”بزرگوں کو بلائیں“
”اگر تم میں کوئی بیمار ہو تو کلیسیا کے بزرگوں کو بلائے۔“—یعقوب ۵:۱۴۔
۱، ۲. (ا) یہوواہ کے خادم خود کو اب کس خطرناک صورتحال میں پاتے ہیں، اور وہ کیسے محسوس کر سکتے ہیں؟ (ب) اب کن سوالوں کے جواب درکار ہیں؟
”برے دن“ آ گئے ہیں۔ لوگ خودغرضانہ، مادہپرستانہ، متکبرانہ طریقے سے کام کرتے ہیں، اور اکثر اس ”اخیر زمانہ“ میں گڑبڑ پھیلاتے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) مسیحیوں کے طور پر موجودہ شریر نظام میں رہتے ہوئے، ہم خود کو تین بڑے خطرات کے خوف میں پاتے ہیں: شیطان ابلیس، بیدین نوعانسان کی دنیا، اور ہماری اپنی موروثی گنہگارانہ رغبتیں۔—رومیوں ۵:۱۲، ۱-پطرس ۵:۸، ۱-یوحنا ۵:۱۹۔
۲ ان خطروں کے اندیشے سے، ہم بعض اوقات خود کو نرغے میں محسوس کر سکتے ہیں۔ تو پھر، وفاداری سے برداشت کرنے کیلئے ہماری مدد کرنے کی خاطر ہم حمایت کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟ جب اپنی مسیحی کارگزاریوں اور اپنی پرستش کے سلسلے میں فیصلے کرنے کا سامنا ہو تو ہم راہنمائی کیلئے کن کی طرف رخ کر سکتے ہیں؟
مدد دستیاب
۳. ہم کس سے تسلیبخش یقیندہانی حاصل کر سکتے ہیں، اور کیسے؟
۳ یہ علم ہمیں تسکینبخش اعتماد بخشتا ہے کہ یہوواہ ہماری قوت کا سرچشمہ ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۱:۳، ۴، فلپیوں ۴:۱۳) زبورنویس داؤد جسے الہٰی مدد کا تجربہ ہوا، اس نے بیان کیا: ”اپنی راہ خداوند پر چھوڑ دے اور اس پر توکل کر۔ وہی سب کچھ کریگا۔“ ”اپنا بوجھ خداوند پر ڈالدے۔ وہ تجھے سنبھالیگا۔ وہ صادق کو کبھی جنبش نہ کھانے دیگا۔“ (زبور ۳۷:۵، ۵۵:۲۲) ہم ایسی حمایت کیلئے کتنے شکرگزار ہو سکتے ہیں!
۴. پولس اور پطرس دونوں کس طرح تسلی پیش کرتے ہیں؟
۴ ہم اس علم سے بھی تسلی حاصل کر سکتے ہیں کہ ہم ہی صرف خطرات اور آزمائشوں کا سامنا نہیں کر رہے ہیں۔ پطرس رسول نے مسیحیوں کو تلقین کی: ”تم ایمان میں مضبوط ہو کر اور یہ جانکر [شیطان ابلیس] کا مقابلہ کرو کہ تمہارے بھائی جو دنیا میں ہیں ایسے ہی دکھ اٹھا رہے ہیں۔“ (۱-پطرس ۵:۹) یقینی طور پر، تمام مسیحی ایمان میں مضبوط رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ سچ ہے کہ ہم اکثر ”ہر طرف سے مصیبت اٹھاتے“ ہوئے محسوس کر سکتے ہیں، جیسے پولس رسول نے بھی کیا۔ تاہم، وہ ”لاچار نہیں“ ہوا تھا۔ اس کی طرح، ہم حیران تو ہو سکتے ہیں ”مگر ناامید نہیں ہوتے۔“ اگرچہ ہم ستائے جائیں تو بھی ہم ”اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔“ اگر ”گرائے جاتے ہیں،“ تو بھی ہم ”ہلاک نہیں ہوتے۔“ نتیجتاً، ”ہم ہمت نہیں ہارتے۔“ ہم ”دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں پر نظر“ کرنے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۸، ۹، ۱۶، ۱۸) ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟
۵. یہوواہ کونسی تہری مدد فراہم کرتا ہے؟
۵ ”دعا کا سننے والا“، یہوواہ، تہری مدد فراہم کرتا ہے۔ (زبور ۶۵:۲، ۱-یوحنا ۵:۱۴) اول، وہ اپنے الہامی کلام، بائبل کے ذریعے ہدایت پیش کرتا ہے۔ (زبور ۱۱۹:۱۰۵، ۲-تیمتھیس ۳:۱۶) دوئم، اسکی روحالقدس ہمیں اسکی مرضی کو بجا لانے کیلئے قوت عطا کرتی ہے۔ (مقابلہ کریں اعمال ۴:۲۹-۳۱۔) اور سوئم، یہوواہ کی زمینی تنظیم ہماری مدد کرنے کیلئے تیار رہتی ہے۔ مدد حاصل کرنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
”آدمیوں کی صورت میں انعام“
۶. یہوواہ نے تبعیرہ میں کونسی مدد فراہم کی، اور کیسے؟
۶ موسی نبی کے زمانے کا ایک واقعہ اپنے خادموں کیلئے مدد فراہم کرنے میں یہوواہ کی پرمحبت فکرمندی کی قدر کرنے کیلئے ہماری مدد کرتا ہے۔ یہ واقعہ تبعیرہ میں رونما ہوا، جسکا مطلب ”جلتا ہوا، آتشزدگی، شعلہ بھڑک اٹھنا،“ ہے۔ سینا کے بیابان کے اس مقام پر، خدا نے بڑبڑانے والے اسرائیلیوں کے خلاف آگ بھڑکائی۔ ”ملیجلی بھیڑ“ جو مصر سے بنیاسرائیل کے ساتھ نکل آئی وہ الہٰی طور پر فراہمکردہ خوراک سے بےاطمینانی ظاہر کرنے میں انکے ساتھ مل گئی تھی۔ خدا کے قہر کو بھانپتے اور لوگوں اور انکی ضروریات کیلئے ذمہداری سے دبے ہونے کا احساس کرتے ہوئے، موسی پکار اٹھا: ”میں اکیلا ان سب لوگوں کو نہیں سنبھال سکتا کیونکہ یہ میری طاقت سے باہر ہے۔ اور جو تجھے میرے ساتھ یہی برتاؤ کرنا ہے تو میرے اوپر اگر تیرے کرم کی نظر ہوئی ہے تو مجھے یکلخت جان سے مار ڈال تاکہ میں اپنی بریگت دیکھنے نہ پاؤں۔“ (گنتی ۱۱:۱-۱۵) یہوواہ نے کس طرح کی جوابی کارروائی کی؟ اس نے ”اسرائیل کے بزرگوں میں سے ستر مرد“ مقرر کئے اور اپنی روح ان میں ڈالی تاکہ وہ موزوں طور پر موسی کے ساتھ انتظامی کام میں حصہ لے سکیں۔ (گنتی ۱۱:۱۶، ۱۷، ۲۴، ۲۵) ایسے لائق مردوں کے مقرر کئے جانے سے اسرائیلیوں اور ”ملیجلی گروہ“ کیلئے مدد زیادہ آسانی سے دستیاب ہونے لگی۔—خروج ۱۲:۳۸۔
۷، ۸. (ا) یہوواہ نے قدیم اسرائیل میں ”آدمیوں کی صورت میں انعام“ کیسے فراہم کئے؟ (ب) پولس نے زبور ۶۸:۱۸ کے الفاظ کا پہلی صدی میں کیا اطلاق کیا؟
۷ جب اسرائیلیوں کو ملک موعود میں رہتے ہوئے بہت سال گزر چکے تھے تو یہوواہ نے علامتی طور پر کوہصیون پر صعود فرمایا اور یروشلیم کو ایک مثالی بادشاہت کا دارالسلطنت بنایا اور داؤد کو اسکا بادشاہ۔ ”قادرمطلق“ خدا کی تمجید میں داؤد نے گیت گانے کیلئے اپنی آواز بلند کی: ”تو نے عالمبالا کو صعود فرمایا۔ تو قیدیوں کو ساتھ لے گیا۔ [تو نے آدمیوں کی صورت میں انعام پائے، NW]“۔ (زبور ۶۸:۱۴، ۱۸) یقیناً، ملک موعود کو فتح کرنے کے دوران آدمیوں کو قیدی بنایا گیا جو فرائض کی انجامدہی میں لاویوں کی مدد کرنے کیلئے دستیاب ہوئے۔—عزرا ۸:۲۰۔
۸ پہلی صدی س۔ع۔ میں مسیحی رسول پولس نے زبورنویس کے الفاظ کی نبوتی تکمیل پر توجہ مبذول کرائی۔ پولس نے لکھا: ”ہم میں سے ہر ایک پر مسیح کی بخشش کے اندازہ کے موافق فضل ہوا ہے۔ اسی واسطے وہ فرماتا ہے کہ جب وہ عالمبالا پر چڑھا تو قیدیوں کو ساتھ لے گیا اور آدمیوں [کی صورت میں انعام، NW] دئے۔ (اسکے چڑھنے سے اور کیا پایا جاتا ہے سوا اسکے کہ وہ زمین کے نیچے کے علاقہ میں اترا بھی تھا؟ اور یہ اترنے والا وہی ہے جو سب آسمانوں سے بھی اوپر چڑھ گیا تاکہ سب چیزوں کو معمور کرے)۔“ (افسیوں ۴:۷-۱۰) یہ ”وہی“ کون ہے؟ یہ یہوواہ کے نمائندے، عظیمتر داؤد اور مسیحائی بادشاہ، یسوع مسیح کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ یہ وہی ہے جسے خدا نے زندہ کیا اور ”بہت سربلند کیا۔“—فلپیوں ۲:۵-۱۱۔
۹. (ا) پہلی صدی میں آدمیوں کی صورت میں انعام کون تھے؟ (ب) جدید زمانے میں آدمیوں کی صورت میں انعام کون ہیں؟
۹ پس، ”آدمیوں کی صورت میں انعام“ (یا، ”آدمیوں پر مشتمل“) کون ہیں؟ پولس وضاحت کرتا ہے کہ خدا کے عظیم نمائندے نے ”بعض کو رسول اور بعض کو نبی اور بعض کو مبشر اور بعض کو چرواہا اور استاد بنا کر دے دیا۔ تاکہ مقدس لوگ کامل بنیں اور خدمتگزاری کا کام کیا جائے اور مسیح کا بدن ترقی پائے۔“ (افسیوں ۴:۱۱، ۱۲) مسیح کے تمام پیروکار جنہوں نے رسولوں، نبیوں، مبشروں، چرواہوں، اور استادوں کے طور پر خدمت کی تھیوکریٹک راہنمائی کے تحت انہوں نے ایسا کیا۔ (لوقا ۶:۱۲-۱۶، اعمال ۸:۱۲، ۱۱:۲۷، ۲۸، ۱۵:۲۲، ۱-پطرس ۵:۱-۳) ہمارے زمانہ میں، تمام دنیا میں یہوواہ کے گواہوں کی کوئی ۷۰،۰۰۰ کلیسیاؤں میں روحالقدس سے مقررشدہ روحانی طور پر لائق بزرگ نگہبانوں کے طور پر خدمت کرتے ہیں۔ وہ آدمیوں کی صورت میں ہمارے انعام ہیں۔ (اعمال ۲۰:۲۸) تمام دنیا میں بادشاہتی منادی کے کام کی توسیع میں مسلسل اضافے کے ساتھ، زیادہ سے زیادہ بھائی [”آگے بڑھ رہے، NW“] اور ”نگہبان کے عہدے“ سے وابستہ ذمہداریاں اٹھا رہے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱) مقرر ہو جانے پر، وہ بھی آدمیوں کی صورت میں انعام بن جاتے ہیں۔
۱۰. ”شہزادوں“ کی بابت یسعیاہ کی وضاحت آجکل مسیحی بزرگوں کے کردار کیلئے کیسے موزوں ہے؟
۱۰ یہ مسیحی بزرگ، یا آدمیوں کی صورت میں انعام، یسعیاہ نبی کے بیان پر پورا اترتے ہیں جب اس نے بادشاہی حکمرانی کے تحت ناظموں، ”شہزادوں“ کے کردار کی پیشینگوئی کی۔ ہر ایک کو ”آندھی سے پناہگاہ کی مانند ... اور طوفان سے چھپنے کی جگہ ... خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماندگی کی زمین میں بڑی چٹان کے سایہ کی مانند“ ہونا چاہیے۔ (یسعیاہ ۳۲:۱، ۲) یہ بیان آشکارا کرتا ہے کہ ان مقررشدہ آدمیوں کی پرمحبت نگہبانی کو کتنی پُشتپناہی کرنے والی ہونا چاہیے۔ آپ پورے طور پر اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
پہل کرنا
۱۱. جب روحانی طور پر کمزور ہوں تو ہم کسطرح مدد حاصل کر سکتے ہیں؟
۱۱ ایک ڈوبتا ہوا شخص جبلی طور پر مدد کیلئے پکارتا ہے۔ اس میں کوئی تذبذب نہیں۔ جب زندگی خطرے میں ہو تو مدد کے واسطے پکارنے کیلئے کسی کے آمادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیا بادشاہ داؤد باربار یہوواہ سے مدد کیلئے نہیں پکارتا تھا؟ (زبور ۳:۴، ۴:۱، ۵:۱-۳، ۱۷:۱، ۶، ۳۴:۶، ۱۷-۱۹، ۳۹:۱۲) جب روحانی طور پر کمزور ہوں، شاید مایوسی میں ڈوب رہے ہوں تو ہم اسی طرح سے دعا میں یہوواہ کی طرف رخ کریں اور اس سے التجا کریں کہ اپنی روحالقدس کے ذریعے ہماری راہنمائی کرے۔ (زبور ۵۵:۲۲، فلپیوں ۴:۶، ۷) ہم صحائف سے تسلی کے طلبگار ہوتے ہیں۔ (رومیوں ۱۵:۴) ہم عملی نصیحت کیلئے واچٹاور سوسائٹی کی مسیحی مطبوعات کو دیکھتے ہیں۔ یہ ہمیں اکثر اپنے ذاتی مسائل کو حل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم، اگر ہم مشکلات سے گھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو ہم مقررشدہ مسیحی بزرگوں سے مشورت کے متلاشی ہو سکتے ہیں۔ درحقیقت، ایسے اوقات ہو سکتے ہیں جب ہمیں واقعی ”بزرگوں کو بلانے“ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسیحی بزرگوں کو کیوں بلائیں؟ وہ انکی مدد کیسے کر سکتے ہیں جنکو روحانی مدد کی ضرورت ہے؟
۱۲-۱۴. (ا) جب کوئی بیمار ہو تو اختیار کرنے کیلئے کونسی دانشمندانہ روش ہے؟ (ب) یعقوب ۵:۱۴ کے مطابق ”بیمار“ مسیحیوں کو کیا کرنے کی نصیحت کی گئی ہے؟ (پ) یعقوب ۵:۱۴ کس قسم کی بیماری کا حوالہ دیتا ہے، اور آپ اس طرح جواب کیوں دیتے ہیں؟
۱۲ جب ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو ہم اپنے بدن کی دوبارہ طاقت بحال کرنے والی قوتوں کو کام کرنے کا موقع دینے کیلئے آرام کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہماری بیماری برقرار رہتی ہے تو ہم دانشمندی کے ساتھ ماہرانہ طبی مدد کی تلاش کرتے ہیں۔ اگر ہم روحانی طور پر بیمار پڑ جاتے ہیں تو کیا ہمیں ایسا ہی نہیں کرنا چاہیے؟
۱۳ اس سلسلے میں یعقوب شاگرد ہمیں جو نصیحت کرتا ہے اس پر غور کریں۔ وہ کہتا ہے: ”اگر تم میں کوئی بیمار ہو تو کلیسیا کے بزرگوں کو بلائے اور وہ خداوند کے نام سے اسکو تیل مل کر اسکے لئے دعا کریں۔“ (یعقوب ۵:۱۴) یہاں پر یعقوب کس قسم کی بیماری کا ذکر کرتا ہے؟ بعض بائبل مبصرین یہ استدلال کرتے ہوئے نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ جسمانی بیماری ہے کیونکہ اس زمانے میں تیل کی مالش کرنا عام طبی رواج تھا۔ (لوقا ۱۰:۳۴) وہ یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ شفا دینے کی بخشش کے ذریعے یعقوب کے ذہن میں معجزانہ شفا تھی۔ تاہم، سیاقوسباق کیا ظاہر کرتا ہے؟
۱۴ [”خوشی کے جذبات“، NW] کا ”مصیبتزدہ“ کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ یہ اس چیز کی دلالت کرتا ہے کہ یعقوب روحانی بیماری پر بحث کر رہا تھا۔ (یعقوب ۵:۱۳) ”کلیسیا کے بزرگوں کو،“ نہ کہ طبیبوں یا شفا کی معجزاتی بخشش رکھنے والوں کو بلایا جانا تھا۔ اور انہیں کیا کرنا تھا؟ یعقوب نے کہا: ”[”وہ اسکے لئے،“ NW] دعا کریں جو دعا ایمان کے ساتھ ہوگی اسکے باعث بیمار بچ جائیگا۔“ (یعقوب ۵:۱۴، ۱۵، مقابلہ کریں زبور ۱۱۹:۹-۱۶۔) قطعی طور پر یہ ثابت کرنے کیلئے کہ یعقوب یہاں پر روحانی بیماری کا حوالہ دے رہا ہے اسکے لئے حقیقت یہ ہے کہ وہ شفا پانے کی امید کے سلسلے میں گناہوں کے اقرار کی حوصلہافزائی کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے: ”پس تم آپس میں ایک دوسرے سے اپنے اپنے گناہوں کا اقرار کرو اور ایک دوسرے کے لئے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ۔“ اگر سنگین گناہ روحانی بیماری کا سبب ہے تو بیمار شخص صرف اسی صورت میں شفا پانے کی توقع کر سکتا ہے اگر وہ خدا کے کلام پر مبنی فہمائش کیلئے مناسب طور پر اثرپذیر ہوتا، توبہ کرتا، اور اپنی گنہگارانہ روش سے باز آتا ہے۔—یعقوب ۵:۱۶، اعمال ۳:۱۹۔
۱۵. یعقوب ۵:۱۳، ۱۴ میں کس قسم کی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے؟
۱۵ جو نصیحت یعقوب دیتا ہے اس پر توجہ دینے کیلئے کچھ اور بھی ہے۔ جب مصیبتزدہ ہو تو چاہیے کہ ایک مسیحی ”دعا کرے۔“ اگر خوشی کے جذبات رکھتا ہے، ”تو حمد کے گیت گائے۔“ ہر صورتحال—خواہ کوئی مصیبتزدہ ہے یا خوشی کے جذبات رکھتا ہے—کارروائی کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک طرف تو دعا کی ضرورت ہے تو دوسری طرف خوشی کے گیتوں کی۔ پس، ہمیں پھر کیا توقع کرنی چاہیے جب یعقوب پوچھتا ہے: ”اگر تم میں کوئی بیمار ہو“ تو وہ پھر مثبت کارروائی کی سفارش کرتا ہے، جیہاں، پہل کرنے کی۔ ”تو کلیسیا کے بزرگوں کو بلائے۔“—زبور ۵۰:۱۵، افسیوں ۵:۱۹، کلسیوں ۳:۱۶۔
جسطرح ”بزرگ“ مدد کرتے ہیں
۱۶، ۱۷. بزرگ بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے کیلئے ہماری مدد کس طرح کرتے ہیں؟
۱۶ بعض اوقات ہمارے لئے یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ اپنے ذاتی حالات میں بائبل اصولوں کا اطلاق کیسے کریں۔ ایسی حالتوں میں مسیحی بزرگ مدد کا انمول ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ روحانی طور پر بیمار شخص پر دعا کرتے ہیں اور خدا کے کلام سے تسکینبخش ہدایت کا مہارت سے اطلاق کرنے سے ”یہوواہ کے نام سے اسکو تیل ملتے ہیں۔“ یوں بزرگ ہماری روحانی شفایابی کیلئے بڑی معاونت کر سکتے ہیں۔ (زبور ۱۴۱:۵) اکثر ہمیں جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس کی تصدیق ہے کہ ہم صحیح سمت پر استدلال کر رہے ہیں۔ کسی تجربہکار مسیحی بزرگ کے ساتھ معاملات پر باتچیت کرنا درست کام کرنے کیلئے ہمارے عزم کو تقویت دیگا۔—امثال ۲۷:۱۷۔
۱۷ جب ملاقات کیلئے بلایا جاتا ہے تو مسیحی بزرگوں کو ”کمہمتوں کو دلاسا“ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ ”کمزوروں کو [سنبھالیں گے اور] سب کے ساتھ تحمل سے پیش“ بھی آئینگے۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴) ”بزرگوں“ اور ”کمزوروں“ کے درمیان ایسا قریبی، مفاہمت والا رشتہ روحانی صحت کی مکمل بحالی کے امکان کو بڑھاتا ہے۔
ذاتی ذمہداری اور دعا
۱۸، ۱۹. گلتیوں ۶:۲، ۵ کے سلسلے میں مسیحی بزرگ کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
۱۸ مسیحی بزرگوں کو خدا کے گلے کے سلسلے میں اپنی ذمہداری کو پورا کرنا چاہیے۔ انہیں معاون ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر، پولس نے کہا: ”اے بھائیو! اگر کوئی آدمی کسی قصور میں پکڑا بھی جائے تو تم جو روحانی ہو اسکو حلممزاجی سے بحال کرو اور اپنا بھی خیال رکھ۔ کہیں تو بھی آزمائش میں نہ پڑ جائے۔ تم ایک دوسرے کا بار اٹھاؤ اور یوں مسیح کی شریعت کو پورا کرو۔“ رسول نے یہ بھی لکھا: ”ہر شخص اپنا ہی بوجھ اٹھائیگا۔“—گلتیوں ۶:۱، ۲، ۵۔
۱۹ ہم کس طرح سے اپنا ہی بوجھ اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کا بار اٹھا سکتے ہیں؟ یونانی الفاظ جنکا ترجمہ یہاں پر ”بار“ اور ”بوجھ“ کیا گیا، انکے معنی کا فرق جواب فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی مسیحی روحانی مشکل میں پڑ جاتا ہے جو اسکے لئے بھاری بار ہے تو بزرگ اور دوسرے ساتھی ایماندار اسکی مدد کرینگے، یوں ”بار“ اٹھانے میں اسکی مدد کرتے ہیں۔ تاہم، اس فرد سے خدا کے سامنے ذمہداری کے اپنے ”بوجھ“ کو اٹھانے کی توقع کی جاتی ہے۔a بزرگ حوصلہافزائی، صحیفائی مشورت، اور دعا کے ذریعے خوشی کے ساتھ اپنے بھائیوں کے ”بار“ اٹھاتے ہیں۔ تاہم، بزرگ ہمارے ذاتی ”بوجھ“ کی روحانی ذمہداری خود نہیں لے لیتے۔—رومیوں ۱۵:۱۔
۲۰. دعا سے غفلت کیوں نہیں برتنی چاہیے؟
۲۰ دعا لازمی ہے اور اس سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ لیکن بہتیرے روحانی طور پر بیمار مسیحی دعا کرنے کو مشکل پاتے ہیں۔ جب بزرگ روحانی طور پر کسی بیمار شخص کی خاطر ایمان کے ساتھ دعا کرتے ہیں تو مقصد کیا ہوتا ہے؟ ”خداوند اسے اٹھا کھڑا کریگا، گویا دل شکستگی کی حالت سے، اور سچائی اور راستبازی کی روش پر چلنے کیلئے اسے تقویت دیتا ہے۔ روحانی طور پر بیمار ایک مسیحی غلط رجحان رکھ سکتا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ اس نے ضروری طور پر کوئی سنگین گناہ نہ کیا ہو، کیونکہ یعقوب کہتا ہے: ”اور اگر اس نے گناہ کئے ہوں تو انکی بھی معافی ہو جائیگی۔“ بزرگوں کی صحیفائی مشورت کیساتھ سنجیدہ دعا بعض اوقات روحانی طور پر کمزور شخص کو سنگین گناہوں، جو شاید اس نے کئے ہوں، کا اقرار کرنے اور تائب روح ظاہر کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں، خدا کی طرف سے معافی حاصل ہوتی ہے۔—یعقوب ۵:۱۵، ۱۶۔
۲۱. (ا) بعض لوگ مسیحی بزرگوں کو بلانے سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟ (ب) اگلے مضمون میں کس بات پر غور کیا جائے گا؟
۲۱ مسیحی کلیسیا میں آنے والے نئے اشخاص کے انبوہ کی دیکھ بھال کرنے کے چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے، فرضشناش بزرگوں کو موزوں نگہبانی فراہم کرنے کیلئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ واقعی، آدمیوں کی صورت میں یہ انعام ان برے دنوں میں برداشت کرنے میں ہماری مدد کرنے کیلئے یہوواہ کی طرف سے ایک عمدہ فراہمی ہے۔ تاہم، بعض مسیحی انکی مدد حاصل کرنے کیلئے بلانے سے ہچکچاتے ہیں، یہ سوچتے ہوئے کہ یہ بھائی بہت مصروف ہیں یا مسائل سے ازحد دبے ہوئے ہیں۔ اگلا مضمون یہ قدر کرنے کیلئے ہماری مدد کریگا کہ یہ مرد مدد دے کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہ مسیحی کلیسیا میں ماتحت چرواہوں کے طور پر خوشی سے خدمت کرتے ہیں۔ (۱۲ ۵/۱۵ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a اے لنگیواسٹک کی ٹو دی گریک نیو ٹسٹامنٹ، از فرٹز رینیکار فورتیون کی تشریح ”ایک ایسے بوجھ کے طور پر کرتا ہے جس کو اٹھانے کیلئے کسی سے توقع کی جاتی ہے“ اور وہ اضافہ کرتا ہے: ”اسے فوجی اصطلاح کے طور پر آدمی کی گٹھڑی یا سپاہی کے ضروری سازوسامان کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔“
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ جب ہمیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو یہوواہ کونسی تہری مدد فراہم کرتا ہے؟
▫ جدید زمانے میں آدمیوں کی صورت میں انعام کون ہیں؟
▫ ہمیں بزرگوں کو کب بلانا چاہیے؟
▫ مسیحی بزرگوں کی طرف سے ہم کس مدد کی توقع کر سکتے ہیں؟
[تصویر]
کیا آپ دعا، بائبل مطالعے، اور مسیحی بزرگوں سے مدد کے روحانی فوائد سے استفادہ کرتے ہیں؟