باب 46
یسوع کی چادر چُھونے سے شفایابی
متی 9:18-22 مرقس 5:21-34 لُوقا 8:40-48
ایک بےبس عورت کو یسوع کی چادر چُھونے سے شفا ملی
جب یسوع مسیح گلیل کی جھیل کے شمال مغربی کنارے پہنچے تو فوراً یہ خبر پھیل گئی کہ وہ دِکاپُلِس سے لوٹ آئے ہیں۔ بِلاشُبہ لوگوں نے سنا ہوگا کہ یسوع کے حکم پر طوفان تھم گیا تھا اور اُنہوں نے دو ایسے آدمیوں کو شفا دی تھی جن پر بُرے فرشتوں کا سایہ تھا۔ اِس لیے جھیل کے کنارے ہی ”بہت سے لوگ اُن کے پاس جمع ہو گئے“ اور بڑی گرمجوشی سے اُن سے ملے۔ (مرقس 5:21) شاید وہ یہ دیکھنے کے مشتاق تھے کہ یسوع اَور کون سے معجزے کریں گے۔
وہاں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو بڑی شدت سے یسوع مسیح کا اِنتظار کر رہا تھا۔ اُس کا نام یائیر تھا اور وہ ایک عبادتگاہ میں پیشوا تھا۔ یائیر، یسوع کے قدموں میں گِر گئے اور بار بار اُن سے اِلتجا کی: ”میری بچی بہت ہی بیمار ہے۔ آپ آ کر اُس پر ہاتھ رکھ دیں تاکہ وہ ٹھیک ہو جائے اور زندہ رہے۔“ (مرقس 5:23) یہ بچی اُن کی اِکلوتی بیٹی تھی۔ وہ بس 12 سال کی تھی اور اپنے ابو کی لاڈلی تھی۔ یائیر کی درخواست سُن کر یسوع مسیح اُن کے گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔—لُوقا 8:42۔
راستے میں ایک اَور حیرتانگیز واقعہ ہوا۔ بہت سے لوگ یسوع مسیح کے ساتھ یائیر کے گھر کی طرف جا رہے تھے کیونکہ وہ ایک اَور معجزہ دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن بِھیڑ میں ایک ایسی عورت تھی جو معجزہ دیکھنے نہیں بلکہ شفا پانے کی غرض سے یسوع کے پیچھے جا رہی تھی۔
اِس عورت کو 12 سال سے لگاتار خون آ رہا تھا۔ اُس نے بہت سے حکیموں سے علاج کروایا تھا اور وہ اپنے سارے پیسے خرچ کر چُکی تھی لیکن اُس کی حالت بہتر ہونے کی بجائے ”اَور بھی خراب ہو گئی تھی۔“—مرقس 5:26۔
یقیناً وہ عورت اِس بیماری کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئی تھی اور اُسے اِس وجہ سے بڑی شرمندگی بھی اُٹھانی پڑتی تھی۔ عموماً دوسروں کے سامنے اِس بیماری کا ذکر نہیں کِیا جاتا تھا۔ اِس کے علاوہ موسیٰ کی شریعت کے مطابق جب کسی عورت کو خون آتا تھا تو وہ ناپاک ہو جاتی تھی۔ جو شخص اُسے یا اُس کے خونآلودہ کپڑوں کو چُھوتا، اُسے غسل کرنا پڑتا تھا اور وہ شام تک ناپاک رہتا تھا۔—احبار 15:25-27۔
اُس عورت نے ”یسوع کے بارے میں بہت سی باتیں سنی تھیں۔“ اِس لیے وہ اُن سے مدد حاصل کرنے کے لیے آئی۔ مگر چونکہ وہ ناپاک تھی اِس لیے وہ چپکے سے بِھیڑ میں گھس گئی اور یسوع مسیح تک پہنچ گئی۔ وہ دل میں سوچ رہی تھی کہ ”اگر مَیں اُن کی چادر ہی کو چُھو لوں تو مَیں ٹھیک ہو جاؤں گی۔“ جونہی اُس نے یسوع مسیح کی چادر کی جھالر کو چُھوا، اُس کو خون آنا بند ہو گیا اور اُس نے محسوس کِیا کہ ”اُس کی بیماری دُور ہو گئی ہے۔“—مرقس 5:27-29۔
پھر یسوع مسیح نے کہا: ”مجھے کس نے چُھوا ہے؟“ پطرس نے حیران ہو کر کہا: ”اُستاد، یہاں تو اِتنے لوگ ہیں جو آپ پر چڑھے جا رہے ہیں۔“ تو پھر یسوع نے یہ سوال کیوں پوچھا؟ اُنہوں نے کہا: ”کسی نے مجھے چُھوا ہے کیونکہ مَیں نے محسوس کِیا ہے کہ مجھ سے طاقت نکلی ہے۔“—لُوقا 8:45، 46۔
جب اُس عورت نے دیکھا کہ اب یہ بات چھپی نہیں رہی تو وہ کانپتی ہوئی آئی اور یسوع کے قدموں میں گِر گئی۔ اُس نے سب لوگوں کے سامنے اپنی بیماری کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہا کہ اب وہ بالکل ٹھیک ہو گئی ہے۔ یہ سُن کر یسوع نے بڑے پیار سے اُس سے کہا: ”بیٹی، آپ اپنے ایمان کی وجہ سے ٹھیک ہو گئی ہیں۔ جیتی رہیں۔ یہ تکلیفدہ بیماری آپ کو پھر سے نہ لگے۔“—مرقس 5:34۔
یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ خدا نے ہمارے لیے ایسا بادشاہ چُنا ہے جو اِس قدر رحمدل اور شفیق ہے! یسوع کو نہ صرف ہمارا خیال ہے بلکہ وہ ہماری مدد کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔