کیا اُمید میں واقعی طاقت ہے؟
ڈینئل صرف دس سال کا تھا لیکن وہ تقریباً ایک سال سے کینسر سے لڑ رہا تھا۔ ڈینئل کے قریبی جان پہچان والوں کی طرح ڈاکٹروں نے بھی بالکل اُمید چھوڑ دی۔ لیکن ڈینئل نے ہمت نہیں ہاری۔ اُسے پورا یقین تھا کہ وہ بڑا ہو کر تحقیقدان بنے گا اور ایک دن کینسر کا علاج دریافت کر لے گا۔ اُس کے دل میں اُمید کی کِرن اُس وقت اَور جاگ گئی جب اُسے پتہ چلا کہ ایک ایسا ڈاکٹر اُسے دیکھنے آ رہا ہے جو کینسر کا علاج کرنے میں ماہر ہے۔ لیکن افسوس کی بات کہ جس دن ڈاکٹر نے اُس سے ملنے آنا تھا، اُس دن خراب موسم کی وجہ سے وہ ہسپتال پہنچ نہیں سکا۔ ڈینئل کا دل مایوسی میں ڈوب گیا۔ اُسے بالکل چپ لگ گئی اور کچھ دن بعد وہ فوت ہو گیا۔
ڈینئل کا واقعہ مریضوں کی دیکھبھال کرنے والے ایک شخص نے سنایا جو اِس بات پر تحقیق کر رہا تھا کہ جب ہم کسی بات کی اُمید رکھتے ہیں یا کسی بات سے نااُمید ہو جاتے ہیں تو اِس کا ہماری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ شاید آپ نے بھی اِس طرح کے واقعے سنے ہوں۔ مثال کے طور پر شاید آپ نے سنا ہو کہ مرنے سے پہلے ایک عمررسیدہ شخص کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنے کسی عزیز سے مل سکے یا کسی خاص موقعے پر شریک ہو سکے۔ جب تک اُس کی یہ اُمید بندھی رہی، اُس کی سانسیں چلتی رہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ پوری ہوئی، اُس نے دم توڑ دیا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا اُمید میں واقعی اِتنی طاقت ہے؟
بہت سے ڈاکٹروں کو لگتا ہے کہ اچھی باتوں کی اُمید رکھنے اور مثبت سوچنے سے ایک شخص کی صحت پر بہت اچھا اثر ہو سکتا ہے۔ لیکن کچھ ڈاکٹر اِس بات سے متفق نہیں ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ اِس طرح کی باتیں سائنسی لحاظ سے بالکل بےبنیاد ہیں۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ ایک شخص کو کوئی بیماری نااُمیدی کی وجہ سے نہیں بلکہ اِنفیکشن یا چوٹ وغیرہ لگنے کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔
لوگوں کا اُمید کے بارے میں ایسی سوچ رکھنا نئی بات نہیں ہے۔ ہزاروں سال پہلے جب ایک یونانی فلاسفر ارسطو سے یہ پوچھا گیا کہ وہ اُمید کو کس طرح سے بیان کریں گے تو اُنہوں نے جواب دیا: ”اُمید کُھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے کا نام ہے۔“ اور اِس کے صدیوں بعد جب ایک امریکی سیاستدان بینجمن فرینکلن سے اُمید کے حوالے سے بات کی گئی تو اُس نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا: ”اُمید سے پیٹ بھرو گے تو بھوکے مرو گے۔“
تو پھر کیا اُمید رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے؟ کیا یہ محض دل بہلانے کا خیال ہے؟ کیا ہمارے پاس کوئی ایسی ٹھوس وجہ موجود ہے جس کی بِنا پر ہم اُمید کو محض ایک خواب خیال کرنے کی بجائے اِسے خوش اور صحتمند رہنے کا ذریعہ خیال کر سکیں؟