باب نمبر ۳۷
یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کو یاد رکھیں
اگر کوئی آپ کو تحفہ دے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ ...... کیا آپ اُس شخص کا شکریہ ادا کریں گے اور پھر اُسے بھول جائیں گے؟ یا پھر کیا آپ اُس شخص کو یاد رکھیں گے؟ ......
یہوواہ خدا نے ہمیں ایک بہت قیمتی تحفہ دیا ہے۔ اُس نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ ہمارے لئے اپنی جان دے دیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یسوع مسیح نے ہمارے لئے اپنی جان کیوں دی؟ ...... اِس بات کو سمجھنا بہت اہم ہے۔
ہم نے باب نمبر ۲۳ میں سیکھا تھا کہ آدم نے خدا کا حکم نہیں مانا اور اِس وجہ سے وہ گُناہگار بن گئے۔ چونکہ آدم ہم سب کے باپ ہیں اِس لئے ہم سب پیدائش ہی سے گُناہگار ہیں۔ اِس وجہ سے ہمیں ایک نئے باپ کی ضرورت ہے۔ آپ کے خیال میں ہمیں کس طرح کے باپ کی ضرورت ہے؟ ...... ہمیں ایک ایسے باپ کی ضرورت ہے جس نے کبھی گُناہ نہیں کِیا۔ کیا آپ ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے کبھی گُناہ نہیں کِیا؟ ...... یسوع مسیح یہ شخص ہیں۔
یہوواہ خدا نے یسوع مسیح کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ آدم کی جگہ ہمارے باپ بن سکیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آدم کو ہمارا باپ کیوں کہا گیا ہے؟ ...... کیونکہ آدم کے ذریعے ہم سب کو زندگی ملی ہے۔ لیکن بائبل میں یسوع مسیح کو ”آخری آدم“ کہا گیا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اُن کو آخری آدم کیوں کہا گیا ہے؟ ...... کیونکہ یسوع مسیح کے ذریعے انسانوں کو ہمیشہ کی زندگی مل سکتی ہے۔ بائبل میں کہا گیا ہے کہ ”پہلا آدم زمین کی خاک سے بنایا گیا مگر آخری آدم آسمان سے آیا۔“—۱-کرنتھیوں ۱۵:۴۵، ۴۷؛ پیدایش ۲:۷۔
یسوع مسیح پہلے آسمان پر رہتے تھے۔ لیکن پھر یہوواہ خدا نے اُن کی زندگی مریم کے پیٹ میں ڈال دی۔ یوں یسوع، آدم کی نسل سے پیدا نہیں ہوئے۔ اِس وجہ سے اُن میں کوئی عیب نہیں تھا اور وہ گُناہگار نہیں تھے۔ (لوقا ۱:۳۰-۳۵) اِس لئے جب یسوع پیدا ہوئے تو ایک فرشتے نے چرواہوں سے کہا: ”آج ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جو لوگوں کو نجات دلائے گا۔“ (لوقا ۲:۱۱) لیکن یسوع تو چھوٹے بچے تھے، وہ ہمیں نجات کیسے دلا سکتے تھے؟ ...... پہلے اُن کو بڑا ہونا تھا۔ پھر وہ آخری آدم بن سکتے تھے اور ہمیں نجات دلا سکتے تھے۔
بائبل میں یسوع مسیح کو ”ابدیت کا باپ“ کہا گیا ہے۔ (یسعیاہ ۹:۶، ۷) اِس کا مطلب ہے کہ یسوع مسیح ہمیشہ کے لئے ہمارے باپ بن سکتے ہیں۔ یاد ہے کہ یسوع مسیح نے کبھی گُناہ نہیں کِیا تھا جبکہ آدم نے خدا کا کہنا نہیں مانا اور گُناہگار بن گئے۔ اگر ہم چاہیں تو یسوع مسیح، آدم کی جگہ ہمارے باپ بن سکتے ہیں۔ اور یسوع مسیح کا باپ یہوواہ خدا ہے۔
یسوع مسیح، آدم کی جگہ ہمارے باپ کیوں بن سکتے تھے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ یسوع مسیح ہمارے باپ بنیں اور ہمیں نجات دلائیں تو ہمیں اُن کے بارے میں بہت سی باتیں سیکھنی ہوں گی۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ ہمیں نجات کی ضرورت کیوں ہے؟ ...... کیونکہ آدم کے سب بچے گُناہگار ہیں۔ اِس وجہ سے ہم سب بیمار ہوتے ہیں، بوڑھے ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ یسوع مسیح نے اپنی جان دے دی تاکہ ہمارے گُناہ معاف ہو جائیں۔ یسوع مسیح کی اِس قربانی کو بائبل میں فدیہ کہا گیا ہے۔ یہوواہ خدا نے اِس فدیے کا انتظام کِیا کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ ہمارے گُناہ معاف ہو جائیں۔—متی ۲۰:۲۸؛ رومیوں ۵:۸؛ ۶:۲۳۔
فدیہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی طرف سے واقعی ایک بہت قیمتی تحفہ ہے۔ ہم ہمیشہ یاد رکھنا چاہتے ہیں کہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح نے ہمارے لئے کیا کِیا ہے، ہے نا؟ ...... یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ اُنہیں فدیے کو یاد رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ آئیں، مَیں آپ کو اِس کے بارے میں بتاتا ہوں۔
رات کا وقت تھا۔ یسوع مسیح اپنے رسولوں کے ساتھ یروشلیم میں ایک گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ میز پر روٹی، بھنا ہوا گوشت اور لال مے تھی۔ وہ لوگ ایک خاص تقریب منا رہے تھے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ وہ یہ تقریب کیوں منا رہے تھے؟ ......
وہ ایک خاص موقعے کو یاد کرنے کے لئے یہ تقریب منا رہے تھے۔ سینکڑوں سال پہلے کی بات تھی کہ بنیاسرائیل مصریوں کے غلام تھے۔ لیکن یہوواہ خدا اُن کو مصر سے آزادی دلانا چاہتا تھا۔ یہوواہ خدا نے اسرائیلیوں کو حکم دیا: ”تمہارا ہر خاندان ایک برّے [یعنی بھیڑ کے بچے] کو ذبح کرے اور اُس کا خون اپنے گھر کے دروازے پر لگائے۔ پھر تُم سب اپنے گھروں میں رہو اور برّے کا گوشت بھون کر کھاؤ۔“
اسرائیلیوں نے اپنے دروازوں پر برّے کا خون کیوں لگایا؟
اسرائیلیوں نے یہوواہ خدا کا یہ حکم مانا۔ اُسی رات خدا کا فرشتہ مصر کے ہر گھر سے گزرا۔ جن گھروں کے دروازے پر برّے کا خون نہیں لگا تھا، وہاں اُس نے پہلوٹھے بیٹوں کو مار ڈالا۔ لیکن جن گھروں کے دروازے پر خون لگا ہوا تھا، وہاں فرشتے نے کسی کو نہیں مارا۔ یہ دیکھ کر مصر کا بادشاہ بہت ڈر گیا۔ اُس نے اسرائیلیوں سے کہا: ”جاؤ، مصر سے چلے جاؤ۔ مَیں تمہیں آزاد کرتا ہوں۔“ یہ سُن کر اسرائیلیوں نے اُونٹوں اور گدھوں پر اپنا سامان لادا اور مصر سے روانہ ہو گئے۔
یہوواہ خدا چاہتا تھا کہ بنیاسرائیل اِس بات کو یاد رکھیں کہ اُس نے اُنہیں مصر سے آزادی دلائی تھی۔ اِس لئے اُس نے اُنہیں حکم دیا: ”سال میں ایک بار تُم اِس موقعے کو یاد کرنے کے لئے ایک تقریب منانا۔“ اِس تقریب کو عیدِفسح کہتے ہیں۔—خروج ۱۲:۱-۱۳، ۲۴-۲۷، ۳۱۔
جب یسوع مسیح اور اُن کے رسول عیدِفسح منا رہے تھے تو وہ اِسی واقعے کو یاد کر رہے تھے۔ کھانا کھانے کے بعد یسوع مسیح نے یہوداہ اسکریوتی کو وہاں سے بھیج دیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ یہوداہ اسکریوتی بُرے بن گئے تھے۔ پھر یسوع مسیح نے ایک نئی تقریب شروع کی۔ اُنہوں نے ایک روٹی لی، دُعا کی اور پھر روٹی توڑ کر اپنے رسولوں کو دی۔ یسوع مسیح نے اُن سے کہا: ”لو، کھاؤ۔ یہ روٹی میرے بدن کی نشانی ہے۔ مَیں اپنے بدن کو تمہارے لئے قربان کروں گا۔“
اِس کے بعد یسوع مسیح نے ایک پیالہ اُٹھایا جس میں لال مے تھی۔ اُنہوں نے پھر سے دُعا کی اور اِس پیالے کو اپنے رسولوں کو دیتے ہوئے کہا: ”تُم سب اِس میں سے پیو۔ یہ مے میرے خون کی نشانی ہے۔ بہت جلد مَیں اپنا خون بہاؤں گا تاکہ تمہیں گُناہوں کی معافی ملے۔ میری یادگاری کے لئے یہی کِیا کرو۔“—متی ۲۶:۲۶-۲۸؛ ۱-کرنتھیوں ۱۱:۲۳-۲۶۔
یسوع مسیح نے کہا کہ لال مے اُن کے خون کی نشانی ہے۔ اُنہوں نے ہمارے لئے اپنا خون کیوں بہایا؟
یوں یسوع مسیح نے عیدِفسح کے موقعے پر ایک نئی تقریب شروع کی۔ آپ کے خیال میں کیا اب شاگردوں کو عیدِفسح منانے کی ضرورت تھی؟ ...... اب اُن کو عیدِفسح منانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اِس کی بجائے اُنہیں سال میں ایک بار اُس نئی تقریب کو منانا تھا جو یسوع مسیح نے شروع کی تھی۔ بائبل میں اِس تقریب کو عشائےربانی کہا گیا ہے۔ آج ہم اِس تقریب کو یسوع مسیح کی موت کی یادگاری بھی کہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم اِسے یادگاری کیوں کہتے ہیں؟ ...... کیونکہ ہم اِس رات اُس قربانی کو یاد کرتے ہیں جو یہوواہ خدا اور یسوع مسیح نے ہمارے لئے دی ہے۔
جب ہم اِس تقریب پر روٹی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یسوع مسیح کے بدن کو یاد کرنا چاہئے۔ اُنہوں نے اپنا بدن قربان کِیا تاکہ ہمیں ہمیشہ کی زندگی ملے۔ آپ کے خیال میں لال مے کو دیکھ کر ہمیں کس بات کو یاد کرنا چاہئے؟ ...... ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یسوع مسیح کا خون بہت ہی قیمتی ہے۔ یہ خون اُن برّوں کے خون سے بھی زیادہ قیمتی ہے جو مصر میں فسح کے موقعے پر قربان کئے گئے تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اِس کی کیا وجہ ہے؟ ...... بائبل میں کہا گیا ہے کہ یسوع مسیح کے خون کی بنیاد پر ہمارے گُناہ معاف ہو سکتے ہیں۔ اور جب ہم گُناہ سے پاک ہو جائیں گے تو ہم بیمار نہیں ہوں گے، بوڑھے نہیں ہوں گے اور مریں گے بھی نہیں۔ یسوع مسیح کی موت کی یادگاری کے موقعے پر ہمیں اِن باتوں کے بارے میں سوچنا چاہئے۔
کیا اِس تقریب پر سب لوگوں کو روٹی کھانی اور مے پینی چاہئے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ ...... یسوع مسیح نے کہا کہ جو لوگ روٹی کھائیں گے اور مے پئیں گے، وہ اُن کے ساتھ آسمان پر تختوں پر بیٹھیں گے اور بادشاہت کریں گے۔ (لوقا ۲۲:۱۹، ۲۰، ۳۰) اِس لئے اِس تقریب پر صرف اُن لوگوں کو روٹی کھانی اور مے پینی چاہئے جن کو پتہ ہے کہ وہ آسمان پر یسوع مسیح کے ساتھ حکمرانی کریں گے۔
لیکن اُن لوگوں کو بھی یسوع مسیح کی موت کی یادگاری منانی چاہئے جو اِس تقریب پر روٹی نہیں کھاتے اور مے نہیں پیتے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اِس کی کیا وجہ ہے؟ ...... کیونکہ یسوع مسیح نے ہمارے لئے بھی اپنی جان دی ہے۔ جب ہم یسوع مسیح کی موت کی یادگاری پر جاتے ہیں تو ہم یسوع مسیح کی قربانی کو یاد کرتے ہیں۔ یوں ہم یہوواہ خدا کے اِس شاندار تحفے کے لئے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
یسوع مسیح کی قربانی بہت اہم ہے۔ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں: ۱-کرنتھیوں ۵:۷؛ افسیوں ۱:۷؛ ۱-تیمتھیس ۲:۵، ۶؛ اور ۱-پطرس ۱:۱۸، ۱۹۔