یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو19 نمبر 2 ص.‏ 12-‏13
  • بڑوں کی رہنمائی کے فائدے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بڑوں کی رہنمائی کے فائدے
  • جاگو!‏—‏2019ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بچوں کو کس کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے؟‏
  • بڑوں کی رہنمائی کیوں ضروری ہوتی ہے؟‏
  • بچوں کی رہنمائی کیسے کریں؟‏
  • نوجوانی کا زمانہ
    جاگو!‏—‏2011ء
  • اپنے بچے کی بچپن سے تربیت کریں
    خاندانی خوشی کا راز
  • کیا بائبل بچوں کی پرورش کرنے میں آپکی مدد کر سکتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • والدین!‏ اپنے بچوں کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
جاگو!‏—‏2019ء
جاگو19 نمبر 2 ص.‏ 12-‏13
ایک عمررسیدہ عورت ایک چھوٹی لڑکی کو اپنی جوانی کی ایک تصویر دِکھا رہی ہے۔‏

پانچواں سبق

بڑوں کی رہنمائی کے فائدے

بچوں کو کس کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے؟‏

بچوں کو بڑوں کی بہت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ اُنہیں صحیح راہ دِکھا سکتے ہیں اور اُنہیں اچھی صلاح دے سکتے ہیں۔ ماں باپ ہونے کے ناتے آپ اپنے بچوں کی سب سے اچھی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ دراصل ایسا کرنا آپ کی ذمے‌داری ہے۔ لیکن دوسرے لوگوں کی صلاح بھی آپ کے بچوں کے بڑے کام آ سکتی ہے۔‏

بڑوں کی رہنمائی کیوں ضروری ہوتی ہے؟‏

بہت سے ملکوں میں بچے بڑوں کے ساتھ بہت کم وقت گزارتے ہیں۔ ذرا اِس کی کچھ وجوہات پر غور کریں:‏

  • بچے زیادہ‌تر وقت سکول میں ہوتے ہیں جہاں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جبکہ ٹیچروں اور بڑے لوگوں کی تعداد کم۔‏

  • کئی بچوں کے ماں اور باپ دونوں ہی نوکریاں کرتے ہیں۔ اِس لیے جب وہ سکول سے گھر آتے ہیں تو اُنہیں اکیلے رہنا پڑتا ہے۔‏

  • امریکہ میں ہونے والے ایک جائزے سے پتہ چلا کہ 8 سے 12 سال کے بچے ہر دن تقریباً چھ گھنٹے ٹی‌وی دیکھتے ہیں، گانے سنتے ہیں اور ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں۔‏a

بچوں کی پرورش کے حوالے سے ایک کتاب میں بتایا گیا:‏ ”‏آج‌کل بچے اپنے ماں باپ، ٹیچروں یا بڑے لوگوں سے نہیں بلکہ اپنی عمر کے بچوں سے صلاح مشورہ لینا پسند کرتے ہیں۔“‏

بچوں کی رہنمائی کیسے کریں؟‏

اپنے بچے کے ساتھ وقت گزاریں۔‏

پاک کلام کا اصول:‏ ”‏لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مُڑے گا۔“‏—‏امثال 22:‏6‏۔‏

چھوٹے بچے عموماً اپنے ماں باپ سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ ماہروں کا کہنا ہے کہ جب بچے بڑے ہو رہے ہوتے ہیں تو تب بھی وہ اپنے ساتھیوں سے زیادہ اپنے ماں باپ کی سنتے ہیں۔ ڈاکٹر لورنس سٹین‌برگ نے اپنی کتاب میں لکھا:‏ ”‏جب بچے جوان ہو جاتے ہیں تو تب بھی اُن کی سوچ اور رویے پر کافی حد تک اُن کے ماں باپ کا اثر ہوتا ہے۔ بھلے ہی وہ اپنے ماں باپ کو یہ نہ بتائیں کہ اُنہیں اُن کی رہنمائی کی ضرورت ہے یا بھلے ہی وہ اُن کی ہر بات سے متفق نہ ہوں، وہ پھر بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فلاں معاملے میں اُن کے ماں باپ کی کیا رائے ہے اور جو کچھ وہ اُنہیں کہتا سنتے ہیں، اُس پر وہ دھیان دیتے ہیں۔“‏

تو والدین!‏ جب بھی آپ کو موقع ملے، اپنے بچوں کی رہنمائی کریں کیونکہ وہ آپ ہی سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں اور اُنہیں بتائیں کہ کسی مسئلے کے بارے میں آپ کی سوچ کیا ہے، آپ کے اصول کیا ہیں اور آپ نے اپنے تجربے سے کیا سیکھا ہے۔‏

اپنے بچے کی ایسے لوگوں سے دوستی کرائیں جو اُسے اچھی صلاح دے سکتے ہیں۔‏

پاک کلام کا اصول:‏ ”‏وہ جو داناؤں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا۔“‏—‏امثال 13:‏20‏۔‏

کیا آپ کی نظر میں کوئی ایسا شخص ہے جو آپ کے بچوں کو اچھی صلاح دے سکے؟ کیوں نہ اِس بات کا بندوبست بنائیں کہ وہ آپ کے بچوں کے ساتھ تھوڑا وقت گزارے؟ یہ سچ ہے کہ آپ کو اپنی ذمے‌داری سے مُنہ نہیں موڑ لینا چاہیے۔ آپ کی دی ہوئی رہنمائی اُن کے بہت کام آئے گی۔ لیکن اگر آپ کے ساتھ ساتھ ایک اَور شخص بھی اُنہیں اچھی صلاح دے تو اُنہیں دُگنا فائدہ ہوگا۔ مگر اِس بات کا خیال رکھیں کہ یہ ایک ایسا شخص ہو جس پر آپ کو یہ بھروسا ہو کہ وہ آپ کے بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ تیمُتھیُس کو پولُس رسول کے ساتھ وقت گزار کر کافی فائدہ ہوا حالانکہ تیمُتھیُس نوجوان نہیں تھے۔ پولُس کو بھی تیمُتھیُس کی دوستی سے فائدہ ہوا۔—‏فِلپّیوں 2:‏20،‏ 22‏۔‏

آج‌کل بہت سے گھرانوں میں گھر کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہتے۔ دادا دادی، چاچا چاچی اور دوسرے رشتے‌دار الگ الگ جگہوں پر رہتے ہیں۔ اگر آپ کے رشتے‌دار بھی آپ سے دُور رہتے ہیں تو اپنے بچوں کی دوستی ایسے لوگوں سے کرائیں جن سے وہ اچھی عادتیں اپنانا سیکھ سکیں۔‏

a اُس جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ”‏چھوٹی عمر کے بچے ہر دن تقریباً نو گھنٹے اِس طرح کی تفریح کرنے میں گزارتے ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ سکول کا ہوم ورک کرتے وقت یا سکول میں بھی اِنٹرنیٹ پر کافی وقت صرف کرتے ہیں۔“‏

ایک عمررسیدہ عورت ایک چھوٹی لڑکی کو اپنی جوانی کی ایک تصویر دِکھا رہی ہے۔‏

بچوں کی ابھی سے تربیت کریں

بڑوں کی رہنمائی پر چلنے والے بچے آگے چل کر سمجھ‌دار بنتے ہیں۔‏

اپنی مثال سے بچوں کو سکھائیں

  • کیا مَیں اپنے بچوں کے لیے ایک اچھی مثال قائم کر رہا ہوں؟‏

  • کیا میرے بچے یہ جانتے ہیں کہ مَیں بھی اُن لوگوں سے صلاح مشورہ لیتا ہوں جو مجھ سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں؟‏

  • کیا مَیں اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے سے اُنہیں یہ احساس دِلاتا ہوں کہ وہ میرے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں؟‏

کچھ والدین کیا کہتے ہیں؟‏

‏”‏کبھی کبھی میری بیٹی مجھ سے اُس وقت بات کرنا چاہتی ہے جب مَیں کوئی کام کر رہا ہوتا ہوں۔ مَیں اُس سے کہتا ہوں کہ وہ تھوڑی دیر اِنتظار کرے تاکہ مَیں پورے دھیان سے بعد میں اُس کی بات سُن سکوں۔ اور مَیں ہمیشہ اُس کی بات سنتا ہوں۔ مَیں اور میری بیوی اپنی بیٹی کے لیے اچھی مثال قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ دیکھ سکے کہ ہم جو کچھ اُس سے کرنے کو کہتے ہیں، ہم خود بھی ویسا ہی کرتے ہیں۔“‏‏—‏ڈیوڈ۔‏

‏”‏جب ہماری بیٹی پیدا ہوئی تو مَیں نے اور میرے شوہر نے فیصلہ کِیا کہ اب مَیں نوکری نہیں کروں گی تاکہ مَیں گھر پر رہ کر اُس کا دھیان رکھ سکوں۔ مجھے اپنے اِس فیصلے پر بالکل پچھتاوا نہیں ہے۔ یہ بہت ہی ضروری ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کے ساتھ جتنا زیادہ ہو سکے، وقت گزاریں تاکہ وہ اُنہیں صحیح راہ دِکھا سکیں اور اُنہیں اچھی صلاح دے سکیں۔ سب سے بڑھ کر جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو اُنہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو اُن کی پرواہ ہے۔“‏‏—‏لیسا۔‏

بڑوں کے ساتھ وقت گزاریں

‏”‏میرے بچے فرق فرق عمر کے لوگوں کے ساتھ وقت گزار کر بڑے ہوئے جو مختلف باتوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اُن کے تجربے سے میرے بچے زندگی کے بارے میں بہت کچھ سیکھ پائے۔ مثال کے طور پر ایک بار میری نانی نے اُنہیں اپنے بچپن کا کوئی قصہ سنایا جسے سُن کر وہ بڑے حیران ہو گئے۔ اُنہوں نے بتایا کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو سب سے پہلے اُنہی کے گھر میں بجلی آئی تھی۔ اُن کے آس پڑوس کے لوگ اُن کے گھر یہ دیکھنے آتے تھے کہ کس طرح کچن میں بتی جلتی اور بند ہو جاتی ہے۔ یہ سب سُن کر میرے بچے سمجھ پائے کہ پہلے زندگی کیسی ہوا کرتی تھی۔ اِس طرح اُن کے دل میں میری نانی اور دوسرے بزرگوں کے لیے عزت بڑھی۔ جب بچے اپنی عمر کے بچوں کی بجائے بڑوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں تو وہ اُن سے بہت کچھ سیکھ پاتے ہیں۔“‏‏—‏مارینڈا۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں