جھوٹ بولنا اس قدر آسان کیوں ہے؟
کوئی نہیں چاہتا کہ اس کے ساتھ جھوٹ بولا جائے۔ اس کے باوجود پوری دنیا میں لوگ مختلف وجوہات کیلئے ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے ہیں۔ جیمز پیٹرسن اور پیٹرکم کا ایک سروے جو کتاب دی ڈے امریکا ٹولڈ دی ٹروتھ میں شائع ہوا اس نے یہ آشکارہ کیا کہ ۹۱ فیصد امریکی باقاعدہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ئنن ئنن بیان کرتے ہیں: ”ہم میں سے اکثر کیلئے بغیر جھوٹ بولے ایک ہفتہ بھی گذارنا مشکل ہے۔ پانچ میں سے ایک تو ایک دن بھی اس کے بغیر نہیں گذار سکتا—اور ہم دانستہ، سوچے سمجھے جھوٹ کی بابت بات کر رہے ہیں۔“
جدید زمانہ کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو میں جھوٹ بولنا ایک عام عادت ہے۔ سیاسی راہنما اپنے عوام کیساتھ اور ایک دوسرے کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً، وہ ٹیلیوژن پر یہ کہتے ہوئے نمودار ہوتے ہیں کہ ان کا ان رسواکن اسکیموں سے کوئی تعلق نہیں جن میں کافی زیادہ ملوث تھے۔ سلا بوک اپنی کتاب لائنگ—مورل چوائس ان پبلک اینڈ پرائیوٹ لائف میں مشاہدہ پیش کرتی ہے: ”قانون اور صحافت میں، گورنمنٹ اور سوشل سائنس میں، جب وہ جو جھوٹ بولتے اور اسکے ساتھ ہی ساتھ اصول وضع کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں اسے قابلمعافی خیال کریں تو دھوکا قابلقبول ہے۔“
ریاستہائے متحدہ میں سیاسی جھوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کومن کاز میگزین برائے مئی/جون ۱۹۸۹ مشاہدہ کرتا ہے: ”عوامی بےاعتمادی اور سرکاری فریبدہی کے مفہوم میں واٹر گیٹ اور ویتنام یقیناً ایران کونٹرا کے برابر ہیں۔ پس کس چیز نے ریگن کے دور حکومت کو ایسا نقطۂانقلاب بنا دیا؟ بہتیروں نے جھوٹ بولا لیکن چند پشیمان تھے۔“ اسلئے اس کی معقول وجہ ہے کہ کیوں عوام اپنے سیاسی راہنماؤں پر بھروسہ نہیں کرتے۔
بینالااقوامی تعلقات میں ایسے راہنما ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کو بھی مشکل پاتے ہیں۔ یونانی فلاسفر افلاطون نے مشاہدہ کیا: ”ملک کے حکمرانوں کو ... ملک کے مفاد کیلئے جھوٹ بولنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔“ بینالااقوامی تعلقات کے سلسلے میں یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے کہ دانیایل ۱۱:۲۷ میں بائبل پیشینگوئی کہتی ہے: ”وہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر جھوٹ بولینگے۔“
کاروباری دنیا میں، مصنوعات اور خدمات کی بابت جھوٹ بولنا ایک عام دستور ہے۔ خریداروں کو بڑے محتاط انداز میں کاروباری معاہدے کرنے چاہئیں، اس یقین کیساتھ کہ انہوں نے باریک باتوں کو اچھی طرح سے پڑھ لیا ہے۔ بعض ممالک میں تو حکومت کی ایسی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں قائم ہیں جو کہ لوگوں کو دھوکادہی سے، جھوٹی اشتہاربازی سے، اور نقصاندہ مالتجارت سے محفوظ رکھتی ہیں، جو کہ اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا کہ وہ مفید یا بےضرر ہے۔ ان تمام کاوشوں کے باوجود، لوگ مسلسل جھوٹے تاجروں کے ہاتھوں مالی طور پر نقصان اٹھاتے رہتے ہیں۔
بعض لوگوں کیلئے جھوٹ بولنا اس قدر آسان ہے کہ وہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ دوسرے عموماً راستگو ہوتے ہیں لیکن جب خطرناک حالت میں ہوتے ہیں تو جھوٹ بول لیتے ہیں۔ چند ہیں جو کسی بھی طرح کے حالات کے تحت جھوٹ بولنے سے انکار کرتے ہیں۔
جھوٹ کی تشریح یوں کی جاتی ہے ”۱۔ ایک غلط بیان یا کام، بالخصوص وہ جو دوسرے کو دھوکا دینے کی غرض سے کیا جاتا ہے ... ۲۔ کوئی بھی بات جو غلط تاثر دیتی ہے یا دینے کے لئے کی جاتی ہے۔“ مقصد یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کو ایک ایسی بات کا یقین کرنے پر آمادہ کیا جائے جسے جھوٹ بولنے والا خود جانتا ہے کہ سچ نہیں ہے۔ جھوٹ یا نیمراستی کے ذریعے وہ انہیں دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے جو صحیح بات کا علم رکھنے کے حقدار ہیں۔
جھوٹ بولنے کی وجوہات
بہت سی وجوہات کی بنا پر لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ بعض یہ سوچتے ہیں کہ مقابلہبازی والی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کی غرض سے وہ اپنی لیاقتوں کی بابت جھوٹ بولنے پر مجبور ہیں۔ دوسرے جھوٹ سے غلطیوں یا خطاکاریوں کی پردہپوشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مزید دیگر اس کام کو کرنے کا تاثر دینے کیلئے غلط بیانی سے کام لیتے ہیں جو کہ انہوں نے انجام نہیں دیا۔ پھر کئی ایسے ہیں جو دوسروں کی نیکنامی کو نقصان پہنچانے، پریشانی سے بچنے، پہلے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے، یا لوگوں سے انکی رقم ٹھگنے کی غرض سے جھوٹ بولتے ہیں۔
جھوٹ بولنے کا عام جواز یہ ہے کہ اس سے دوسرے شخص کی جان بچتی ہے۔ بعض اسے سفید جھوٹ خیال کرتے ہیں کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ لیکن کیا واقعی یہ نامنہاد سفید جھوٹ کسی پر برا اثر نہیں ڈالتے؟
اثرات پر غور کریں
سفید جھوٹ ایک ایسا نمونہ قائم کر سکتے ہیں جو جھوٹ بولنے کی عادت پر منتج ہو سکتا ہے جس میں زیادہ سنگین معاملات شامل ہو سکتے ہیں۔ سلا بوک تبصرہ کرتی ہے: ”وہ تمام جھوٹ جنکا دفاع سفید کہہ کر کیا جاتا ہے انہیں اتنی آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے پہلے تو یہ کہ جھوٹ کا بےضرر ہونا رسواکن طور پر مشتبہ ہے۔ جس چیز کو جھوٹ بولنے والا بےضرر یا مفید خیال کرتا ہے شاید وہ دھوکا کھانے والے کی نظروں میں ایسی نہ ہو۔“
جھوٹ چاہے کتنے ہی بےضرر کیوں نہ دکھائی دیں، وہ اچھے انسانی رشتوں کیلئے تباہکن ہیں۔ جھوٹ بولنے والے پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اسکے بعد مکمل طور پر بھروسہ ختم ہو جائے۔ مشہور مقالہنگار رلف والڈو ایمرسن نے لکھا: ”سچائی کی ہر خلافورزی نہ صرف دروغگو کیلئے ایک طرح کی خودکشی ہے بلکہ یہ انسانی معاشرے کی صحت پر بھی ایک گہرا زخم ہے۔“
ایک جھوٹ بولنے والے کیلئے کسی دوسرے شخص کے بارے میں غلط بیانی کرنا بڑا آسان ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ کوئی ثبوت تو فراہم نہیں کرتا لیکن اس کا جھوٹ شک پیدا کر دیتا ہے اور بہتیرے اسکے دعوے کی تحقیق کئے بغیر ہی اس کا یقین کر لیتے ہیں۔ یوں ایک بےقصور شخص کی نیکنامی برباد ہو جاتی ہے اور وہ اپنی بےگناہی کو ثابت کرنے کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے۔ اسلئے یہ مایوسکن ہوتا ہے جب لوگ معصوم شخص کی بجائے جھوٹے کا یقین کر لیتے ہیں اور یہ دروغگو کیساتھ بےقصور شخص کے تعلقات کو تباہ کر دیتا ہے۔
ایک جھوٹ بولنے والا بڑی آسانی سے جھوٹ بولنے کی عادت کو فروغ دے سکتا ہے۔ عموماً ایک جھوٹ دوسرے کا باعث ہوتا ہے۔ ایک ابتدائی امریکی مدبر، تھامس جیفرسن نے مشاہدہ کیا: ”کوئی بھی گناہ اس قدر گھٹیا، اتنا شرمناک، اسقدر قابلمذمت نہیں، اور وہ جو ایک بار خود کو جھوٹ بولنے کی اجازت دے دیتا ہے، دوسری اور تیسری بار ایسا کرنے کو بڑا آسان پاتا ہے، اور یوں وہ اس حد تک چلا جاتا ہے کہ یہ اس کی عادت بن جاتا ہے۔“ یہ اخلاقی پستی کی طرف جانے والی راہ ہے۔
جس وجہ سے جھوٹ بولنا آسان ہے
جھوٹ بولنے کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک باغی فرشتے نے پہلی عورت کو یہ بتاتے ہوئے اس سے جھوٹ بولا کہ اگر وہ اپنے خالق کی نافرمانی کریگی تو وہ ہرگز نہیں مریگی۔ یہ پوری نسلانسانی پر ناکاملیت، بیماری، اور موت لانے سے ان کیلئے بےحد نقصان پر منتج ہوا۔—پیدایش ۳:۱-۴، رومیوں ۵:۱۲۔
نافرمان آدم اور حوا کے وقت سے لیکر، جھوٹوں کے اس باپ کے عیارانہ اثرورسوخ نے بنیآدم کی دنیا میں ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جو جھوٹ بولنے کی تحریک دیتی ہے۔ (یوحنا ۸:۴۴) یہ ایک ایسی زوالپزیر دنیا ہے جس میں سچ محض نسبتی حیثیت رکھتا ہے۔ ستمبر ۱۹۸۶ کی دی سیٹرڈے ایوننگ پوسٹ نے یہ مشاہدہ کیا کہ جھوٹ بولنے کا مسئلہ ”کاروبار، حکومت، تعلیم، تفریحطبع، اور ساتھی شہریوں اور پڑوسیوں کے مابین روزمرہ کے عام تعلقات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ... ہم نے نسبت (ریلیٹوزم) کے نظریے کو تسلیم کر لیا ہے یعنی سب سے بڑے جھوٹ کو جو کہ یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی سچائی قطعی نہیں۔“
یہ ہے عادی جھوٹوں کا نقطہءنظر جن میں ان کیلئے جنہیں وہ دھوکا دیتے ہیں کسی بھی طرح کی ہمدردی کی کمی ہوتی ہے۔ انکے لئے جھوٹ بولنا بڑا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ انکا طرززندگی ہے۔ مگر دوسرے جو عادی جھوٹے نہیں ہیں وہ شاید خوف کی وجہ سے یعنی بےنقاب ہو جانے کے خوف، سزا کے خوف، اور اسی طرح کی دیگر باتوں کی وجہ سے بلاجھجک جھوٹ بول دیں۔ یہ ناکامل جسم کی کمزوری ہے۔ اس میلان کو سچ بولنے کے عزممُصمم کی جگہ پر کیسے رکھا جا سکتا ہے؟۔
سچ بولنے والے کیوں بنیں؟
سچائی ایک ایسا معیار ہے جو ہمارے عظیم خالق نے سب کیلئے قائم کیا ہے۔ اسکا تحریری کلام، بائبل، عبرانیوں ۶:۱۸ میں بیان کرتا ہے کہ ”خدا کیلئے جھوٹ بولنا ممکن نہیں۔“ بالکل اسی معیار کو اس کے بیٹے، یسوع مسیح، نے قائم رکھا جو کہ زمین پر خدا کا ذاتی نمائندہ تھا، ۔ ان یہودی پیشواؤں کو جو اسے قتل کرنے کے درپے تھے، یسوع نے کہا: ”لیکن اب تم مجھ جیسے شخص کے قتل کی کوشش میں ہو جس نے تمکو وہی حق بات بتائی جو خدا سے سنی۔ ... اور اگر کہوں کہ اسے نہیں جانتا تو تمہاری طرح جھوٹا بنونگا۔“ (یوحنا ۸:۴۰، ۵۵) اس نے اس میں ہمارے لئے نمونہ قائم کیا کہ ”نہ اس نے گناہ کیا اور نہ اسکے مُنہ سے کوئی مکر کی بات نکلی۔“—۱-پطرس ۲:۲۱، ۲۲۔
ہمارا خالق، جس کا نام یہوواہ ہے، جھوٹ بولنے سے نفرت کرتا ہے جیسے کہ امثال ۶:۱۶-۱۹ واضح طور پر بیان کرتی ہیں: ”چھ چیزیں ہیں جن سے خداوند کو نفرت ہے بلکہ سات ہیں جن سے اسے کراہیت ہے۔ اونچی آنکھیں۔ جھوٹی زبان۔ بےگناہ کا خون بہانے والے ہاتھ۔ برے منصوبے باندھنے والا دل۔ شرارت کیلئے تیزرو پاؤں۔ جھوٹا گواہ جو دروغگوئی کرتا ہے اور جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے۔“
یہ سچا خدا ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اسکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہم اس کے معیاروں کے مطابق زندگی گزاریں۔ اسکا الہامی کلام ہمیں حکم دیتا ہے: ”ایک دوسرے سے جھوٹ نہ بولو۔ پرانی انسانیت کو اسکے کاموں سمیت اتار ڈالو۔“ (کلسیوں ۳:۹، NW) جو لوگ جھوٹ بولنے کی عادت کو چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں وہ اسے قابلقبول نہیں، وہ اس کی زندگی کی بخشش حاصل نہیں کرینگے۔ درحقیقت، زبور ۵:۶ بڑی صافگوئی سے کہتی ہے کہ خدا ”ان کو جو جھوٹ بولتے ہیں ہلاک کریگا۔“ مکاشفہ ۲۱:۸ مزید کہتی ہے کہ ”تمام جھوٹوں“ کا حصہ ”دوسری موت“ ہے جو کہ ابدی ہلاکت ہے۔ پس جھوٹ کی بابت ہمارا خدا کے نظریے کو تسلیم کرنا ہمیں سچ بولنے کی زبردست وجہ مہیا کرتا ہے۔
لیکن اس حالت میں کیا کیا جانا چاہیے جہاں سچ بولنا پریشانکن حالت یا برے احساسات پیدا کرسکتا ہے؟ جھوٹ بولنا کبھی بھی حل نہیں، لیکن بعض اوقات خاموش رہنا حل ہے۔ ایسے جھوٹ کیوں بولیں جو کہ صرف آپکے اعتبار کو تباہ کر سکتے اور آپ کو الہٰی نامقبولیت کے تابع کر سکتے ہیں؟
انسانی کمزوریوں اور خوف کی وجہ سے ایک شخص جھوٹ میں پناہ حاصل کرنے کی آزمائش میں پڑ سکتا ہے۔ یہ سب سے آسانترین یا غلطفہمی پر مبنی مہربانی والی روش ہے۔ رسول پطرس ایسی ہی آزمائش کا شکار ہو گیا جب اس نے تین بار اس بات سے انکار کیا کہ وہ یسوع کو جانتا ہے۔ بعد میں، اسے جھوٹ بولنے پر دلی صدمہ ہوا۔ (لوقا ۲۲:۵۴-۶۲) اس کی حقیقی توبہ نے خدا کو تحریک دی کہ اسے معاف کر دے جیسا کہ بعد میں خدمت کے بہت سے استحقاقات سے اسے نوازے جانے سے ثابت ہوتا ہے۔ توبہ اس مُصمم فیصلہ کیساتھ کہ آئندہ جھوٹ نہیں بولینگے ایک ایسی روش ہے جو ان سب کاموں سے الہٰی معافی کا باعث ہوتی ہے جن سے خدا کو نفرت ہے۔
لیکن جھوٹ بولنے کے بعد معافی مانگنے کی بجائے، اپنے خالق کیساتھ ایک عمدہ رشتہ قائم رکھنے کی کوشش میں لگے رہیں اور سچ بولنے سے دوسروں کیساتھ اپنے اعتماد کو بحال رکھیں۔ جو کچھ زبور ۱۵:۱، ۲ کہتی ہے اسے یاد رکھیں: ”اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہیگا؟ تیرے کوہمقدس پر کون سکونت کریگا؟ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کے کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔“ (۲۱ ۱۲/۱۵ w۹۲)