایک ہو جانے کی خاطر اپنے شخصی ضمیر کو اسکے ماتحت کر لیتا ہے۔ ایک آدمی اپنی وفاداری کو سفاکی کا مرتکب ہونے سے ثابت کرتا ہے۔“
لیکن کیوں ”گروپ کے غیرمصالحانہ مقاصد“ اسکے ارکان کے ذاتی ضمائر کی نسبت زیادہ گھٹیا ہوتے ہیں؟ ایک فرد کیطور پر، تقریباً ہر کوئی اپنے پڑوسی کے ساتھ امن سے رہنے کی آرزو رکھتا ہے۔ تو پھر جنگ کے دنوں میں، لوگ کیوں آبروریزی کرتے، اذیت دیتے، اور ایکدوسرے کو قتل کرتے ہیں؟ ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ شیطانی قوتیں کارفرما ہیں۔
شیاطین کے کردار کو سمجھ لینا اس کا بھی حل پیش کرتا ہے جسے بعض لوگ ”عالم دین کے مسئلے“ کا نام دیتے ہیں۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ تین مفروضوں میں ہمآہنگی کیسے پیدا کی جائے: (۱) خدا قادرکل ہے، (۲) خدا شفیق اور بھلا ہے، اور (۳) ہولناک واقعات رونما ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان مفروضوں میں سے کسی دو کو ہمآہنگ بنانا ممکن ہے، لیکن تینوں کو کبھی بھی ہمآہنگ نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کا کلام خود جواب فراہم کرتا ہے، اور اس جواب میں نادیدنی ارواح، بدکاری کے ایجنٹ شامل ہیں۔
پہلا باغی
بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ خدا بذاتخود ایک روح ہے۔ (یوحنا ۴:۲۴) وقت آنے پر وہ دیگر لاکھوں روحانی ہستیوں، ملکوتی فرزندوں کا خالق بنا۔ رویا میں، خدا کے خادم دانیایل نے ایک سو ملین فرشتگان کو دیکھا۔ تمام روحانی اشخاص جنہیں یہوواہ نے خلق کیا راستباز اور اسکی مرضی سے متفق تھے۔—دانیایل ۷:۱۰، عبرانیوں ۱:۷۔
بعد میں، جب خدا نے ”زمین کی بنیاد ڈالی،“ تو خدا کے یہ ملکوتی بیٹے ”ملکر گاتے تھے“ اور ”خوشی سے لکارتے تھے۔“ (ایوب ۳۸:۴-۷) لیکن ان میں سے ایک نے اپنی پرستش کروانے کی خواہش کو بڑھنے دیا جسکا جائز طور پر خالق ہی حقدار ہے۔ خدا کے خلاف بغاوت کرنے سے، اس فرشتے نے خود کو شیطان (مطلب ”مخالفت کرنے والا“) اور ابلیس (مطلب ”تہمت لگانے والا“) بنا لیا۔—مقابلہ کریں حزقیایل ۲۸:۱۳-۱۵۔
عدن میں پہلی عورت، حوا سے بات کرنے کیلئے ایک سانپ کو استعمال کرتے ہوئے، شیطان نے باغ کے اندر ایک خاص درخت کے پھل کو نہ کھانے کے سلسلے میں خدا کے براہراست حکم کی نافرمانی کرنے کیلئے اسے قائل کر لیا۔ بعدازاں، اسکا شوہر بھی اسکے ساتھ مل گیا۔ یوں، پہلا انسانی جوڑا یہوواہ کے خلاف بغاوت کرنے میں فرشتے کے ساتھ مل گیا۔—پیدایش ۲:۱۷، ۳:۱-۶۔
جبکہ ہو سکتا ہے کہ عدن میں ہونے والے واقعات فرمانبرداری کا ایک واضح سبق دکھائی دیں، شیطان نے وہاں پر دو اہم اخلاقی مسئلے کھڑے کر دئے تھے۔ پہلا، شیطان نے اس بات پر تکرار کی کہ آیا یہوواہ کی حکمرانی اسکی مخلوقات پر منصفانہ طریقے سے اور انکے بہترین مفادات میں عمل میں لائی گئی تھی۔ شاید انسان خود پر حکومت کرنے کا کام بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ دوسرا، شیطان نے اعتراض کیا کہ جب فرمانبرداری سے کوئی مادی فوائد حاصل ہوتے ہوئے نظر نہ آئیں تو آیا کوئی ذیشعور مخلوق خدا کیلئے ایماندار اور وفادار رہیگی۔a
عدن میں اٹھائے گئے مسائل کی واضح سمجھ، اور اسکے ساتھ یہوواہ کی صفات کا علم ”عالم دین کے مسئلے“ کو سمجھنے کیلئے ہماری مدد کرتا ہے یعنی بدی کے وجود کو خدا کی قدرت اور محبت کیساتھ ہمآہنگ بنانا۔ جبکہ یہ سچ ہے کہ یہوواہ لامحدود طاقت کا مالک ہے اور محبت کا عین مجسمہ ہے لیکن وہ دانا اور منصف بھی ہے۔ وہ ان چاروں صفات کو مکمل توازن سے عمل میں لاتا ہے۔ لہذا، اس نے اپنی ناقابلمزاحمت قدرت کو ان تین باغیوں کو فوراً ہلاک کرنے کیلئے استعمال نہ کیا۔ ایسا کرنا منصفانہ تو ہوتا مگر ضروری طور پر دانشمندانہ یا پرمحبت نہیں۔ مزیدبرآں، اس نے محض معاف اور فراموش نہیں کیا یعنی ایک ایسی روش جسے بعض لوگ شاید پرمحبت انتخاب خیال کرتے۔ ایسا کرنا نہ تو دانشمندانہ ہوتا اور نہ ہی منصفانہ۔
جو مسئلے شیطان نے اٹھائے تھے انہیں حل کرنے کیلئے وقت درکار تھا۔ یہ ثابت کرنے کیلئے وقت چاہئے تھا کہ آیا انسان خدا سے خودمختار ہو کر صحیح طریقے سے خود پر حکومت کر سکتے ہیں۔ ان تینوں باغیوں کو زندہ رہنے کی اجازت دیکر، یہوواہ نے مخلوقات کیلئے یہ بھی ممکن بنا دیا کہ مشکل حالات کے تحت وفاداری سے خدا کی خدمت کرنے سے شیطان کے دعوی کو جھوٹا ثابت کرنے میں حصہ لیں۔b
یہوواہ نے آدم اور حوا سے بالکل صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ اگر وہ ممنوع پھل میں سے کھائینگے تو وہ مر جائینگے۔ اور وہ واقعی مر گئے اگرچہ شیطان نے حوا کو یقین دلایا تھا کہ وہ نہیں مریگی۔ شیطان بھی موت کی سزا کے تحت ہے، اس دوران میں وہ نوعانسانی کو گمراہ کرنا جاری رکھتا ہے۔ درحقیقت، بائبل کہتی ہے: ”ساری دنیا اس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“—۱-یوحنا ۵:۱۹، پیدایش ۲:۱۶، ۱۷، ۳:۴، ۵:۵۔
دوسرے فرشتے بغاوت کرتے ہیں
عدن میں ہونے والے واقعات کو ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ دوسرے فرشتے یہوواہ کی حاکمیت کے خلاف بغاوت میں شامل ہو گئے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”جب روی زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے اور انکے بیٹیاں پیدا ہوئیں تو خدا کے بیٹوں نے آدمی کی بیٹیوں کو دیکھا کہ وہ خوبصورت ہیں اور جنکو انہوں نے چنا ان سے بیاہ کر لیا۔“ باالفاظدیگر، ان فرشتوں نے ”[آسمان میں] اپنے خاص مقام کو چھوڑ دیا“ اور زمین پر آ گئے، انسانی شکل اختیار کی اور عورتوں کے ساتھ شہوانی لذتوں کا لطف اٹھایا۔—پیدایش ۶:۱، ۲، یہوداہ ۶۔
پیدایش ۶:۴ میں بیان جاری رہتا ہے: ”ان دنوں میں زمین پر جبار تھے اور بعد میں جب خدا کے بیٹے انسان کی بیٹیوں کے پاس گئے تو انکے لئے ان سے اولاد پیدا ہوئی۔ یہی قدیم زمانہ کے سورما ہیں جو بڑے نامور ہوئے ہیں۔“ یہ دوغلے بیٹے جو عورتوں سے پیدا ہوئے اور جنکے باپ فرشتے تھے غیرمعمولی طور پر طاقتور، ”سورما“ تھے۔ وہ متشدد مرد، یا نیفیلم [جبار (اردو)] تھے، عبرانی کا ایک ایسا لفظ جسکا مطلب ہے ”وہ جو دوسروں کو مار گراتے ہیں۔“
یہ قابلغور بات ہے کہ یہ واقعات بعد میں قدیم تہذیبوں کی داستانوں کے اندر بھی پائے جانے لگے۔ مثال کے طور پر، ایک ۴،۰۰۰ سال پرانی بابلی رزمیہ نظم گلگمیش، ایک طاقتور، ظالم نیم دیوتا کے مافوقالبشر کارناموں کو بیان کرتی ہے جسکی ”ہوس نے کسی بھی کنواری کو اسکے محبوب کیلئے نہ [چھوڑا]۔“ ایک اور مثال یونانی داستان سے مافوقالبشر ہرکولیس یا ہیراکلیس کی ہے۔ ایک انسان الثمین، کے ہاں پیدا ہوا اور باپ ایک دیوتا زیوس تھا، ہرکولیس پاگلپن کے ایک دورے میں اپنی بیوی اور بچوں کو مارنے کے بعد تشددآمیز معرکوں کے ایک سلسلے کا آغاز کرتا ہے۔ اگرچہ نسلدرنسل بتائے جانے سے بہت حد تک ان قصے کہانیوں کی شکل بگڑتی چلی گئی تو بھی وہ اس بات کی مطابقت میں ہیں جو بائبل نیفیلم اور انکے باغی ملکوتی اجداد کی بابت بیان کرتی ہے۔
بدکار فرشتوں اور انکے مافوقالبشر بیٹوں کے اثر کی وجہ سے زمین اسقدر ظلموتشدد سے بھر گئی کہ یہوواہ نے ایک بہت بڑے سیلاب کے ذریعے دنیا کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تمام بےدین انسانوں کے ساتھ نیفیلم بھی برباد ہو گئے، زندہ بچنے والے انسان صرف راستباز نوح اور اسکا خاندان تھا۔—پیدایش ۶:۱۱، ۷:۲۳۔
تاہم، بدکار فرشتے ہلاک نہ ہوئے۔ اسکی بجائے، انہوں نے اپنے انسانی بدنوں کو تحلیل کیا اور واپس روحانی قلمرو میں چلے گئے۔ انکی نافرمانی کے باعث، انہیں خدا کے راستباز فرشتگان کے خاندان میں واپس آنے کی اجازت نہ ملی، اور نہ ہی انہیں انسانی جسم دوبارہ اختیار کرنے کی اجازت تھی جیسے کہ انہوں نے نوح کے وقت میں کیا تھا۔ آج تک، وہ ”بدروحوں کے سردار“ شیطان ابلیس کے زیرتسلط نسلانسانی کے معاملات پر تباہکن اثر ڈالنا جاری رکھتے ہیں۔—متی ۹:۳۴، ۲-پطرس ۲:۴، یہوداہ ۶۔
نوعانسانی کے دشمن
شیطان اور شیاطین ہمیشہ ہی سے خونی اور ظالم رہے ہیں۔ شیطان نے مختلف ذرائع سے ایوب کے مالمویشی کو لے لیا اور اسکے نوکروں میں زیادہ کو مار ڈالا۔ اسکے بعد، اس نے اس گھر کو گرانے کیلئے جس میں ایوب کے دس بچے تھے ”ایک بڑی آندھی“ چلا کر ان کو ہلاک کر دیا۔ بعدازاں، شیطان نے ایوب کو ”تلوے سے چاند تک دردناک پھوڑوں“ سے دکھ دیا۔—ایوب ۱:۷-۱۹، ۲:۳، ۷۔
شیاطین اسی طرح کی بدکار خصلت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یسوع کے وقت میں، وہ لوگوں سے انکی قوت گویائی اور بینائی چھین لیتے تھے۔ انہوں نے ایک آدمی کو اپنے تیئں پتھروں سے زخمی کرنے کی حالت میں ڈال دیا۔ انہوں نے ایک لڑکے کو زمین پر گرا دیا اور ”پٹک کر مروڑا۔“—لوقا ۹:۴۲، متی ۹:۳۲، ۳۳، ۱۲:۲۲، مرقس ۵:۵۔
پوری دنیا سے رپورٹیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ شیطان اور شیاطین پہلے سے کہیں زیادہ کینہپرور ہیں۔ کچھ لوگوں پر وہ بیماری کے ساتھ حملہآور ہوتے ہیں۔ دیگر کو وہ ان سے انکی نیند چھین لینے سے یا انہیں دہشتناک خواب دکھانے سے یا جنسی طور پر انکا غلط استعمال کرنے سے پریشان کرتے ہیں۔ بعض کو تو انہوں نے پاگلپن، قتلوغارت، یا خودکشی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
انہیں اور کتنی دیر تک برداشت کیا جائے گا؟
شیطان اور اسکے شیاطین کو ہمیشہ تک برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہوواہ نے اچھی وجہ سے ہی انہیں ہمارے زمانے تک موجود رہنے کی اجازت دی ہے، لیکن اب انکا وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ اس صدی کے اوائل میں، انکی کارگزاری کے دائرے کو محدود کرنے کیلئے ایک بڑا قدم اٹھایا گیا تھا۔ مکاشفہ کی کتاب وضاحت کرتی ہے: ”پھر آسمان پر لڑائی ہوئی۔ میکائیل [قیامتیافتہ یسوع مسیح] اور اسکے فرشتے اژدہا [شیطان] سے لڑنے کو نکلے اور اژدہا اور اسکے فرشتے اس سے لڑے۔ لیکن غالب نہ آئے اور اسکے بعد آسمان پر انکے لئے جگہ نہ رہی۔ اور وہ بڑا اژدہا یعنی وہی پرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے زمین پر گرا دیا گیا اور اسکے فرشتے بھی اسکے ساتھ گرا دئے گئے۔“—مکاشفہ ۱۲:۷-۹۔
نتیجہ کیا تھا؟ بیان جاری رہتا ہے: ”پس اے آسمانو اور انکے رہنے والو خوشی مناؤ!“ راستباز فرشتے شادمانی کر سکتے تھے کیونکہ شیطان اور اسکے شیاطین اسکے بعد آسمان پر نہ رہے۔ لیکن زمین کے لوگوں کی بابت کیا ہے؟ بائبل کہتی ہے: ”اے خشکی اور تری تم پر افسوس! کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اتر کر آیا ہے۔ اسلئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“—مکاشفہ ۱۲:۱۲۔
اپنے قہر میں شیطان اور اسکے ماتحت کارندے اپنے نزدیکی خاتمے سے قبل جتنی زیادہ ممکن ہو مصیبت برپا کرنے کی ٹھانے ہوئے ہیں۔ اس صدی میں دو عالمی جنگیں اور دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے لیکر ۱۵۰ چھوٹی چھوٹی جنگیں ہوئی ہیں۔ ہمارے ذخیرہالفاظ میں اس نسل کے تشدد کو منعکس کرنے والے الفاظ شامل ہو گئے ہیں: ”جراثیمی جنگ،“ ”ہالوکاسٹ،“ (یہودیوں کا قتلعام) ”قتلوغارت کے میدان،“ ”زنابالجبر کے اڈے،“ ”عادی قاتل،“ اور ”ایٹم بم۔“ منشیات، خون بہانے، بمباری، نفسیاتی مرض کے باعث آدمخوری کرنے، قتلعام، خشک سالی، اور ایذارسانی کی کہانیوں سے خبریں بھری پڑی ہیں۔
خوشی کی خبر یہ ہے کہ یہ باتیں عارضی ہیں۔ مستقبلقریب میں، خدا ایک بار پھر شیطان اور اسکے شیاطین کے خلاف کارروائی کریگا۔ خدا کی طرف سے ملنے والی ایک رویا کو بیان کرتے ہوئے، یوحنا رسول نے کہا: ”پھر میں نے ایک فرشتے کو آسمان سے اترتے دیکھا جسکے ہاتھ میں اتھاہگڑھے کی کنجی اور ایک بڑی زنجیر تھی۔ اس نے اس اژدہا یعنی پرانے سانپ کو جو ابلیس اور شیطان ہے پکڑ کر ہزار برس کے لئے باندھا۔ اور اسے اتھاہگڑھے میں ڈال کر بند کر دیا اور اس پر مہر کر دی تاکہ ہزار برس کے پورے ہونے تک قوموں کو پھر گمراہ نہ کرے۔“—مکاشفہ ۲۰:۱-۳۔
اسکے بعد، شیطان اور اسکے شیاطین کو ”تھوڑے عرصہ کے لئے کھولا جائے“ گا، اور پھر ہمیشہ کیلئے انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔ (مکاشفہ ۲۰:۳، ۱۰) وہ کیا ہی شاندار وقت ہوگا! شیطان اور اسکے شیاطین کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہٹا دئے جانے کے ساتھ، یہوواہ ہی ”سب کچھ ہوگا۔“ اور ہر ایک شخص حقیقت میں ”سلامتی کی فراوانی سے شادمان“ ہوگا۔—۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۸، زبور ۳۷:۱۱۔ (۹۴w ۲/۱ ۴)
[فٹنوٹ]
a اس بات کو بعد میں واضح کر دیا گیا جب شیطان نے خدا کے بندے ایوب کے حق میں کہا: ”کھال کے بدلے کھال بلکہ انسان اپنا سارا مال اپنی جان کے لئے دے ڈالیگا۔ اب فقط اپنا ہاتھ بڑھا کر اسکی ہڈی اور اسکے گوشت کو چھو دے تو وہ تیرے منہ پر تیری تکفیر کریگا۔“—ایوب ۲:۴، ۵۔
b خدا کے بدکاری کو روا رکھنے کی وجہ کے سلسلے میں مفصل گفتگو کیلئے واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائع کردہ کتاب آپ زمین پر فردوس میں ابد تک زندہ رہ سکتے ہیں (انگریزی) کو دیکھیں۔
[تصویر]
کیا محض انسان ہی ایسی حالتوں کیلئے ذمہدار ہے یا ایک شرانگیز، نادیدنی قوت الزام میں شریک ہوتی ہے؟
[تصویر کا حوالہ]
Oil wells burning in Kuwait, 1991: Chamussy/Sipa Press
[تصویر]
وہ کیا ہی شاندار وقت ہوگا جب شیاطین پھر کبھی نوعانسانی کو پریشان نہ کرینگے!