یہوواہ پر توکل کر!
”اپنے سارے دل سے یہوواہ پر توکل کر۔“—امثال ۳:۵، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔
۱. امثال ۳:۵ نے ایک نوجوان آدمی کو کیسے متاثر کیا، اور کس دیرپا اثر کیساتھ؟
ایک پرانا مشنری لکھتا ہے: ””سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔“ میں ایک گھر میں گیا جس کی دیوار پر فریمشدہ بائبل کے یہ الفاظ لٹک رہے تھے، جو میری توجہ کا مرکز بنے۔ میں نے اس دن کے باقی حصے میں ان ہی پر غوروفکر کیا۔ میں نے خود سے سوال پوچھا، کیا میں اپنے سارے دل سے خدا پر توکل کر سکتا ہوں؟“ یہ شخص اس وقت ۲۱ برس کا تھا۔ ۹۰ سال کی عمر میں اور پرتھ، آسٹریلیا میں ابھی تک ایک بزرگ کے طور پر وفاداری سے خدمت کرتے ہوئے، وہ یہوواہ پر پورے دل سے توکل کے پھل سے معمور زندگی پر، بشمول نئے مشنری میدانوں سیلون (اب سری لنکا)، برما (اب میانمار)، ملایا، تھائیلینڈ، انڈیا، اور پاکستان میں پائنیر خدمت کے سخت ۲۶ سالوں پر پیچھے دیکھ سکتا ہے۔a
۲. امثال ۳:۵ کو ہمارے اندر کس اعتماد کو پیدا کرنا چاہئے؟
۲ ”اپنے سارے دل سے یہوواہ پر توکل کر“—امثال ۳:۵ کے ان الفاظ کو، جیسے کہ یہ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کے ذریعے پیش کئے گئے ہیں، ہم سب کو تحریک دینی چاہئے کہ ہم یہ اعتماد رکھتے ہوئے پورے دل سے اپنی زندگیوں کو یہوواہ کیلئے مخصوص کئے رکھیں کہ وہ ہمارے ایمان کو، پہاڑنما رکاوٹوں پر قابو پانے کی حد تک مضبوط بنا سکتا ہے۔ (متی ۱۷:۲۰) آئیے اب ہم امثال ۳:۵ کا اسکے سیاقوسباق کیساتھ جائز لیں۔
پدرانہ ہدایت
۳. (ا) امثال کے پہلے نو ابواب میں کیا حوصلہافزائی پائی جاتی ہے؟ (ب) ہمیں امثال ۳:۱، ۲ پر گہری توجہ کیوں دینی چاہئے؟
۳ بائبل میں امثال کی کتاب کے پہلے نو ابواب سے ان سب کیلئے یہوواہ کی طرف سے پدرانہ نصیحت، دانشمندانہ نصیحت دمکتی ہے جو آسمانوں میں فرزندگی یا ایک فردوسی زمین پر ”خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی“ سے مستفید ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ (رومیوں ۸:۱۸-۲۱، ۲۳) یہ دانشمندانہ نصیحت ہے جسے والدین بیٹوں اور بیٹیوں کی پرورش کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔ امثال ۳ باب کی نصیحت نمایاں ہے، جو اس انتباہ کے ساتھ شروع ہوتا ہے: ”اے میرے بیٹے! میری تعلیم کو فراموش نہ کر۔ بلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے۔“ جب شیطان کی شریر دنیا کے آخری ایام اپنے خاتمے کی طرف بڑھتے ہیں تو دعا ہے کہ ہم یہوواہ کی یاددہانیوں پر پہلے سے زیادہ توجہ دیں۔ راہ شاید لمبی دکھائی دیتی ہو، لیکن ان سب سے جو برداشت کرتے ہیں یہ وعدہ ہے کہ ”تو ان سے عمر کی درازی اور پیری اور سلامتی حاصل کریگا“—یہوواہ کے نئے نظام میں ابدی زندگی۔—امثال ۳:۱، ۲۔
۴، ۵. (ا) یوحنا ۵:۱۹، ۲۰ میں کس مسرورکن رشتے کو بیان کیا گیا ہے؟ (ب) استثنا ۱۱:۱۸-۲۱ کی مشورت کا ہمارے زمانے تک کیسے اطلاق ہوتا ہے؟
۴ ایک باپ اور بیٹے کے مابین ایک مسرورکن رشتہ نہایت بیشقیمت ہو سکتا ہے۔ ہمارے خالق، یہوواہ خدا نے اسکے ایسا ہی ہونے کا بندوبست کیا۔ مسیح یسوع نے یہوواہ کے ساتھ اپنے قریبی ذاتی رشتے کی بابت کہا: ”بیٹا آپ سے کچھ نہیں کر سکتا سوا اسکے جو باپ کو کرتے دیکھتا ہے کیونکہ جن کاموں کو وہ کرتا ہے انہیں بیٹا بھی اسی طرح کرتا ہے۔ اسلئے کہ باپ بیٹے کو عزیز رکھتا ہے اور جتنے کام خود کرتا ہے اسے دکھاتا ہے۔“ (یوحنا ۵:۱۹، ۲۰) یہوواہ نے مقصد ٹھہرایا کہ اسی طرح کی قربت اسکے اور زمین پر اسکے خاندان کے مابین، اور انسانی والدوں اور انکے بچوں کے درمیان موجود ہونی چاہئے۔
۵ قدیم اسرائیل میں ایک بھروسہ کرنے والے خاندانی رشتے کی حوصلہافزائی کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں یہوواہ نے والدوں کو نصیحت کی: ”میری ان باتوں کو تم اپنے دل اور جان میں محفوظ رکھنا اور نشان کے طور پر انکو اپنے ہاتھوں پر باندھنا اور وہ تمہاری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہوں۔ اور تم انکو اپنے لڑکوں کو سکھانا اور تو گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے وقت ان ہی کا ذکر کیا کرنا۔ اور تو انکو اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اور پھاٹکوں پر لکھا کرنا تاکہ جب تک زمین پر آسمان کا سایہ ہے تمہاری اور تمہاری اولاد کی عمر اس ملک میں دراز ہو جسکو خداوند تمہارے خدا نے تمہارے باپدادا کو دینے کی قسم ان سے کھائی تھی۔“ (استثنا ۱۱:۱۸-۲۱) ہمارے عظیم معلم، یہوواہ خدا کا الہامی کلام، یقیناً اسے والدین اور انکے بچوں، اور مسیحی کلیسیا میں اسکی خدمت کرنے والے تمام دوسرے لوگوں کے اچھی طرح قریب لانے کا کام دے سکتا ہے۔—یسعیاہ ۳۰:۲۱،۲۰۔
۶. ہم خدا اور انسان کی مقبولیت کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
۶ خدا کے لوگوں، بڑی عمر والوں اور نوجوانوں کیلئے دانشمندانہ پدرانہ نصیحت امثال ۳ باب کی ۳ اور ۴ آیات میں جاری رہتی ہے: ”شفقت اور سچائی تجھ سے جدا نہ ہوں۔ تو انکو اپنے گلے کا طوق بنانا اور اپنے دل کی تختی پر لکھ لینا۔ یوں تو خدا اور انسان کی نظر میں مقبولیت اور عقلمندی حاصل کریگا۔“ یہوواہ خدا خود بھی شفقت اور سچائی ظاہر کرنے میں سبقت رکھتا ہے۔ جیسے زبور ۲۵:۱۰ بیان کرتی ہے: ”اس [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی سب راہیں شفقت اور سچائی کی ہیں۔“ ایک انمول ہار کی طرح ان کی قدر کرکے، اور اپنے دل پر ان کو امٹ طور پر نقش کرکے، ہمیں یہوواہ کی تقلید میں ان خوبیوں کو، اور تحفظ مہیا کرنے والی انکی قوت کو عزیز رکھنا چاہئے۔ پھر ہم جوش کے ساتھ دعا کر سکتے ہیں: ”اے خداوند! ... تیری شفقت اور سچائی برابر میری حفاظت کریں۔“—زبور ۴۰:۱۱۔
ایک دائمی توکل
۷. یہوواہ نے کن طریقوں سے اپنے قابلاعتماد ہونے کو ظاہر کیا ہے؟
۷ ویبسٹرز نائنتھ نیو کالجیٹ ڈکشنری نے ٹرسٹ (توکل) کی تشریح ”کسی شخص یا چیز کی خصوصیت، صلاحیت، طاقت، یا سچائی پر یقینی بھروسے“ کے طور پر کی ہے۔ یہوواہ کی شخصیت مضبوطی سے اسکی شفقت میں لنگرانداز ہے۔ اور جو کچھ اس نے وعدہ کیا ہے اسے پورا کرنے کی اسکی لیاقت پر ہم مکمل اعتماد رکھ سکتے ہیں، کیونکہ اسکا نام یہوواہ ہی، عظیم قصد کرنے والے کے طور پر اسکی شناخت کراتا ہے۔ (خروج ۳:۱۴، ۶:۲-۸) خالق کے طور پر وہ قوت اور متحرک توانائی کا سرچشمہ ہے۔ (یسعیاہ ۴۰:۲۶، ۲۹) وہ سچائی کا جوہر ہے، کیونکہ ”خدا کا جھوٹ بولنا ممکن نہیں۔“ (عبرانیوں ۶:۱۸) لہذا، ہمیں تمام سچائی کے عظیم ماخذ یہوواہ، اپنے خدا، پر پورا توکل کرنے کی حوصلہافزائی دی گئی ہے، جو اپنے بھروسہ رکھنے والوں کو محفوظ رکھنے اور اپنے تمام عظیم مقاصد کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے قادرمطلق قوت رکھتا ہے۔—زبور ۹۱:۱، ۲، یسعیاہ ۵۵:۸-۱۱۔
۸، ۹. دنیا میں بھروسے کی افسوسناک حد تک کمی کیوں ہے اور یہوواہ کے لوگ کس طرح ایک نمایاں فرق مہیا کرتے ہیں؟
۸ ہمارے چوگرد اخلاق سے گری ہوئی دنیا میں، بھروسے کی افسوسناک حد تک کمی ہے۔ اسکی بجائے، ہم لالچ اور بدعنوانی کو ہر جگہ پاتے ہیں۔ ورلڈ پریس ریویو میگزین کے مئی ۱۹۹۳ کے شمارے کے سرورق کو اس پیغام سے مزین کیا گیا تھا: دی کرپشن بوم—ڈرٹی منی ان دی نیو ورلڈ آرڈر۔ (نئے سیاسی عالمی نظام میں مالی فائدے کیلئے بدعنوان کاموں کی شدید وسعت) دی کرپشن انڈسٹری (لوگ اور کام جو بدعنوانی کا سبب بنتے ہیں) برازیل سے جرمنی تک، ریاستہائے متحدہ سے ارجنٹینا تک، سپین سے پیرو تک، اٹلی سے میکسیکو تک، ویٹیکن سے روس تک پھیلی ہوئی ہے۔“ جیسے کہ یہ نفرت، لالچ، اور عدماعتمادی پر مبنی ہے، انسان کے نامنہاد نئے عالمی نظام کو بنیآدم کیلئے مصیبتوں کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
۹ سیاسی قوموں کے برعکس، یہوواہ کے گواہ ”وہ قوم“ ہونے سے خوش ہیں ”جسکا خدا خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہے۔“ صافگوئی سے صرف وہی کہہ سکتے ہیں، ”ہمارا توکل خدا پر ہے۔“ ان میں سے ہر ایک خوشی سے للکار سکتا ہے: ”میں خدا کے ساتھ متحد ہوکر اس کے کلام کی تعریف کرونگا ... میں نے خدا پر توکل کیا ہے۔ میں خوف نہیں کھاؤنگا ؟“—زبور ۳۳:۱۲، ۵۶:۴، ۱۱ اینڈبلیو۔
۱۰. کس چیز نے بہت سے نوجوانوں کو راستی برقرار رکھنے کیلئے تقویت دی ہے؟
۱۰ ایک ایشیائی ملک میں جہاں ہزاروں نوجوان گواہوں نے سخت مارپیٹ اور قیدوبند کے دکھ اٹھائے ہیں، یہوواہ پر بھروسے نے بھاری اکثریت کو برداشت کرنے کے قابل بنایا ہے۔ قید میں ایک رات، ایک نوجوان گواہ نے جو خوفناک اذیتیں برداشت کر چکا تھا یہ محسوس کیا کہ اب وہ مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ لیکن ایک دوسرا نوجوان رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، چوری چھپتے چھپاتے اسکے پاس آیا۔ اس نے سرگوشی کی: ”ہمت نہ ہارو، میں نے مصالحت کی اور اس وقت سے مجھے کوئی ذہنی سکون نہیں ملا۔“ پہلے نوجوان نے ثابتقدم رہنے کیلئے اپنے عزم کی تجدید کی۔ ہم یہوواہ پر مکمل بھروسہ رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہماری راستی کو توڑنے والی شیطان کی ہر ایک اور کسی بھی کوشش پر قابو پانے کیلئے ہماری مدد کریگا۔—یرمیاہ ۷:۳-۷، ۱۷:۱-۸، ۳۸:۶-۱۳، ۱۵-۱۷۔
۱۱. ہم یہوواہ پر بھروسہ رکھنے کیلئے کیسے تحریک پاتے ہیں؟
۱۱ پہلے حکم کے جزوی حصے کو یوں پڑھا جاتا ہے: ”تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل سے محبت رکھ۔“ (مرقس ۱۲:۳۰) جب ہم خدا کے کلام پر غوروفکر کرتے ہیں تو شاندار سچائیاں جو ہم سیکھ رہے ہوتے ہیں ہمارے دل میں اتنی زیادہ گہری ہو جاتی ہیں کہ ہم اپنے اعجازآفریں خدا، حاکم خداوند یہوواہ کی خدمت میں اپنا سب کچھ خرچ کر دینے کی تحریک پاتے ہیں۔ یہ اس کیلئے—اس سب کیلئے جسکی اس نے ہمیں تعلیم دی، ہماری خاطر جو کچھ کیا، اور جو مزید ہمارے لئے کریگا—قدردانی سے معمور دل کی وجہ سے ہی ہے کہ ہم پورے دل سے اسکی نجات پر بھروسہ رکھنے کی تحریک پاتے ہیں۔—یسعیاہ ۱۲:۲۔
۱۲. سالوں کے دوران، بہتیرے مسیحیوں نے کیسے یہوواہ پر اپنا بھروسہ ظاہر کیا ہے؟
۱۲ اس توکل کو سالوں کے دوران ترقی دی جا سکتی ہے۔ اپریل ۱۹۲۷ سے شروع کرکے ۵۰ سال سے زیادہ واچ ٹاور سوسائٹی کے بروکلن ہیڈکوارٹر میں وفاداری کیساتھ خدمت کرنے والے یہوواہ کے ایک فروتن گواہ نے لکھا: ”اس مہینے کے آخر پر مجھے ایک لفافے میں بند ۵.۰۰ ڈالر الاؤنس بمع ایک خوبصورت کارڈ کے ملا جو امثال ۳:۵، ۶ کی بائبل آیت کو نمایاں کر رہا تھا۔ ... یہوواہ پر توکل کرنے کی ہر وجہ تھی، کیونکہ ہیڈکوارٹر میں رہتے ہوئے میں جلد اس بات کی قدر کرنے لگا کہ یہوواہ کے پاس ایک ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ ہے جو اس زمین پر وفاداری سے بادشاہی کے تمام مفادات کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔—متی ۲۴:۴۵-۴۷۔“b اس مسیحی کا دل زر کی دوستی پر نہیں، بلکہ ”آسمان پر ایسا خزانہ جو خالی نہیں ہوتا،“ حاصل کرنے پر لگا تھا۔ اسی طرح سے آجکل ہزاروں جو تمام دنیا میں واچ ٹاور سوسائٹی کے بیتایل ہومز میں خدمت کرتے ہیں وہ غربت کے ایک طرح کے قانونی عہد کے تحت ایسا کرتے ہیں۔ وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات کی فراہمی کیلئے یہوواہ پر توکل کرتے ہیں۔—لوقا ۱۲:۲۹-۳۱، ۳۳، ۳۴۔
یہوواہ پر تکیہ کریں
۱۳، ۱۴. (ا) پختہ نصیحت صرف کہاں پر مل سکتی ہے؟ (ب) اذیت سے بچنے کی خاطر کس چیز سے ضرور گزیز کرنا چاہئے؟
۱۳ ہمارا آسمانی باپ ہمیں نصیحت کرتا ہے: ”اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔“ (امثال ۳:۵) دنیاوی مشیر اور ماہرین نفسیات اس حکمت اور فہم تک پہنچنے کی امید کبھی نہیں کر سکتے جو یہوواہ ظاہر کرتا ہے۔ ”اسکے فہم کی انتہا نہیں۔“ (زبور ۱۴۷:۵) دنیا کے ممتاز آدمیوں یا اپنے ہی لاعلم جذبات پر تکیہ کرنے کی بجائے ہمیں چاہئے کہ پختہ نصیحت کیلئے یہوواہ، اسکے کلام، اور مسیحی کلیسیا میں بزرگوں پر بھروسہ کریں۔—زبور ۵۵:۲۲، ۱-کرنتھیوں ۲:۵۔
۱۴ انسانی حکمت اور ممتاز حیثیت تیزی سے آنے والی شدید آزمائش میں ہمیں کہیں کا نہ چھوڑیں گے۔ (یسعیاہ ۲۹:۱۴، ۱-کرنتھیوں ۲:۱۴) دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے اندر، ایک لائق لیکن خدا کے لوگوں کے مغرور چرواہے نے اپنے فہم پر تکیہ کرنے کا انتخاب کیا۔ دباؤ کے تحت وہ برگشتہ ہو گیا، اور اذیت کے تحت گلے میں سے اکثر نے کام بند کر دیا۔ ایک وفادار جاپانی بہن نے، جو قید کی گندی کوٹھڑیوں میں خوفناک سلوک کے باوجود دلیری کے ساتھ قائم رہی، بیان کیا: ”وہ جو وفادار رہے کوئی خاص خوبیوں کے مالک نہ تھے اور غیرنمایاں تھے۔ یقینی طور پر ہم سب کو ہمیشہ اپنے پورے دل سے یہوواہ پر توکل کرنا چاہئے۔c
۱۵. اگر ہمیں یہوواہ کو خوش کرنا ہے تو کونسی خدائی صفت لازمی ہے؟
۱۵ اپنے ذاتی فہم پر تکیہ کرنے کی بجائے، یہوواہ پر توکل کرنے میں فروتنی شامل ہے۔ ان سب کیلئے یہ خوبی کتنی اہم ہے جو یہوواہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں! ہمارا خدا بھی، اگرچہ، پوری کائنات کا حاکم اعلی ہے، اپنی ذیشعور مخلوق کے ساتھ اپنے تعلقات میں فروتنی ظاہر کرتا ہے۔ اسکے لئے ہم شکرگزار ہو سکتے ہیں۔ ”[جو] فروتنی سے آسمانوزمین پر نظر کرتا ہے وہ مسکین کو خاک ... سے اٹھا لیتا ہے۔“ (زبور ۱۱۳:۶، ۷) اپنے عظیم رحم کی بدولت، بنیآدم کیلئے اپنی عظیمترین بخشش یعنی اپنے پیارے بیٹے، یسوع مسیح کی فدیے کی بیشقیمت قربانی کی بنیاد پر وہ ہماری کمزوریوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اسکے غیرمستحق فضل کیلئے ہمیں کسقدر شکرگزار ہونا چاہئے!
۱۶. بھائی کلیسیا میں استحقاقات کیلئے کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں؟
۱۶ یسوع خود ہمیں یاد دلاتا ہے: ”جو کوئی اپنے آپکو بڑا بنائیگا وہ چھوٹا کیا جائیگا اور جو کوئی اپنے آپکو چھوٹا بنائیگا وہ بڑا کیا جائیگا۔“ (متی ۲۳:۱۲) فروتنی کے ساتھ، بپتسمہیافتہ بھائیوں کو مسیحی کلیسیا کے اندر ذمہداریوں کیلئے آگے بڑھنا چاہئے۔ تاہم، نگہبانوں کو اپنی تقرری کو حیثیت کی ایک علامت کے طور پر خیال نہیں کرنا چاہئے، بلکہ فروتنی، قدردانی، اشتیاق کے ساتھ کام کرنے کا ایک موقع خیال کرنا چاہئے، جیسے خود یسوع نے کیا، جس نے کہا: ”میرا باپ اب تک کام کرتا ہے اور میں بھی کام کرتا ہوں۔“—یوحنا ۵:۱۷، ۱-پطرس ۵:۲، ۳۔
۱۷. ہم سب کو کس چیز کی قدر کرنی چاہئے، جو کس کارگزاری کا سبب بنتی ہے؟
۱۷ دعا ہے کہ ہم ہمیشہ فروتنی سے اور دعائیہ طور پر اس بات کی قدر کریں کہ ہم یہوواہ کی نظر میں خاک سے زیادہ نہیں ہیں۔ پھر، ہم کتنے خوش ہو سکتے ہیں کہ ”خداوند کی شفقت اس سے ڈرنے والوں پر ازل سے ابد تک اور اسکی صداقت نسلدرنسل ہے۔“ (زبور ۱۰۳:۱۴، ۱۷) اسلئے ہم سب کو خدا کے کلام کے مشتاق طالبعلم ہونا چاہئے۔ ذاتی اور خاندانی مطالعے، اور کلیسیائی اجلاسوں میں صرف کئے گئے وقت کو ہر ہفتے ہمارے بیشقیمت اوقات میں شامل ہونا چاہئے۔ اس طریقے سے ہم اس ”قدوس کی پہچان“ میں بڑھتے ہیں۔ یہی تو ”فہم“ ہے۔—امثال ۹:۱۰۔
”اپنی سب راہوں میں ...“
۱۸، ۱۹. ہم امثال ۳:۶ کا اپنی زندگیوں میں کیسے اطلاق کر سکتے ہیں، اور کس نتیجے کیساتھ؟
۱۸ فہم کے الہی ماخذ، یہوواہ کی طرف ہماری راہنمائی کرتے ہوئے، امثال ۳:۶ آگے بیان کرتی ہے: ”اپنی سب راہوں میں اسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا۔“ یہوواہ کو پہچاننے میں دعا میں اسکے قریب رہنا شامل ہے۔ ہم کہیں بھی ہوں اور قطعنظر اس سے کہ کیسی بھی صورتحال پیدا ہو جائے، ہمیں دعا میں اس تک فوری رسائی حاصل ہے۔ جب ہم اپنے روزمرہ کے کام کرتے ہیں، جب ہم میدانی خدمت کیلئے تیار ہوتے ہیں، جب ہم اسکی بادشاہت کا اعلان کرتے ہوئے گھرباگھر جاتے ہیں، تو ہمیشہ ہماری یہ دعا ہو سکتی کہ وہ ہماری کارگزاری کو برکت دیگا۔ پس ہم اس اعتماد کے ساتھ کہ وہ خداترس حنوک، نوح اور یشوع اور دانیایل جیسے وفادار اسرائیلیوں کی طرح ”ہماری راہنمائی کریگا“، ”خدا کے ساتھ ساتھ چلنے“ کا بےاندازہ شرف اور خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔—پیدایش ۵:۲۲، ۶:۹، استثنا ۸:۶، یشوع ۲۲:۵، دانیایل ۶:۲۳، دیکھیں یعقوب ۴:۸، ۱۰ کو بھی۔
۱۹ جب ہم اپنی التجاؤں کو یہوواہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ ”خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے ہمارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھیگا۔“ (فلپیوں ۴:۷) خدا کا یہ اطمینان جو ہمارے مسرور چہرے سے منعکس ہوتا ہے، اصحابخانہ کیلئے ہمارے پیغام کو قابلقبول بنا سکتا ہے جن سے ہم اپنے منادی کے کام کے دوران ملتے ہیں۔ (کلسیوں ۴:۵، ۶) یہ انکی بھی حوصلہافزائی کر سکتا ہے جو شاید ایسی مشکلات یا ناانصافیوں کی وجہ سے مصیبتزدہ ہیں جو آج کی دنیا میں بڑی عام ہیں، جیسے کہ ذیل کا بیان ظاہر کرتا ہے۔d
۲۰، ۲۱. (ا) نازی دہشتگردی کے دوران، یہوواہ کے گواہوں کی راستی نے دوسروں کی کیسے حوصلہافزائی کی؟ (ب) یہوواہ کی آواز کو ہمارے اندر کس عزم کو بیدار کرنا چاہئے؟
۲۰ یہودیوں کے قتلعام سے بظاہر معجزے کے ذریعے سے بچنے والے ایک پیدائشی یہودی میکس لیبسٹر نے قلعقمع کرنے والے ایک نازی کیمپ کیلئے اپنے سفر کو ان الفاظ میں بیان کیا: ”ہم ریل گاڑی کے ڈبوں میں مقفل تھے، جنہیں دو اشخاص کیلئے بہت سی چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیوں میں تبدیل کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک میں دھکیل دئے جانے پر، میں نے ایک قیدی کو دیکھا جس کی آنکھوں سے متانت جھلکتی تھی۔ وہ خدا کے آئین کیلئے اپنے احترام، دوسرے لوگوں کا خون بہانے کی بجائے قید اور ممکنہ موت کا انتخاب کرنے کی وجہ سے وہاں پر موجود تھا۔ وہ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک تھا۔ اسکے بچوں کو اس سے جدا کر دیا گیا تھا، اور اسکی بیوی کو بطور سزا قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ بھی اپنی بیوی والی سزا کا منتظر تھا۔ ۱۴ دن کے اس سفر نے میری دعا کا جواب دے دیا، کیونکہ موت کیلئے اسی سفر کے دوران ہی مجھے ابدی زندگی کی امید حاصل ہوئی تھی۔“
۲۱ آشوتز نازی مرکز اسیران ”شیروں کی ماند“—جیسے کہ اس نے اسے یہ نام دیا—سے اپنی رہائی، اور بپتسمے کے بعد، اس بھائی نے ایک یہوواہ کی گواہ سے شادی کر لی جو خود بھی قید میں رہی تھی اور جس کے باپ نے ڈاخاؤ کے مرکز اسیران میں تکلیف اٹھائی تھی۔ جب اسکا باپ وہاں تھا، تو اسے معلوم ہوا کہ اسکی بیوی اور جوان بیٹی بھی قید ہو چکی تھیں۔ اس نے اپنے ردعمل کو یوں بیان کیا: ”میں بہت ہی پریشان تھا۔ پھر ایک دن جب میں غسل کرنے کیلئے قطار میں کھڑا تھا، تو میں نے ایک آواز کو امثال ۳:۵، ۶ کو دوہراتے سنا ... وہ آسمان سے آنے والی آواز کی طرح گونجی۔ اپنے توازن کو پھر سے حاصل کرنے کیلئے اسی چیز کی مجھے ضرورت تھی۔“ درحقیقت، آواز ایک دوسرے قیدی کی تھی جو اس آیت کا حوالہ دے رہا تھا، لیکن یہ واقعہ اس چیز پر زور دیتا ہے کہ خدا کا کلام ہم کو کیسی قوت دے سکتا ہے۔ (عبرانیوں ۴:۱۲) خدا کرے کہ آجکل بھی یہوواہ کی آواز ۱۹۹۴ کی سالانہ آیت کے ذریعے پرزور طور پر ہم سے ہمکلام ہو: ”اپنے سارے دل سے یہوواہ پر توکل کر!“ (۱۱ ۱۲/۱۵ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a دیکھیں مضمون ”ٹرسٹنگ جیہوواہ ود آل مائی ہارٹ“ (اپنے سارے دل سے یہوواہ پر توکل کرنا)، جسے کلوڈایس۔گڈمین نے بیان کیا، دی واچٹاور، دسمبر ۱۵، ۱۹۷۳، صفحات ۷۶۰-۷۶۵۔
b دیکھیں مضمون ”ڈیٹرمنڈ ٹو پریز جیہوواہ“ (یہوواہ کی ستائش کرنے کیلئے اٹل)، جسے ہیری پیٹرسن نے بیان کیا، دی واچٹاور، جولائی ۱۵، ۱۹۶۸، صفحات ۴۳۷-۴۴۰۔
c دیکھیں مضمون ”جیہوواہ ڈز ناٹ فارسیک ہز سرونٹس“ (یہوواہ اپنے خادموں کو ترک نہیں کرتا)، جسے ماتسوئے ایشی نے بیان کیا، دی واچٹاور، مئی ۱، ۱۹۸۸، صفحات ۲۱-۲۵۔
d ”ڈیلیورنس! پروونگ آوورسیلوز گریٹفل“ (رہائی! خود کو احسانمند ثابت کرنا)، کے مضمون کو بھی دیکھیں، جسے میکس لیبسٹر نے بیان کیا، دی واچٹاور، اکتوبر ۱، ۱۹۷۸، صفحات ۲۰-۲۴۔
خلاصے کے طور پر
▫ امثال میں کس قسم کی مشورت پیش کی گئی ہے؟
▫ یہوواہ پر توکل کس طرح ہمیں فائدہ پہنچاتا ہے؟
▫ یہوواہ پر تکیہ کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟
▫ ہمیں اپنی سب راہوں میں یہوواہ کو کیوں پہچاننا چاہئے؟
▫ یہوواہ ہماری راہنمائی کیسے کرتا ہے؟
[تصویریں]
پرمسرت بادشاہتی پیغام خلوص دل لوگوں کو پسند آتا ہے