باب 28
روزہ رکھنے کے سلسلے میں سوال
متی 9:14-17 مرقس 2:18-22 لُوقا 5:33-39
یوحنا کے شاگردوں نے روزہ رکھنے کے متعلق یسوع مسیح سے سوال کیے
جب یسوع مسیح 30ء میں عیدِفسح منانے یروشلیم گئے تو اِس کے تھوڑے عرصے بعد یوحنا بپتسمہ دینے والے کو قیدخانے میں ڈال دیا گیا اور وہ ابھی تک وہیں تھے۔ یوحنا چاہتے تھے کہ اُن کے سارے شاگرد یسوع مسیح کے پیروکار بن جائیں لیکن ابھی تک اُن کے کچھ شاگردوں نے ایسا نہیں کِیا تھا۔
اب 31ء کی عیدِفسح آنے والی تھی۔ اِس سے تھوڑا عرصہ پہلے یوحنا کے کچھ شاگرد یسوع کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ”ہم اور فریسی روزہ رکھتے ہیں لیکن آپ کے شاگرد روزہ نہیں رکھتے۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟“ (متی 9:14) فریسی اپنے رواج کے مطابق روزہ رکھا کرتے تھے۔ بعد میں یسوع مسیح نے ایک مثال میں اِس رواج کا ذکر بھی کِیا۔ اُنہوں نے ایک فریسی کے بارے میں بتایا جس نے بڑے فخر سے دُعا کی: ”اَے خدا، مَیں تیرا شکر کرتا ہوں کہ مَیں دوسروں کی طرح . . . نہیں ہوں۔ مَیں تو ہفتے میں دو بار روزہ رکھتا ہوں۔“ (لُوقا 18:11، 12) ہو سکتا ہے کہ یوحنا کے شاگرد بھی روزہ رکھنے کے رواج پر عمل کرتے تھے یا پھر شاید اُنہوں نے اِس بات پر غم ظاہر کرنے کے لیے روزے رکھے کہ یوحنا قید میں ہیں۔ دوسرے لوگوں کے ذہن میں بھی یہ سوال تھا کہ یسوع مسیح کے شاگرد کیوں روزے نہیں رکھتے۔ شاید اُنہیں لگا کہ یسوع کے شاگردوں کو بھی یوحنا کی صورتحال پر افسوس ظاہر کرنے کے لیے روزہ رکھنا چاہیے۔
یسوع مسیح نے یوحنا کے شاگردوں کے سوال کے جواب میں ایک مثال دی اور کہا: ”کیا دُلہے کے دوست اُس وقت ماتم کرتے ہیں جب دُلہا اُن کے ساتھ ہوتا ہے؟ لیکن ایک وقت آئے گا جب دُلہے کو اُن سے جُدا کِیا جائے گا۔ تب وہ روزہ رکھیں گے۔“—متی 9:15۔
یوحنا بپتسمہ دینے والے نے خود ایک موقعے پر یسوع مسیح کے بارے میں کہا کہ وہ دُلہا ہیں۔ (یوحنا 3:28، 29) لہٰذا جب تک یسوع زندہ تھے، اُن کے شاگردوں کو روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو اُن کے شاگردوں نے ماتم کِیا اور اُن کی بھوک مر گئی۔ البتہ جب یسوع کو زندہ کِیا گیا تو اُن کے شاگردوں کے پاس ماتم کرنے اور روزہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہی۔
پھر یسوع مسیح نے یہ دو مثالیں دیں: ”کوئی شخص پُرانی چادر پر نئے کپڑے کا پیوند نہیں لگاتا کیونکہ وہ کپڑا سکڑ جائے گا اور پھر چادر اَور بھی پھٹ جائے گی۔ اِسی طرح لوگ نئی مے کو پُرانی مشکوں میں نہیں ڈالتے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو مشکیں پھٹ جائیں گی اور مے بہہ جائے گی اور مشکیں کسی کام کی نہیں رہیں گی۔ اِس لیے لوگ نئی مے کو نئی مشکوں میں ڈالتے ہیں اور یوں دونوں چیزیں خراب نہیں ہوتیں۔“ (متی 9:16، 17) اِن مثالوں سے یسوع مسیح کیا سمجھانا چاہتے تھے؟
وہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کے شاگردوں کو سمجھا رہے تھے کہ کسی کو یسوع کے پیروکاروں سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ وہ یہودی مذہب کے رسمورواج پر عمل کریں جیسا کہ روزہ رکھنے کے رواج پر۔ یسوع مسیح ایک ایسے مذہبی نظام کو قائم رکھنے کے لیے نہیں آئے تھے جو اِنسانی روایتوں کی وجہ سے بگڑ چُکا تھا اور جلد ترک کِیا جانے والا تھا۔ اِس کی بجائے یسوع عبادت کے ایک نئے طریقے کو قائم کرنے آئے تھے۔ اِس لیے وہ کہہ سکتے تھے کہ وہ پُرانی چادر پر نیا پیوند لگانے اور پُرانی مشکوں میں نئی مے ڈالنے کے لیے نہیں آئے تھے۔